Baaghi TV

Tag: انکم ٹیکس

  • بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    تنخواہ دارطبقے کیلئے اچھی خبر،بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز ہے-

    ذرائع کےمطابق انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترمیم زیر غورہے، سالانہ ٹیکس فری آمدن کی حد 6 لاکھ سے بڑھائی جا سکتی ہے، ماہانہ 83 ہزار روپے تنخواہ تک ٹیکس فری کرنے کی تجویز،ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 5 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد ہونے کا امکان ہے-

    ایک لاکھ 83 ہزار روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس 15 سے کم ہوکر 12.5 فیصد کرنے کی تجویز، دو لاکھ 67 ہزار ماہانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس 25 کے بجائے 22.5 فیصد ہو سکتا ہے، ذرائع کےمطابق تین لاکھ 33 ہزار روپے تک تنخواہ پر ٹیکس 30 کے بجائے 27.5 فیصد ہو سکتا ہے،تین لاکھ 33 ہزار سے زائد تنخواہ پر ٹیکس 32.5 فیصد ہو سکتا ہے،اس پرحتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی

  • آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ

    آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ

    آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ ہو گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر آمادہ ہو گیا ہے تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں نرمی کا امکان ہے جبکہ انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترمیم پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سالانہ ٹیکس فری آمدن کی حد موجودہ 6 لاکھ رو پے سے بڑھائی جا سکتی ہے اور ماہانہ 83 ہزار روپے تنخواہ تک ٹیکس فری کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    ممکنہ نئی شرح کے مطابق ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 2.5 فیصد ہونے کا امکان ہے، ایک لاکھ 83 ہزار روپے پر انکم ٹیکس 12.5 فیصد ہو سکتا ہے، دو لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 22.5 فیصد مقرر کیے جانے کا امکان ہے، تین لاکھ 33 ہزار روپے تک کی تنخواہ پر ٹیکس 27.5 فیصد ہو سکتا ہے، جبکہ تین لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد تنخواہ پر انکم ٹیکس 32.5 فیصد تک ہو سکتا ہے۔

    عید کے دوران ٹرینوں پر 20 فیصد خصوصی رعایت کا اعلان

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بجٹ مذاکرات میں دفاعی ضروریات مؤخر نہ کرنے کا دو ٹوک مؤقف اپنایا ہے، جس پر آئی ایم ایف نے دفاعی بجٹ میں ضروری اضافے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، بجٹ مذاکرات کے دوران پاکستان کی دفاعی ترجیحات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

    پنجاب کابینہ کی صحافی کالونی فیزٹو کیلئے 40کروڑ روپے گرانٹ کی منظوری

  • سندھ،زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کا قانون، مسودہ سامنے آگیا

    سندھ،زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کا قانون، مسودہ سامنے آگیا

    سندھ میں زرعی آمدن پر انکم ٹیکس لگانے کے قانون کا مسودہ سامنے آگیا، ٹیکس سالانہ 6 لاکھ زرعی آمدن پر لاگو نہیں ہوگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق قانون کا نام سندھ ایگریکلچرل اِنکم ٹیکس ایکٹ 2025 ہوگا، سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ تک زرعی آمدنی پر 15 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ سالانہ 12 لاکھ سے 16 لاکھ تک زرعی آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا جبکہ 16 لاکھ سے 32 لاکھ آمدنی پر 30 فیصد زرعی ٹیکس لاگو ہوگا.ذرائع کا کہنا تھا کہ 32 لاکھ سے 56 لاکھ تک زرعی آمدنی پر 40 فیصد اور سالانہ 56 لاکھ سے زائد زرعی آمدنی پر 45 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔مسودے کے مطابق سالانہ ایک کروڑ سے 15 کروڑ تک کی زرعی آمدن پر سپر ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ 15 کروڑ سے 20 کروڑ تک زرعی آمدنی پر ایک فیصد سپر ٹیکس ہوگا۔ذرائع کے مطابق سالانہ 20 کروڑ سے 25 کروڑ تک زرعی آمدنی پر 2 فیصد اور سالانہ 25 کروڑ سے 30 کروڑ تک زرعی آمدنی پر 3 فیصد سپر ٹیکس لاگو ہوگا۔

    مسودے کے مطابق سالانہ 30 کروڑ سے 35 کروڑ تک زرعی آمدنی پر 4 فیصد اور سالانہ 35 کروڑ سے 40 کروڑ تک زرعی آمدنی پر 6 فیصد سپر ٹیکس ہوگا۔ذرائع کے مطابق سالانہ 40 کروڑ سے 50 کروڑ تک زرعی آمدنی پر 8 فیصد سپر ٹیکس لاگو ہوگا، سالانہ 50 کروڑ سے زائد زرعی آمدنی پر 10 فیصد سپر ٹیکس لاگو ہوگا۔سندھ اسمبلی اجلاس میں ایگریکلچرل انکم ٹیکس قانون آج منظور ہونے کا امکان ہے۔

    ایف آئی اے کی کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی، 10 افراد گرفتار

    بشریٰ انصاری جھوٹی خبریں پھیلانے والے یوٹیوبرز پر برس پڑیں

  • حکومت کی صوبوں میں انکم ٹیکس لگانے کی یقین دہانی

    حکومت کی صوبوں میں انکم ٹیکس لگانے کی یقین دہانی

    حکومت پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یکم جنوری سے صوبوں میں انکم ٹیکس عائد کرنے کی یقین دہانی کرادی اور چاروں صوبوں کے بجٹ سرپلس کی شرط بھی پوری کردی.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ معاشی امور پر پاکستانی حکام سے بات چیت مثبت رہی۔ پاکستان سے 12 تا 15 نومبر تک مشن چیف کی سربراہی میں مذاکرات ہوئے، وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں سے بھی بات چیت ہوئی اور مذاکرات میں نجی شعبوں کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔اعلامیہ میں عالمی مالیاتی فنڈ کے مشن چیف نیتھن پورٹر نے کہا کہ حالیہ بات چیت آئی ایم ایف کے ششماہی جائزے کے لیے کی گئی جس میں معاشی اصلاحات، پالیسیز، معاشی ترقی کےلیے حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئی ایم ایف کا وفد 2025 کی پہلی سہ ماہی میں دوبارہ پاکستان آئے گا۔آئی ایم ایف مشن چیف کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، کئی شعبہ جات میں حکومت کا حصہ محدود کرنے کی ضرورت ہے۔

    نیتھن پورٹر نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام کے اہداف پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے، قرض پروگرام کے اہداف پر عمل درآمد عوام کا معیار زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ مذاکرات کے لیے پاکستانی حکام کا رویہ حوصلہ افزا اور معاون تھا، پاکستانی حکام سے مذاکرات پر ایگزیکٹو بورڈ کو آگاہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ مشن چیف کی سربراہی میں آئی ایم ایف کے وفد نے 5 روز تک پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے آئی ایم ایف مشن نے الوداعی ملاقات بھی کرلی ہے۔گزشتہ روز آئی ایم ایف مشن ہیڈ کی پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت مکمل ہوئی تھی جس میں چاروں صوبوں کے بجٹ سرپلس کی شرط بھی پوری کر دی گئی تھی جب کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یکم جنوری 2025 سے صوبوں میں انکم ٹیکس عائد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    سوات میں برفانی تودہ گرگیا،،100 سیاح پھنس گئے

    سندھ پبلک کمیشن کی 100 سے زائد اسامیوں پر بھرتیاں رک گئیں

    شیخ رشید نے 24 نومبر کو احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

  • ایف بی آر نے 6 لاکھ 6 ہزار 671 ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کرلی

    ایف بی آر نے 6 لاکھ 6 ہزار 671 ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کرلی

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 6 لاکھ 6 ہزار 671 ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کرلی۔

    باغی ٹی وی : ایف بی آر نے 6 لاکھ 6 ہزار سے زائد افراد کے موبائل سمزبند کرنے کیلئے انکم ٹیکس جنرل آرڈر جاری کردیا،ایف بی آر نے 6 لاکھ 6 ہزارسے زائد افراد کی موبائل فون سمزبند کرنے کیلئے نشاندہی کرلی ہے۔

    ایف بی آر کے مطابق 5 لاکھ 6 ہزار سے زائد افراد کی آمدن انکم ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کے قابل ہیں لیکن یہ افراد انکم ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کے قابل ہونے کے باجود فائل نہیں کررہے، یہ افراد ایف بی آر ایکٹوٹیکس پیئرلسٹ میں شامل نہیں ہیں، انکم ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے والوں کے موبائل فون کنکشن کسی بھی وقت بند کیے جاسکتے ہیں، ٹیکس نادہندگان کی سم بند کرنے کیلئے پی ٹی اے کو ہدایات جاری کردی گئیں۔

    اعلامیہ کے مطابق تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو بھی ٹیکس نادہندگان کے موبائل فون سم بند کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں، ٹیلی کام کمپنیوں اور پی ٹی اے کو عملدرآمد رپورٹ 15 مئی تک جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہےذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس نادہندگان کے نام مشتہر کردئیے ہیں، ان افراد کے موبائل نمبر ایف بی آر اور اس کے علاقائی دفتر کے احکامات پر بحال ہوں گے موبائل فون سمز بندش کےلیے ایف بی آر کے آرڈر کی کاپی ٹیلی کام کمپنیوں اور پی ٹی اے کو بھجوا دی گئی، ایف بی آر کے متعلقہ حکام سے کہا گیا کہ ان افراد کے نام ویب سائٹ پر ڈال دیے جائیں۔

  • نان فائلرز کی رجسٹریشن کیلئےکاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع

    نان فائلرز کی رجسٹریشن کیلئےکاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی رجسٹریشن کے لیے کاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع کر دیا ہے، انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو بینک اکاؤنٹس منجمند ہونے اور بین الاقوامی سفر پر پابندی کے نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ٹیکس بیس (بی ٹی بی) کے سربراہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے نان فائلرز کی رجسٹریشن کے لیے کاروباری اور کمرشل یونٹس کا ملک گیر سروے شروع کر دیا ہے نان فائلرز کو جرمانے، سہولیات اور بینک اکاؤنٹس کی معطلی، ہوائی اڈوں پر ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے جیسے نتائج سے بچنے کے لئے قریبی ٹیکس آفس میں اپنا اندراج کروانا ہوگا۔

    سربراہ بی ٹی بی نے کہا کہ ایف بی آر پورے ملک میں پھیلے ہوئے اپنے فیلڈ فارمیشنز کے ذریعے سروے کرنے اور جاری کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات جمع کر رہا ہے، جو بہت جلد ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی ایک دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ ہے، جس میں تقریبا 50 لاکھ افراد ٹیکس نظام میں اپنا اندراج کرایا اور سال 2022 میں اپنی آمدنی کے گوشوارے جمع کرائے، جو انتہائی محدود تعداد ہے۔

    ایف بی آر نے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے لئے ملک گیر مہم کا آغاز کردیا ہے، جس میں تمام اہل افراد اور قابل ٹیکس آمدنی حاصل کرنے والوں کو ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ ہونے اور اپنی آمدنی کے گوشوارے جمع کرانے کا ہدف بنایا گیا ہے ایک اندازے کے مطابق رواں سال کے دوران ملک کے ریگولر ٹیکس دہندگان میں 15 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان شامل ہوں گے۔

    ڈائریکٹر بی ٹی بی نے کہا کہ ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی ڈیٹا کے حصول کے ذریعے ان افراد کی لاکھوں مالی ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جو اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ یہ معلومات ایف بی آر کی ویب سائٹ www.fbr.gov.pk پر دستیاب ہیں، جس پر کوئی بھی فرد سادہ طریقہ کار کے ذریعے اپنا اندراج کروا سکتا ہے اور گزشتہ چند سالوں کے دوران کیے گئے مختلف لین دین کی جانچ کر سکتا ہے۔

    محمد آصف نے مزید کہا کہ تمام ٹیکس نادہندگان کو چاہئے وہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قریبی ٹیکس آفس جائیں اورجرمانے، سہولیات منقطع ہونے، بینک اکاؤنٹس کی معطلی اور بیرون ملک ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے جیسے نتائج سے بچنے کے لئے اپنا اندراج کرائیں۔

  • انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر  ایف بی آر کی عاطف اسلم کو  ڈیڈ لائن

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر ایف بی آر کی عاطف اسلم کو ڈیڈ لائن

    لاہور: پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ معروف گلوکار عاطف اسلم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریڈار پر آ گئے-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق عاطف اسلم ایڈوانس ٹیکس کی عدم ادائیگی سال 2023 کے گوشوارے اور آڈٹ کے لیے ریکارڈ جمع نہ کرانے پر ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے ایف بی آر نے عاطف اسلم کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 دسمبر کی ڈیڈلائن دے دی۔

    ذرائع کے مطابق گلوکار عاطف اسلم نے متعدد نوٹسز کے باوجود سال 2020 کے آڈٹ کے لیے بھی ایف بی آر کو ریکارڈ بھی جمع نہیں کرایا تھا ایف بی آر نے نوٹسز کے باوجود آڈٹ کے لیے ریکارڈ جمع نہ کرانے پر گلوکار عاطف اسلم کو جرمانہ عائد کیا تھاگلوکار عاطف اسلم نے ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود تاحال دوسرے کوارٹرز کا ایڈوانس ٹیکس بھی جمع نہیں کرایا۔

    جلی مزید مہنگی کرنے کی تیار

    خیال رہے کہ روں ماہ جون میں ایف بی آر ذرائع نے بتایا تھا کہ گلوکار نے سال 2020 میں آمدن 7 کروڑ 80 لاکھ روپے ظاہر کی اور انہوں نے 4 کروڑ روپے کے ذاتی اخراجات جبکہ 5 کروڑ 60 لاکھ روپے کے واجبات ظاہر کئے ہیں ریکارڈ موصول ہونے کے بعد گلوکار عاطف اسلم کے ٹیکس معاملات کی چھان بین کی جائے گی۔

    مغربی ہواؤں کا سلسلہ جمعہ کو ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو گا،محکمہ موسمیات

  • ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 10 ہزار سے زائد افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے 10 ہزار ملازمین نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے بیشترافسران گریڈ 17 سے اوپر کے ہیں، ایف بی آر نے تاحال ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، ایف بی آر میں 25 ہزار سے زائد ملازمین تعینات ہیں۔

    ایف بی آر میں گریڈ 17 سے اوپر افسران کی تعداد 1700 سے زائد ہے، 2022 میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے نان فائلر افسران کی تعداد تقریبا 500 سے زائد تھی، تاہم 2023 میں اس کیٹگری میں نان فائلرز کی تعداد اب بھی 300 ہے، صرف 1400 افسران نے 31 دسمبر تک ٹیکس جمع کرانے کی مدت میں خصوصی توسیع کے باوجود اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں، یہ صورتحال اعلیٰ عہدے پر فائز افسران کی جانب سے ٹیکس کی عدم ادائیگی کے مستقل مسئلے کو نمایاں کرتی ہے۔

    جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا، نومنتخب چیئرمین

    ٹیکس سال 2023 میں اِن لینڈ ریونیو سروس نے افسران میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی شرح 88 فیصد دیکھی جبکہ کسٹمز گروپ افسر کے زمرے میں یہ شرح 80 فیصد ہے، 2023 میں اِس شرح میں نسبتاً اضافے کی وجہ ایف بی آر کے چیئرمین کی طرف سے دی گئی خصوصی توسیع کو قرار دیا جاتا ہے، جس کے تحت ملازمین کو 31 دسمبر تک اپنے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    کراچی میں ریجنل ٹیکس آفس-ون کے چیف کمشنر کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ مشق سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 307 افسران نے 2022 اور 2023 میں اپنے ٹیکس گوشوارے نہیں جمع کرائے اگر اس مشق کو 22 آر ٹی اوز، 2 کارپوریٹ ٹیکس دفاتر (سی ٹی اوز) اور 3 بڑے ٹیکس دہندگان یونٹس (ایل ٹی یوز) تک بڑھایا جائے تو ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والے اہلکاروں کی تعداد ممکنہ طور پر ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

    ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر

    ایف بی آر کے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر تک ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، تاہم ایف بی آر میں ٹیکس گوشوارے جمع نے کروانے والے افسران کی شرح ظاہر کرتی ہے کہ یہ افسران ملک میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بنیں گے۔

  • اکشے کمار کا اعزاز

    اکشے کمار کا اعزاز

    بالی وڈ کے کھلاڑی اکشے کمار ہر کام سسٹم کے تحت کرتے ہیں ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ قانون اور ضوابط کی بہت پاسداری کرتے ہیں.ان کا شمار بالی وڈ کے ایسے اداکاروں میں‌ہوتا ہے جو روٹین سے انکم ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں. حالیہ رپورٹس کے مطابق اکشے کمار مسلسل انکم ٹیکس دینے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے بالی وڈ کے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے فنکار بن گئے ہیں. محکمہ انکم ٹیکس نے اداکار کو سمن پترا یعنی اعزازی سرٹیفکیٹ بھی دیا ہے۔اکشے کمار نے یہ سرٹیفکیٹ خود وصول نہیں‌کیا بلکہ ان کی ٹیم نے انکے بحاف پر وصول کیا کیونکہ اکشے کمار بھارت سے باہر اپنی فلم کی

    شوٹنگ میں‌مصروف ہیں وہ شوٹنگ ادھوری چھوڑ کر اس سرٹیفیکیٹ وصول نہیں‌کر سکتے تھے لہذا انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ وہ ان کے بحاف پر اس اعزازی سرٹیفیکٹ کو وصول کرے. سوشل میڈیا پر اکشے کمار کی بہت تعریف کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بہت کم اداکار اکشے کمار جیسے ہوتے ہیں جو باقاعدگی سے انکم ٹیکس کی ادائیگی کریں. یاد رہے کہ اکشے کمار پچھلے پانچ برسوں سے نمبر ون کی پوزیشن پر ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ اور بروقت ٹیکس ادا کررہے ہیں. یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اکشے کمار کی رکشہ بندھن فلم ریلیز ہوئی ہے بہن بھائیوں کی محبت پر مبنی اس فلم کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے.

  • وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کے ٹیکس کی تفصیلات سامنے آ گئیں-

    باغی ٹی وی تفصیلات کے مطابق کے مطابق ایف بی آر نے پارلیمنٹرینز کی سال2019کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی ہے، جس کے مطابق 80 سینیٹرز اور 312 اراکان اسمبلی نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے وزیراعظم عمران خان نے98لاکھ 54 ہزار959 روپے ٹیکس ادا کیا وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ائیر 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس جمع کرایا، وزیراعظم نے ٹیکس ائیر 2019 میں 82 لاکھ 81 ہزار830 سو روپے کی پریزمٹو آمدنی اور 23 لاکھ 64 ہزار150 روپے کی زرعی آمدنی ظاہر کی ہے۔

    سیالکوٹ سے دبئی، پی آئی اے پروازوں کا آغاز

    وزیرخزانہ شوکت ترین نے 2 کروڑ 66 لاکھ 27 ہزار 737 روپے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 8 لاکھ 51 ہزار 955 روپے اور پی ٹی آئی کے نجیب ہارون نے 14 کروڑ 7 لاکھ 49 ہزار روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےصرف 2 ہزارروپے،سینیٹر فیصل واوڈا نے 11 لاکھ 62 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 66 ہزار 258 روپے، سابق وزیراعلیٰ جام کمال نےایک کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار 799 روپے، موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے 10 لاکھ 61 ہزار 777 روپے،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 5 لاکھ 55 ہزار 794 روپے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایک کروڑ 39 لاکھ 9 ہزار327 روپے، وفاقی وزیر اسد عمر نے 42 لاکھ 72 ہزار 426 روپے، وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے ایک لاکھ 36 ہزار 808 روپے، ٹیکس جمع کرایا-

    ناظم جوکھیو کیس:خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو وفاقی حکومت اس کیس کو آگے بڑھائے گی

    جبکہ وزیر مملکت فرخ حبیب نے 4 لاکھ 5 ہزار 477 روپے، وفاقی وزیر مراد سعید نے 86 ہزار 606 روپے، سینیٹر رضا ربانی نے ایک کروڑ 55 لاکھ 5 ہزار 493 روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 3 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار 549 روپے،سینیٹر ذیشان خانزادہ نے 1 ہزار روپے، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے 9 لاکھ 32 ہزار 835 روپے اور وفاقی وزیرعلی زیدی نے10 لاکھ 47 ہزار 808 روپے ٹیکس دیا۔

    وفاقی وزیر حماد اظہر نے 29 ہزار 25 روپے ، وزیر داخلہ شیخ رشید نے 5 لاکھ 57 ہزار 450 روپے، پی ٹی آئی نو ر عالم خان نے 82 ہزار 311 روپے ٹیکس دیا سندھ اسمبلی کے رکن علی غلام نے انکم ٹیکس کی مد میں صرف ڈھائی سو (250) روپے ادا کیے ہیں ایم کیو ایم پاکستان کی سینیٹر خالدہ اطیب نے ٹیکس کے ذریعے قومی خزانے میں 315 روپے جمع کرائے ہیں۔ اس طرح سب سے کم ٹیکس ادا کرنے والے پارلیمنٹیرینز میں وہ دوسرے نمبر پر آئی ہیں۔

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے 82 لاکھ 42 ہزار 662 روپےٹیکس دیا جبکہ ان کی قابل ٹیکس آمدن 3 کروڑ پچاس لاکھ ہے ،شاہدخاقان عباسی نے48لاکھ 71 ہزار277 روپے،خواجہ آصف نے 2 لاکھ 30 ہزار 386 روپے، وزیر غلام سرور خان نے 12 لاکھ 11 ہزار 661 روپے،خواجہ سعد رفیق نے 2 لاکھ 69 ہزار 414 روپے جبکہ خرم دستگیر نے روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ یوسف رضا گیلانی کے کوئی ٹیکس نہیں دیا-

    عثمان بزدار کو بڑی یقین دہانی کروا دی گئی

    آصف زرداری نے 22 لاکھ 18 ہزار 229 روپے، اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 5 لاکھ 35 ہزار243 روپےٹیکس دیا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 19 لاکھ 21 ہزار 914 روپے، شیری رحمان نے 9 لاکھ 40 ہزار رواپے، سینیٹر مشاہد حسین سید نے 76 ہزار روپے، سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے 49 لاکھ روپے ،سینیٹر فیصل جاوید نے 66 ہزار روپے، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے 7 لاکھ 84 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا-

    ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے چالیس ہزار نو سو تیرہ روپے، وزیر قانون فروغ نسیم نے بیالیس لاکھ پچاسی ہزار دو سو ایک روپے، وفاقی وزیر مونس الہی نے پینسٹھ لاکھ چونتیس ہزار دو سو اکیاون روپے، وزیر دفاع پرویز خٹک نے بارہ لاکھ ستاون ہزار چار سو اکسٹھ روپے، وفاقی وزیر نورالحق قادری نے باسٹھ ہزار دو سو پچاس روپے ٹیکس دیا-

    کراچی میں کورونا کیسز میں اضافہ، وزیراعلیٰ سندھ نے اہم ہدایت جاری کردی

    شہریار آفریدی نے ترپن ہزار آٹھ سو چھیتر روپے،وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی شبلی فراز نے آٹھ لاکھ پچاسی ہزار روپے ،سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے 89 ہزار 479 روپے، شیریں مزاری نے تین لاکھ اکہتر ہزار تینتیس روپے عامر ڈوگر نے بائیس لاکھ اٹھانوے ہزار سات سو نوے روپے وفاقی وزیر خسرو بختیار نے ایک لاکھ اٹھاون ہزار ایک سو روپے ٹیکس ادا کیا-

    احسن اقبال نے پچپن ہزار چھ سو چھپن روپے اعظم نذیر تارڑ نے پچیس لاکھ چالیس ہزار ایک سو چھبیس روپے سینیٹر احمد خان تئیس لاکھ اٹھا سی ہزار تین سو باسٹھ روپے ملیکہ علی بخاری نے اڑتیس ہزار تین سو ترتالیس ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے انتالیس ہزار سات سو اکسٹھ روپے انکم ٹیکس ادا کیا-

    23 مارچ کو مارچ کا اعلان کرنے والوں کو شیخ رشید نے دیا پیغام

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرنے والے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمںٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 331 ارکان نے تاحال تفصیلات جمع نہیں کرائیں، 15 جنوری تک اثاثوں کی تفصیلات موصول نہ ہوئیں تو رکنیت معطل کر دی جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے 17، قومی اسمبلی کے 102، پنجاب اسمبلی کے 127، سندھ اسمبلی کے 31 ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 40 اور بلوچستان اسمبلی کے 14 ارکان نے تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

    راولپنڈی:4 مریضوں میں اومی کرون کی تصدیق