Baaghi TV

Tag: انگلش

  • سعودی عرب میں انگریزی ریڈیو اسٹیشن کا آغاز

    سعودی عرب میں انگریزی ریڈیو اسٹیشن کا آغاز

    ریاض: سعودی عرب میں انگریزی زبان کے پہلے مغربی تجارتی ریڈیو اسٹیشن کا آغاز کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق ایم بی سی گروپ جو سعودی عرب کے پہلے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن اور پینوراما ایف ایم کا بانی ہے نے اتوار کو اس ریڈیو اسٹیشن کا آغاز کیا یہ ایف ایم نوجوانوں اور بڑھتے ہوئے انگریزی بولنے والے سامعین کے لیے مختلف پروگرام نشر کر ے گااب تک جدہ، دمام اور دارالحکومت ریاض میں نشریات کا آغاز ہو چکا ہے۔

    عدلیہ انصاف نہیں سیاست کررہی ہے،وقت آگیا ہے پارلیمنٹ اپنا رول منوائے،خواجہ آصف

    العربیہ کے مطابق، اسٹیشن ایک ہم عصر ہٹ ریڈیو (سی ایچ ار) فارمیٹ کی پیروی کرتا ہےیہ فارمیٹ 18 سے 35 سال کی عمر کے سامعین کی ضروریات کو مدنظر رکھتا ہے، جو کہ موسیقی کی پیشکش کے لیے انتہائی مطلوب ڈیموگرافک ہے چینل موجودہ رجحانات کے مطابق مقبول موسیقی پیش کرے گا جس کا تعین امریکی اور برطانوی ٹاپ 40 چارٹس کے ذریعے کیا گیا ہے۔

    ایم بی سی گروپ کے چیئرمین ولید الابراہیم نے ایک پریس ریلیز بیان میں کہا کہ ایم بی سی لاؤڈ ایف ایم ایک مخصوص ریڈیو برانڈ کی نمائندگی کرتا ہے تفریح اور نشریات کے شعبے میں سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے تحت ہمارا مقصد پورے ملک میں متنوع سامعین تک پہنچنا ہے۔

    سعودی عرب: حج سیزن کےدوران غیر ملکیوں کےمکہ مکرمہ جانےسے متعلق ہدایات جاری

    دریں اثنا، زیاد حمزہ، ایم بی سی گروپ ڈائریکٹر آڈیو، ریڈیو اور میوزک نے کہا کہ ہمارا مشن مخصوص ریڈیو مواد کی پیشکش کے ذریعے سامعین کو دنیا بھر میں دوسروں کے ساتھ جوڑنا ہے ایم بی سی لاؤڈ ایف ایم کا مقصد سامعین کے سننے کے تجربات کو تقویت دینا اور ریڈیو اور موسیقی کے مواد سے ان کے لطف کو بڑھانا ہے۔ ہمارا مشن مخصوص ریڈیو مواد کی پیشکش کے ذریعےسامعین کو دنیا بھرمیں ان کے ہم منصبوں کے ساتھ جوڑنا ہے جو ایک غیر معمولی عالمی ٹیمپلیٹ کو ابھارتا ہے-

    اسٹیشن جدہ میں 94.3 ایف ایم، دمام میں 88.5 ایف ایم اور ریاض میں 99.0 ایف ایم پر دستیاب ہوگا۔

    ترکیہ انتخابات:ووٹوں کی گنتی جاری،طیب اردوان کوحزب اختلاف کےامیدوارکلیچ داراوغلوپرمعمولی برتری حاصل

  • ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    گزشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک دوست نے سوال کیا ہوا تھا کہ ہم انگلش کیوں بولتے ہیں. یہ ایشو صرف میرا اور آپ کا نہیں ہے بلکہ تقریباً سارے پاکستان کا ہی مسئلہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف فورمز پر، مہمانوں اور اجنبی لوگوں کے سامنے، کالج و یونیورسٹی میں، میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم انگریزی بول پائیں تاکہ سننے والوں پر رعب پڑ جائے کہ اس کو انگریزی آتی ہے. کچھ ہمارے جیسے انگریزی کے سفید پوش تو ایسے بھی ہوتے بلکہ اکثر ہی ایسے ہوتے کہ جن کو انگریزی تو بولنی نہیں آتی لیکن ہماری بھی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لفظ انگریزی کا ضرور بولیں یہ اور بات ہے کہ لب و لہجہ مقامی ہوتا ہے اور سننے والے پر وہ تاثر نہیں پڑتا جو ہمیں مطلوب ہوتا ہے شرمندگی سی مقدر بنتی ہے.

    مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کا رویہ بھی بڑا منافرت سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی اپنے لب و لہجے میں ہماری قومی زبان بولنے کی کوشش کرے اور اکثر الفاظ کی ادائیگی غلط ہی کرتا ہے تو ہم سبھی بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن جب کوئی اپنا ہی دیسی بندہ مقامی لب و لہجے میں انگریزی بولنے کی کوشش کرے تو سبھی اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے. بہرحال ہم بات کرتے ہیں کہ ہم انگریزی کو اپنی قومی یا مقامی زبانوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں.

    ‏‎سب سے پہلی بات کیونکہ من حیث القوم ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ شاید انگریزی ہی واحد معیار ہے اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور مہذب دکھانے کا تو دہرے تہرے ہوکر بولنی انگریزی ہی ہے.

    دوسری بات موجودہ ایام میں چونکہ دنیا میں ڈنکا امریکہ اور یورپین ممالک کا بجتا ہے اور وہ سپر پاور سمجھے جاتے ہیں تو انہی کی کرنسی اور زبان اک معیار سمجھی جاتی ہے جب ان کی برتری ختم ہوجائے گی تو یہ کرنسی و زبان کا برتر ہونا بھی ‏‎ختم ہوجائے گا.

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. کولڈ وار سے قبل اور کولڈ وار کے دوران، دوسرے لفظوں میں افغان جہاد سے قبل دنیا میں روسی کرنسی کا دور چلتا تھا بچے بچے کو پتا تھا کہ روس کی کرنسی کا نام روبل ہے. مگر جب افغان جہاد میں روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹا تو آج دنیا کو روبل کا نام بھی یاد نہیں ہے. اسی طرح جب دنیا سے امریکہ و یورپ کی شکل میں سامراجیت کا خاتمہ ہوگا تو ان کی ثقافت، زبان، کرنسی وغیرہ کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوجائے گا.

    کیونکہ سادہ سی بات ہے کہ جو دنیا میں برتر ہوتا ہے نظام بھی اسی کے چلتے ہیں وہ نظام چاہے معاشی ہوں، لسانی، عسکری یا علمی. ہم لاکھ نعرے ماریں امریکہ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے تو ‏‎چونکہ ہم ذہنی طور پر اس کی برتری کو قبول کرچکے ہیں اگرچہ ہم ظاہری طور پر نعرہ تو لگاتے ہیں امریکہ و برطانیہ کی برتری ختم کرنے کالیکن ہمارے دل اس میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ دنیا سے سامراجیت کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم اس کی کوئی واضح پلاننگ نہیں رکھتے ہیں نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اور نہ عسکریت و معیشت کے میدان میں. نتیجہ اس کا یہی ہےکہ ہم ان کے نظاموں کو اپنانے میں مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ان کے نظاموں اور ان کی ثقافتوں کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں.