Baaghi TV

Tag: انیل امبانی

  • ایپسٹن نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ بتاتے ہوئے امبانی کی دفاعی اور سفارتی معاملات پر رہنمائی کی،امریکی میڈیا

    ایپسٹن نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ بتاتے ہوئے امبانی کی دفاعی اور سفارتی معاملات پر رہنمائی کی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سزا یافتہ جنسی اسمگلر جیفری ایپسٹین نے خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بااثر اندرونی فرد کے طور پر پیش کرتے ہوئے بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کو دفاعی اور سفارتی معاملات پر مشورے دیے۔

    امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انیل امبانی، بھارت کے سب سے بڑے تاجروں میں سے ایک، ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی دنوں میں یہ جاننے کے لیے بے چین تھے کہ بھارت نئے صدر کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہاں فٹ ہو سکتا ہے، سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے خود کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب بااثر شخصیت ظاہر کرتے ہوئے 2017 میں بھارتی صنعتکار انیل امبانی کو بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں رہنمائی فراہم کی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں مالی مشکلات کا شکار ہونے والے امبانی نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے ایپسٹین سے اندرونی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے ٹرمپ انتظامیہ میں تقرریوں اور خارجہ پالیسی سے متعلق معلومات امبانی کے ساتھ شیئر کیں۔

    ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے حتمی وقت کا اعلان کر دیا

    مارچ 2017 میں امبانی نے استفسار کیا کہ آیا ڈیوڈ پیٹریاس کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کیا جائے گا، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ معلومات حاصل کرے گا بعد ازاں اس نے بتایا کہ پیٹریاس اس عہدے کے لیے زیر غور نہیں بالآخر نومبر 2017 میں کینتھ آئی جسٹر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

    اسی طرح جولائی 2017 میں ایپسٹین نے امبانی کو بتایا کہ جان بولٹن جلد ہی ایچ آر مک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر بن جائیں گے، یہ خبر تقریباً 8 ماہ بعد درست ثابت ہوئی ایپسٹین نے امبانی کو ٹرمپ کے قریبی افراد سے ملاقات کروانے کی پیشکش بھی کی، جن میں سٹیفن کے بینن اور تھامس باراک جونیئر شامل تھے۔

    دوسری جانب امبانی نے خود کو نریندر مودی کی حکومت سے قریبی تعلق رکھنے والا ظاہر کیا اور ایک موقع پر کہا کہ ’قیادت‘ نے ایپسٹین سے جیرڈ کشنر اور بینن سے ملاقاتوں کے انتظام میں مدد مانگی ہے پیغامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے امبانی کو مشورہ دیا کہ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

    ایران امریکا جنگ بندی:پاکستان اور سعودی عرب کا خطے کی صورتحال کا جائزہ،دو مرحلوں پر مبنی ممکنہ معاہدے پر غور

    اس دوران مودی کے شیڈول میں اسرائیل سے متعلق امور کو خاص اہمیت حاصل رہی، جو ان کے تاریخی دورۂ اسرائیل اور اسی سال تقریباً 2 ارب ڈالر کے دفاعی سودوں سے مطابقت رکھتا ہے انیل امبانی، جو مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں، کاروباری مشکلات کے باعث 2007 میں تقریباً 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2019 میں محض 1.7 ارب ڈالر کی ملکیت تک آ گئے۔

    رپورٹ کے مطابق 2019 میں بھی دونوں کے درمیان رابطہ برقرار رہا، جہاں ایپسٹین نے بطور ’دوست‘ امبانی کو مشورے اور ہمدردی کا اظہار کیا، بغیر کسی مالی مطالبے کے دونوں کی ملاقات 23 مئی 2019 کو نیویارک میں ہوئی، جو بھارت کے عام انتخابات کے نتائج کا دن بھی تھا پیغامات میں سیاست اور مالی معاملات کے ساتھ ساتھ ’ڈیزرٹ‘ اور ’تفریح‘ جیسے مبہم حوالوں کا بھی ذکر ملتا ہے، تاہم ان کا مکمل سیاق و سباق واضح نہیں۔

  • 42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے ، یہاں پر ہر روز ایسی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے،ایک انسان اگرآج عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ گلی گلی کی خاک چھان رہا ہو،عروج سے زوال تک کے سفر پر کئی انسانوں کی زندگیاں محیط ہیں کہ جنہوں نے پیسہ،نام اور شہرت بے پناہ کمایا اور پھر زوال کی طرف چلے گئے

    Dhirubhai Ambani , Father of Anil and Mukesh Ambani

    ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کے ایک ارب پتی انیل امبانی کی ہے،انیل کا باپ دھیروبھائی امبانی ایک بڑا کاروباری شخص تھا جس نے ریلائنس ٹیلی کام اور ریلائنس گروپ کی بنیاد رکھی اور ریلائنس کو ایک بڑا کاروباری گروپ بنا دیا، دھیروبھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مکیش امبانی اور دوسرا انیل امبانی تھا، دھیرو بھائی امبانی 2002 میں دنیا سے چل بسا، اور اپنی جائداد دونوں بیٹوں میں تقسیم کرگیا، ریلائنس ٹیلی کام کمپنی، ٹی وی چینل اور پروڈکشن انیل امبانی کو دے دیا گیا، جبکہ آئل اینڈ گیس کمپنی، کنسٹرکشن کمپنی ، اور ایلائنس پیٹرو کیمیکلز کا نیا مالک مکیش امبانی کو بنا دیا گیا، 2004 میں انیل امبانی نے ریلائنس کیپیٹل،ریلائنس انرجی اور ریلائنس نیچرل ریسورسز کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرلیا،

    انیل نے اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینے کیلئے 2005 میں ادلب موویز پروڈکشن گروپ کو بھی خرید لیا، 2008 میں انیل نے امریکن پروڈیوسر سٹیون سپائل برگ کے پرودکشن ہاؤس ڈریم ورکس کےساتھ 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا، انیل کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی مکیش امبانی سے ہمیشہ ہر لحاظ سے اوپر رہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا جب 2008 کی فوربز رپورٹ کے مطابق انیل امبانی کے کل اثاثے 42 ارب ڈالر سے اوپر ہو چکے تھےاور اس وقت انیل مبانی اپنے کاروبار کے عروج پر تھا اور ہندوستان کا سب سے امیر ترین شخص بن چکا تھا

    Mukesh Ambani

    لیکن پھر سال 2014 آیا اور انیل امبانی کے کاروبار کا زوال شروع ہوا، انیل کی پاور اینڈ انرجی بنانے والی کمپنیوں نے بجلی کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے بڑا قرض لیا ، لیکن ان کمپنیوں کے بنائے ہوئے منصوبے کیمطابق پاور پلانٹ بجلی پیدا نہ کرسکے اور انیل کی پاور اینڈ انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گھاٹےمیں چلی گئیں، اس کے بعد بینک سے لیے ہوئے قرض کو واپس کرنے کا وقت آیا تو کاروبار اس قابل نہ تھا کہ قرض دے پاتا، اس صورت میں انیل نے ریلائنس انرجی اور ریلائنس پاور کو بیچ دیا،

    لیکن انیل امبانی کے کاروبار کو بڑا دھچکہ اس کے اپنے گھر سے ہی ملا جب مکیش امبانی نے2016 میں ٹیلی کام کمپنی جیو کو لانچ کردیا اور اس سے انیل امبانی کے رہی سہی منافع بخش کمپنیوں ائرٹیل،آئیڈیا اور ووڈا فون کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا، فروری 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انیل کو حکم جاری کیا کہ اگر آپ نے سویڈش کمپنی ایریکسن کے 550 کروڑ بھارتی روپے واپس نہ لٹائے تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، خوش قسمتی سے اس معاملے میں مکیش نے انیل کی مدد کی اور اس کا قرض خود ادا کیا، لیکن انیل امبانی کی مشکلات ابھی بھی حتم نہیں ہوئیں ، انیل مبانی نے ابھی مزید 1.7 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کے قرض ادا کرنے ہیں
    انیل امبانی کی اس وقت کل ملکیت صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جو کہ 2008 میں 42 ارب ڈالر تھی، اور اس وقت انیل کا چھوٹا بھائی مکیش امبانی انڈیا کا سب سے امیرترین شخص ہے جس کے کل اثاثے 52 ارب ڈالر ہیں اور مکیش امبانی صرف ممبئی والا گھر انیل امبانی کی کل ملکیت سے زیادہ مہنگا ہے