Baaghi TV

Tag: اورنگزیب

  • حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے ،وزیر خزانہ

    حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے ،وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیوسینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اب تک 24 سرکاری اداروں کو نج کاری کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق وزارت خزانہ میں عالمی پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی فرم الویریز اینڈ مارسل کے وفد نے وزیر خزانہ سے ملاقات کی، یہ ملاقات پاکستان میں نجکاری کے عمل اور خودمختار ویلتھ فنڈ کے قیام کے سلسلے میں جاری مشاورت کا حصہ تھی۔

    اعلامیے کے مطابق الویریز اینڈ مارسل کے وفد کی قیادت ڈویژن ایگزیکٹو پیٹر بریگزنے کی، ان کے ہمراہ منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ الاِبعاری اور گلوبل ہیڈ آف سوورین ایڈوائزری رضا باقر بھی موجود تھے۔

    ملاقات کے دوران پیٹر بریگز نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے الویریز اینڈ مارسل کے مضبوط عزم کا اظہار کیا اور اس خطے کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں کمپنی کی طویل المدتی حکمت عملی کو اجاگر کیاانہوں نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے پر غور کر رہی ہے تاکہ حکومت کو نجکاری کے عمل میں مدد فراہم کی جا سکے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا جا سکےپاکستان کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ سرمایہ کاری اور طویل مدتی ترقی کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔

    وزیراعظم کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط ، سکھر موٹروے جلد تعمیر کرنے کی یقین دہانی

    وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے الویریز اینڈ مارسل کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے نج کاری اور سوورین ایڈوائزری میں کمپنی کی مہارت اور بالخصوص بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے ضمن میں ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع کو مؤثر انداز میں کھولنے کے لیے ان کے ممکنہ کردار کو سراہا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اب تک 24 سرکاری اداروں کو نج کاری کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔

    محمد اورنگزیب نے گزشتہ 14 ماہ کے دوران پاکستان کی معیشت میں ہونے والی بہتری کا ذکر کیا اور کہا کہ معیشت کے استحکام نے مارکیٹ کو نئی زندگی بخشی ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔

    مسائل کو حل کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو تعاون کرنا ہوگا ،رانا ثنااللہ

    انہوں نے عالمی شپنگ کمپنی اے پی مولر میرکس کی جانب سے میری ٹائم سیکٹر میں بڑی سرمایہ کاری کے حالیہ اعلان کا حوالہ دیا، اس کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ کار اور کاروباری حضرات بھی نئے جوش و جذبے سے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے آگے آ رہے ہیں یہ سب معاشی بہتری کی واضح علامتیں ہیں اور پاکستان کی ترقی کے لیے امید افزا اشارے ہیں۔

    محمد اورنگزیب نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت کا وژن وزیراعظم شہباز شریف کے اہداف کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد پاکستان میں تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینا اور خطے میں ابھرتے ہوئے اقتصادی کوریڈور سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ الویریز اینڈ مارسل کے ساتھ شراکت داری پاکستان اور اس کی معیشت کے لیے ایک خوش حال مستقبل کی بنیاد رکھے گی۔

    ریلوے کیلئےسیٹ کئے گئے ٹارگٹ پورے ہو رہے ہیں،حنیف عباسی

  • ناگپور :  اورنگزیب کے مزار کو گرانے کے مطالبے پر جھڑپیں،کرفیو نافذ

    ناگپور : اورنگزیب کے مزار کو گرانے کے مطالبے پر جھڑپیں،کرفیو نافذ

    بھارتی شہر ناگپور میں ہندو انتہا پسند گروہ کی جانب سے مغل بادشاہ اورنگزیب کے مزار کو گرانے کے مطالبے پر پرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئیں، جس کے بعد حکام نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا۔

    پولیس کے مطابق پیر کے روز ہونے والے فسادات میں متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، جبکہ 15 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہےمہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ایک ویڈیو پیغام میں تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور امن و امان کی بحالی کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    پولیس رپورٹ کیمطابق وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے کارکنان نے اورنگزیب کے مزار کا پتلا جلایا اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیاصورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب مسلم گروہوں کے افراد پولیس اسٹیشن کے قریب احتجاج کے لیے نکلے اور جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق، ہجوم میں شامل بعض افراد نے نقاب پہن رکھے تھے اور تیز دھار ہتھیاروں سے لیس تھے تاہم وی ایچ پی نے کسی بھی تشدد میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزار کی جگہ مراٹھا حکمرانوں کی یادگار تعمیر کرانا چاہتے ہیں۔

    ناگپور وہی شہر ہے جہاں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کا مرکزی دفتر واقع ہے، جو کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت، بی جے پی کی نظریاتی تنظیم ہے مودی مخالفین ان پر اکثر مسلمانوں کے خلاف جانبداری اور انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، تاہم ان کی حکومت ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔

  • ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 13 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانا ہے،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد ہیومین انٹروینشن کو کم کرنا ہے، نان فائلرز کی اختراع ختم کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے،نان فائلرز کی ٹیکسیشن میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے، ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے، سیلری سلیب ہم پہلی بار نہیں لگانے جا رہے،جولائی میں تمام ٹیکسوں کا اطلاق کیا جائے گا، تمام ریٹیلرز کو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہئیے تھا،این ٹی این نمبر ہو گا تو بیرون ملک سفر ہو سکے گا،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے گا، پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ ہوگا، 10 فیصد ٹیکس ٹوجی ڈپی کی شرح ناقابل برداشت ہے،تقریباََ 31 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں،ہم نے ٹیکس کے ذریعے مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے،

    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس،پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل صحافیوں کا احتجاج
    تنخواہ دار طبقہ پر بھاری ٹیکس، صحافیوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل احتجاج کیا،صحافیوں نے کھڑے ہو کر ظالمانہ ٹیکسز کیخلاف اپنا ٹوکن احتجاج ریکارڈ کروایا،صحافیوں کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھتیں، البتہ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے گئے ہیں۔دوران پریس کانفرنس سینیئر صحافی ثنا اللہ خان نے سوال کیا کہ آپ نے وزیراعظم ہاؤس، نیشنل اسمبلی، سینیٹ کا بجٹ بڑھا دیا، میڈیا میں لوگوں کو کیش تنخواہیں ملتی ہیں کیا ایف بی آر نے آج تک پوچھا؟ آپ باتیں کرتے ہیں سسٹم ٹھیک ہی نہیں کرنا چاہتے، اپنے اخراجات کم نہیں کرنا چاہتے، لوگوں پر ٹیکس لگا رہے ہیں،

    اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،علی پرویز ملک
    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ جو راستہ شہباز شریف نے اختیار کیا وہ مشکل اور کٹھن ضرور ہے، حکومت کو کچھ وقت دیں، مقدس گائے وہ ہوتی ہے جو سسٹم سے باہر نکل کر آمدنی پیدا کررہی ہو اور ٹیکس نہ دے رہی ہو پاکستان کے علاوہ ارجنٹینا کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے جاتی، شہباز شریف 100 گنا ریلیف دینا چاہتے تھے، جب خسارہ بڑھتا ہے تو اس کے لیے آپ نوٹ چھاپیں یا قرض لے کر اگلی نسلوں پر بوجھ ڈالیں، تنخواہ دار طبقے میں امیر طبقہ زیادہ ٹیکس کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا رہا تھا،نان فائلرز کو وقت دیا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں آئیں، ڈیجیٹائزیشن کے بعد نان فائلرز سے ٹیکس بھی لیا جائے گا اور پوچھا بھی جائے گا،مڈل کلاس پر ہم نے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا، ایک لاکھ روپے تنخواہ والے پر سب سے کم بوجھ ڈالا گیا ہے ،جو بھی پاکستان کی خدمت کے لئے آگے آتے ہیں، کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اسکے خلوص،نیت پر شک کریں، ہمیں دل کو وسیع کر کے مسائل پر بات کرنی ہو گی، اگر ہم ذاتیات پر لگے رہیں گے تو مسئلے حل نہیں ہوں گے،مزدور کی پہلے32 ہزار تنخواہ تھی اب 37 ہزار ہوجائیگی،پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں،ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے پر 1200 روپت تک کا بوجھ بڑھاہے،

    وفاقی بجٹ، وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 روپے مختص
    دوسری جانب وفاقی حکومت نے مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 20,251 ارب روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت جاری منصوبوں کے لئے 5936 اور نئے منصوبوں کے لئے 14,315 ملین روپے مختص کر دیے،وفاقی حکومت نے آئندہ مالی بجٹ میں وزیراعظم ڈائرایکٹو کے تحت جموں کشمیر کے 16سو طلباء کے لئے 250 ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25 میں پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات کے لئے 3200ملین روپے مختص کر دیے،مالی بجٹ 2024-25کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت وزیراعظم یوتھ سکل پروگرام کے لئے 4000ہزار ملین روپے مختص کر دیے

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی 141 جاری اور 19 نئی اسکیموں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 60,000 ملین روپے رکھے ہیں، بجٹ دستاویز کے مطابق جاری سکیموں کے لیے تقریباً 41,871.792 ملین روپے اور نئی سکیموں کے لیے 18,128.208 ملین روپے رکھے گئے ہیں،جاری سکیموں میں افغان طلباء کو علامہ محمد اقبال کے 3000 وظائف کے لیے 900 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے اکیڈمک بلاک کی تعمیر کیلئے450 ملین روپے ، باچا خان یونیورسٹی، چارسدہ کی ترقی اور نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کی ترقی کے لیے 400 ملین روپے مختص کیے گئے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے کیمپس کے قیام کے لیے 400 ملین روپے، کامیاب جوان اسپورٹس اکیڈمیز (ہائی پرفارمنس اینڈ ریسورس سینٹرز) اور یوتھ اولمپکس – ایچ ای سی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،بلتستان سکردو یونیورسٹی کے قیام کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں،فلبرائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام HEC-USAID (فیز-III) کے لیے 759 ملین روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے،ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی اوورسیز اسکالرشپس کیلئے3890 ملین روپے ، پاک-امریکہ نالج کوریڈور (فیز-I) کے تحت پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے لیے 3000 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئی اسکیموں میں وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام آف پاکستان نے وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 6000 ملین جبکہ نظر ثانی شدہ پروگرام کیلئے 10000 ملین روپے رکھے ہیں،اسی طرح وزیراعظم کے یوتھ انٹرن شپ پروگرام کے لیے 30 ملین روپے، مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور انوویشن سینٹر کے قیام کے لیے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    اورنگ آباد: ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کے درمیان زمینی تنازعات عام ہیں،مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع کے ایک گاؤں میں بندروں کو 32 ایکڑ اراضی اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونے کا نادر اعزاز دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست عثمان آباد میں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں کے بندر زمیندار ہیں، اس گاؤں میں جہاں لوگوں کے پاس اپنے گھر نہیں ہیں وہاں 32 ایکڑ اراضی یہاں کے بندروں کے نام پر ہے۔

    دبئی میں دنیا کا سب سے بڑا ہیرا نمائش کےلیے پیش کردیا گیا

    گاؤں کے رہائشی بندروں کا خاص احترام کرتے ہیں جب بھی ان کی دہلیز پر بندر آتے ہیں تو وہ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور کھلاتے پلاتے ہیں۔

    اپلا گرام پنچایت کے پاس ملے زمینی ریکارڈ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ 32 ایکڑ زمین گاؤں میں رہنے والے تمام بندروں کے نام ہے۔

    گاؤں کے سربراہ کے مطابق ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب بندر گاؤں میں کی جانے والی تمام رسومات کا لازمی حصّہ ہوا کرتے تھے،جبکہ دستاویزات میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ زمین بندروں کی ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ جانوروں کے لیے یہ انتظام کس نے کیا اور کب کیا گیا-

    بھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹر تباہ،پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاک

    جب بھی گاؤں میں شادیاں ہوتی تھیں، تو سب سے پہلے بندروں کو تحفہ دیا جاتا تھا جس کے بعد ہی تقریب شروع ہوا کرتی تھی تاہم اب ہر کوئی اس رواج کی پیروی نہیں کرتا،ماضی میں، بندر گاؤں میں کی جانے والی تمام رسومات کا حصہ تھے۔

    انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ زمین کے دستاویزات یہاں کے بندروں کے نام ہے لیکن دستاویزات میں یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے لیے یہ انتظام کس نے اور کب کیا ہے۔ یہاں ایک مکان ہوا کرتا تھا جسے محکمہ جنگلات نے منہدم کرکے زمین پر شجرکاری کا کام کیا ہے۔

    گاؤں میں اب بندروں کی تعداد برسوں سے کم ہو گئی ہے کیونکہ یہ زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں ٹھہرتے، اس وقت گاؤں میں تقریباً 100 بندروں کے گھر موجود ہیں۔

    مسٹر پڈوال نے کہا کہ گاؤں اب تقریباً 100 بندروں کا گھر ہے، اور ان کی تعداد برسوں سے کم ہو گئی ہے کیونکہ جانور زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں ٹھہرتے۔

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات نے زمین پر شجرکاری کا کام کیا ہے اور اس پلاٹ پر ایک لاوارث مکان بھی تھا جو اب منہدم ہو چکا ہے جب بھی بندر ان کی دہلیز پر آتے ہیں گاؤں والے بھی انہیں کھلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی انہیں کھانے سے انکار نہیں کرتا-

  • عمران خان پاکستان کی آزادی،خودمختاری اورمعیشت کاسوداکرنےوالاشخص ہے:مریم اورنگزیب

    عمران خان پاکستان کی آزادی،خودمختاری اورمعیشت کاسوداکرنےوالاشخص ہے:مریم اورنگزیب

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کرک میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خطاب کو بےشرمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آڈیو ثبوت ہے کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا، نہ ہی کسی کو کوئی ناجائز فائدہ پہنچایا گیا، بھارت سے بجلی کا پلانٹ عمران خان کی حکومت کی پالیسی اور قانون کے مطابق آیا، عمران صاحب ہائوسنگ سوسائٹی کے گرڈ اسٹیشن کی تنصیب کے بارے میں 18 جولائی 2020ء کا ہائی کورٹ ملتان بینچ کا فیصلہ پڑھ لیں۔

     

     

    اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کے عوض پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور معیشت کا سودا کرنے والا چیخیں مار رہا ہے ، ‎رومیتہ شیٹی ، اندردوسانج جیسے بھارتیوں سے فارن فنڈنگ لینے والا آج چیخیں مار رہا ہے ، اسے غصہ اس بات کا ہے کہ شہباز شریف نے کوئی پالیسی بدلی نہ زمین مانگی اور نہ ہی 5 قیراط کے ہیرے مانگے، ‎کوئی غیرقانونی کام نہ ہونے پر عمران خان غصے سے پاگل ہوگئے ہیں ۔

     

     

     

    انہوں نے کہا کہ ‎عمران خان کو غصہ اور تکلیف ہی یہ ہے کہ آڈیو سے بھی کوئی غیرقانونی چیز برآمد نہ ہوسکی ۔ انہوں نے کہا کہ ‎ عمران خان کو غصہ اور تکلیف ہے کہ آڈیو میں بشری بی بی کے پانچ کیرٹ ہیرے کا ذکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‎خیرات کے پیسے اپنی ذات اور سیاست کے لئے استعمال کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے کا چیخنا چلانا بنتا ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‎ 190 ملین پائونڈ ”بند لفافے“ میں پانچ قیراط کی انگوٹھی دینے والے کو ”عطیہ“ کرنے جیسا کوئی کام نہیں ہوا، ‎پانچ قیراط ہیرے کے لئے حکومتی پالیسی بدلنے والا آج دوسروں پر بہتان تراشی کررہا ہے ۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ 458کنال زمین کے لئے حکومتی پالیسی بنانے والا ہمیشہ کی طرح آج بھی جھوٹ بول رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‎توشہ خانہ کی پالیسی بدل کر کروڑوں روپے کی تین گھڑیوں سے منافع کمانے والاجھوٹ بولنے سے پہلے آئینہ دیکھ لیا کرے ۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‎اس آڈیو میں شوکت ترین اور آپ کے صوبائی وزرا کی پاکستان دشمن سازش جیسی کوئی بات نہیں نکلی۔

  • بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں  زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    نئی دہلی : بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے ریاست تلنگانہ میں اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان سے خطاب میں مغلوں، نظاموں اور مسلم سیاسی رہنماؤں کے خلاف خوب زہر اُگلا۔

     

    بی جے پی رہنما ہمنتا بسوا شرما کا کہنا تھا کہ جیسے کشمیر کی دفعہ 370 کا خاتمہ ہوا، جیسے رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوا، اسی طرح یہاں نظام اور اویسی کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا، اس میں اب زیادہ وقت نہیں۔ بھارتی تاریخ بتاتی ہے کہ بابر، اورنگزیب اور نظام بہت دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتے۔

    ہمنتا بسوا شرما کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے نئے بھارت کی تعمیر کرنی ہے جس میں کوئی بھی نظام کی تاریخ نہیں پڑھے گا بلکہ ہمارے اپنے رہنماؤں کی تاریخ پڑھائی جائے گی۔

     

    تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد پر تقسیم ہند سے قبل تک نظام نے برسوں حکمرانی کی تھی اور ان کا اشارہ اُنہی کی طرف تھا۔ سوشل میڈیا پر اس متنازع بیان پر کافی بحث ہوئی اور بہت سے افراد نے اسے اشعال انگیز قرار دیا۔آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بھارت کو نئی سمت دینے کے لیے وزیراعظم مودی کی تعریف اور تلنگانہ میں بے روزگاری کے مسائل پر بھی بات کی لیکن وہ اِس حقیقت سے صاف منہ موڑ گئے کہ جب سے مودی بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں تب سے ملک میں بے روزگاری کا سنگین مسئلہ شروع ہوا اور اس وقت ملک ایک بحران سے گزر رہا ہے۔

    چند روز قبل ہی بھارت کے معروف ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے طلبا اور اساتذہ نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام خط لکھ کر ملک میں نفرت انگیز تقریروں اور اقلیتوں پر حملوں کے خلاف اُن کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں جو اِنہیں مزید تقویت اور حوصلہ دے رہی ہے۔

     

    وزیراعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس خط پر 183 افراد نے دستخط کیے جن میں طلبا کے ساتھ ساتھ آئی آئی ایم بنگلور کے 13 اور آئی آئی ایم احمد آباد کے تین فیکلٹی ارکان بھی شامل ہیں۔

    خط میں مزید تحریر تھا کہ ملک میں ایک خوف کا ماحول ہے۔ بھارت میں گرجا گھروں سمیت بہت سی عبادت گاہوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف تو ہتھیار اٹھانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ یہ سب کسی قانونی کارروائی کے ڈر کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

     

    2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں مسلم اور دیگر اقلیتوں پر مظالم کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔

    گزشتہ ماہ ہی ہری دوار میں انتہاپسند ہندوؤں کے ایک مذہبی اجلاس کے موقع پر متعدد ہندو مذہبی رہنماؤں نے عام ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کے قتل عام اور نسل کشی کے لیے کہا تھا۔

    اس واقعے کی کئی وڈیوز بھی وائرل ہوچکی ہیں اور تمام مقررین واضح طور پر پہچانے جا سکتے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ مسلمانوں نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔