Baaghi TV

Tag: اوپن مارکیٹ

  • انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں تنزلی

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں تنزلی

    آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی پرواز جاری رہی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔

    باغی ٹی وی کے مطاق بیرونی ادائیگیوں کے دبا، برآمدات میں چیلنجز کی وجہ سے اس کی محدود پیمانے پر نمو اور بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی پرواز جاری رہی لیکن اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ 281روپے سے نیچے آگئے، اس طرح سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ایک دوسرے کی مخالف سمت پر گامزن رہی۔عالمی بینک کی پاکستان میں شعبہ جاتی بنیادوں پر شراکت داری کے تحت 40ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پلان، 4ماہ سے کرنٹ اکانٹ سرپلس ہونے جیسے مثبت سینٹیمنٹس کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے بیشتر دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر 15پیسے کی کمی سے 279روپے 05پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔

    لیکن سپلائی میں بہتری آتے ہی بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور درآمدات کے لیے طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 06پیسے کے اضافے سے 279روپے 26پیسے کی سطح پر بند ہوئی، اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 08پیسے کی کمی سے 280روپے 98پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں تسلسل سے کمی، عالمی تحقیقی ادارے ٹریس مارک کی فروری میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ 280روپے پر آنے کی پیشگوئی مارکیٹ پر اثرانداز رہی جس کی وجہ سے برآمدی شعبوں کی جانب سے اپنی برآمدی آمدنی بھنانے کا عمل متاثر رہا۔تاہم کرنٹ اکانٹ مسلسل سرپلس رہنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ زرمبادلہ کی سپلائی اطمینان بخش ہے لیکن معیشت میں طلب بڑھنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے دبا سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہورہا ہے۔

  • انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالرمزید سستا

    انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالرمزید سستا

    کراچی: انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر مزید سستا ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : اوپن مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر 5 روپے کی مزید کمی کے بعد 307 روپے پر آ گیا جبکہ انٹربینک میں ڈالر 304 روپے 94 پیسے پر بند ہوا، آج انٹر بینک میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 2 روپے 4 پیسے سستا ہوا گزشتہ روز انٹربینک میں امریکی ڈالر 306 روپے 98 پیسے پر بند ہوا تھا انٹر بینک میں ڈالر کی بلند ترین اختتامی قیمت 307 روپے 10 پیسے تھی جو 5 ستمبر کو ریکارڈ ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ حکومت نے ڈالر کی اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے لیے کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے جس کے بعد سے امریکی ڈالر کی قیمت میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    سوات اور گرد و نواح میں زلزلہ

    دوسری جانب خیبر پختونخوا میں فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی(FIA)نے لاء انفورسمنٹ ایجنسز کے ہمراہ پشاور سمیت دیگر شہروں میں ڈالرز اور دیگر غیر ملکی کرنسی کے غیر قانونی کاروبار اور سمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف کریک ڈاٶن شروع کردیا ہے۔

    نجی خبررساں ادارے کے مطابق جمعرات کے روز ایک کاررواٸی میں ایف اٸی اے نے مقامی پولیس کے ہمراہ پشاور کے غیرملکی کرنسی کےمشہورمارکیٹ چوک یادگار میں 200 دکانوں کو سیل کردیا ہے ایف آئی اے نے گزشتہ چند دنوں میں پشاور اور صوبے کے دیگر شہروں میں مختلف کاررواٸیوں میں درجنوں افراد کو ڈالرز اور غیر ملکی کرنسی کے کاروبار میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کرکے ان سے ریکوری کی ہے۔

    پشاور میں ریسکیو1122 کی موٹر سائیکل ایمبولینس سروس کا آغاز

    ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل پشاور کے حکام کے مطابق ایف آئی اے نے پولیس کے تعاون سے 15اگست سے 2ستمبر تک مختلف کاررواٸیوں میں ڈالرز اور حوالہ ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے ان سے 100 ملین روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی اور ڈالرز برآمد کئے ہیں۔

    ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل پشاور کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں کے پی میں ڈالرز مافیا سے 1ارب 71کروڑ روپے مالیت کے ڈالرز اوردیگر غیر ملکی کرنسی برامد کرکے 547افراد گرفتار کئے ہیں کےپی میں غیر ملکی کرنسی کے غیرقانونی کاروبار کے زیادہ تر کیسز کا تعلق مڈل ایسٹ افغانستان اور دبئی سے ہیں ڈالرز کی زیادہ تر سمگلنگ افغانستان کو ہوتی ہے طورخم بارڈر پر ایف ائی اے کا کردار صرف امیگریشن تک ہے جب کہ بارڈر پر ڈالرز کی سمگلنگ روکنے کا کام کسٹم ڈیپارٹمنٹ کا ہے۔

    ایشیا کپ:تمام میچز پاکستان میں نہ کرانے کی بڑی وجہ براڈ کاسٹرز کی ہچکچاہٹ تھی، …

  • روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر کمی

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر کمی

    اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر 37 پیسے کی کمی دیکھی گئی ہے.

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر 37 پیسے کی کمی دیکھی گئی۔اسٹیٹ بینک اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 277 روپے 41 پیسے سے کم ہو کر 277 روپے 04 پیسے ہو گئی ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.13 فیصد کی بحالی دیکھی گئی۔ دوسری طرف اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 280 روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اُدھر روپے کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں میں سعودی ریال کی قدر 73.8554، بھارتی روپیہ کی قیمت 3.356 ، برطانوی پاؤنڈز 352.22، یورو کی قیمت 300 روپے پر پہنچ گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وہاب ریاض نے سوشل میڈیا پر اپنی وائرل ویڈیو پر ہونے والی تنقید پر ردعمل کا اظہار کیا ہے
    عالمگیر ترین کی نماز جنازہ کب ہو گی؟ اعلان ہو گیا
    نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،مریم اورنگزیب
    عالمگیر خان ترین کے موت کی خبر نے کر کٹ حلقوں کو بھی سوگوار کر دیا
    تمیم اقبال انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر
    بینظیر کفالت سہ ماہی وظائف کی 55ارب 41 کروڑ سے زائد رقم تقسیم
    سوات؛ پہاڑی تودہ گرنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 8 ہوگئی
    جبکہ خیال رہے کہ پیر کے دن بینک کی تعطیلات کے باعث کاروبار نہیں ہو سکا تھا، منگل والے دن امریکی ڈالر کے مقابلے میں 10.55 روپے کی قدر بحال ہوئی تاہم بدھ کو امریکی ڈالر 2 روپے کے قریب اضافہ دیکھا گیا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اسی طرح بحال ہوتی رہی تو آئندہ چند ہفتوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات سمیت درآمد کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی توقع ہے۔

    دوسری جانب ملک پر مجموعی قرضوں کی مالیت 58ہزار 962ارب روپے تک پہنچ گئی، وفاقی حکومت نے مالی سال 23-2022 کے پہلے 11 ماہ کے دوران یومیہ بنیادوں پر 33ارب 89کروڑ روپے کا قرضہ لیا اور وفاقی حکومت نے مالی سال 23-2022 کے پہلے 11 ماہ کے دوران یومیہ بنیادوں پر 33ارب 89کروڑ روپے کا قرضہ لیاملک پر مجموعی قرضوں کی مالیت 58ہزار 962ارب روپے تک پہنچ گئی، مقامی قرضوں میں 5968ارب روپے جبکہ غیرملکی قرضوں میں 5161ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 23-2022 کے پہلے 11 ماہ کے دوران یومیہ بنیادوں پر 33ارب 89کروڑ روپے کا قرضہ لیا، اس طرح ہر گھنٹے ایک ارب 40کروڑ 95لاکھ روپے کا قرض لیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق مئی 2023 کے اختتام پر مقامی قرضوں کی مالیت 37ہزار 54ارب روپے جبکہ غیرملکی قرضوں کی مالیت 21 ہزار908 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ قرضوں کی مالیت بڑھانے میں روپے کی بے قدری نے اہم کردار ادا کیا، مجموعی قرضوں کے حجم میں روپے کی بے قدری کی وجہ سے 40فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2022 کے اختتام پر قرضوں کی مالیت روپے کی قیمت 204.37 روپے پرلگائی گئی جبکہ مئی 2023 میں قرضوں کی مالیت کا تعین 285.38 روپےکی بنیاد پر کیا گیا۔

  • ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ کمی

    ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ کمی

    اوپن مارکیٹ میں مزید سستا ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: عید الاضحٰی کی چھٹیوں کے بعد ڈالر کی قیمت میں یکدم بڑی کمی ریکارڈکی گئی، آج پیر کو پہلے کاروباری روز کے دوران ڈالر کی قیمت میں مزید 5 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد ڈالر کی نئی قیمت اوپن مارکیٹ میں 284 روپے پر آگئی ہے۔

    دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان معاہدے کے بعد کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، اسٹاک ایکس چینج کے 100 انڈیکس میں 2436 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد 100 انڈیکس 43 ہزار 889 کی سطح پر ٹریڈ ہورہا ہے۔آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کی اسٹینڈ بائے اریجمنٹ کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کاروبار کا 2 ہزار 231 پوائنٹس اضافے کے ساتھ آغاز ہوا-

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 2 ہزار 400 پوائنٹس کے تاریخی اضافے کے بعد 43 ہزار 853 پر آ گیا ہے۔ عید الاضحیٰ کی تعطیلات سے قبل 100 انڈیکس 41 ہزار 452 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 2 ہزار 231 پوائنٹس کے غیرمعمولی اضافے کے ساتھ کاروبار کے آغاز پر قوم اور کاروباری برادری کو مبارک دی اور کہا کہ الحمدللہ، ملک دوبارہ ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکا ہےشدید مایوسیوں کے بعد امید کا نیا سورج طلوع ہو رہا ہے، قوم کو مبارک ہو،آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدے اور 3 ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے نتیجے میں سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کا تیزی سے اعتماد بحال ہو رہا ہے خدا کرے کہ پاکستان کی ترقی کا سفر یوں ہی جاری رہے قائد محمد نوازشریف نے معاشی ترقی، مہنگائی میں کمی اور پاکستان کی تعمیر وترقی کا سفر جہاں چھوڑا تھا، وہیں سے پھر دوبارہ آغاز ہو رہا ہے ہماری مسلسل محنت اور درست پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی بحالی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں-

    آئی ایم ایف کی ایک اور شرط تسلیم، گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں بڑی کمی

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں بڑی کمی

    اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی-

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 25.75 روپے سستا ہو گیا اوپن مارکیٹ میں ڈالر 19 روپے کمی کے بعد 300 روپے سےنیچے آنے کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر 285.25 روپے میں فروخت ہونے لگا –

    پاک ایران سرحد ، دہشتگردوں کی فائرنگ ، 2 جوان شہید

    قبل ازیں کاروباری دن کا آغاز ہوا تو کچھ ہی دیر میں اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر مستحکم ہونا شروع ہوگئی اور ڈالر 11 روپے سستا ہوکر 300 روپے تک پہنچ گیا اس سے قبل اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر تاریخ کی بلند ترین سطح پر فروخت ہورہا تھا۔

    دوسری طرف انٹربینک میں بھی ڈالر کی قیمت میں 17 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد امریکی ڈالر 285 روپے 30 پیسے تک آپہنچا گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 285 روپے 47 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم ایشیاکپ 2023 میں شرکت نہیں کرے گی،بھارتی میڈیا

    پاکستان فاریکس ایکسچینج ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے بتایا کہ کمر شل بینک کافی عرصے سے اوپن مارکیٹ سے کریڈٹ کارڈ کیلئے ڈالر ہائی ریٹ پر خرید رہے تھے ،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 315 کا ہوا تواسحاق ڈار نے پوچھا انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کافرق اتنا کیوں ہو گیا –

    نجری کا شکار راشد خان سری لنکا کے خلاف ابتدائی دو ون ڈے میچز سے …

    ملک بوستان کے مطابق کمرشل بینک کریڈٹ کارڈ کیلئے ڈالر خرید رہے ہیں ،کمرشل بینکوں کے ڈالر خریدنے سے اوپن مارکیٹ پر اثر پڑ ا ہے ،پاکستان کی تاریخ میں آج پہلی بار ڈالر کی قیمت میں 27 روپے کمی ہوئی ہے ،بر وقت فیصلوں پر اسحاق ڈار اور گورنر سٹیٹ بینک کو مبارک باد دیتاہوں اسحاق ڈار نے بروقت فیصلہ کیا اور کل سرکلر جاری کیا۔

    عدالت کا گرفتار پی ٹی آئی کارکنوں کو فوری رہاکرنے کا حکم

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتہ وار بنیادوں پر اتار چڑھاؤ کے باوجود تیزی رہی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتہ وار بنیادوں پر اتار چڑھاؤ کے باوجود تیزی رہی

    کراچی: نئے کلینڈر سال کی سرمایہ کاری ترجیحات کے مطابق تازہ سرمایہ کاری رحجان سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتہ وار بنیادوں پر اتار چڑھاؤ کے باوجود تیزی رہی۔

    باغی ٹی وی: ہفتہ وار کاروبار میں انڈیکس کی 41000پوائنٹس کی سطح عبور ہوگئی،ہفتہ وار کاروبار کے 3 اسیشنز میں تیزی،2اسیشنز میں مندی رہی،مجموعی طو پرتیزی کےسبب حصص کی مالیت 8ارب 99 کروڑ 47لاکھ 18ہزار 14 روپےبڑھ گئی جس سےمارکیٹ کا مجموعی سرمایہ بھی بڑھ کر 65 کھرب 9 ارب 82 کروڑ 25 لاکھ 35 ہزار 435 روپے ہوگیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نےفلورملوں کوگندم کایومیہ سرکاری کوٹہ بڑھاکرڈبل کردیا

    علاوہ ازیں آئی ایم ایف شرائط تسلیم کرنے میں تاخیر اور قرض پروگرام کی عدم بحالی سے ہفتہ وار کاروبار کے دوران ڈالر کی پیش قدمی جاری رہی جبکہ روپیہ کمزور رہا، درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ، منفی خدشات سے روپیہ دباؤمیں رہا۔

    انٹربینک میں ڈالر کی میں اضافہ جبکہ پاؤنڈ اور یورو کی قدروں میں کمی ہوئی لیکن اس کے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر پاؤنڈ یورو کی قدروں میں اضافہ ہوا،ہفتہ وار کاروبار میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ 227 روپے جبکہ اوپن ریٹ 236 روپے کی سطح سے تجاوز کرگئے۔

    ہفتے وار کاروبار کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 70پیسے بڑھ کر 227.13روپے پر بند ہوئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1روپے بڑھکر 236.50روپے پر بند ہوئی۔

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر 216 روپے کا ہوگیا

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 216 روپے کا ہوگیا

    پاکستان میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور روپے کی قدر مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری ہے اور ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے 5 پیسے مہنگا ہو کر 214 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 5 روپے 5 پیسے مہنگا ہو کر 216 روپے تک مہنگا ہوگیا، ڈالر 216 روپےتک مہنگا ہوکرتاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا-

    جبکہ ڈالر گزشتہ ہفتے 201.95 پیسوں کی سطح پربند ہوا تھا، 21 جون کو ڈالرنے 212 روپےکی بلند ترین سطح کوچھولیا تھا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل جون میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر 211 روپے 48 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔ادھر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رجحان ہے اور 100 انڈیکس 431 پوائنٹس کم ہوکر 41643 پر ٹریڈ کر رہا ہے اور اُدھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل 103 اور ڈبلیو ٹی آئی 99 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

  • ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر،اوپن مارکیٹ میں ڈالر205 روپے کا ہو گیا

    ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر،اوپن مارکیٹ میں ڈالر205 روپے کا ہو گیا

    انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، ڈالر کی قدر میں مزید 2 روپے 44 پیسے کا اضافہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 202 روپے کی سطح سے تجاوز کرگیا، ڈالر 200.06 سے بڑھ کر 202.50 روپے کا ہوگیا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 205 سے زائد کا ہو گیا ہے۔

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار سے تجاوز

    پیر کے روز بھی کاروبار کے دوران ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر 200 روپے 6 پیسے پر بند ہوا۔

    منگل کے روز کاروبارکے آغاز پر انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور کاروبار کے دوران ڈالر 202 روپے 75 پیسے کا ہوگیا اوپن مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے مہنگا ہوکر 205 روپے کا ہوگیا ہے۔

    بنوں سے گیس کے ذخائر دریافت بارے وزیر اعظم کا بڑا حکم

  • ڈالر ایک بار پھرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ڈالر ایک بار پھرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    کراچی: انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک بار پھر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : ایک بار پھر ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگیا، کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 15 پیسے اضافے سے 182 روپے 33 پیسے تک پہنچ گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں 20 پیسے اضافے سے ڈالر کی قیمت 183 روپے 50 پیسے تک پہنچ گئی۔

    گندم کی نئی قیمت 2200 روپے فی من مقرر

    ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی عالمی قیمت میں دوبارہ اضافے کے رجحان سے ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھانے کا باعث بن گیا ہے جبکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی طلب و رسد کو غیر متوازن کررہا ہے جس سے انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو ڈالر کی قدر مزید 40 پیسے کے اضافے سے 182.18 روپے کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔

    رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ کےدوران مالیاتی خسارہ 553 ارب سےبڑھ کر1862 ارب روپے ہو گیا

    اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 30 پیسے کے اضافے سے 183.30 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کو درپیش عالمی چیلینجز اور ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال نے زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں اضطرابی کیفیت بڑھانے کا باعث بن گئی ہے جو ڈالر کی قدر میں بتدریج اضافے کا بھی سبب ہیں-