Baaghi TV

Tag: اوپیک پلس

  • سعودی عرب کا تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان

    سعودی عرب کا تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان

    تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے سعودی عرب نے جولائی میں تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کے وزیر توانائی کا ویانا میں اوپیک اجلاس کے بعد کہنا تھا کہ تیل کی پیداوار میں یومیہ 10 لاکھ بیرل کمی جولائی کے لئے کی جارہی ہے لیکن اس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے، 2024 سے تیل کی مجموعی پیداوار میں یومیہ 14 لاکھ بیرل تک کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈا کی سازش بے نقاب

    سعودی عرب اوپیک کے ساتھ معاہدے کے تحت جولائی میں تیل پیداوار مزید کم کرے گا،سعودی عرب نے اوپیک معاہدے میں 2024 تک توسیع کااعلان بھی کردیا ہے، دوسری جانب روسی نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیل پیداوار میں کٹوتی 2024 کے آخر تک جاری رہے گی۔

    سنگاپورمیں دنیا کی تقریباً دو درجن بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر حکام کی میٹنگ

  • سوڈان کی اوپیک پلس کے فیصلے پر سعودی عرب کی حمایت

    سوڈان کی اوپیک پلس کے فیصلے پر سعودی عرب کی حمایت

    سوڈان نے اوپیک پلس کے فیصلے پر سعودی عرب کی حمایت کر دی-

    باغی ٹی وی : سوڈانی وزارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے اور اوپیک کے رکن ملک سوڈان نے اوپیک پلس کی طرف سے تیل کی پیداوار میں بیس کٹوتی کے فیصلے کو اوپیک کا متفقہ فیصلہ قرار دیا ہے-

    پاکستان کےایف 16 طیاروں کی مرمت کیلئےامریکی پیکج میں اہم پیشرفت

    سوڈان نے سعودی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوپیک پلس نے یومیہ بیس لاکھ بیرل پیداوار کم کرنے کا فیصلہ خالصتا اقتصادی وجوہات کی بنیاد پر کیا تھا ، سیاست کی بنیاد پر نہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تنہا سعودی عرب کا فیصلہ نہ تھا بلکہ سب نے مل کر اور متفقہ طور پر کیا تھا کہ تیل کی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کی جائے اس فیصلے کی بنیاد ‘ تیل کی طلب اور رسد سے متعلق حقائق تھے اور یہ عزم تھا کہ توانائی کی مارکیٹ میں استحکام رکھنا ہے ۔

    دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب اور روس کے زیرقیادت اوپیک پلس کے تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی بہ اندازدیگر حمایت کی ہے اور اس فیصلے کے ردعمل میں سعودی عرب کے خلاف امریکا کے تنقیدی بیانات کے تناظر میں مملکت کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

    واضح رہے اوپیک پلس تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک کا وسیع البنیاد پلیٹ فارم ہے۔ اس گروپ نے امریکہ کی ہفتوں کی لابنگ کے بعد بھی تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا تھا۔

    ایتھوپیئن ایئر لائنز کی پرواز بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی

    اوپیک پلس کے اس فیصلے نے امریکہ کو مشتعل کر دیا ہے۔ اسی اشتعال میں امریکہ نے سعودی عرب پر الزام لگایا ہے کہ وہ بین الاقوامی سیاست میں امریکہ مخالفوں کے ساتھ نظر آرہا ہے تاہم سعودی عرب نے امریکی موقف کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے یہ بات حقیقیت کے خلاف ہے۔

    امریکا نے اوپیک پلس کے اس فیصلے پر اپنی ناراضی کا اظہارکیا تھا اور امریکی قیادت نے سعودی عرب مخالف بیانات جاری کیے تھے۔اس اعلان کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ سعودی عرب پر’’نتائج ومضمرات‘‘مسلط کریں گے کیونکہ اس نے تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کی حمایت کی ہے اور اس ضمن میں روس کا ساتھ دیا ہے۔

    اوپیک پلس کا یہ اقدام مغربی ممالک کے یوکرین میں جنگ کے جواب میں روس کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو بھی کمزورکرتا ہے۔مغربی ممالک نےروس کی تیل کی برآمدات کی قیمت پرایک حد عاید کرنے کا اقدام کیا ہےلیکن اوپیک پلس کے فیصلےسےان کا یہ اقدام غیر مؤثر ہوکررہ جائے گا۔

    امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ اور ڈیموکریٹ سینیٹر باب مینینڈیزنے اوپیک پلس کے اقدام کے بعد سعودی عرب کوبیشتر امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ

  • خلیجی تعاون کونسل کی  تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی تائید

    خلیجی تعاون کونسل کی تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی تائید

    ریاض: خلیجی ممالک کی تنظیم خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) نے اوپیک پلس کے تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی تائید کر دی۔

    باغی ٹی وی : ” العربیہ” کے مطابق جی سی سی نے اجلاس میں سعودی عرب کے تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے کی مکمل حمایت کی گئی جی سی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نایف فلاح الحجرف نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کے تنقیدی بیانات کبھی حقائق کو مسخ کر سکتے ہیں اور نہ ہی مملکت کو اپنے متوازن نقطہ نظر کو برقرار رکھنے سے روکیں گے۔

    سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات نازک نوعیت کے ہیں،امریکی حکام

    جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے مملکت کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اہم کردار کی تعریف کی ہے اور ممالک کے مابین باہمی احترام، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری اور ریاستوں کی خود مختاری کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اس کی دلچسپی کو سراہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی معیشت کو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بچانے اور اس کی رسدکو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے وہ اپنی متوازن پالیسی کی بدولت پیداکنندگان اور صارف ریاستوں دونوں کے مفادات کو مدنظر رکھتا ہے۔

    سعودی عرب 2022 کے دوران شرح نمو کے لحاظ سےجی 20 ممالک میں سرفہرست ہے،آئی ایم ایف

    گذشتہ ہفتے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس سمیت اتحادیوں پرمشتمل گروپ اوپیک پلس نے اپنے نئے پیداواری ہدف کا اعلان کیا تھا اور امریکا کے تیل کی پیداوار میں کمی نہ کرنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔

    تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس نے عالمی معیشت اور تیل منڈی کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث نومبر سے تیل پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا ہے امریکا کے صدر جوبائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اوپیک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے-

    سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،جوبائیڈن

  • سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،جوبائیڈن

    سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،جوبائیڈن

    سعودی عرب نے خام تیل کی پیداوار میں کمی پر امریکی صدر کے بیان کو مسترد کردیا۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ مملکت ’اوپیک +‘ کے فیصلے کو بین الاقوامی تنازعات میں جانب دارانہ قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتی ہے۔

    اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے،اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا…

    سعودی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا، تیل کی پیداوار میں کمی کی وجوہات سیاسی نہیں، اندرونی مسائل کی وجہ سے امریکہ اوپیک کے فیصلے کو سمجھ نہیں پارہا.

    سعودی وزیر خارجہ ںے کہا کہ امریکہ میں نو اوپیک بل کا متعارف کروایا جانا حیران کن ہے، اوپیک کے خاتمے کی باتیں جذباتی ہیں۔

    وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اوپیک +‘ کا فیصلہ متفقہ طور پر اورخالصتا اقتصادی نقطہ نظر سے لیا گیا تھا جس کا مقصد مارکیٹوں میں طلب اور رسد کے توازن کو مدنظر رکھنا ہے اور اتار چڑھاؤ کو محدود کرتے ہوئے قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہے۔

    سعودی عرب نے بین الاقوامی تنازعات میں اس فیصلے کو تعصب کی نگاہ سے دیکھنے پرمبنی بیانات کو بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

    سعودی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ مملکت امریکا کے خلاف سیاسی مقاصد کی بنیاد پر اوپیک + کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرتی۔ سعودی عرب 5 اکتوبر کو اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد مملکت پر تنقید کرنے والے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

    تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے،امریکی صدر

    سعودی عرب نے’اوپیک پلس‘ کے حالیہ فیصلے پر آنے والی امریکی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں خلاف حقیقیت قرار دیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب پر تنقید کرنےوالےبیانات حقائق پر مبنی نہیں ہیں اوراوپیک کے فیصلے کو اس کے خالصتاً اقتصادی فریم ورک سے باہر پیش کرنے کی کوشش پر مبنی ہیں۔

    سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنی مشاورت کے دوران واضح کیا کہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی تجویزمنفی اقتصادی نتائج کا باعث ہوگی۔

    واضح رہے گزشتہ روز امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ یہ نہیں بتاوں گا کہ میرے ذہن میں کیا ہےمگر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے ان کا کہنا تھا کہ تیل کی پیداوار میں کمی امریکی مفادات کے خلاف ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اوپیک پلس نے نومبر سے تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کمی کا اعلان کیا ہے، اوپیک پلس کے فیصلے سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔

    سنگا پورائیرلائنزنےاپنےکیبن کریو میں حاملہ خواتین سےمتعلق قوانین میں ترمیم کردی

  • اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے،اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے،سعودی وزیر خارجہ

    اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے،اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے،سعودی وزیر خارجہ

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : “العربیہ” کو دیئے گئے انٹریو میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اوپیک پلس ممالک نے ذمہ داری سے کام کیا اور مناسب فیصلہ کیا اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہےاور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، گیس کی قیمت میں کمی

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اوپیک پلس ممالک مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور پروڈیوسروں اور صارفین کے مفادات کے حصول کی کوشش کرتے ہیں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اسٹریٹجک ہیں اور خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد پرقائم ہیں۔”

    سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان فوجی تعاون دونوں ممالک کے مفادات کے لیے جاری ہے اور اس نے خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات ادارہ جاتی ہیں جب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم ہیں۔

    روس اور یوکرائن جنگ پرسعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم تنازع کو روکنے کے لیے یوکرینی بحران کے فریقین کو بات چیت کی طرف لانا چاہتے ہیں۔

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ یمن میں جنگ بندی میں توسیع کی کوششیں ابھی تک جاری ہیں یمنی حکومت نے یمن کے مفاد کے حوالے سے ایک اعلی ذمہ داری کے ساتھ بڑی لچک کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ ایران کے ساتھ بات چیت ابھی تک ٹھوس نتائج تک نہیں پہنچی ہے اور ہم مذاکرات کے چھٹے دور کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

    چین کے ساتھ تعلقات پرانہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات پہلی سطح پر اقتصادی ہیں اور ہمارے پاس بہت سے مشترکہ اقتصادی منصوبے ہیں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عراق میں جاری سیاسی بحران جلد ختم ہوگا۔

    دوسری جانب اوپیک پلس کے فیصلے پر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے روس کو فائدہ پہنچے گا۔

    اوپیک پلس نے نومبر سے تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کمی کا اعلان کیا ہے ۔ اوپیک پلس کے فیصلے سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اس اقدام نے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کو غصہ دلایا اور مملکت اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم کو اجاگر کیا دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے سعودی عرب کو سزا دینے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ سعودیوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے، بائیڈن نے کہا، “ہاں ، لیکن یہ نہیں بتاوں گا کہ میرے ذہن میں کیا ہےمگر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے، تیل کی پیداوار میں کمی امریکی مفادات کے خلاف ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے ۔

    متحدہ عرب امارات کےصدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی روسی صدر سے ملاقات