Baaghi TV

Tag: اوپیک

  • اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر

    اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر

    پیڑول برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔

    برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے سروے کے مطابق تیل کی پیداوار اپریل میں 2 کروڑ بیرل یومیہ سے کم ہوکر 8 لاکھ 30 ہزار بیرل ہوگئی آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کویت کی تیل کی پیداوار میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، کویت نے اپریل میں صفر خام تیل برآمد کیا،اس کے علاوہ سعودی عرب اور عراق کی تیل کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی تیل کی پیداوار 70 لاکھ بیرل یومیہ تک گر گئی، متحدہ عرب امارات واحد خلیجی ملک ہے جس کی تیل کی پیداوار اپریل میں بڑھی، اس کے علاوہ وینزویلا اور لیبیا کی بھی اپریل میں تیل کی پیداوار بڑھی۔

  • دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

    دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

    دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب سمیت اوپیک ممالک نے خام تیل کی پیداوار میں دس لاکھ بیرل یومیہ کمی کا اعلان کر دیاہے سعودی عرب نےمئی سے تیل کی پیداوار میں کمی کافیصلہ کیا ہے اوپیک اتحادی ممالک 1.15 ملین بیرل کٹوتی کریں گے، اوپیک اتحادی ممالک نےتیل کی عالمی منڈی میں استحکام کیلئے پیداوارمیں کمی کا فیصلہ کیا۔

    گورنر سندھ کا عید کے بعد سرجانی ٹاؤن میں قبضہ مافیا کیخلاف آپریشن کا اعلان

    سعودی خبرایجنسی کے مطابق اگلے ماہ سے تیل کی پیداوارمیں روزانہ کی بنیادپر5 لاکھ بیرل کمی کی جائے گی،تیل کی پیداوار میں کمی سال2023کے آخر تک کی جائے گی اس کے علاوہ اویپک میں شامل متحدہ عرب امارات، کویت، عمان، عراق اور الجیریا نے بھی تیل کی پیداوار میں رضاکارانہ طور پرکمی کا اعلان کیا۔

    جبکہ عراق نے 2 لاکھ 11 ہزار بیرل، امارات نے ایک لاکھ 44 ہزار بیرل، کویت نے ایک لاکھ 28 ہزار، الجیریا نے 48 ہزار اور عمان نے 40 ہزار بیرل یومیہ تیل کی پیداوار میں کمی کریں گے اور یہ کمی رواں سال کے آخر تک جاری رہے گی۔

    کراچی سے ٹورنٹو جانے والی پی آئی اے پروازکی اوسلو ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ

    ماہرین کے مطابق پیداوار میں کمی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 10 ڈالر فی بیرل اضافے کا امکان ہےاوپیک ممالک کی جانب سے گزشتہ روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد آج مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

  • اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اسلام آباد:پاکستان نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس کے فیصلے کے تناظر میں سعودی عرب کے خلاف بیانات پر مملکت کی قیادت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

    اوپیک پلس فیصلے کے خلاف آنے والے بیانات پر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اظہاریکجہتی کا کھل کراعلان کیا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت کےساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے عالمی اقتصادی استحکام کو یقینی بنانےکیلئے سعودی عرب کے خلوص اوراحساس کودرست اور سراہتے ہیں

    ’پاکستان باہمی احترام پر مبنی ایسے معاملات پر تعمیری نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔‘دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مملکت سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ، پائیدار اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

    ہفتے کےدن تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم اوپیک کے سیکریٹری جنرل نے کہا تھاکہ ’تیل پیداوار میں کمی سے متعلق اوپیک پلس کا فیصلہ درست اور بروقت ہے۔‘اوپیک کے سیکریٹری جنرل علی بن سبت نے ایک بیان میں عندیہ دیا کہ ’اس فیصلے میں عالمی معیشت کے اردگرد کی غیر یقینی صورت حال، تیل منڈی میں عدم توازن خاص طور پر طلب اور رسد کے پہلووں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘

    تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم اوپیک میں سعودی عرب، الجزائر، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، مصر، شام، عراق، تیونس اور لیبیا شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ اوپیک پلس نے پانچ اکتوبر کو ویانا میں اجلاس کے دوران نومبر میں تیل کی یومیہ پیداوار 20 لاکھ بیرل کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’اوپیک پلس عالمی معیشت کے استحکام کا بنیادی ستون ہے اور رہے گا۔‘

  • اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

    لاہور:اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی،اطلاعات کے مطابق تیل کی پیداوار کے عالمی ادارے اوپیک آئل کارٹیل اور اس کے اتحادیوں نے عالمی مانگ میں اضافے کی وجہ سے خام تیل کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، لیکن یوکرین پر حملے کے باوجود روس کو اس منصوبے میں تعاون کی درخواست کردی گئی ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق اوپیک کے 13 ممبران اور 10 غیر اوپیک پروڈیوسرز کی نمائندگی کرنے والے وزراء نے روس کی قیادت میں اوپیک نامی گروپ نے جمعرات کواعلان کیا ہے کہ وہ جولائی اور اگست میں پیداوار میں تقریباً 650,000 بیرل یومیہ اضافہ کریں گے، جو کہ تقریباً 400,000 کے پہلے سے طے شدہ اضافے سے تقریباً دو تہائی زیادہ ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی پیداوار میں اضافے سے پاکستان سمیت دیگرترقی پزیرممالک کو بھی فائدہ ہوگا جو اس وقت مہنگا ترین پٹرول عالمی مارکیٹ سے خرید کراپنی عوام کی ضروریات پوری کررہےہیں

    یاد رہے کہ اس سے قبل ہفتے کے شروع میں آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ کارٹیل روس کو مستقبل کے کوٹے سے باہر کرنے پر غور کر رہا ہے، اس اقدام سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے مزید تیل پمپ کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی تھی، لیکن اوپیک نے اس اقدام کو روک دیا ہے اور کہا ہےکہ روس اب بھی بلا شبہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں بڑا کھلاڑی ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ روس کو تیل کی عالمی برادری سے نکالنے جانے کی دھمکی اعلان کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں قدرے اضافہ ہوا، جو 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 116.94 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

    اوپیک کے ممبران نے کہا کہ انہوں نے "بڑے عالمی اقتصادی مراکز میں لاک ڈاؤن سے جان چھڑا لی ہے "، لیکن یوکرین کے تنازعہ کے نتیجے میں ہونے والے نتائج کا سامنا کرنے مں ناکام رہے ہیں ، جس کی وجہ سے روس کے خلاف تیل کی پابندیاں اور دوسرے پروڈیوسروں سے تیل کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں کوویڈ لاک ڈاؤن میں نرمی نے ایندھن کی فراہمی پر دباؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔

    بڑھتی ہوئی مانگ نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، برطانیہ میں مہنگائی کو 40 سال کی بلند ترین سطح پردیکھا جارہا ہے ، اور اور برطانوی شہریوں کی زندگیاں اجیرن کردی ہیں ، جس کی وجہ سے بہت سے گھرانوں کو بنیادی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

    جمعرات کی میٹنگ پہلی تھی جب یورپی یونین نے اس ہفتے کے شروع میں روسی خام تیل پر جزوی پابندی پر اتفاق کیا تھا،جب کہ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پابندیاں فوری طور پر یورپی یونین کے لیے روسی تیل کی 75% درآمدات کو متاثر کریں گی، اور سال کے آخر تک 90% پر اثر پڑے گا، لیکن اہم ڈرزہبا ("دوستی”) پائپ لائن کے ذریعے منتقل ہونے والا تیل پابندی سے مستثنیٰ ہوگا۔ یہ ہنگری اور دیگر مرکزی یورپی یونین کی ریاستوں بشمول جمہوریہ چیک اور سلوواکیہ کے لیے ایک کلیدی رعایت تھی، جو روسی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

    بلومبرگ اکنامکس نے تخمینہ لگایا ہے کہ ماسکو کو اس سال اپنے جیواشم ایندھن کی برآمدات کے لیے 285bn ڈالرز ملے گا، بشمول گیس جس پر یورپی ممالک بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

    تاہم، یورپی یونین نے برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا ہے جس کے تحت بیمہ کنندگان کو روسی تیل کی نقل و حمل کرنے والے بحری جہازوں کوتحفظ دیا جاسکے ورنہ یورپ میں تیل کا بحران شدت اختیارکرجائے گا

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک