Baaghi TV

Tag: او آئی سی اجلاس

  • اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں-

    وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار اسلام آباد سے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں تاکہ تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کے ایگزیکٹو کمیٹی کے اوپن اینڈڈ ایکسٹرا آرڈینری وزارتی اجلاس میں جدہ میں شرکت کر سکیں، جو 26 تا 28 فروری 2026 تک جاری رہے گا،وزیر خارجہ اس موقع پر او آئی سی رکن ممالک کے ہم منصبوں سے باہمی ملاقاتیں بھی کریں گے اس کے علاوہ دورے کے دوران وہ مکہ اور مدینہ مکرمہ کی مختصر زیارات بھی انجام دیں گے۔

    سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں، پاکستان گورننس فورم

    وفاقی آئینی عدالت کا ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری

    افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

  • مسئلہ فلسطین کے حل تک اسلامی ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم نہ کریں، سراج الحق

    مسئلہ فلسطین کے حل تک اسلامی ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم نہ کریں، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہاو آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے اور بھارت کو جارح قرار دے کر اس کا بائیکاٹ کرے۔

    باغی ٹی وی : امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنائے مسئلہ فلسطین کے حل تک اسلامی ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم نہ کریں، اسلامی ممالک طالبان حکومت کی مدد کریں۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    انہوں ںے کہا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف دن منانا اقوام متحدہ کا احسن اقدام ہے، تکریم مذاہب اور اکرام انبیاء کے لیے عالمی قوانین تشکیل دیے جائیں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، پوری پاکستانی قوم او آئی سی کے شرکا کی میزبان ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے لیے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے سیکریٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم اسلام آباد پہنچ گئے چین، انڈونیشیا، صومالیہ، گیمبیا، اور نائیجر کے وزرائے خارجہ بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

    تاجکستان ،بوسنیا اور ہرزیگوینا کے وزرائے خارجہ کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات

    مالدیپ کے مستقل مندوب اور سعودی عرب میں بنگلہ دیش کے سفیر بھی پہنچ گئے معزز مہمانوں کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا آذربائیجان کے ڈپٹی وزیر خارجہ اور سویڈن کے وفد کی بھی اجلاس میں شرکت کیلئے آمد ہوئی ہے مصر کے وزیرِ خارجہ سامع شُکری بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں ۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ سامع شکری سے ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ او آئی سی وزرائےخارجہ کانفرنس ایک تاریخی پیش رفت ہے کانفرنس میں افغانستان میں انسانی صورتحال پرغور، عالمی برادری سے تعاون پربات ہو گی، خطےمیں دیرپا امن استحکام کیلئے درپیش چیلنجزکا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

    خیال رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 22 اور 23 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں 48 ممبر ممالک کے وزرا شرکت کریں گے۔

    ازبکستان کے وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات

  • او آئی سی اجلاس، مصری وزیر خارجہ کی 24 برس بعد پاکستان آمد

    او آئی سی اجلاس، مصری وزیر خارجہ کی 24 برس بعد پاکستان آمد

    او آئی سی اجلاس، مصری وزیر خارجہ کی 24 برس بعد پاکستان آمد

    او آئی سی اجلا س میں شرکت کیلئے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے

    مصر کے وزیر خارجہ سامع شکری بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی خصوصی علامہ طاہر اشرفی نے مصر کے وزیر خارجہ کا استقبال کیا اس موقع پر علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ 24 سال بعد مصر کے وزیر خارجہ پاکستان آئے ہیں پاکستان اور مصر کے برادرانہ تعلقات ہیں کانفرنس میں امت مسلمہ کے مسائل پر بات ہوگی۔

    وزیرخارجہ مصر کا کہنا تھا کہ یہ دورہ خصوصی اہمیت کاحامل ہے اور دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کا عکاس ہے، مصر او آئی سی اجلاس میں مسلم ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط اور تعاون کو فروغ دینے پر بات کرے گا

    قبل ازیں علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی بحران کو ٹکرائو کی بجا ئے دانشمندی اور صبر و تحمل سے حل کیا جانا چاہیے موجودہ حالات میں وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اور مذہبی قیادتیں نیا پنڈورا باکس کھولنے کے بجائے عملی نقطہ نظر سے اپنے اختلافات دور کریں

    بعد ازاں مصر کے وزیرخارجہ سامع شکری کی وزارت خارجہ آمد ہوئی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا ،دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان تہنیتی جملوں کا تبادلہ ہوا

    مصری وزیر خارجہ کی وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،شاہ محمود قریشی نے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کیلئے آنے پر مصری ہم منصب کا شکریہ ادا کیا ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مصر خطے کا ایک اہم برادر ملک ہے ،عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصر کا سیاسی استحکام اور سلامتی کی جانب سفر قابل مسرت ہے،علاقائی اور بین الاقوامی امور پر دونوں ممالک کے نقطہ نظر میں ہم آہنگی ہے،پاکستان اور مصر کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں وزیر خارجہ نے دونوں برادر ممالک کے منتخب نمائندوں کے درمیان پارلیمانی روابط کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ ہماری پارلیمنٹ میں پاکستان مصر دوستی گروپ ہمیشہ موجود رہا ہے،ہم مصری پارلیمنٹ میں بھی ایسے گروپ کے قیام کے منتظر ہیں،

    قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کے حوالے سے وزارتِ خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ 22-23 مارچ 2022 کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اڑتالیسواں اجلاس اسلام آباد منعقد ہونے جا رہا ہے 19 دسمبر کو ہمیں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو نہ صرف او آئی سی بلکہ دنیا بھر کے ممالک نے سراہا،اب تک ہمیں اجلاس میں شرکت کیلئے 48 کنفرمیشنز موصول ہو چکی ہیں پاکستان او آئی سی کا بانی ممبر ہے او آئی سی دنیا کا تیسرا بڑا فورم ہے یہ اجلاس بہت نازک مرحلے پر ہو رہا ہے آج اس اجلاس کے انعقاد کے وقت کشمیری اور فلسطینی حق ارادیت کے حصول کے منتظر ہیں آج اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز بیانیے میں اضافہ کا رحجان دکھائی دے رہا ہے یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتں خود کو غیر محفوظ محسوس تصور کر رہے ہیں کرونا وبا کے مضمرات کے تناظر میں بھی یہ اجلاس اہم ہے پاکستان سمجھتا ہے کہ یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے ہم اس اجلاس کے زریعے مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور یگانگت کا فروغ چاہتے ہیں ہمارے امہ کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جس کی بنیاد پر ہم پل کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تاکہ دوریاں قربتوں میں تبدیل ہو جائیں

    او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس،وفود 23 مارچ کی پریڈ میں شریک ہوں گے،طاہر اشرفی

    علامہ طاہر اشرفی کا تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ کے ہمراہ امام بارگاہ کا دورہ

    8 سالہ بچے پر توہین مذہب کا الزام، طاہر اشرفی نے حقیقت بتا دی

    مسیحی برادری کے قائدین پر حملہ، طاہر اشرفی کا بڑا اعلان

    علامہ طاہر اشرفی کتنی تنخواہ لے رہے؟ خود ہی بتا دیا

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    وزیراعظم کی ہدایت پراو آئی سی اجلاس میں کشمیری قیادت کو دعوت، بھارتی اعتراض مسترد ا

  • افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے، وزیراعظم عمران خان

    افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے، وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: افغانستان میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کا غیرمعمولی اجلاس آج اسلام آباد میں جاری ہے-

    باغی ٹی وی : افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب کی تجویز اور پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ کی کونسل کا 17واں غیر معمولی اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے غیر معمولی اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا –

    وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام معزز مہمانوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں یہ ستم ظریفی ہے کہ 41 سال قبل جب پاکستان میں او آئی سی کا اجلاس ہوا اس وقت بھی اس کا موضوع افغانستان ہی تھا، افغانستان 40 سال خانہ جنگی کا شکار رہا ہے اور افغانستان کی بیرونی امداد بند ہو چکی ہے۔


    انہوں نے کہا کہ جتنی مشکلات افغان عوام نے اٹھائیں کسی اور ملک کے عوام نے نہیں اٹھائیں اور افغانستان کے 4 کروڑ عوام کو بحران کا سامنا ہے جبکہ افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان کی قربانی دی-

    انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کے لیے امداد پر پاکستان کے مشکور ہیں،ترک وزیر خارجہ

    عمران خان نے کہا کہ دنیا نے افغانستان کے لیے مدد3شرائط سے مشروط کردی افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے اور دنیا کو افغان ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے افغانستان کا بینکنگ نظام جمود کا شکار ہے اور اگر اس وقت دنیا نے افغانستان کی مدد نہ کی تو یہ انسانوں کا پیدا کردہ بہت بڑا بحران ہو گا۔


    انہوں نے کہا کہ افغان آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آ رہی ہے اور اس وقت افغانستان کی صورتحال انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے افغان عوام کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے افغان مسئلے پر دنیا کی خاموشی قابل افسوس ہے افغانستان میں عدم استحکام پوری دنیا کو متاثر کرے گاافغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کے معاملات حساسیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے –

    انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹروں، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا نہ کی جائیں تو کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، اگر دنیا کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے تو افغانستان کو مستحکم کرنا ہوگا۔


    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر افغانستان میں افراتفری ہوگی تو مہاجرین میں اضافہ ہوگا، یہ مہاجرین صرف پاکستان اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر ممالک کو بھی ان کا سامنا کرنا ہوگا افغانستان میں جاری افراتفری کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، میں دوبارہ یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ غیر مستحکم افغانستان کسی کے مفاد میں نہیں اور امید کرتا ہوں کہ اس اجلاس کے اختتام تک آپ تمام شرکا کسی روڈ میپ پر متفق ہوجائیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اسلامو فوبیا بہت اہم مسئلہ ہے دنیا میں اسلام کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ بہت زیادہ ہے-


    واضح رہے کہ او آئی سی اجلاس سعودی عرب کی دعوت پر طلب کیا گیا ہے جو اسلامی تعاون تنظیم کا چیئرمین ہے پاکستان نے اجلاس بلانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی پاکستان کی دعوت پر اجلاس میں 22 ممالک کے وزرائے خارجہ، 10 نائب وزرائے خارجہ سمیت 70 وفود شریک ہیں۔

    دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے، شاہ محمود قریشی

  • دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے، شاہ محمود قریشی

    دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے، شاہ محمود قریشی

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان نازک صورتحال سے دوچارہے توجہ نہ دی گئی توانسانی بحران شدت اختیارکرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس سے متعلق بیان میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرانے کے لئے کانفرنس اہم ہے اوآئی سی اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کی نمائندگی بھی ہوگی کانفرنس میں افغان نمائندگان بھی اپنےنقطہ نظرپیش کریں گے۔

    41 برس بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس، حکومت کا تعطیل کا اعلان

    انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان نازک صورتحال سےدوچارہے دنیا نے توجہ نہ دی توافغانستان میں انسانی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے پاکستان کی خواہش ہےمہاجرین باعزت طریقےسےگھروں کولوٹیں مہاجرین کی واپسی کیلئےسازگارماحول ہونا سب سےاہم ہے-

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں روزگار،امن نہ ہوتومہاجرین واپسی سے کترائیں گے مہاجرین کا بحران پیدا ہوا تو پاکستان اور ایران تک محدودنہیں رہےگا مہاجرین روزگار کیلئے یورپ کے دروازوں پربھی دستک دیں گے۔

    افغانستان کو ضرورت کے وقت تنہا چھوڑنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔وزیراعظم

    وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان میں جنگ نہیں ہورہی، مسئلہ بھوک ہے ۔افغانستان میں معطل بینکنگ سسٹم فوری بحال کرنےکی ضرورت ہے۔ بینکنگ سسٹم فعال نہ ہوتودنیابھرسےافغانی پیسے کیسےبھیجیں گے؟ افغانستان کےاپنےوسائل کومنجمد کردیا گیا ہے افغان عبوری حکومت کےپاس تنخواہیں دینےکے پیسے نہیں کیا نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا افغانستان کوہنگامی صورتحال میں تونہیں دھکیل رہی؟-

    او آئی سی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پرغور کرنا ہے ،وزیر خارجہ

  • او آئی سی  اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پرغور کرنا ہے ،وزیر خارجہ

    او آئی سی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پرغور کرنا ہے ،وزیر خارجہ

    اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پر غور کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے-

    باغی ٹی وی : او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں کچھ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کو بھی مدعو کیا جارہا ہے-

    انہوں نے جاری بیان میں کہا کہ اس غیر معمولی اجلاس کا مقصد، افغانستان کی سنگین انسانی صورتحال پر غور و خوض کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے، اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت افغانستان کے 38 ملین افراد میں سے 50 فیصد کو بھوک کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور یہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

    کنگ سلمان ریلیف کی جانب سے بلوچستان میں موسم سرما کا امدادی سامان تقسیم

    وزیر خارجہ نے کہا کہ سردیوں کی آمد نے افغانستان کی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، اگر اس صورت حال پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، افغانستان او آئی سی کے بانی اراکین میں شامل ہے، امت مسلمہ کا حصہ ہونے کے ناطے، ہم افغانستان کے لوگوں کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے کے برادرانہ بندھنوں میں بندھے ہوئے ہیں، او آئی سی نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کی حمایت کی ہے، آج پہلے سے کہیں زیادہ افغان عوام کو او آئی سی سمیت عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے تاہم پاکستان اس ضمن میں مسلسل اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 3.2 ملین بچے شدید غذائی قلت کے خطرات سے دوچار ہیں، یو این او سی ایچ اے کے مطابق، جنوری اور ستمبر 2021 کے درمیان 665,000 نئے افراد افغانستان کے اندر بے گھر ہوئے ہیں، قبل ازیں، افغانستان میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے 2.9 ملین افراد اس کے علاوہ ہیں تاہم پاکستان اپنے محدود وسائل کے باوجود، پچھلی کئی دہائیوں سے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

    ڈرون حملہ،کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی ،امریکا

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے عالمی رہنماؤں کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر رابطے ہوئے ہیں، میں خود، علاقائی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل کی ترویج کیلئے افغانستان کے قریبی پڑوسی ممالک ایران، تاجکستان، کرغزستان اور ترکمانستان کا دورہ کرچکا ہوں، پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے افغانستان کے 6 پڑوسی ممالک کا پلیٹ فارم تشکیل پاچکا ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں شرکت اور ٹرائیکا پلس اجلاس کی میزبانی بھی انہی سفارتی کاوشوں کا تسلسل ہے، افغانستان کی صورتحال پر عالمی برادری کو تشویش ہے، مسلم امہ کی اجتماعی آواز کے طور پر OIC انسانی بحران پر قابو پانے میں ہمارے افغان بھائیوں کی مدد کرسکتی ہے، او آئی سی کی قیادت دیگر بین الاقوامی اداروں کو آگے آنے اور افغان عوام کی مدد کیلئے ہاتھ بڑھانے کی ترغیب دینے میں موثر ثابت ہو سکتی ہے، افغانستان میں انسانی بحران کے خاتمے کے ذریعے معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    سعودی عرب میں تبلیغی جماعت کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں پر بھی پابندی

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی برادری کی مسلسل معاونت ناگزیر ہے، اس پس منظر میں 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والا او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات پر غور و خوض کا موزوں موقع فراہم کرے گا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی یواے ای کے ولی عہد سے ملاقات