Baaghi TV

Tag: او آئی سی

  • کشمیریوں کو یو این قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے،او آئی سی سیکرٹری جنرل

    کشمیریوں کو یو این قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے،او آئی سی سیکرٹری جنرل

    کشمیریوں کو یو این قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے،او آئی سی سیکرٹری جنرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں او آئی سی وزرا خارجہ اجلاس جاری ہے

    او آئی سی کے سیکرٹری جنرل،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اجلاس سے خطاب کر چکے ہیں،و زیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں موجود ہیں،

    او آئی سی سیکرٹری جنرل حسن ابراہیم نے او آئی سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جار ی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا،مسئلہ کشمیر حل طلب معاملہ ہے جس کا حل ضروری ہے،بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہے کشمیریوں کو یو این قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے

    او آئی سی سیکرٹری جنرل حسن ابراہیم کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین سے متعلق اسرائیل کی پالیسی پر تشویش ہے فلسطینیوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہ کیاجائے،فلسطین میں اسرائیل جارحیت قابل مذمت ہے،خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں مسلمان ممالک کواوآئی سی کی سپورٹ کی ضرورت ہے، افغانستان پر اوآئی سی اجلاس کامیاب رہا افغانستان میں امن ،بحالی اور معاشی استحکام مغرب کے لیے بھی اہم ہے،یمن مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہیے یمن میں خونریزی فوری بند ہونی چاہیے،یمن تنازعہ سے وہاں کےعوام متاثرہو رہے ہیں،شام کے مسئلے کا حل ہونا چاہیے ،جاری تنازعات سے عوام متاثر ہیں،دنیا بھر میں کورونا کا سامنا ہوا،معاشی مشکلات آئیں،کورونا سے خوراک کی قلت کا سامنا رہا ،بےروزگاری بڑھی ،فوڈ سیکیورٹی ،روزگار،معیشت ذراعت اور صنعتوں کی بحالی کےلیےکوشش کرنی چاہیے،

    او آئی سی سیکرٹری جنرل حسن ابراہیم کا مزید کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کی باعزت وطن واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں،تعلیم کا فروغ ،نوجوانوں کی تربیت کےلیے موثر پروگرامز اور اسکالرشپس پیداکرنے کی ضرورت ہے،حوثی باغیوں کےشہری آبادی پرحملے قابل مذمت ہیں،اقوام متحدہ نے 15مارچ کواسلاموفوبیا کیخلاف دن منانے کا فیصلہ کیا،اسلاموفوبیا کے خلاف حکمت عملی وضع کی جائے مالیاتی بحران سے نمٹنے کےلیے سب کو ملکر آگے جانا ہوگا،روس یوکرین جنگ سے خطے میں جاری صورتحال پر منفی اثر ہوا روس یوکرین کے درمیان موثر اوربامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے،بھارت کی طرف سے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہے،

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوآئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آوازہے افغانستان میں جاری صورتحال دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں نئی حکومت ،انسانی بحران اور افغانوں کی مدد چیلنج رہا، او آئی سی کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کرانا چاہتےہیں۔اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پیشر فت خوش آئند ہے ،پاکستان نےاسلام وفوبیا کے خلاف قرارداد کیلئےکردارادا کیا، یواین نے ہماری آوازپر 15مارچ کواسلاموفوبیا سےمتعلق عالمی دن مقررکیا، پاکستان نے دنیا میں ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے خطے میں امن کی بات کی اور استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہےہیں، پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے اکنامک ڈپلومیسی کوفروغ دیا، افغانستان کو دہائیوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا رہا، پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیا، پاکستان نےافغانستان سے متعلق اوآئی سی خصوصی اجلاس کی میزبانی کی،افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے ٹرسٹ فنڈ قائم کیاگیا-انہوں نے کہا کہ آج مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے، فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، مسلم ممالک کومشرق وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے،تنازعات کے باعث ترقی کاعمل متاثرہوتا ہے، دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے، تنازعات کے خاتمے کیلئے امہ کے درمیان تعاون،روابط کافروغ ضروری ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ فلسطین کےمسلمانوں کوان کاحق نہیں دیا جارہا، مقبوضہ کشمیراورفلسطین گزشتہ 7 دہائیوں سے قبضے کا شکارہیں، بطوررکن ملک پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کوفروغ دےگا، اوآئی سی مسلم امہ کےدرمیان اتحاد اوریکجہتی کیلئے کام کررہی ہے، مشرق اورمغرب کےدرمیان کشیدگی سےعالمی امن کوخطرہ ہے، دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی جاری ہے، آرایس ایس نظریےسے متاثربھارتی حکومت کشمیرمیں ظلم ڈھارہی ہے، کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑرہےہیں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان سمیت دہشت گردگروپوں کے خلا ف موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے-

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد او آئی سی اجلاس سے قبل پھولوں اور رکن ممالک کے پرچموں سے سج گیا،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں جڑواں شہروں میں عام تعطیل کی گئی ہے,او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں منظوری کے لئے متعدد اہم قراردادیں پیش کی جائیں گی اجلاس میں وزرائے خارجہ ، نائب وزرائے خارجہ ، مستقل نمائندوں، 15 مبصر ممالک کے نمائندوںسمیت 675 سے زائد مبصریں شرکت کررہے ہیں اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس اور اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا

    او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس،وفود 23 مارچ کی پریڈ میں شریک ہوں گے،طاہر اشرفی

    علامہ طاہر اشرفی کا تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ کے ہمراہ امام بارگاہ کا دورہ

    8 سالہ بچے پر توہین مذہب کا الزام، طاہر اشرفی نے حقیقت بتا دی

    مسیحی برادری کے قائدین پر حملہ، طاہر اشرفی کا بڑا اعلان

    علامہ طاہر اشرفی کتنی تنخواہ لے رہے؟ خود ہی بتا دیا

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    وزیراعظم کی ہدایت پراو آئی سی اجلاس میں کشمیری قیادت کو دعوت، بھارتی اعتراض مسترد ا

    او آئی سی اجلاس، مصری وزیر خارجہ کی 24 برس بعد پاکستان آمد

    او آئی سی اجلاس، وزیراعظم عمران خان کے خطاب کا شیڈول جاری

  • اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلام آباد میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کا2روزہ 48واں اجلاس شروع ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی :سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے او آئی سی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا اور اسلامو فوبیا کے خلاف 15 مارچ عالمی دن قرار دینا بہترین کامیابی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں معاون ثابت ہو گاعالمی قرار دادوں کے مطابق فلسطین کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کی جائے گی مسئلہ کشمیر فریقین کے درمیان حل طلب معاملہ ہے اور ہم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں جبکہ مذاکرات سے معاملہ حل ہونا چاہیے۔

    قبل ازیں سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں جار ی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب کو کردار ادا کرناہوگا-

    سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل طلب معاملہ ہے جس کا حل ضروری ہے،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی ،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہےکشمیریوں کویواین قراردادوں کےمطابق حق خودارادیت دیاجائے-

    انہوں نے کہا کہ فلسطین سے متعلق اسرائیل کی پالیسی پر تشویش ہے فلسطینیوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہ کیاجائے فلسطین میں اسرائیل جارحیت قابل مذمت ہے خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں مسلمان ممالک کو او آئی سی کی سپورٹ کی ضرورت ہے،افغانستان پر اوآئی سی اجلاس کامیاب رہا افغانستان میں امن ،بحالی اور معاشی استحکام مغرب کے لیے بھی اہم ہے-

    اوآئی سی سیکریٹری جنرل ابراہیم حسین نے کہا تھا کہ یمن مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہیے یمن میں خونریزی فوری بند ہونی چاہیے اسلاموفوبیا کے خلاف حکمت عملی وضع کی جائے،مالیاتی بحران سے نمٹنے کےلیے سب کو مل کر آگے جانا ہوگا روس یوکرین جنگ سے خطے میں جاری صورتحال پر منفی اثر ہوا ،روس یوکرین کے درمیان موثر اوربامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے بھارت کی طرف سے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہے-

    دریں اثنا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اوآئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آوازہے افغانستان میں جاری صورتحال دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں نئی حکومت ،انسانی بحران اور افغانوں کی مدد چیلنج رہا، او آئی سی کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کرانا چاہتےہیں۔

    اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پیشر فت خوش آئند ہے ،پاکستان نےاسلام وفوبیا کے خلاف قرارداد کیلئےکردارادا کیا، یواین نے ہماری آوازپر 15مارچ کواسلاموفوبیا سےمتعلق عالمی دن مقررکیا، پاکستان نے دنیا میں ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے خطے میں امن کی بات کی اور استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہےہیں، پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    پاکستان نے اکنامک ڈپلومیسی کوفروغ دیا، افغانستان کو دہائیوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا رہا، پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیا، پاکستان نےافغانستان سے متعلق اوآئی سی خصوصی اجلاس کی میزبانی کی،افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے ٹرسٹ فنڈ قائم کیاگیا-

    انہوں نے کہا کہ آج مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے، فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، مسلم ممالک کومشرق وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے،تنازعات کے باعث ترقی کاعمل متاثرہوتا ہے، دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے، تنازعات کے خاتمے کیلئے امہ کے درمیان تعاون،روابط کافروغ ضروری ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ فلسطین کےمسلمانوں کوان کاحق نہیں دیا جارہا، مقبوضہ کشمیراورفلسطین گزشتہ 7 دہائیوں سے قبضے کا شکارہیں، بطوررکن ملک پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کوفروغ دےگا، اوآئی سی مسلم امہ کےدرمیان اتحاد اوریکجہتی کیلئے کام کررہی ہے، مشرق اورمغرب کےدرمیان کشیدگی سےعالمی امن کوخطرہ ہے، دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی جاری ہے، آرایس ایس نظریےسے متاثربھارتی حکومت کشمیرمیں ظلم ڈھارہی ہے، کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑرہےہیں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان سمیت دہشت گردگروپوں کے خلا ف موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے-

    قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤ س میں میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اوآئی سی کی تاریخ میں پہلی بار چین کے وزیرخارجہ آئے ہیں، چین کے ساتھ تعلقات ڈگمگانے کی قیاس آرائیوں پرپانی پھرگیا ہے، چین کا پیغام ہے کہ پاکستان تم تنہا نہیں ہو، کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے آج بھی ہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کچھ لوگ ایک رنگ دیتے ہیں، چین کے وزیرخارجہ کی موجودگی سے ان کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا ہے، چین مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کوبڑھانا چاہتا ہے، آج پاکستان کےلیے اہم دن ہے، پاکستان نے دسمبر کے اجلاس میں افغانستان کے مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوزکرائی، اوآئی سی اجلاس میں ہمارا ارادہ کشمیر میں مظالم کواجاگرکرنا ہے، پاکستان کا وزیراعظم اور وزیرخارجہ کشمیرکا علم بلند کرے گا، واضح پیغام دیں گے کشمیریوں ہم تمہارے ساتھ ہیں،ہم بھولے نہیں۔

    وزیرخارجہ نے بلاول بھٹو کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا تھا کہ اپنے بیان پر نظرثانی کر کے انہوں نے بھی اوآئی سی کا خیر مقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بعد اوآئی سی بڑا فورم ہوسکتا ہے، اگرہم تقسیم ہوگئے تو دو ارب مسلمان مایوس ہوں گے، اگر اہم متحد ہوگئے تو 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کی قرارداد کی طرح بہت سی کامیابیاں ملیں گی، ہماری تو تحریک بھی انصاف کی ہے، ہم انصاف کو اجاگر کریں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ بھارت نے کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے پوری کوشش کی، بھارتی سفارتکار دن رات اسی کام میں لگے رہے، بھارتی سفارتکار بھی رکاوٹیں ڈالتے رہے، کچھ ہمارے لوگ بھی معصومیت میں ان کے جال میں آگئے، میں اپنے لوگوں کی نیت پرشک نہیں کروں گا،کہا گیا نہیں ہونے دیں گے، دھرنا دیں گے، یہ عزت پاکستان کی ہے، حکومت وقت کی نہیں ہے، آج جو لوگ آئے ہیں پاکستان کےلیے آئے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتیں ہیں، بھارتی عزائم کے باوجود اوآئی سی کانفرنس بھرپورطریقے سے ہورہی ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس کےلیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود ،فلسطین،موریطانیہ ،ترکی کے وزرائےخارجہ پارلیمنٹ ہاوس میں پہنچ چکے ہیں-

    چین کے اسٹیٹ کونسلر ،وزیر خارجہ وانگ ای وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب میں تہنیتی جملوں کا تبادلہ کیا-

    کویت اورتیونس اوربنگلادیش کے وزرائے خارجہ،قازقستان کےنائب وزیراعظم اوآئی سی بھی اجلاس کا حصہ ہیں سیکریٹری جنرل اوآئی سی کانفرنس بھی کانفرنس کا حصہ ہیں-

    عراقی نائب وزیراعظم،صدراسلامی ترقیاتی بینک بھی کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں گیانا کےوزیرخزانہ وفدسمیت او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ہیں وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس سے کچھ دیربعد خطاب کریں گے-

    وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی ہال میں مسلم دنیا کے وزرائے خارجہ اور وفود موجود ہیں حکومت کو 3ماہ میں دوسری بار اہم کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا-

    اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہےنئی حقیقتوں نے گلوبل آرڈر کو تبدیل کر دیا، غیر یقینی کی صورت حال ہےامید ہے کانفرنس سے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی نئی راہیں کھیلیں گی-

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کا 48 واں اجلاس (آج) بروز منگل 22 مارچ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے جس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پاکستان کی پارلیمنٹ کی عمارت میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کا موضوع ’اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت داری‘ ہے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن اور مبصر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح کے وفود اجلاس میں موجود ہوں گے اور 23 مارچ کی یوم پاکستان پریڈ میں اعزازی مہمان کی حیثیت سے بھی شرکت کر رہے ہیں-

    اجلاس میں تمام57 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ،مبصرین اور مہمانوں کی آمد جاری ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان آج افتتاحی سیشن سے کچھ دیر بعد خطاب بھی کریں گے پاکستانی دارالحکومت میں منعقدہ اجلاس میں کشمیر، فلسطین، اسلام فوبیا، اُمّہ کے اتحاد سمیت مختلف مسائل و معاملات پر ایک سو چالیس قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

    صدر پاکستان وزرائے خارجہ اور مندوبین کے اعزاز میں عشائیہ دیں گےجبکہ سعودی وزیر خارجہ اجلاس کی صدارت باقاعدہ پاکستان کے حوالے کریں گے، اجلاس میں ورکنگ گروپس کے بند کمرہ اجلاس ہوں گے، مختلف کلسٹرز قراردادوں کا جائزہ لیں گے۔

    اس کے علاوہ کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس ہو گا، جس میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے گی اور یکم اگست 2019کے یکطرفہ بھارتی اقدام کو سختی سے مسترد کیا جائے گا کانفرنس میں افغانستان کی شرکت کا خصوصی بندوبست کیا گیا ہے، افغانستان کے حوالے سے گزشتہ خصوصی اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں چین، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، آسٹریلیا سمیت کئی اہم ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے، او آئی سی وزرائے خارجہ اور دیگر کو 23مارچ کی یوم پاکستان پریڈ بھی دکھائی جائے گی۔

    اجلاس کے اوپننگ اور کلو زنگ سیشن اوپن ہوں گے، 23 مار چ کو کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحٰہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کریں گے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود،سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ اور صدر اسلامى بینک سمیت کئی دیگر رہنما اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    دوسری جانب گزشتہ روز اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اوآئی سی کانفرنس کے لیے ٹریفک پلان جاری کیا جس کے مطابق 21 تا24 مارچ ریڈزون عام ٹریفک کے لیے مکمل بندہوگا۔

    گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھاکہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس افغانستان کی سنگین انسانی صورت حال سے نمٹنے کا تاریخی موقع ہوگا، اجلاس میں خطےکو درپیش چیلنجز سے نمٹےکے لیے مشترکہ حکمت عملی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

    بروز پیر 21 مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے میں او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہا۔

    کانفرنس میں شرکت کرنے والے مبصرین، شراکت داروں اور تمام وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اتحاد، انصاف اور ترقی کے موضوع کے تحت او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں تفصیلی بات چیت ہوگی۔ آپ کی موجودگی پاکستانی شہریوں کے لیے باعث فخر ہے۔‘

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس تاریخی نوعیت کا ہے۔ مسلسل دوسری بار او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس امت مسلمہ کے لیے اہم ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام انہوں نے کہا کہ ’پوری اپوزیشن بالعموم اور مسلم لیگ (ن) بالخصوص عالم اسلام کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہتی ہے، وہ ہمارے معزز مہمان ہیں۔‘

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    او آئی سی وزرائےخارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے انعقاد کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اجلاس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے پارلیمنٹ کی راہداری میں ریڈ کارپیٹ بچھا دیے گئےسینٹ اور قومی اسمبلی ہالز کو برقی قمقموں اور پھولوں سے آراستہ کر دیا گیا پارلیمنٹ کو دیدہ زیب بنانے کے لیے تزین و آرائش مکمل ہو گئی-

    دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی وزارتِ خارجہ آمد پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا دونوں وزرائے خارجہ کے مابین تہنیتی جملوں کا تبادلہ ہوا-

    اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دوران پاکستان اور چین کے درمیان زراعت، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے

    ملاقات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جسے پی ٹی وی براہ راست نشر کرے گا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

  • او آئی سی اجلاس، وزیراعظم عمران خان کے خطاب کا شیڈول جاری

    او آئی سی اجلاس، وزیراعظم عمران خان کے خطاب کا شیڈول جاری

    او آئی سی اجلاس، وزیراعظم عمران خان کے خطاب کا شیڈول جاری
    اسلام آباد میں او آئی سی وزرائےخارجہ کانفرنس، شرکا کی آمد جاری ہے

    چینی وزیرخارجہ او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے وفاقی وزیر سید فخر امام نے چینی وزیر خارجہ کا استقبال کیا ,وزارت خارجہ کے حکام، چینی سفارتکاروں نے چینی وزیرخارجہ کا استقبال کیا چینی وزیرخارجہ پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کریں گے پاکستان چین میں وفود کی سطح پردوطرفہ مذاکرات منعقد ہوں گے

    سیکریٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم کی اسلام آباد آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا انڈونیشیا کے نائب وزیر خارجہ عبدالقادر جیلانی اورصومالیا وزیرخارجہ کی آمد ہوئی ہے نائجیر، گمبیا سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ بھی اسلام آباد پہنچ گئے چین کے وزیر خارجہ آج پاکستان پہنچیں گے مصر کے وزیرِ خارجہ سامع شُکری پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں ، اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 22 اور 23 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں 48 ممبر ممالک کے وزرا شرکت کریں گے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد او آئی سی اجلاس سے قبل پھولوں اور رکن ممالک کے پرچموں سے سج گیا،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں جڑواں شہروں میں عام تعطیل کی گئی ہے

    وزیراعظم عمران خان اجلاس کی افتتاحی نشست سے کلیدی خطاب اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ، اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر سمیت اہم اسلامی رہنما اجلاس میں شرکت کے لئے وفاقی درالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔اوآئی سی کے اجلاس میں تجارتی اور اقتصادی روابط ایجنڈے کا اہم نکتہ ہے،اجلاس میں عالمی صورتحال اور مسلم امہ کو درپیش چیلنجوں، باہمی یکجہتی،علاقائی امن اور ترقی پر غور کیاجائے گا۔

    او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں منظوری کے لئے متعدد اہم قراردادیں پیش کی جائیں گی اجلاس میں وزرائے خارجہ ، نائب وزرائے خارجہ ، مستقل نمائندوں، 15 مبصر ممالک کے نمائندوںسمیت 675 سے زائد مبصریں شرکت کررہے ہیں اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس اور اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا

    اسلام آباد میں کل منگل سے شروع ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کی دو روزہ کانفرنس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں او آئی سی کے وزراء خارجہ کی اڑتالیسویں کانفرنس کا موضوع ”اتحاد، انصاف اور ترقی کے لئے شرکت داری کا قیام” ہے ایک ٹویٹ میں وزارت خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ اجلاس پاکستان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ ادھر او آئی سی ترجمان نے ایک بیان میں کہا اجلاس کئی موضوعات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ فلسطین اور القدس سمیت عالم اسلام کے معاملات پر منظور کی جانے والی قراردادوں پر عملدرآمد کے لئے او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی کارکردگی پر بھی غورکرے گا کانفرنس افغانستان کی صورتحال اور اس کے انسانی مضمرات کے علاوہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورت حال کابھی جائزہ لے گی۔ او آئی سی وزرائے خارجہ یمن، لیبیا، سوڈان، صومالیہ، شام اور دیگر علاقوں میں ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیں گے

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو او آئی سی کے مندوبین کے استقبال کیلئے سجا دیا گیا، او آئی سی میں شامل تمام اسلامی ممالک کے پرچم ایئر پورٹ کے اندر لائونج میں لگا دیئے گئے، ایئر پورٹ انتظامیہ نے تمام مندوبین کو خوش آمدید کرنے کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل کر لیں۔ سکیورٹی انتظامات کے ساتھ ایئر پورٹ کو اندر اور باہر خوب صورت پودوں اور تمام اسلامی ممالک کے پرچموں سے سجا دیا گیا، کانفرنس 22 مارچ سے 24مارچ تک اسلام آباد میں جاری رہے گی

    دوسری جانب اسلام آباد میں او آئی سی کانفرنس کا انعقاداسلام آباد ٹریفک پولیس نے ٹریفک پلان جاری کر دیا 21تا 24 مارچ، ریڈ زون عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو گا، سرینا چوک، اسٹیٹ بینک چوک، ایکسپریس چوک اور ایوب چوک عام ٹریفک کیلئے بند ہوں گےشہری آمدورفت کے لیے متبادل راستے استعمال کریں ، سرینا چوک اور مارگلہ روڈ ہی ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے مخصوص اجازت نامہ کے ساتھ ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت ہو گی، سری نگر ہائی وے، مری روڈ ، اسلام آباد ایکسپریس وے پر مختصر دورانیہ کیلئے غیر اعلانیہ رکاوٹیں لگائی جائیں گی شہری کسی بھی دشواری سے بچنے کیلئے غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں،

    قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ او آئی سی اجلاس کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں چین کے وزیر خارجہ بطورمہمان خصوصی آج آئیں گے دیگر ممالک کے وزیرخارجہ آج آئیں گے، کل او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اڑتالیسواں اجلاس ہو گا، وزیر اعظم عمران خان کل اجلاس سے خطاب کریں گے،اجلاس میں 100سے زائد قراردادیں زیر بحث آئیں گی،وزرائے خارجہ 23 مارچ کو پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے، کل او آئی سی کی چیئرمین شپ ایک سال کیلئے پاکستان کو منتقل ہوجائے گی،اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہمیں دو طرفہ ملاقاتوں کا موقع بھی فراہم ہوگا،او آئی سی کیلئےہر حکومت نے اپنے اپنے دور میں کردار ادا کیا ہے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھاکہ ہماری سیاسی کمیٹی کے اجلاس مسلسل ہو رہے ہیں،آج بھی وزیراعظم کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی کااجلاس ہوگا،ہم تصادم نہیں چاہتے،کسی ممبرکوووٹ کاحق استعمال کرنےسےنہیں روکیں گے،ہم عدم اعتماد کا مقابلہ آئینی طریقےسے کریں گے، نمبرزپورے کرنےکی ذمہ داری اپوزیشن کی ہے،اپوزیشن نمبرز پورے کرنے کیلئےضمیر فروشی پراترچکی ہے،سپریم کورٹ سےہارس ٹریڈنگ ختم کرنے کیلئے رہنمائی چاہتےہیں،یہ بھی رہنمائی لیں گے کہ کیا یہ ممبران تاحیات نااہل ہوں گے؟ اگر وہ تاحیات نہ اہل ہو سکتے ہیں تو انہیں یہ قدم اٹھانے سے پہلے باردگر سوچنا چاہیے بلاول کی بہت سی باتوں پر ہنسی آتی ہے،وقت کےساتھ ساتھ سیکھ جائیں گے

    چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ پاکستان میں او آئی سی کا اجلاس امن کی عکاسی ہے اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) وزراء خارجہ کونسل کے48ویں اجلاس میں اسلامی دنیا کے وزراء خارجہ، مندوبین و دیگر اعلیٰ شخصیات کو پاکستان آمد پر خوش آمدیدکہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ اجلاس کشمیر، فلسطین سمیت مسلم امہ کیلئے باعث فخر ہوگا پاکستان کا اسلامی ملکوں کی بین الاقوامی تنظیم(او آئی سی) کے اجلاس کی میزبانی کرنا باعث سعادت اور باعث فخر ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اجلاس مسلم امہ کودرپیش مسائل کے حل کیلئے معاون ثابت ہو گا اور اس اجلاس کے ذریعے عالمی برادری کو عالم اسلام کی حقیقی صورت حال سے آگاہی اور آواز ثابت ہوگا مرکزی علماء کونسل پاکستان اس اجلاس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے یہ اجلاس بہت ہی اہمیت کا حامل ہے او آئی سی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جس میں 57مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں او آئی سی دنیا بھر کے ڈیڑہ ارب مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک مضبوط پلیٹ فارم ہے اور اس مضبوط پلیٹ فارم کے قیام سے لے کر آج تک مسلم امہ کے مسائل اور مفادات کا تحفظ یقینی بنا ہے ہم دعا گو ہیں کہ اس کانفرنس کے مثبت اثرات مرتب ہوں

    قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود کی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کے موقع پر تیونس ہم منصب سے ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کی صدارت میں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی ، ممبران کشمیر کونسل و سابق ٹکٹ ہولڈر کا اجلاس ہوا اجلاس میں وزراء،ممبران اسمبلی،ممبران کشمیر کونسل اور ٹکٹ ہولڈرز نے شرکت کی پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم پاکستان عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں منظور کی گئی متفقہ قراردادوں میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے.اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی اور کارکن وزیراعظم عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد کی منظوری پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ملت اسلامیہ کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی فورمز کو متحرک کیا اور عالمی سطح پر رائے عامہ کو کامیابی سے ہموار کیا۔ پارلیمانی پارٹی کی طرف سے منظور کردہ قرار دادوں میں اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی گئی اور کہا گیا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کا اجلاس اتحاد و یکجہتی کا پیغام بھی ہے۔ مسلہ کشمیر کو او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے اور کشمیری قیادت کو مدعو کرنے کا بھی زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ او آئی سی سے اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ کہ اسلامی تعاون تنظیم مسئلہ کشمیر پر جاندار موقف اختیار کرے گی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لے گی۔اجلاس کی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نہ صرف کشمیریوں کے سفیر ہیں بلکہ کشمیری قوم کے محسن بھی ہیں عمران خان نے جہاں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلہ پرعالمی سطح پر جاندار آواز بلند کی وہاں انہوں نے آزادجموں وکشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے حکومت آزادکشمیر کو وافر مالی وسائل مہیا کیے اور ہر ممکن سرپرستی کی۔

    او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس،وفود 23 مارچ کی پریڈ میں شریک ہوں گے،طاہر اشرفی

    علامہ طاہر اشرفی کا تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ کے ہمراہ امام بارگاہ کا دورہ

    8 سالہ بچے پر توہین مذہب کا الزام، طاہر اشرفی نے حقیقت بتا دی

    مسیحی برادری کے قائدین پر حملہ، طاہر اشرفی کا بڑا اعلان

    علامہ طاہر اشرفی کتنی تنخواہ لے رہے؟ خود ہی بتا دیا

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    وزیراعظم کی ہدایت پراو آئی سی اجلاس میں کشمیری قیادت کو دعوت، بھارتی اعتراض مسترد ا

    او آئی سی اجلاس، مصری وزیر خارجہ کی 24 برس بعد پاکستان آمد

  • اسرائیل کی 3 فلسطینیوں کو پھانسی،او آئی سی کی شدید مذمت

    اسرائیل کی 3 فلسطینیوں کو پھانسی،او آئی سی کی شدید مذمت

    اسرائیلی فوج کی جانب سے 3 فلسطینیوں کو پھانسی دے دی گئی جس کی اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں 3 فلسطینیوں کو پھانسی دی گئی۔ جس کے بعد رواں ماہ اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 20 ہو گئی جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

    گزشتہ برس اسرائیلی فوج نےفلسطینی صحافیوں پر260 سے زائد حملےکیے، رپورٹ

    او آئی سی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ پھانسیوں کا یہ نیا سلسلہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جرائم اور جارحیت میں خطرناک اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔


    او آئی سی نے اسرائیل کو اس خطرناک اضافے کے نتیجے میں مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کو درکار بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اسرائیل کی قابض طاقت کو فلسطینیوں، ان کی سرزمین اور ان کے مقدس مقامات پر اس کی مسلسل خلاف ورزیوں اور حملوں کا جوابدہ ٹھہرایا جائے۔


    خیال رہے کہ اسرائیل کی فلسطین میں ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور آئے روز نام نہاد آپریشن کی آڑ میں معصوم اور نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    ایرانی لڑکی نے قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کیلئے اپنے امریکی بوائے فرینڈ کو…

    واضح رہے کہ حال ہی میں جرنلسٹس سپورٹ کمیٹی (جے ایس سی) نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی افواج نے گزشتہ برس کے دوران فلسطینی صحافیوں پر 260 سے زائد حملے کیے اور گزشتہ برس کے دوران فلسطینی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی جن میں گزشتہ مئی میں غزہ کی پٹی پر جارحیت کے دوران 13 صحافی بھی شامل تھے جن کو چوٹیں آئیں اور بعض صورتوں میں صحافی مستقل معذوری کا بھی شکار ہوئے رپورٹ میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسرائیلی حملوں نے صحافیوں کے پیشہ ورانہ مستقبل کو انتہائی ڈرامائی طور پر متاثر کیا ہے۔

    جرنلسٹس سپورٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی افواج روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی قانون کے تحت پابندی کے حامل گولہ بارود کا استعمال عام طور پر فلسطینیوں اور صحافیوں کے خلاف کرتی ہیں بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل فلسطینی صحافیوں کو مسلسل نشانہ بناتا ہے اور انہیں دہشت زدہ کرنے کے لیے میڈیا کے عملے کو ستاتا ہے کیونکہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف حکومت کے جرائم کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔

    روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

  • او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس میں کونسی قراردادیں پیش ہونے جا رہیں؟

    او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس میں کونسی قراردادیں پیش ہونے جا رہیں؟

    وزیر خارجہ کا ایران، ملائشیا، انڈونیشیا کے وزراء خارجہ سے رابطہ
    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا او آئی سی اجلاس کے حوالہ سے ایران، ملائشیا، انڈونیشیا کے وزراء خارجہ سے رابطہ ہوا ہے،

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ملائیشیا کے وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے،دوران گفتگو دو طرفہ تعلقات اور کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ملائشیا کے مابین گہرے برادرانہ تعلقات ہیں ،اعلی سطحی روابط کے فروغ سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اور ملائشیا کے درمیان نقطہ ء نظر میں ہم آہنگی، دو طرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر ہے، وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کے فروغ اور پارلیمانی وفود کے تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا وزیر خارجہ نے ملیشین ہم منصب کو اسلام آباد میں منعقدہ، او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس میں شرکت کی دعوت کا اعادہ کیا

    پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جمہوریہ انڈونیشیا کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے وسیع موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے سیاسی، تجارتی اور اقتصادی معاملات کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، آسیان، او آئی سی اور دیگر کثیر الجہتی فورمز پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو انڈونیشیا کے دورے کی دعوت دی۔ دعوت قبول کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے باہمی طور پر مناسب تاریخ پر انڈونیشیا کا دورہ کرنے پر اتفاق کیا۔

    اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ اور شاہ محمود قریشی کے درمیان بھی رابطہ ہوا،دونوں فریقوں نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس، مسئلہ فلسطین، یمن، افغانستان، یوکرین کے بحران اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔اس ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےایرانی وزیر خارجہ کو اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت اور پاکستان کے قومی دن کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین او آئی سی کا منبع ہے، اور اس کے اصولی موقف پر غور کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس سلسلے میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں، یوکرین کے بحران، علاقائی مسائل اور عالم اسلام پر تبادلہ خیال کیا۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے قومی دن پر پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور وزیر خارجہ کی دعوت پر شکریہ ادا کیا،

    قبل ازیں او آئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے اجلاس ہوا ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نےاجلاس کی صدارت کی ، جس میں سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر،اسپیشل سیکریٹری خارجہ،چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد نے شرکت کی ،اجلاس میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے وزیر خارجہ کو بریفنگ دی گئی شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا

    46 ممالک کے وزراء خارجہ آرہے ہیں او آئی سی کے اجلاس میں جو 22 اور 23 مارچ تک جاری رہے گا اور پاکستان 41 برس بعد اس اجلاس کی میزبانی کرے گا ,وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ 22 مارچ کو او آئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے،امت مسلمہ کے مسائل کے حل کیلئے مشاورت کی جائے گی،کشمیریوں سے حق خودارادیت کا کیا گیا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا،افغان معاملے پر او آئی سی اجلاس کی میزبانی کر چکے، افغان شہریوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے، کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں مہنگائی ہوئی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کے حوالے سے وزارتِ خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ 22-23 مارچ 2022 کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اڑتالیسواں اجلاس اسلام آباد منعقد ہونے جا رہا ہے 19 دسمبر کو ہمیں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو نہ صرف او آئی سی بلکہ دنیا بھر کے ممالک نے سراہا،اب تک ہمیں اجلاس میں شرکت کیلئے 48 کنفرمیشنز موصول ہو چکی ہیں پاکستان او آئی سی کا بانی ممبر ہے او آئی سی دنیا کا تیسرا بڑا فورم ہے یہ اجلاس بہت نازک مرحلے پر ہو رہا ہے آج اس اجلاس کے انعقاد کے وقت کشمیری اور فلسطینی حق ارادیت کے حصول کے منتظر ہیں آج اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز بیانیے میں اضافہ کا رحجان دکھائی دے رہا ہے یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتں خود کو غیر محفوظ محسوس تصور کر رہے ہیں کرونا وبا کے مضمرات کے تناظر میں بھی یہ اجلاس اہم ہے پاکستان سمجھتا ہے کہ یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے ہم اس اجلاس کے زریعے مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور یگانگت کا فروغ چاہتے ہیں ہمارے امہ کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جس کی بنیاد پر ہم پل کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تاکہ دوریاں قربتوں میں تبدیل ہو جائیں

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہو گی کہ وہ قومیں جو جبرو استبداد کا سامنا کر رہی ہیں، بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین انہیں انصاف مل سکے ہماری خواہش ہو گی کہ علاقائی امن میں بہتری لائی جا سکے ہم مسلم امہ کے مابین معاشی ترقی کے فروغ کو ترجیحات میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں اس اجلاس کا مقصد
    To build bridges and construct partnership ہے او آئی سی چارٹر 2007/8 میں پاکستان کی صدارت میں مکمل ہوا، او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس پر ابتدائی مشاورت کے بعد ہماری کوشش ہو گی کہ ایک سو سے زیادہ قراردادیں پیش اور منظور کی جا سکیں دو معاملات پر او آئی سی نے نمایاں پوزیشن لے رکھی ہے جس میں فلسطین اور مسئلہ کشمیر شامل ہیں اس اجلاس کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے رابطہ گروپ کا اجلاس بھی ہو گا ہماری کوشش ہو گی کہ وہ رپورٹس جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے مرتب کی گئیں وہ اس اجلاس میں پیش کی جائیں ہماری خواہش ہو گی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے نمایندگان تشریف لائیں اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے ممبران کو آگاہ کریں ہماری خواہش ہوگی کہ اس اجلاس میں جموں و کشمیر کے مسئلے پر ایک منسٹیریل قرارداد پیش کی جائے جو امہ کی آواز تصور ہو تاکہ 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کو بے نقاب کیا جا سکے ہماری خواہش ہے کہ اسلاموفوبیا کے حوالے سے امہ کی نمایندگی کرتے ہوئے متفقہ قرارداد سامنے لائی جائے کرپشن اور کرونا وبا کے مضمرات سے نمٹنے کیلئے بھی ایک متفقہ قرارداد سامنے لائی جا سکے افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لینا بھی ہماری خواہش ہے ہم چاہتے ہیں کہ یہ اجلاس ہماری متفقہ اور مشترکہ امنگوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرے ہم چاہتے ہیں امہ کے مابین اتحاد و یگانگت کا پیغام اس اجلاس کے ذریعے دنیا بھر میں پہنچے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کل رات میری اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھارت کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل کے حوالے سے گفتگو ہوئی اس واقعہ کے حوالے سے میں نے پاکستان کی تشویش سے انہیں آگاہ کیا میں نے سلامتی کونسل کے صدر اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے میں نے عالمی برادری کو اس واقعے کی سنگینی سے آگاہ کیا ہے اس خط میں، میں نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں میزائل کے حادثاتی طور پر چل جانے سے بچاﺅ کے لئے لاگو اقدامات اور طریقہ ہائے کار اور خاص طورپر اس حادثے کے عوامل کے بارے میں بھارت واضح کرے۔ پاکستان میں گرنے والے میزائل کی قسم اور اس کی جزئیاتی تفصیلات کے بارے میں بھارت واضح طور پر بتائے۔ بھارت کو واضح طور پر بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ حادثاتی طورپر چل جانے والے میزائل کی پرواز کا راستہ کیا تھا اور آخر کار یہ رُخ بدل کر پاکستان میں کیسے داخل ہوا؟ کیا میزائل کے اندرخودبخود تباہ ہونے کا نظام موجود تھا ؟ اور یہ کیوں کام کرنے میں ناکام رہا؟کیا معمول کی دیکھ بھال کے دوران بھارتی میزائلوں کو چلنے کی فوری حالت میں رکھا جاتا ہے؟حادثاتی طور پر میزائل چلنے کے فوری بعد بھارت پاکستان کو اس وقت تک مطلع کرنے میں کیوں ناکام رہا جب تک پاکستان نے حادثے کا اعلان نہیں کردیا اور اس کی وضاحت طلب نہیں کی؟ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی جانب سے یکطرفہ تحقیق نا کافی ہے میرے علم میں آیا ہے کہ چین کے وزیر خارجہ نے بھی اس حوالے سے تحقیقات کی بات کی ہے میں ہندوستان کے وزیر دفاع کے بیان کو ناکافی سمجھتے ہوئے مسترد کرتا ہوں دنیا کو سمجھنا ہو گا کہ یہ دو طرفہ معاملہ نہیں ہے کیونکہ یہ واقعہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان حادثاتی جنگ کا موجب بن سکتا تھا

    @MumtaazAwan

    مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

  • او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس، اسلام آباد میں 3 چھٹیوں کا اعلان

    او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس، اسلام آباد میں 3 چھٹیوں کا اعلان

    اسلام آباد:او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس، اسلام آباد میں 3 چھٹیوں کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کانفرنس کے لئے وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں 3 چھٹیوں کا اعلان کردیا ہے۔

    کابینہ ڈویژن نے 22 مارچ اور 24 مارچ کو عام تعطیل کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق اسلام آباد کی حدود میں 22 اور 24 مارچ کو تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 23 مارچ کو یوم پاکستان کی عام تعطیل ہوگی۔

    سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 23 مارچ بروز بدھ صوبے بھر میں عام تعطیل ہوگی۔

    یاد رہے کہ ’یوم پاکستان‘ پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔قرارداد پاکستان کی بنیاد پر ہی مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کیلئے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

    اسی قرار داد کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

  • سیاسی جماعتوں نے اسلام کا نام لیا مگر اقتدار میں آ کر بھول گئے،علامہ طاہر اشرفی

    سیاسی جماعتوں نے اسلام کا نام لیا مگر اقتدار میں آ کر بھول گئے،علامہ طاہر اشرفی

    سیاسی جماعتوں نے اسلام کا نام لیا مگر اقتدار میں آ کر بھول گئے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ امور اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ آنے والے جمعہ کے روز خطبات جمعہ میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا، تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں ملک گیر یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری کو منائیں گی، کشمیری نوجوانوں پر ہونے والے ظلم و جبر پر عالمی دنیا اپنی خاموشی توڑے، سابق ادوار میں مذہبی جماعتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اسلام کا نام لیا مگر اقتدار میں آ کر بھول گئے، پشاور میں ایک مسلم عالم دین اور ایک پادری کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

    منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پشاور میں گزشتہ دس دن کے دوران دو واقعات ہوئے پہلے ایک مسلم عالم دین اور پھر ایک پادری کو نشانہ بنایا گیا، ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، اس میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 5 فروری پورے ملک میں یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے، 4 فروری کو خطبات جمعہ میں کشمیری مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا اور 5 فروری کو اظہار یکجہتی ریلیاں نکالی جائیں گی، تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں ملک گیر یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری کو منایا جائیگا، کشمیر ہمارا متفقہ مسئلہ ہے اس کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس میں بھی مسئلہ کشمیر و فلسطین کو اٹھایا، گزشتہ دس روز سے کشمیری نوجوانوں کا جو قتل عام ہو رہا ہے اس پر عالمی دنیا اپنی خاموشی توڑے، وہ وقت قریب ہے جب کشمیر و فلسطین آزاد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر کے علماء پیغام پاکستان پر متفق ہیں، پیغام پاکستان میں بہت واضح پیغام ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں دوسرے کو چھیڑو نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم اس حکومت کا بڑا کارنامہ ہے، اس حوالے سے ایک وفاقی کمیٹی موجود ہے ، اہل بیت و صحابہ کرام کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا، حضرت علیؓ، حضرت فاطمتہ الزہراؓ، حضرت حسن و حسین ؓکے بغیر ایمان مکمل نہیں ہے، نصاب تعلیم میں خلفائے راشدین، حضرت علیؓ، حضرت فاطمتہ الزہراؓ، حضرت خدیجہؓ سمیت تواتر کے ساتھ تذکرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرمۖ کے پورے گھرانے کا تذکرہ ہے، جماعت سوم میں حضرت خدیجہؓ و حضرت ابو طالب کا ذکر ہے، حضرت امام زین العابدینؑ، حضرت امام جعفر صادق ؑکا تذکرہ نصاب تعلیم میں موجود ہے، جو علما تحفظات کا اظہار کررہے ہیں وہ شائد اس بات سے لاعلم ہیں کہ نصاب میں یہ تذکرے موجود نہیں، جن علما کو اس کے باوجود جو تحفظات ہیں ان کے حوالے سے متعلقہ کمیٹی سے رجوع کیا جائے، ان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب میں متحدہ علماء نے 326 کتب کو دیکھا ہے، کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے، یہ بات غلط فہمی کی بنیاد پر یا لاعلمی کی بنیاد پر ہوگی جیسے کہہ دیا گیا کہ اہل بیت کا تذکرہ نہیں ہے، جن چیزوں پر اعتراض ہے انہیں درست کیا جا سکتا ہے، یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے، تحفظات متعلقہ فورم پر اٹھائے جائیں تاکہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے، ریاست مدینہ انصاف و احتساب پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 مارچ کو او آئی سی کے وزراء خارجہ کا شیڈول اجلاس ہو رہا ہے، کشمیر ہمیشہ او آئی سی کے ایجنڈے پر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ توہین رسالتﷺ کے حوالے سے جو تقریر وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں کی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، پیوٹن کے بعد کینیڈین وزیراعظم نے بھی بات کرکے وزیراعظم عمران خان کے عالمی موقف کی تائید کی ہے، یہ وزیراعظم عمران خان کی کامیابی ہے، ریاست مدینہ کے لئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا، سابق ادوار میں مذہبی جماعتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اسلام کا نام لیا مگر اقتدار میں آ کر بھول گئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران سے ملاقات میں کہا ہے کہ وہ سفارشات پر مرحلہ وار قانون سازی کے لئے عمل ہوگا، کیا سابق دور میں کسی اور نے یہ اقدام کئے، کیا جماعت اسلامی، جے یو آئی اور مسلم لیگ ن پر کسی اعتراض کیا؟

    مسیحی برادری کے قائدین پر حملہ، طاہر اشرفی کا بڑا اعلان

    علامہ طاہر اشرفی کتنی تنخواہ لے رہے؟ خود ہی بتا دیا

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    سن لیں، یہ کام کرنیوالوں کو معاف نہیں کیا جائے گا،علامہ طاہر اشرفی کا دبنگ اعلان

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    بلال اکبرکی واپسی، سعودی عرب میں کون ہو گا نیا سفیر،طاہر اشرفی نے بتا دیا

    علامہ طاہر اشرفی کا تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ کے ہمراہ امام بارگاہ کا دورہ

    8 سالہ بچے پر توہین مذہب کا الزام، طاہر اشرفی نے حقیقت بتا دی

  • سعودی وزیرخارجہ کی آرمی چیف  سے ملاقات:پاکستان کی عالم اسلام کے لیے خدمات کوسراہا

    سعودی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات:پاکستان کی عالم اسلام کے لیے خدمات کوسراہا

    راولپنڈی:سعودی وزیرخارجہ کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات:پاکستان کی عالم اسلام کے لیے خدمات کوسراہا ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ او آئی سی کا یہ غیر معمولی اجلاس افغانستان کو بڑھتے سلامتی اور انسانی بحران سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

     

     

    ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، افغانستان کی موجودہ صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس کے غیر معمولی اجلاس بلانے پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا

     

    آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی کا یہ غیر معمولی اجلاس افغانستان کو بڑھتے ہوئے سلامتی اور انسانی بحران سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان سعودی عرب کیساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، مملکت کا اسلامی دنیا میں اہم مقام ہے۔

     

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ تنازعہ کشمیر کا پرامن حل جنوبی ایشیا میں استحکام کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان علاقائی امن اور خوشحالی کے لیے اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔

     

    ملاقات کے دوران سعودی وفد نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کوششوں، علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

  • او آئی سی اجلاس سے پہلے ہی ہمیں کامیابی ہوئی ہے، شاہ محمود قریشی

    او آئی سی اجلاس سے پہلے ہی ہمیں کامیابی ہوئی ہے، شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ او آئی سی اجلاس سے قبل ہی دنیا میں ہماری آواز پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں او آئی سی اجلاس سے پہلے ہی کامیابی ہوئی ہے اور دنیا میں ہماری آواز پہنچ گئی۔

    دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے، شاہ محمود قریشی

    انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان میں خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے جبکہ افغانستان میں تنخواہوں کے لیے رقم کی بھی ضرورت ہے افغانستان کے معاشی حالات عالمی برادری کی توجہ کے طالب ہیں۔ ہم امریکہ، یورپی یونین و دیگر کو افغانستان کی صورتحال کا احساس دلانے میں کامیاب ہوئے۔

    او آئی سی اجلاس،مہمانوں کی آمد جاری، وزیر خارجہ کا پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ

    اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان نازک صورتحال سے دوچار ہے اور اگر دنیا نے توجہ نہ دی توافغانستان میں انسانی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے پاکستان کی خواہش ہےمہاجرین باعزت طریقےسےگھروں کولوٹیں مہاجرین کی واپسی کیلئےسازگارماحول ہونا سب سےاہم ہے-

    انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان میں روزگار،امن نہ ہوتومہاجرین واپسی سے کترائیں گے مہاجرین کا بحران پیدا ہوا تو پاکستان اور ایران تک محدودنہیں رہےگا مہاجرین روزگار کیلئے یورپ کے دروازوں پربھی دستک دیں گے اس وقت افغانستان میں جنگ نہیں ہورہی، مسئلہ بھوک ہے ۔افغانستان میں معطل بینکنگ سسٹم فوری بحال کرنےکی ضرورت ہے۔

    افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں: آرمی چیف