Baaghi TV

Tag: آئی پی پیز

  • ْجماعت اسلامی کےبجلی کی قیمتوں کے خلاف کراچی تا کشمور احتجاجی مظاہرے

    ْجماعت اسلامی کےبجلی کی قیمتوں کے خلاف کراچی تا کشمور احتجاجی مظاہرے

    بجلی کی قیمتیں کم نہ کرنے،آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں اور بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی جماعت اسلامی کے تحت کراچی تا کشمور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

    صوبائی ترجمان مجاہدچنا کے مطابق حیدرآباد، کراچی،جیکب آباد،لاڑکانہ،شکارپور،ٹنڈوالہیار،میرپورخاص،جامشورو،ٹھٹھہ،بدین،کندھکوٹ،شکارپور،ٹنڈوآدم ،سانگھڑ اوردادوسمیت دیگرمقامات پرہونے والے مظاہروں میں شرکاء نے سخت نعرے بازی کے ساتھ آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدے ختم، بدترین لوڈ شیڈنگ کرکے معیشت کا پھیہ جام کرنا بندکرو، سرکاری افسران و ملازمین کو مفت بجلی بند کرو، عوام کو جینے کا حق دو جیسے دیگر نعروں و مطالبات پر مبنی پلے کارڈز ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے، جن سے جماعت اسلامی کے صوبائی،ضلعی اور مقامی قائدین نے خطاب کیا۔

    جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے ٹنڈوالہ یار میں پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئی پی پیز مافیا، بجلی کمپنیوں اور کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے بجلی بلوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام کو ذہنی مریض جبکہ صنعت و معیشت کا پھیہ جام کردیا گیا ہے جس سے مہنگائی کا طوفان، محنت کش طبقہ فاقوں پر مجبور اور ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔اس ظالمانہ و دہرے معیار پر مبنی سسٹم میں جہاں ایک غریب اور عام آدمی اپنا پیٹ کاٹ کر اور گھر کا قیمتی سامانِ بیچ کر بجلی گیس کے بھاری بھرکم بل اور بے شمار ٹیکس ادا کرتا ہے وہاں یہی سب کچھ وزراء ججز جرنیلوں اور بیوروکریٹ سمیت سرکاری ملازمین کو مفت میں دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بجلی چوری اور لائن لاسز کے اخراجات بھی بجلی کا بل ادا کرنے والوں پر ڈالے جاتے ہیں جو کہ سراسر ظلم و نا انصافی کی انتہا ہے۔

    وزیر توانائی کابجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں میں ہر ملازم 6 ہزار روپے کی مفت بجلی حاصل کرنے کاانکشاف اور مفت بجلی فراہمی بند نہ کرنے کی بے بسی کا بیان تشویش ناک ہے۔ان کا حکم اور ظلم صرف غریبوں اور بے بسوں پر ہی چلتا ہے۔ کروڑوں کی بجلی مفت اور چوری کرنے والے طاقتورں کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ آئی پی پیز نظرثانی شدہ معاہدوں سے 1100ارب روپے کی بچت سے بجلی بلوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔

    صوبائی امیر نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بل کم کرنے کے ساتھ ناجائز ٹیکسز ختم کیے جائیں، پیٹرول کی لیوی کم کی جائے۔ اربوں روپے کی سرکاری مراعات ختم کی جائیں، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کر کے جاگیردار طبقے پر ٹیکس عائد کیا جائے۔حکومت کہتی ہے کہ آئی پی پیز سے ڈیل ہوگئی جس کے نتیجے میں اربوں روپے کا فائدہ قومی خزانے کو ہورہا ہے تواس کا فائدہ عوام، انڈسٹری وکاٹیج انڈسٹری کو کیوں نہیں مل رہا ۔
    مظاہرے میں نائب قیم سہیل شارق،امیرضلع آصف یاسین ودیگر بھی موجود تھے۔کراچی میں بجلی کی قیمتیں کم نہ کرنے کے خلاف شہر کے 13 مقامات پر دھرنے دیئے گئے جن سے امیر حلقہ کراچی منعم ظفر و دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ائی پی پیز نظر شدہ معاہدوں سے گیارہ سو ارب روپے کی بچت کا فائدہ عوام کو پہنچانے، بجلی قیمتیں کم اور اہل کراچی کو کے الیکٹرک مافیا سے نجات دلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

    سانگھڑ پریس پراحتجاجی مظاہرے سے سندھ کے نائب امیر محمد افضال، ظہیرجتوئی،راجہ وسیم ، بدین میں پریس کلب پراحتجاجی مظاہرے سے امیرضلع سید علی مردن شاہ ،اللہ بچایوہالیپوتہ،عبدالکریم بلیدی ،جیکب آباد میں قائد اعظم روڈ سے پریس کلب تک مظاہرے سے حاجی دیدارلاشاری، صادق ملغانی ہدایت اللہ رند، لاڑکانہ میں جناح باغ سے پریس کلب تک مظاہرے سے امیرضلع ایڈووکیٹ نادر علی کھوسہ رمیزراجہ شیخ، کندھکوٹ پریس کلب پرامیرضلع غلام مصطفیٰ میرانی،اسداللہ چنا،حیدرآباد میں فقیرکاپڑچوک پرحافظ طاہرمجید،عبدالقیوم ، دادوپریس کلب پرضلعی جنرل سیکرٹری محمد موسیٰ ببر، کوٹری میں ضلعی امیر مولانا محمد عمر،میرپورخاص میں سبزی منڈی چوک پرامیرشہر شکیل احمد فہیم عاصم شیخ،ٹھٹھہ پریس کلب پرمظاہرے سے ضلعی امیرمجید سموں ،جنرل سیکرعبداللہ آدمگندرو،ٹنڈوآدم پریس کلب پرمقامی امیرعریف اللہ خان،عبدالغفور،عبدالستارانصاری نے جبکہ کنڈیارو میں امیرضلع نعیم احمد کمبوہ نے مظاہرے سے خطاب کیا۔

  • پانچ آئی پی پیز نے معاہدے ختم کرنے کی دستاویزات پر دستخط کردیئے

    پانچ آئی پی پیز نے معاہدے ختم کرنے کی دستاویزات پر دستخط کردیئے

    اسلام آباد: 5 آئی پی پیز نے بجلی خریدنے کے معاہدوں کے خاتمے کی دستاویزات پر ابتدائی دستخط کردیئے ہیں،جن کمپنیوں نے اس حوالے سے دستخط کیے ہین ان میں میسرز حبکوپاور، میسرز روش پاور، اے ای ایس لال پیر پاور، صبا پاورپلانٹ اور اٹلس پاور شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: "دی نیوز” کے مطابق دستخط کرنے والی آئی پی پیز کو اب سے کیپسٹی پیمنٹ نہیں دی جائے گی، ان مذاکرات کا حصہ رہنے والے ایک سینیر عہدیدار نےبتایا کہ اس طرح 300 ارب روپے کی دیوہیکل رقم 3 سے 10 برس کے دوران ان معاہدوں پر بچائی جائے گی تاہم کیپسٹی چارجز کی مد میں اور بجلی کی لاگت پر ماضی کے اخراجات ادا کیے جائیں گے-

    پانچوں آئی پی پیز نے 40 ارب روپے کے سود کو بھی ختم کردیا ہے اور ایک مرتبہ جب وفاقی حکومت اسے آگے بڑھانے کی اجازت دیتی ہے تو پانچوں آئی پی پیز جن میں سے 1994 اور ایک 2002 کے معاہدے کے تحت وجود میں آئی ہے انہوں نے ان معاہدوں کے خاتمے کے کی آفیشل دستاویزات پر رسمی طور پر دستخط کردیے ہیں۔

    اس طرح ان 5 آئی پی پیز سے 2400 میگاواٹ کے معاہدوں کے خاتمے کے بعد اب یہ بجلی نظام کاحصہ نہیں رہے گی کیونکہ این ٹی ڈی سی نے بھی ان سے ٹیک اینڈ پے کے طریقہ کار کے تحت بجلی خریدنے سے انکار کردیا ہےاس طرح حکومت کو بجلی کے نرخوں میں 0.65 روپے فی یونٹ ریلیف ملے گا جو کہ مجموعی طور پر 65 ارب روپے سالانہ بنتا ہے۔

    ٹاسک فورس کے عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ ہفتے 18 مزید آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے گی اور ان کی مجموعی کیپسٹی 4267 میگاواٹ ہے اور یہ بھی 1994 اور 2002 کی بجلی کی پالیسیوں کے تحت وجود میں آئے تھے، ان سے بھی بجلی ٹیک اینڈ پے موڈ یعنی جتنی بجلی لی جائے گی اتنی ہی ادائیگی کی جائے گی اور انہیں کیپسیٹی پیمنٹ ادا نہیں کی جائے گی جوکہ موجود کنٹریکٹ کے تحت بجلی لو یا ادائیگی کرو کے طریقہ کار کے تحت لی جاتی ہے۔

  • آئی پی پیز معاہدوں کے آڈٹ،وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان

    آئی پی پیز معاہدوں کے آڈٹ،وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان

    اسلام آباد: حکومت آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے افسران کو روکنے کے لیے کوشاں ہےجس کی وجہ سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس کے لئے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے آئینی ریفرنس کے ذریعے باضابطہ رائے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعظم عمران خان نے آڈیٹرجنرل آف پاکستان کے دفتر کی طرف سے آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ کے اختیار کی وسعت جاننے کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے سمری پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    جبکہ اس اقدام سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جو پہلے ہی آڈٹ کو محدود کرنے کے کسی بھی اقدام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔

    ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ وفاقی کابینہ سمری کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت اٹارنی جنرل کے دفتر کو فیڈرل آڈیٹرز کے دائرہ کار پر نظرثانی کے لیے ریفرنس بھیجے گی تاہم اٹارنی جنرل پہلے ہی یہ رائے دے چکے ہیں کہ اے جی پی کا کام اکاؤنٹس کے آڈٹ تک محدود ہونا چاہیے اور انھیں گورنمنٹ انٹرپرائزز کے پرفارمینس آڈٹ سے دور رہنا چاہیے۔

    ملکی معیشت اسٹیٹ بینک کے حوالے کردی گئی،شاہد خاقان

    ذرائع کے مطابق اے جی پی نے یہ مشورہ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا دستاویزات کے مطابق تنازع کی جڑ آڈیٹرجنرل آف پاکستان کا آئی پی پی سے کیے گئے معاہدوں، نیپرا کے مقررکردہ ٹیرف اور آئی پی پی پیز کو کی جارہی ادائیگیوں کا خصوصی آڈٹ کرنے کا فیصلہ ہے۔

    واضح رہے کہ 2020ء کے وسط میں حکومت اور 47 آئی پی پیز نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے اور پھر 2021 ء میں باضابطہ معاہدے طے پائے تھے جن کے متعلق حکومت نے کہا تھا کہ ان سے 10 سے 12 سال کے عرصے میں 836 ارب کی بچت ہوگی۔ اس کے عوض حکومت نے آئی پی پیز کو 450 ارب ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس رقم میں سے وفاقی کابینہ 224 ارب روپے کی ادائیگیوں کی منظوری دے چکی ہے۔ اس تمام عرصے میں حکومت نے آئی پی پی پیز کی جانب سے کی گئی بے ضابطگیوں سے چشم پوشی اختیار کی۔

    واضح رہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو آئی پی پیز کے آڈٹ کا حکم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دیا تھا۔

    عمران خان نے معاشی بحران کو مذہب کی ڈھال بنا لیا ہے جس پر تشویش ہے،شہباز شریف