Baaghi TV

Tag: اٹارنی جنرل

  • عمران خان کا ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل ، اٹارنی جنرل آفس سے وضاحت طلب

    عمران خان کا ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل ، اٹارنی جنرل آفس سے وضاحت طلب

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت جاری ہے –

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اعتراضات کے ساتھ عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت عدالت نے اٹارنی جنرل آفس سے وضاحت طلب کرلی جبکہ کمرہ عدالت میں موجود اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ کو روسٹرم پر طلب کرلیا گیا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے، آپ کہہ رہے ہیں کہ کوئی کیس نہیں لیکن آگے ہو سکتا ہے؟ جس پر عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ سیاست ہے، جس پر وکیل بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ڈی جی کی طرف سے بیان آیا ہےجج نے کہا کہ وہ بھی سیاست ہے، جس پر عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اعلیٰ حکومتی اور فوجی عہدیداروں کی طرف سے بیانات دیے گئے۔

    بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا،دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات دور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ کو درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کردی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وزراء کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کے ملٹری ٹرائل کی دھمکی دی گئی، عمران خان ایک سویلین ہیں، سویلین کا ملٹری ٹرائل درخواست گزار اور عدالت کے لیے باعثِ فکر ہے، درخواست گزار کے وکیل کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے بیان آیا ہے، اگر ایسا ہے تو فیڈریشن کی طرف سے واضح مؤقف آنا چاہیئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے مزید کہا کہ آج ہم کہہ دیں کہ ابھی کچھ نہیں کل آپ ملٹری ٹرائل کا آرڈر لے آئیں پھر کیا ہوگا؟ وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر پیر کو عدالت کو واضح آگاہ کریں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ پہلے درخواست پر عائد اعتراضات کا فیصلہ کر لیا جائے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ میں درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر رہا ہوں، سپریم کورٹ کا فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق فیصلہ موجود ہے، جواب دیں کہ کیا عمران کے ملٹری ٹرائل کا معاملہ زیرغور ہے؟ اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو درخواست غیرموثر ہو جائے گی اور اگر ایسا کچھ زیرغور ہوا تو پھر ہم اس کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 ستمبر تک وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے کی درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کردی تھی بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ 9 اور 10 مئی کے مقدمات کےلیے فوجی تحویل میں دینے کی خبریں زیر گردش ہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کو سویلین کورٹس کے دائرہ اختیار میں رکھنے اور فوجی تحویل میں دینے سے روکنے کے احکامات دیے جائیں درخواست میں وفاق کو بذریعہ وزارت قانون، وزارت داخلہ اور وزارت دفاع جبکہ آئی جی اسلام آباد، آئی جی پنجاب پولیس، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا۔

    رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پر اعتراضات عائد کردیے گئے تھے کہ کسی مخصوص ایف آئی آر کا حوالہ دیے بغیر عمومی ریلیف کیسے مانگا جا سکتا ہے؟ درخواست کے ساتھ کوئی آرڈر یا دستاویز نہیں لگائی گئی۔ پنجاب کے مقدمات پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کیسے دائر ہو سکتی ہے؟آخری اعتراض یہ تھا کہ ملٹری کورٹس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہوتے ہوئے ہائیکورٹ میں درخواست کیسے دائر ہوسکتی ہے؟

  • جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس بابر ستارکے خلاف مہم کیس میں وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے دوبارہ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بنچ نے مقدمے کی سماعت کی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان بنچ میں شامل ہیں، اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ہدایت کی کہ جنہوں نے سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا ان کا پتہ لگائیں، جو اصل لوگ ہیں ان کا تعین کریں، ہم آرڈر کر دیں گے آپ اصل ذمہ داروں کا تعین کریں، مہم کا آغاز کرنے والے لوگوں کے خلاف تحقیقات کریں، آپ نے ان کا تعین کرنا ہے جنہوں نے جج کی فیملی کا ڈیٹا سب سے پہلے شیئر کیا، ہم اس حوالے سے ایک مناسب آرڈر بھی جاری کر دیں گے۔

    جسٹس سردار اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک ہی روز میں تین مختلف مہم چلائی گئیں؟ اگر ملک دشمنوں کی جانب سے فائیو جی وار شروع کر دی جائے، اگر ملک دشمن یہ الزام عائد کر دیں کہ آرمی چیف، صدر مملکت توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان الزامات کے نتیجے میں جلاؤ گھیراؤ ہو، بلڈنگز کو جلا دیا جائے تو کیا آئی ایس آئی ان ملک دشمن عناصر کو ٹریس کر سکے گی یا نہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہاں اور ناں کا سوال ہے، بتائیں آپ کی استعداد ہے کہ نہیں؟جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے پاس فائیو جی وار فیئر کے خلاف کوئی سافٹ ویئر موجود نہیں؟ آپ بتائیں کہ فائیو جی وار فیئر کا مقابلہ کرنے کیلئے آپ کے پاس کیا وسائل موجود ہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملات خفیہ ہے تو سربمہر لفافے میں جمع کرا دیں۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایف آئی اے حکام کو کہا کہ آپ نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے، ایف آئی اے نے اس رپورٹ سے بہت بہتر رپورٹ جمع کرائی ہے ، ہم سپیریئر ایجنسی سے ویسا ہی کام کی توقع کر رہے تھے.جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے واقعی بہت کام کیا ہے،عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا گرین کارڈ والے کو امریکی شہری کہیں گے؟ امیگریشن حکام نے بتایا کہ وہ امریکی شہری نہیں ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کی انفارمیشن جو صرف ایف آئی اے کے پاس ہو سکتی تھی وہ کسی سسٹم سے نکال کر اپلوڈ ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹریول دستاویز پبلک ہوئی ہیں،عدالت نے سسٹم سے دستاویزات نکالے جانے پر ڈی جی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ سسٹم میں معزز جج کی یہ انفارمیشن کتنی بار چیک کی گئی؟ آپ نے بتانا ہے کہ یہ انفارمیشن کیسے لیک ہوئی؟جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی امیگریشن کہتے ہیں کہ یہ انفارمیشن ہمارے پاس نہیں ہوتی،امیگریشن حکام نے بتایا کہ ہماری تکنیکی ٹیم آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کر دے گی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن کیلئے لاگ ان کیا گیا ہوگا وہ آپ نے بتانا ہے۔عدالت نے آئی ایس آئی سے دوبارہ رپورٹ طلب کر لی،جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسٹینڈ لے لیا ہے کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب امریکا کی شہریت نہیں ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب شہریت نہیں ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی اور ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت کی تاریخ تحریری حکمنامہ میں ہوگی

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    احمد فرہاد کی اہلیہ کی درخواست پر جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،احمد فرہاد کی اہلیہ کے وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، اٹارنی جنرل بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،گزشتہ ہفتے سے احمد فرہاد اسلام آباد اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہیں,لاپتہ صحافی احمد فرہاد کیس کی سماعت سے قبل کمرہ عدالت میں صحافیوں اور وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی، سینئیر صحافی حامد میر بھی عدالت پہنچ گئے، آئی جی اسلام آباد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کو روسٹرم پر بلا لیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آپ نے بیان لیا؟ ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ بیان نہیں افسر کی غیر موجودگی میں جونئیر سے بات ہوئی ہے، انکی جانب سے رپورٹ سکریٹری دفاع کو بھیج دی گئی ہے،جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا کہ جو بات انہوں نے بتائی ہے کیا وہ 161 کا بیان ہے؟ پولیس کو پتہ ہے انہوں نے کیا کرنا ہے عدالت تفتیش میں مداخلت نہیں کریگی،

    وزیراعظم عدالت میں آ سکتا ہے تو سب آ سکتے ہیں اس سے بڑا تو کوئی نہیں،سیکرٹری دفاع کے پیش نہ ہونے پر جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
    سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش، سیکرٹری دفاع پیش نہ ہوئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جب بھی سیکرٹری دفاع کو بلایا جاتا ہے وہ پیش نہیں ہوتے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہی چیز تو ختم کرنی ہے، عدالت کے بلانے پر سب پیش ہونگے، اگر وزیراعظم عدالت میں آ سکتا ہے تو سب آ سکتے ہیں اس سے بڑا تو کوئی نہیں، یقینی بنائیں کہ سیکرٹری داخلہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں،عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ مغوی کی بازیابی کیلئے آپ کو کتنا وقت چاہیے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چھ دن گزر گئے مگر مجھے تین دن چاہئیں، عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز سے استفسار کیا کہ پولیس نے کیس میں کیا پراگریس کیا ہے ؟ ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ہم متعلقہ افسر کے پاس بیان ریکارڈ کرنے گئے تھے مگر وہ نہیں تھے،ہمیں وہاں سے یقین دہانی کرائی گئی کہ مغوی ان کے پاس نہیں ہے، جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ پولیس نے ہی تفتیش کرنی ہے کیونکہ پولیس پر ذمہ داری ہے،ایمان مزاری نے کہا کہ یہ کوئی پہلا کیس نہیں سب کو عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہیے، جب بھی سیکرٹری دفاع کو نوٹس کیا وہ نہیں آئے،سیکرٹری دفاع عدالت پیشی کو توہین سمجھتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری دفاع کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے،عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو ختم کرنا ہے، آئندہ سماعت پر سیکرٹری دفاع کو لے آئیں، ایمان مزاری نے کہا کہ احمد فرہاد کس حالت میں ہے، کیسے ہونگے یہ ایک سیریس معاملہ ہے، بلوچستان کے کیسز میں ہم نے دیکھا کہ لاپتہ ہونے کے بعد مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اس کیس میں ایسا کچھ نہیں ہوگا، اٹارنی جنرل یقین دہانی کرارہے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب آپ سے بڑی امیدیں ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت جمعہ تک کے لئے ملتوی کردی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی کروائی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ذمہ داری لیتا ہوں کہ احمد فرہاد کو ریکور کرینگے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یقینی بنانا ہے کہ اسلام آباد سے کوئی بندہ اٹھایا نہیں جائے گا، اگر بندہ ریکور نہیں ہو گا تو یہ ریاست کی ناکامی ہو گی،اسٹیٹ کے نمائندوں کو چاہیے کہ اس بچی کے سر پر ہاتھ رکھیں، اسکو اپنے بچوں کی طرح سمجھیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام ذارائع استعمال میں لا کر اس کو ریکیور کریں گے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ ریکیور کروائیں گے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل میں آپ کو یقین دہانی کرواتا ہوں آپ مجھے کچھ وقت دیں، عدالت دو سے چار دن کا وقت دے میں یقین دہانی کرواتا ہوں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل ریاست اور ریاستی اداروں کو ریسکیو کر رہے ہیں، احمد فرہاد جلد گھر واپس پہنچ جائیں گے،

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • وفاق نے کاروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    وفاق نے کاروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    ریٹائر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا اختیار دینے کی طرف اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،وفاق نے کارروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    اٹارنی جنرل نے شوکت صدیقی کیس کے ساتھ اپیل بھی سننے کی تجویز دے دی،اٹارنی جنرل نے اپیل دائر کرنے سے عدالت کو آگاہ کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ توقع ہے ہماری اپیل پر آج یا کل نمبر لگ جائے گا،عافیہ شیربانو کیس فیصلہ کالعدم ہوجائے تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے، شوکت صدیقی کیس میں ان کی مراعات بحال کرنے کا آرڈر بھی ہوسکتا ہے، وسیع تناظر میں دیکھنا ہو تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے ،جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا نہیں جا سکتا یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے،عافیہ شیربانو کیس میں ہماری اپیل کو اس کیس سے یکجا کیا جائے،عافیہ شیربانو فیصلہ کالعدم کر کے ہی معاملہ کونسل کو واپس بھیجا جا سکتا ہے،

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں

    لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے حکم پر لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کمیشن رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاپتہ افراد کے سب سے زیادہ 3485 کیسز خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئے، خیبرپختونخوا سے شہریوں کے لاپتہ ہونے کی وجہ شرپسندی، حالت جنگ اور ڈرون حملوں میں ہلاکتیں ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے 2752 شہریوں کی جبری گمشدگی کے کیسز موصول ہوئے لاپتہ افراد کو پیش کرنے کیلئے 744 پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے، جن میں سے صرف 52 پر عمل ہوا، جبکہ کمیشن کے جاری کردہ 692 پروڈکشن آرڈرز پر متعلقہ حکام نے عمل نہیں کیا پروڈکشن آرڈرز پر نظرثانی کیلئے پولیس اور حساس اداروں نے 182 درخواستیں دیں، عملدرآمد نہ ہونے والے پروڈکشن آرڈرز میں سے 503 خیبرپختونخوا کے ہیں۔

    سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیٹوں کے کاغذات نامزدگی منظور

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ 2011 سے دسمبر 2023 تک 4413 لاپتہ افراد گھروں کو واپس پہنچے، جبکہ 994 لاپتہ قرار دئیے گئے افراد مختلف حراستی مراکز میں قید ہیں، لاپتہ 644 افراد ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں، 261 لاپتہ افراد کی لاشیں ملیں۔

    کمیشن نے 1477 کیسز کو جبری گمشدگی قرار نہ دیتے ہوئے خارج کر دیا، خارج کیے گئے کیسز اغواء برائے تاوان، ذاتی عناد یا ازخود روپوش ہونے کے تھے کمیشن میں پنجاب کے 260، سندھ کے 163 اور خیبر پختونخوا کے 1336 کیسز زیرالتوا ہیں، لاپتہ افراد کمیشن میں بلوچستان کے 468 اور اسلام آباد کے 55 کیسز زیرالتواء ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے 15 کیسز زیرالتوا ہیں۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس:ملک ریاض،شہزاد اکبر سمیت 5 ملزمان کی جائیدادیں منجمد کر …

    رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد کمیشن میں مجموعی طور پر 35 افسران و ملازمین تعینات ہیں، جن کی ماہانہ تنخواہیں 15 لاکھ سے زائد ہیں، کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال 6 لاکھ 74 ہزار اور ممبر ضیاء پرویز 8 لاکھ 29 ہزار ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں، کمیشن ارکان جسٹس (ر) امان اللہ خان 11 لاکھ 39 ہزار اور شریف ورک 2 لاکھ 63 ہزار ماہانہ وصول کرتے ہیں۔

    خیال رہے کہ سینئر وکیل اعتزاز احسن سمیت متعدد درخواست گزاروں نے جبری گمشدگیوں کیخلاف درخواستیں دائر کی تھیں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے تفصیلات موصول ہونے کے 20 دن میں جواب طلب کر رکھا ہے،سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کمیشن سے آج منگل تک تمام مقدمات کی تفصیلات مانگی تھیں، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم دیا تھا کہ لاپتہ افراد کمیشن تفصیلی رپورٹ جمع کرائے، کوئی بھی لاپتہ افراد کیلئے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں۔

    بلوچستان :حساس پولنگ اسٹیشنوں پر کیمرے لگانے ،پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی خدمات حاصل …

  • صدر سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے

    صدر سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے

    صدرمملکت سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے
    الیکشن کمیشن وفد کی صدر مملکت سے عام انتخابات پر مشاورت جاری ہے،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد آج ہی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا ،

    قبل ازیں الیکشن کمیشن نےایوان صدر سے رابطہ کیا ہے،ایوان صدر نے ملاقات کا حتمی وقت آج شام پانچ بجے سے دیا ،الیکشن کمیشن نے تین رکنی وفد کے نام ایوان صدر کو دے دیئے ، صدر مملکت عارف علوی سے الیکشن کمیشن کا تین رکنی وفد ملاقات کرے گا

    قبل ازیں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات ہوئی ہے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ صدرِ مملکت کے حوالے کیا ،اٹارنی جنرل نے صدر پاکستان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی درخواست کی ،صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام کو ایوان صدر بلانے کی اجازت دے دی

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا،اجلاس کی صدرات چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی،اجلاس میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غور کیا گیا،اجلاس میں صدر مملکت سے ملاقات سے متعلق بھی مشاورت کی گئی.، انتخابی تاریخ سمیت آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا،

    قبل ازیں سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی سپریم کورٹ آمد ہوئی، اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے صدر سے انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کا فیصلہ کرلیا؟سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے صدر سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا ہے، بہت جلد الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے گا، اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جون کے بعد مخدوم علی خان سے ملے ہیں،ہم نے درخواست گزار سمیت دیگر وکلا کی تحریری معروضات دیکھی ہیں،اس کیس میں بہت وقت لگ چکا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد مختلف درخواستیں دائرہوئی ہیں،

    چیف جسٹس نے پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ سے متعلق گزشتہ عدالتی حکمنامے پڑھنا شروع کردیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی وکیل مخدوم خان کا مدعا ہم سمجھ چکے ہیں، مخدوم صاحب توآج کل سب کے بارے میں ہی بڑے تنقیدی ہوگئے ہیں،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ میں خامیاں ہیں، اٹارنی جنرل نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق یکم جون کومطلع کیا،اٹارنی جنرل نے جون میں کہا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو اسمبلی دیکھے گی، اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا،نہیں معلوم کہ موجودہ حکومت کا اس قانون سے متعلق موقف کیا ہے، کیا معطل شدہ قانون کو اتنی اہمیت دی جائے کہ اس کی وجہ سے تمام کیسز التوا کا شکار ہوں؟ اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ اٹارنی جنرل اپنی پوزیشن کے دفاع کیلئے یہاں موجود نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مبشرحسن کیس کے فیصلے میں وجوہات دی گئی ہیں،آٹھ ممبرز بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں سن سکتے،اگرآپ کوکوئی اعتراض ہے تونئی درخواست دائرکرکے آجائیں، کیا سپریم کورٹ اپنا کام بند کر دے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ اعتزازاحسن کیس میں کسی قانون سازی کوکالعدم نہیں قراردیا گیا، اعتزازاحسن کیس میں کہا گیا کہ قانون سازی غیرموثررہے گی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے یکم اورآٹھ جون کا فیصلہ اس لیے پڑھ کرسنایا ، تاکہ حکومت نے خودتسلیم کیا ناقص قانون سازی کی گئی، عدالتی حکم سے معطل شدہ قانون سازی کےتحت کاروائی متاثرتونہیں کی جا سکتی، خواجہ حارث نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اس وقت ان فیلڈ نہیں معطل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو قانونی نکات اُٹھائے گئے انھیں ہم سمجھ رہے ہیں، موجودہ کیس میں حکومت پاکستان نے خود اس کیس کو التواء میں ڈالنے کی استدعا کی،ہم یہاں آئین اور قانون کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں، کیس سننے کے لیے ہم میں سے ایک ممبر کو بیرون مُلک سے واپس آنا پڑا، میری ذاتی رائے یہ ہے اس کیس کو چلایا جائے، 2023 والی نیب ترامیم تو مخص ایک ریفائن کرنے کی کوشش تھی اصل نیب ترامیم تو 2022 میں آئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ 2023 والی ترامیم سے متعلق بھول جائیں، چھٹیاں چل رہی ہیں ہم صرف اس کیس کے لیے واپس آئے ہیں، آپ اپنے دلائل کو 2022 والی ترمیم تک محدود رکھیں، لگتا ہے یہ کیس ای او بی آئی بنتا جارہا ہے جو ختم نہیں ہونا، ای او بی آئی کیس میں چھ چیف جسٹس گزارے تھے،

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ 8 رکنی بنچ نےقانون سازی پرحکم امتناع دے رکھا ہے، میں نے اپنے نوٹ میں آٹھ رکنی بنچ کے اسٹے آرڈرپراعتراض نہیں کیا میرا سوال صرف اتنا ہے کیا یہ کیس اسی بنچ کوسننا چاہیے یا فل کورٹ تشکیل دینا چاہیے یہ نیٹ فلیکس سیزن تھری بن گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس مقدمے کا 2022 کی ترامیم کے حوالے سے فیصلہ کر دیتے ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023ء میں چھوٹی ترامیم ہوئی جیسا کہ مقدمہ منتقلی کے حوالے سے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں صرف بتائیں کہ 2022ء والی ترامیم میں کیا کیا شامل ہوا تاکہ کیس کو ختم کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023 والی ترامیم سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ترمیمی درخواست دائر نہیں کی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں ان کی درستگی کروا دوں گا عدالتی حکمنامے میں موجود ہے کہ میں نے 2023 والی ترامیم کا معاملہ اُٹھایا، عدالت نے مجھے متفرق درخواست دائر کر کے اور کاپی مخالف فریق کو دینے کا کہا اور یہ میں کر چُکا ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم سے کچھ لوگون کو استثنی مل گیا، خواجہ حارث کہہ رہے ہیں کہ بے نامی کا تصور بدل دیا گیا ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ 200 سال پہلے برطانیہ میں سات سو جرائم پر سزائے موت تھی، قوانین میں ترامیم سے ان سزاوں کو نرم کیا گیا،جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ بنیادی حقوق سے متعلق قانون ساز ترامیم کرسکتے ہیں، مخدوم علی کی جانب سے عدالت کے سامنے خلافت عثمانیہ اسلامی قوانین اور تاریخی کتب کے حوالے دئے گئے ،مخدوم علی خان نے کہا کہ ہاشم کمالی کی ایک کتاب کا حوالہ بھی پیش کروں گا ،جسٹس منصور شاہ نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ آپ نے یہ کتاب سم شاپنگ سے خریدی یا کہیں سے منگوائی تھی ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ برسوں پہلے میں نے یہ کتاب ایمازون سے منگوائی تھی ،جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ میں ایمازون پر اس کتاب کو ڈھونڈ لوں گا ،مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے قانون بھی سلطان بناتا تھا اور قاضی کی تعنیاتی بھی سلطان کرتا تھا اب ویسا سلطنت والا تصور موجود نہیں قانون ساز پر اعتبار کرنا چاہئے

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ،نیب ترامیم کیس، جسٹس منصور علی شاہ نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی تجویز دے دی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں ،بیرسٹر اعتزاز احسن روسٹرم پر آ گٸے ،اعتراز احسن نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں حالیہ ترامیم عدالت میں پیش کردی اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی ترامیم کا نوٹس لینے کی استدعا کردی اور کہا کہ اس قانون کے بعد ایجنسیوں کو اختیار دیا جار ہا بغیر وارنٹ کسی کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس اکیلے از خود نوٹس نہیں لے سکتا،خوش قسمتی سے بل ابھی زیر بحث ہے دیکھتے ہیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان اس قانون پر کیا رائے دیتا ہے زیادہ علم نہیں اس بل بارے اخبارات میں پڑھا ہے،

    اعتراز احسن نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ کے چھ ججز کی حیثیت فل کورٹ جیسی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل ہے یا قانون ہے،آپ نے ہمارے علم میں لایا آپ کا شکریہ،اعتراز احسن نے کہا کہ ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے،

    چیف جسٹس کی آبزرویشنز کے بعد اٹارنی جنرل نے دلائل کا اغاز کردیا ،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بتائیں آرٹیکل 175 اور آرٹیکل 175/3 کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ مارشل آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتا،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا آئین میں ایسی کوئی شق ہے جس کی بنیاد پر آپ بات کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آپکا سوال نوٹ کرلیتا ہوں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پھر میرے سوال سے ہٹ رہے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب آئینی طریقہ کار کی جانب بڑھ رہے ہیں کیس کیسے ملٹری کورٹس میں جاتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کو قانون سازوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا، بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت تو آئین پاکستان نے دے رکھی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 175 کے تحت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کا ذکر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ممبرز آرمڈ فورسز اور دفاعی معاملات کیلئے مخصوص ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملٹری کورٹس کورٹ آف لا نہیں تو پھر یہ بنیادی حقوق کی نفی کے برابر ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق ملٹری کورٹ سے صلب کرنا چاہتے ہیں آرمڈ فورسز سے تعلق پر ٹرائل ہو تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کل عدالت ممکن نہیں ہو گی ایک جج دستیاب نہیں ہیں
    آگے کچھ جج چھٹیوں پر جانا چاہتے ہیں جون سے کام کر رہے ہیں ہمیں ایک پلان آف ایکشن دینا ہو گاملٹری کورٹ میں سویلین کا ٹرائل ایک متوازی جوڈیشل سسٹم نہیں ہمیں اعتزازاحسن صاحب نے بتایا کہ پارلمینٹ بہت جلدی میں ہے ۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس معاملے پر آپ کیا کہتے ہیں ؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ مزید لوں گا دشمن ممالک کے جاسوس اور دہشت گردوں کے لیے ملٹری کورٹ کا ہونا ضروری ہےہم عدالت کو یقین دہانی کروا چُکے ہیں کہ کن وجوہات پر مشتمل فیصلے دیں گے آئین وقانون کو پس پشت ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی، اعتزاز احسن اور میرے والد ایم آرڈی میں تھے، جیلوں میں بھی جاتے تھے،مگر ان لوگوں نے حملے نہیں کئے،
    نو مئی کو جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے،ایک بات یاد رکھیں وہ فوجی ہیں ان پر حملہ ہوتو ان کے پاس ہتھیار ہیں، وہ ہتھیاروں سے گولی چلانا ہی جانتے ہیں،ایسا نہیں ہوسکتا ان پر کہیں حملہ ہورہا ہو تو وہ پہلے ایس ایچ او کے پاس شکایت جمع کرائیں،وہ نو مئی کو گولی بھی چلاسکتے تھے

    جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ گولی چلائی کیوں نہیں یہ بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے وہی صورتحال پیدا ہوکہ اگلی مرتبہ گولی بھی چلائیں، اس لئے ٹرائل کررہے ہیں، یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کی حکومت 12 اگست کو جارہی ہے یہ کیا یقین دہانی کروائیں گے،اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے عدالت سے چھٹیوں پر جانے سے قبل فیصلہ کرنے کی استدعا کی،

    ملڑی کورٹ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ دو ہفتوں تک تو بینچ کے ممبران دستیاب نہیں ،جیسے ہی ججز دستیاب ہوں گے کیس سنیں گے ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اتوار کو بھی صبح 8 سے شام 8 بجے تک بیٹھیں اور فیصلہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ میں ذاتی طور پر حاضر ہوں، روز رات 9 بجے تک بیٹھتا ہوں، اس بنچ کے ممبران کا بھی حق ہے وہ اپنا وقت لیں، چایک ممبر کو محرم کی چھٹیوں سے بھی واپس بلا لیا گیا ہے، ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور یہ عدالت بھی،آپ نے ساری صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے جنہوں نے اس عدالت کو فعال بنانے میں مدد کی ہے ان کیلئے دل میں احترام ہے، نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ بہت سنجیدہ ہے،میں کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،فوج سرحدوں کی محافظ ہے،

    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ چھ رکنی بینچ اب آئیدہ دو ہفتے تک دستاب نہیں ہے کیس کہ آئندہ سماعت میں دو ہفتوں سے بھی زائد کا وقت لگ سکتا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ کس کی ہدایات لے کر سپریم کورٹ کو بتا رہے ہیں ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں افواج پاکستان کے انتہائی سینئر افسران کی جانب سے دی گئی ہدایات عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ٹرائل نہیں ہوگا اٹارنی جنرل کی جانب سے کی گئی یقین دہانیاں برقرار رہیں گی ،میانوالی ایئربیس گرائی گئی، وہاں معراج طیارے کھڑے تھے،ہم فوج کو پابند کریں گے وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے،میرے ایک ساتھی جج نے ایک اہم زمہ داری نبھانی ہے میں وہ یہاں بتانا نہیں چاہتا،کچھ ججز کو صحت کے سنگین ایشو ہوسکتے ہیں،کچھ ججز کو چھٹیوں کی ضرورت ہے،عدالتی امور چلتے رہنے چاہئیں اس لئے میں دل سے کوشش کررہا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ افواج پاکستان شہریوں پر بندوقیں تان لیں، فوج کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے،

    واضح رہے اٹارنی جنرل نے عدالت کے علم میں لائے بغیر کسی سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • اٹارنی جنرل، آپکے دلائل آپکی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،جسٹس منیب اختر

    اٹارنی جنرل، آپکے دلائل آپکی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات اور ریویو اینڈ ججمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں،اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان اور وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی عدالت میں پیش ہوئے،سماعت شروع ہوئی تو وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں 10منٹس دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ہم مہمان کے طور پربلاتے ہیں ہم تو آپ کا کیس نہیں سن رہے اٹارنی جنرل صاحب پہلے دلائل دے رہے ہیں ،

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس منیب اختر نے گزشتہ روز آبزرویشن دی آرٹیکل 184/3کو دیگر کیسز سے الگ کیوں کردیا ؟ ہائیکورٹ کے کئی فیصلوں کیخلاف انٹراکورٹ اپیل، سپریم کورٹ سے بھی اپیل کا حق ہوتا ہے آرٹیکل 184/3 میں نظرثانی کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور کو متعین کر دیا گیا، سیکشن 3 میں کہیں نہیں لکھا 5 رکنی لارجر بنچ میں کیس کے بنچ کے ججز شامل نہیں ہوں گے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دوبارہ کہا کہ مجھے 10منٹ دیں دلائل دینا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو آپ کا کیس سن ہی نہیں رہے اٹارنی جنرل کے بعد آپ کو سن لیتے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب ہائیکورٹ کسی کیس کا فیصلہ کرتی ہے تو انٹراکورٹ سمیت دیگر اپیل کے فورمز موجود ہیں ،ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جاتا ہے،جب سپریم کورٹ آرٹیکل 184کی شق 3 کے تحت کیس سنتی ہے تو یہ پہلا عدالتی فورم ہوتا ہے قانون ساز عہد حاضر کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتے ہیں ریویو آف ججمنٹ کے تحت آرٹیکل 184 کی شق 3کے فیصلے کیخلاف اپیل 5 رکنی بنچ سنے گا،5 رکنی بنچ میں وہ 3 ججز بھی شامل ہوں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہوگا

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل سپریم کورٹ کا آرٹیکل 184(3) پر نقطہ نظر دوبارہ ظہور الہٰی کیس والا ہوگیا تو اس سے آج کے قانون پر فرق نہیں پڑتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا پوائنٹ نوٹ کر لیا ہے آگے چلیں، اٹارنی جنرل نے دلائل میں بھارتی سپریم کورٹ کے 2002 کیوریٹو ریویو کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا انصاف دینا کسی فیصلے کے حتمی ہونے سے کم اہم نہیں، فیصلہ میں کہا گیا کہ مکمل انصاف ہی خدائی منشاء ہے،عدالت خود کو آرڈر 26 تک محدود نہ کرے، آرڈر 26 دیوانی اور فوجداری کیسز سے متعلق ہے، سپریم کورٹ رولز 1980 میں بنائے گئے،آرٹیکل 188 نظر ثانی کے دائرہ کو محدود نہیں کرتا،1980 کے رولز آج کا تقاضا کیا ہے اس سے منع نہیں کرتے.اٹارنی جنرل نے بھارتی سپریم کورٹ کا کیوریٹیو نظر ثانی کیس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے قرار دیا انصاف کا قتل ہو تو ٹھیک کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے بھارتی سپریم کورٹ نے خود کو نظرثانی میں محدود نہیں کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کو اپیل قرار نہیں دیا جا سکتا، زیر بحث قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اپیل اور نظرثانی ایک ہی چیز ہیں،نظرثانی کو اپیل کی طرح سمجھنا ہی اصل سوال ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہر اپیل آرٹیکل 185 کے تحت نہیں آتی، کورٹ فیصلوں کیخلاف اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ آتی ہیں،مسابقتی کمیشن اور الیکشن ایکٹ میں بھی ٹربیونل کیخلاف اپیلیں براہ راست سپریم کورٹ آتی ہیں، سپریم کورٹ میں اپیل کا حق آئین کے علاوہ مختلف قوانین میں بھی دیا گیا ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے قانون میں اپیل کو نظرثانی کا درجہ دیا گیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں نیا قانون کہتا ہے نظرثانی اور اپیل ایک ہی بات ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بھارتی سپریم کورٹ کے جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں اس میں بھی نظر ثانی اور اپیل کا فرق برقرار رکھا گیا ہے، سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو توسیع دے سکتی ہے، اٹارنی آپ کے دلائل آپ کی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ اپیل کے دائرہ اختیار تک نہیں بڑھایا گیا۔اپیل میں مختلف بینچ کیس سنتا ہے۔ نئے قانون کے تحت نظرثانی سننے والے ججز میں اضافہ کیا جائے گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل اور نظر ثانی کا دائرہ کار مختلف ہے نظر ثانی میں از سر نو سماعت تو نہیں ہو سکتی۔ آپ آرٹیکل 184/3 میں متاثرین کو داد رسی کا آپشن دینا چاہتے ہیں ہم داد رسی کے اس آپشن کو ویلکم کرتے ہیں۔ بہر حال آپ کو یہ حق احتیاط سے دینا ہوگا۔کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    سپریم کورٹ ریو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،خصوصی بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے، دوران سماعت اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پانچ نکات پر دلائل دونگا،مفاد عامہ کے دائرہ کار کے ارتقاء پر دلائل دونگا،پاکستان میں نظر ثانی کے دائرہ کار پر عدالت کی معاونت کرونگا،مقننہ کے قانون سازی کے اختیارات پر معاونت کرونگا، بھارتی سپریم کورٹ میں نظر ثانی کے دائرہ اختیار اور درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دونگا،آرٹیکل 184 تین کے تحت پہلہ فیصلہ منظور الہیٰ کیس میں آیا ،منظور الہیٰ کے بھائیوں نے سندھ اور بلوچستان میں بھی درخواستیں دائر کیں،گرفتاری کے بعد منظور الہی کو قبائلی علاقہ میں لے جایا گیا،درخواستوں میں منظور الہیٰ نے اپنی بازیابی کی استدعا کی،1973 کے آئین میں بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے آرٹیکل 184/3 کا دائرہ بڑھایا گیا، سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کا پہلا مقدمہ چوہدری منظور الہی کا آیا۔اپوزیشن لیڈر ظہور الہی کی گرفتاری پر سپریم کورٹ مین درخواست دائر ہوئی۔ اس کیس کے بینچ کے تمام ججز نے آرٹیکل 184/3کے اختیار پر محتاط رویہ اختیار کیا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منظور الہی کیس میں تمام ججز نے کہا کہ معاملہ عوامی مفاد کا ہے۔آپ فیصلہ کا پیراگرام 47 پڑھیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا انحصار فیصلہ کے پیراگراف 45 پر ہے۔منظور الہی کیس کے بعد آرٹیکل 184/3 کا اختیار آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔ 1980 میں سپریم کورٹ رولز بنے۔ 1980 میں رولز کا پس منظر اور زمینی حالات کیا تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جانتے ہیں کہ آرٹیکل 184/3 کا اختیار میں وقت کیساتھ توسیع ہوئی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کا تعلق بھی آرٹیکل 184/3 سے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کے دائرہ بڑھانے کے معاملہ پر دوسری سائیڈ بھی متفق ہے۔ اپیل اور نظر ثانی میں فرق ہے۔کیا نظر ثانی کا اپیل میں تبدیل کیا جا سکتا؟ دوسری سائیڈ کا موقف ہے یہ کام آئینی ترمیم سے ہوگا۔دوسری سائیڈ کا اختلاف قانون سازی کے طریقہ کار سے ہے۔ عدالت بھی نظر ثانی کے دائرہ میں توسیع کے نقطہ کو تسلیم کرتی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آئینی کی اسکیم کو عمومی قانون سازی سے بدلا جا سکتا یے؟

    دوران سماعت کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز آئی جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوے کہا کہ چڑیا شاید آپ کیلئے پیغام لائی ہیں، اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ امید ہے پیغام اچھا ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ زمانہ بھی تھا جب کبوتروں کے زریعے پیغام جاتے تھے،

    سپریم کورٹ ریو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ،آرٹیکل 184(3) سے متعلق ایک فیصلہ منظور الہی کیس میں آیا، اس کیس میں درخواست گزار تھے، انہیں گرفتار کر کے قبائلی علاقے لے جایا گیا،ملتا جلتا معاملہ ہائیکورٹس میں زیرالتوا ہونے پر چیف جسٹس نے 184(3) کی درخواست پر اختتار کے استعمال سے گریز کیا،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام ججز نے کہا تھا یہ معاملہ عوامی مفاد کا ہے، آپ فیصلہ کا پیرا گراف 47 بھی پڑھیں،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے