Baaghi TV

Tag: اٹارنی جنرل

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل،حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل،حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف آئینی درخواستیں ،سپریم کورٹ نے 8 جون کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف جاری حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع کر دی،حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی اصلاحات قانون میں درستگی کیلئے مہلت کی استدعا کی،اٹارنی جنرل نے نظرثانی کے نئے قانون میں بھی درستگی کیلئے مزید مہلت مانگی،اٹارنی جنرل کے مطابق قوانین میں غلطیوں کی درستگی کیلئے ڈرافٹ شروع ہوچکا،اٹارنی جنرل کے مطابق پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کی وجہ سے قانون سازی کیلئے وقت درکا ہے ، اٹارنی جنرل کے مطابق عید کی وجہ سے بھی قانون سازی کیلئے وقت درکار ہے ، 8 رکنی بینچ میں شامل جسٹس شاہد وحید کی علالت کے باعث کھلی عدالت میں سماعت نہ ہوسکی ،

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

  • دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کو دیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کو دیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور شاہد وحید بنچ میں شامل ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں،جسٹس محمد علی مظہر بھی آٹھ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں، اٹارنی جنرل بھی روسٹرم پر آگئے ،وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر نظرثانی کا فیصلہ کر لیا ہے، اٹارنی جنرل نے دوران سماعت سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حوالے سے دو قوانین بنائے گئے، حالیہ قانون نظرثانی درخواستوں سے متعلق تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل اور نظرثانی قانون دونوں میں کچھ شقیں ایک جیسی ہیں، دونوں قوانین کا باہمی تضاد سے بچانے کیلئے دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، سپریم کورٹ کی مشاورت سے اب قانون میں ترمیم ہوگی،سپریم کورٹ کے انتظامی معاملے پر قانون سازی عدلیہ کے مشورے سے نہیں ہوئی، دونوں قوانین کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی مشاورت ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے پارلیمنٹ اور حکومت مماثلت والے قوانین میں ترمیم کر رہی ہے، حکومت کوعدلیہ کی قانون سازی سے متعلق سپریم کورٹ سے مشاورت کرنی چاہئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے دو قوانین ہیں، ایک سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ ہےدوسرا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ہے، دونوں قوانین میں ریویواوروکیل کرنےکی شقوں کی آپس میں مماثلت ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ زیادہ وسیع ہے،ایکٹ میں سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات سے متعلق شقیں ہیں، دونوں قوانین میں سے کس پرانحصارکرنا ہے اس کیلئے ایک حل پر پہنچنا ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کودیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،آپ کی اس تجویزکاخیرمقدم کرتے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کردی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت آج کی کارروائی کا مناسب حکم جاری کرے گی، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ حکومت سے ہدایات لے لیں تب تک کسی اور کو سن لیتے ہیں، وکیل درخواست دہندہ نے کہا کہ عدالت نے پارلیمنٹ کی کاروائی طلب کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اخبارات کے مطابق پارلیمنٹ نے کاروائی عدالت کو فراہم کرنے سے انکار کیا،پارلیمنٹ کو شاید معلوم نہیں تھا کہ تمام کاروائی ویب سائٹ پر موجود ہے، اگلے ہفتے اس کیس کو سنیں گے، تمام وکلاء جو کراچی سے لمبا سفر کر کے آئے ان سے معذرت کرتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہاں موسم خوشگوار ہے امید ہے سب انجوائے کریں گے،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے بیان کو خوش آئند قرار دیدیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون پر نظرثانی اور مشاورت کرنا چاہتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، عدلیہ کی مشاورت سے پارلیمان قانون سازی کرے تو تنازعات نہیں ہونگے، ممکنہ طور پر سپریم کورٹ سے مشاورت کی جائے گی پارلیمنٹ کو قانون سازی کے حوالے سے ہدایات نہیں دے سکتے،عدلیہ کے حوالے سے یکطرفہ قانون سازی نہیں ہونی چاہیے، ایک طریقہ یہ ہے کہ حکومت غلطیاں درست کرے اور کیس چلتا رہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قانون بنتے رہیں ہم سماعت کرے رہیں دیکھتے ہیں کون تیز ہے،

    قبل ا زیں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پرویسجر قانون کیس معاملہ ،مسلم لیگ ق نے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کردی مسلم لیگ ق نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کروادیا جس میں کہا گیا کہ قانون سے عدلیہ کی آزادی میں کمی نہیں اضافہ ہوگا،ملک میں چلنے والی وکلا تحریک کے بعد ریفارمز کے موقع کو گنوا دیا گیا،قانون کاسیکشن 4 سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو وسیع کرتا ہے، سیکشن 3 چیف جسٹس کےاز خود نوٹس کے اختیار کے بے ترتیب استعمال کو سینئر ججز کے ساتھ مل کر استعمال کا کہتا ہے قانون کے تحت کمیٹی کے جانب سے مقدمات کو مقرر کرنے اور از خود نوٹس کے اختیارات کے استعمال سے عوام کا اعتماد بڑھے گا،سابق چیف جسٹس صاحبان افتخار چودھری ،گلزار احمد ، ثاقب نثار کی جانب سے اختیارات کا زیادہ استعمال کیا گیا، چیف جسٹس کے اختیارات کے استعمال کے نتائج سٹیل مل ،پی کے ایل ائی اور نسلہ ٹاور کی صورت میں سامنے آئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی سے ایسے نتائج سے بچا جا سکتا تھا، آزاد عدلیہ کا مطلب ہر جج کے بغیر پابندی،دباواور مداخلت کے فرائض کی انجام دہی ہے،

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ نااہلی تاحیات ہوگی،عرفان قادر

    آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ نااہلی تاحیات ہوگی،عرفان قادر

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب عرفان قادر نے کہا ہے کہ کسی فرد واحد کو پاکستان کنٹرول نہیں کرنا چاہیئے، سیاست کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی رہی،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان قادر کا کہنا تھاکہ دنیا میں جہاں جہاں جمہوریت ہے وہاں ادارے آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہیں، ہم سب آئین کے تابع ہیں،بدقسمتی سے یہاں پر جوڈیشلائزیشن آف پولیٹکس ہو رہی ہے، نواز شریف کی نااہلی پر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نااہلی تاحیات ہوگی ،آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ نااہلی تاحیات ہوگی، آئین میں کہیں تاحیات نااہلی کا زکر نہیں، ہم سب کو اپنی حدود کا خیال رکھنا ہے،جو لوگ ہماری حفاظت کر رہے ہیں اگر وہ اپنی حدود میں کام کر رہے ہیں تو ہمارا کام ہے ان کی عزت کریں،ہم سب انسان ہیں اللہ نے ایک قابل بنایا ہے ہمیں مل کر آئین کو فوقیت دینی ہے، پچھلے 10 سالوں سے اس ملک میں بدقسمتی سے جوڈیشلایزیشن اف پولیٹکس ہو رہی ہے، حکومت اعتماد کے ووٹ سے جا سکتی ہے عدالتیں نہیں نکال سکتی،

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے دو حکومتیں گرائی ایک یوسف رضا گیلانی اور دوسری نواز شریف کی، میاں ثاقب، بندیال، اعجازِ الاحسن ، عظمت سعید، سجاد علی شاہ نے کہا کہ نواز شریف کی نااہلی تاحیات ہے، کوشش کی گئی کہ نواز شریف کو ن لیگ کی صدارت سے بھی ہٹا دیا جائے، یوسف رضا گیلانی کے کیس میں سپریم کورٹ نے معاملہ اپنے اوپر لے لیا،مجھے اس وقت بھی تحفظات تھے کیونکہ میں اٹارنی جنرل تھا، وزیراعظم کا منصب یہ نہیں کہ سپریم کورٹ کا پیغام دنیا کو دیں، دوسرا معاملہ پانامہ کیس کا آیا تھا، پانامہ کیس میں نواز شریف پابند سلاسل ہو گئے اور عمران خان وزیراعظم بنے، ایک وقت تھا جب پاکستان میں پولیٹیکل انگیجمنٹ ہوئی،جسٹس اعجاز الاحسن پانامہ کیس میں مانیٹرنگ جج تھے،

  • چینی کی قیمتیں مقرر کرنے کیخلاف درخواست،فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی

    چینی کی قیمتیں مقرر کرنے کیخلاف درخواست،فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ میں شوگر ایڈوائزی بورڈ کی چینی کی قیمتیں مقرر کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے کیس فائل کو چیف جسٹس کو بھیج دی ،جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی ، درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ زیر سماعت درخواست کی دیگر درخواستوں کے ساتھ سماعت کی جائے، انٹرا کورٹ بھی زیر سماعت ہے اس کے ساتھ یکجا کی جاٸے۔ عدالت کی جانب سے ریفرنس میں درخواست کو انٹرا کورٹ اپیل کے ہمراہ سماعت کی سفارش کی گٸی۔وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ اگلی تاریخ سماعت بھی دے دی جاٸے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس بھیجا جا رہا ہے۔ اگلی تاریخ سماعت چیف جسٹس کی عدالت سے ملے گی۔

    عدالت نے شوگر ملوں کے وکلا کو 24 مئی کو جواب الجواب داخل کرانے کی ہدایت کررکھی ہے عدالت نے چینی کی قیمتوں کو مقرر کرنے کے نوٹیفکشن کو معطل کرنے کے حکم میں بھی توسیع کردی ،عدالت نے اٹارنی جنرل اف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے ہہلے ہی طلب کررکھا ہے

    یوٹیلٹی سٹور پر چینی ناپید، اشیا مہنگے داموں فروخت، شہریوں کا احتجاج

    افغان طالبان کے ساتھ پاکستان سے کون کونسی جماعت نے رابطہ کیا؟ اہم انکشاف

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپسی کی حکومتی درخواست، فیصلہ محفوظ۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپسی کی حکومتی درخواست، فیصلہ محفوظ۔

    سپریم کورٹ، جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش ہو گئے.

    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے میڈیا سے مختصر بات چیت کی ہے، صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس ہوجائے گا ؟ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ابھی آپ کو تھوڑی دیر میں بتا دیتے ہیں، امید تو ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس ہو جائے گا، آج چیف جسٹس کے چیمبر میں کیوریٹو ریویو اپیلوں پر سماعت ہوئی حکومت نے رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف بھی اپیلیں فائل کی تھیں۔ ہم نے اپنے دلائل دیئے بعد میں فیصلہ محفوظ ہوا۔ ہم نے عدالت کو کہا کہ ملکی آئین میں دوسری بار نظرثانی داخل کرنے کی اجازت نہیں ۔ انڈیا میں ایک بار دوسری بار نظرثانی کی اپیل داخل کرنے کے لئے انڈین سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کی گئی۔ انڈیا میں کیوریٹور ریویو کی ایک پرویزن موجود ہے۔ وہاں ایک فیصلہ جوڈیشل ججمنٹ میں آیا تھا۔ ہمارے پاس انتظامی سطح پر رجسٹرار کے فیصلے پر اعتراض تھا اس پر ایک remedy ہے جو اپیل کی ہے جس کا ہم نے فائدہ اٹھایا۔

    اٹارنی جنرل سے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا ان چیمبر سماعت کے دوران کوئی گلے شکوے ہوئے ؟اٹارنی جنرل سوالات پر مسکراتے رہے، صحافیوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس کیخلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہو سکتا ہے؟اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے جواب دیا کہ نو کمنٹس

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نےجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینےکےلیےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتھا،حکومت کا مؤقف تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی۔

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے اعتراضات ،اٹارنی جنرل کا وفاقی وزیر قانون کووضاحتی خط

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے اعتراضات ،اٹارنی جنرل کا وفاقی وزیر قانون کووضاحتی خط

    سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) قانون میں ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے دییے گئے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے شدید اعتراض پر اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو خط لکھ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے محمد خان جونیجو سے متعلق ریمارکس پر وضاحت دی، وزیرقانون کو خط میں اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ نیب ترمیمی کیس کے دوران چیف جسٹس نے یہ نہیں کہا کہ واحد محمد خان جونیجو ایماندار وزیراعظم تھے-

    کراچی : ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آخری دن

    اٹارنی جنرل نے اپنے خط میں کہا کہ سوشل میڈیا پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس سے متعلق غلط رپورٹنگ کی گئی ہے جس کے ردعمل میں سینیٹرز نے تنقید کی۔

    وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کوخط میں اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ نےلکھا ہےکہ چیف جسٹس نےنوازشریف کےحوالے سے کوئی ریمارکس نہیں دیئےچیف جسٹس نےیہ نہیں کہا تھا کہ صرف محمد خان جونیجو ہی ایمانداروزیراعظم تھےوزیراعظم کی دیانتداری سےمتعلق ریمارکس کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹرز نے تنقید کی۔

    اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے مزید لکھا کہ نیب ترامیم کیس کی سماعت میں، میں خود موجود تھا اور اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ دوران سماعت ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس 1988 میں سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کی بحالی کا حکم نہ دینے کے تناظر میں دیے تھے اور سابق چیف جسٹس نسیم حسن کے مؤقف کو دہرایا تھا جنہوں نے نواز شریف کیس میں اسمبلی بحال نہ کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا تھا۔

    اٹارنی جنرل نے لکھا کہ چیف جسٹس نے کہا تھا کہ محمد خان جونیجو ایک اچھے اور آزاد وزیر اعظم تھے جن کی حکومت 58 (2) بی کے تحت ہٹائی گئی۔

    انہوں نے اعظم نذیر تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس نسیم حسن نے نواز شریف کیس میں اسمبلی بحال نہ کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا، یہ خط اس توقع کے ساتھ آپ کو لکھا جارہا ہے کہ آپ اس حوالے سے ریکارڈ درست کرنے کے لیے بطور وزیرقانون اپنے ساتھی اراکین پارلیمنٹ کے سامنے حقائق پیش کریں گے۔

  • حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے کا معاملہ:  فریقین کو نوٹسز جاری، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب

    حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے کا معاملہ: فریقین کو نوٹسز جاری، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب

    لاہور ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے اور تمام تر اختیارات کو ناجائز دینے کا معاملہ جسٹس شجاعت علی خان نے سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے –

    باغی ٹی وی :عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 جون کو اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب کر لیا لاہور ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل سماعت بنچ سماعت کر رہا تھا اس میں وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ حمزہ شہباز کا الیکشن قانون اور آئین کے مطابق نہیں ہوا-

    الیکشن کمیشن وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر جو ہدایت کی گئ اس نے قوانین سے انحراف کیا اور 24،اور 28 اپریل کو حط لکھے گئے کہ آپ نے الیکشن غیر قانونی طریقے سے کروایا یہ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کے حلاف کیا گیا 17 مئی کو باقاعدہ طور ڈپٹی سپیکر پر نااہلی کا ریفرنس بھی دائر کر دیا گیا-

    اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مسلم لیگ ن خود گئی صوبائی الیکشن کے خلاف سپریم کورٹ گئے اور سات اپریل کو جب آڈر پاس ہوا اس وقت درخواست زیر سماعت تھی جب آرڈر پاس ہوا حکومت پنجاب کو سپریم کورٹ نے سارہ معاملہ سنا آئین کے آرٹیکل 63-A کا اطلاق ماضی سے ہی ہوگا-

    وکیل نے کہا کہ آئین کی تشریح 63اے کے تحت اور ساتھ یہ بھی کہہ کہ ان کی ڈی نوٹیفیکیشن کے مطابق قانون سازی بھی کی جائےسپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا دیا کہ منحرف ہونا ایک ناسور ہے اور ہی کینسر ہے اسے ختم ہونا چاہیے آج ان لوگوں کو کیسے اجازت دی جاسکتی ہیں کہ یہ اور الیکشن کو کیسے ٹھیک کر دیا گیا جائے –

    سرکاری وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت پنجاب اسمبلی کا الیکشن چلینج نہیں کیا جاسکتا اس بنیاد پر درخواست قابل سماعت نہیں

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن نےقومی اسمبلی میں اس آرٹیکل کے خلاف بحث کی تھی اور سپریم کورٹ نے پارلیمان کی اندر کی کاروائی کالعدم قرار دی ان کی سادہ اکثریت نہیں تھی 197 ووٹ کاسٹ ہوئے اور منحرف اراکین کے ووٹ نکال دیں تو 172 رہ جاتے ہیں چیف سیکرٹری کو بھی حط لکھا گیا کہ اپنا نوٹفکیشن واپس کریں جس کے تحت حمزہ شریف کو وزیر اعلی منتخب کیا حمزہ شہباز کی تعیناتی قانون اور آئین کے خلاف ہیں جتنی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کی گئی ہیں وہ بھی غیر آئینی ہیں اسپیکر نے الیکشن اپنے طریقے کار سے کروائے ہیں-

  • آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سنا دیا،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 63 اے اکیلا لاگو نہیں ہوسکتا ،فیصلہ 2-3 کی نسبت سے دیا گیا، فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے، آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے حقوق ہیں، انحراف کرنا سیاست کیلئے کینسر ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ منخرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، اس حوالے سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہیے،ریفرنس کا چوتھا سوال بغیر جواب کے واپس کرتے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی تاحیات نااہلی کی درخواستیں خارج کر دیں

    عدالت میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ پڑھا گیا اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ 3ججز کی رائے سے ہم متفق نہیں ہیں،آرٹیکل 63 ایک مکمل شق ہے،آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی کے بعد اپیل کا حق ہوتا ہے ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات پر رائے نہیں دے سکتے،

    چیف جسٹس کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی تھئ 21 مارچ 2022 کو صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا تھا اب تک ریفرنس پر لارجر بینچ نے 20 سماعتیں کیں وکلاء اور دیگر افراد کمرہ عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، عدالت کے کمرہ نمبر ایک کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی سپریم کورٹ پارکنگ کو جانیوالے ایک راستے کو سیل کردیا گیا اعلی پولیس افسران سمیت پولیس کی بھاری نقری تعینات کردی گئی ، 5رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال تھے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خیل شامل تھے بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل تھے

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو ڈسٹرب نہ کریں ،اگر آپ دو منٹ بات کرنا چاہے ہیں، توہم یہاں بیٹھے ہیں،بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے 10منٹ چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ،صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے ساڑھے 5 بجے سنائیں گے،

    قبل ازیں ن لیگی وکیل مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے تحریری گزارشات جمع کرادیں مخدوم علی خان نے تحریری دلائل میں عدالت سے مہلت مانگ لی، ن لیگی وکیل کا کہنا تھا کہ حالات تبدیل ہو گئے حالات کی تبدیلی کے بعد مجھے موکل سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اےایک مکمل کوڈ ہے؟ کیا آرٹیکل63 اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہو گا؟ا عدالت ایڈوائزی اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے،صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا،صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں،کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی ہے،اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آچکا ہے، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہو گا جو پہلے تھامیں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ ہر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا ہے،بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا موقف دے سکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیراعظم کی ہدایت پر فائل ہوا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا یہ حکومت کاموقف ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے،سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے انکے وکلا موجود ہیں صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں، ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں، دوسرا فریقین سیاسی جماعت ہوتی ہے،مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ آگے نکل چکا ڈیڑھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل نہیں آئینی معاملہ ہے،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

  • آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ اٹارنی جنرل کو لاہور میں تاخیر ہوگئی ہے ،اٹارنی جنرل اشتر اوصاف لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوچکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کس ٹرانسپورٹ پر اسلام آباد آرہے ہیں؟ عامر رحمان نے کہا کہ اٹارنی جنرل موٹروے سے اسلام آباد آرہے ہیں، 3 بجے تک پہنچ جائیں گے پنجاب کی معاملات کی وجہ سے اٹارنی جنرل لاہور میں مصروف ہوگئے تھے،بابر اعوان نے کہا کہ اٹارنی جنرل آرہے ہیں یا جارہے ہیں یہ سنتے دو ہفتے ہوگئے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے ،اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی،مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کیلئے پابند کیا تھا،ابھی ہمیں اطلاع ہوئی ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے،یہ دونوں وکلا ایک فریق کے وکیل ہیں ایک سرکار دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں،اب لگتا ہے اپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں، ساڑھے گیارہ بجے دیگر مقدمات قربان کر کے کیس مقرر کیا، آرٹیکل تریسٹھ اے کا فیصلہ دینا چاہتے ہیں، اہم ایشو ہے، اگر اٹارنی جنرل 3بجے پہنچ رہے ہیں تو 4 بجے تک سن لیتے ہیں، رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں یہ خدمت کا کام ہے ہم کرنا چاہتے ہیں عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت تو 24 گھنٹے دستیاب ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو 3 بجے سن لیں گے،اب لگتا ہے آپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں،معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ مخدوم علی خان 17مئی کو آپس آجائیں گے مخدوم علی خان بیرون ملک مقدمہ میں دلائل دے رہے ہیں اٹھارہ مئی کے بعد ہوسکتا ہے بینچ دستیاب نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ پورا ہفتہ دستیاب ہےمعذرت کے ساتھ مخدوم علی خان نے مایوس کیا ہے،مخدوم علی خان بڑے وکیل ہیں،تحریری طور پر بھی دلائل دے سکتے ہیں

    علیم خان کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی ارکان کو ہدایات جاری کرتی ہے،پارلیمانی پارٹی اور چیئرمین میں واضح فرق ہے،ممبر ناصر درانی نے کہا کہ کیا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی پالیسی جاری کرسکتا ہے.، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی چیئرمین ہدایات جاری نہیں کرسکتا ارکان پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں16اپریل کو علیم خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، 4اپریل کے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر پورا کیس بنایا گیا ہے،پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کا ریفرنس میں کہیں زکر نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی،

    وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے میں تمام طریقہ کار موجود ہے،اگر طریقہ کار موجود نہ ہوتا تو عدالت آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کی طرف دیکھ سکتی تھی یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو،اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے، انحراف خالصتاً سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے،آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کیلئے ڈی سیٹ کی سزا کافی ہے، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے طریقہ کار سے ہٹ کر مزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے،ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو گا،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرنس مسترد کر چکا ہے،وکیل نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے آدھے ارکان نے ایک طرف آدھے نے دوسری طرف ووٹ دیا،اس سیاسی جماعت نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،آرٹیکل تریسٹھ اے پالیسی کا پابند کرتا ہے، انحراف سے منع کرتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی رکن اسمبلی کے آخری چھ ماہ میں انحراف کرتا ہے،ایسی صورتحال میں اس رکن کی سزا تو نہ ہوئی،وکیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، عدالت پارٹی سربراہوں کے کنڈیکٹ کو بھی سامنے رکھے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہے،ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے،تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے، عدالت کا کام آئین کا تحفظ اور تشریح کرنا ہے، دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کر لے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوریت کا فروغ کیسے ہو گا ہر رکن اپنی مرضی کرے گا، کسی فرد پر فوکس کرنے کی بجائے سسٹم پر فوکس کیوں نہ کیا جائے، آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے،کیا 10پندرہ ارکان سارے سسٹم کو تبدیل کرسکتے ہیں؟کیا چند افراد سسٹم کو ڈی ریل کر سکتے ہیں؟ وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن بڑی اہم ہے،آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کا حق ہے وہ مرضی سے ووٹ دیں،کسی منحرف رکن کا دفاع نہیں کروں گا،آرٹیکل تریسٹھ اے کی سزا بڑھانے سے جمہوریت کو فروغ ملے گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسطرح سے سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی، ہم بحث سے ایک بات سمجھے ہیں کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کرسکتا ہے،کیا سربراہ پارٹی کے ساتھ ہوئے غلط اقدام کو معاف کرسکتا ہے؟ اگر پارٹی سربراہ رکن کے غلط کام کو معاف کردیں تو یہ آئین کے خلاف ہو گا؟کیا پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی کوئی اہمیت نہیں

    وکیل بابر اعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتا ہے،اگر اختلاف پر ارکان استعفیٰ دے دیں تو سسٹم تباہ نہیں ہو گا،جسٹس جمال خان نے کہا کہ ارکان کے انحراف سے سسٹم ختم نہیں ہوتا،وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک مکمل کوڈ ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سماعت کل تک ملتوی کردیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان کل پیش ہوں گے،اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو تحریری دلائل سے دیں،کل صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

  • وزیراعظم نے اشتر اوصاف کو اٹارنی جنرل مقرر کرنے کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے اشتر اوصاف کو اٹارنی جنرل مقرر کرنے کی منظوری دے دی

    اشتراوصاف علی کو اٹارنی جنرل مقررکر دیا گیا ہے

    وزیراعظم نے اشتر اوصاف علی کی تعیناتی کی منظوری دیدی اشتراوصاف علی نوازشریف کے دور میں بھی اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں اشتراوصاف علی وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ قانون وانصاف بھی رہ چکے ہیں اشتراوصاف علی دومرتبہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی رہے ہیں اشتراوصاف علی صوبہ کے پراسیکیوٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں

    اشتراوصاف علی نے سپریم کورٹ میں نواز شریف کی حکومت کی کامیاب نمائندگی کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی جس نے 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کی جانب سے پارلیمان تحلیل کرنے کے فیصلے کو پلٹ دیا تھا اشتر اوصاف نے وکلا کی عدلیہ بحالی تحریک کی بھی حمایت کی اور جب جنرل (ر) پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو وہ بھی لاہور میں قید بھی رہے

    آئی جی پنجاب کے تبادلے کیخلاف درخواست،چیف جسٹس نے ایسے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار ہوا پریشان

    اہم پوسٹوں پر سیاسی مداخلت ناقابل برداشت ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی 60 نشستیں ، 20 سیٹیں خالی

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو اٹارنی جنرل نے استعفیٰ دے دیا تھا، شہباز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے تو اٹارنی جنرل کا عہدہ آج تک خالی تھا، آج اٹارنی جنرل کی وزیراعظم شہباز شریف نے تقرری کی ہے،.اشتر اوصاف کو شریف خاندان کا قریبی سمجھا جاتا ہے