Baaghi TV

Tag: اپوزیشن کے ارکان سنجرانی کو ووٹ دیں گےbaaghitvnews

  • بھارت،کیفے کافی ڈے کے مالک سدھارتھ کی لاش نیتراوتی ندی سے برآمد

    بھارت،کیفے کافی ڈے کے مالک سدھارتھ کی لاش نیتراوتی ندی سے برآمد

    بھارت کے سب سے بڑی کافی چین ’کیفے کافی ڈے‘ (سی سی ڈی) کے بانی ومالک سدھارتھ کی لاش 36 گھنٹے کی تلاش کے بعد منگلور کے قریب نیتراوتی ندی سے ملی۔ سدھارتھ پیر کی رات سے لاپتہ تھے۔

    منگلور پولیس کمشنر سندیپ پاٹل کے مطابق بدھ کی صبح لاش کو دریا میں بہتا ہوا دیکھا گیا۔ لاش کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ سدھارتھ کی لاش اس مقام سے پانچ کلومیٹر دور سے ملی جہاں انہیں آخری بار دیکھا گیا تھا۔ سدھارتھ کے ڈرائیور کے بیان کے بعد ان کے خود کشی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ کوسٹ گارڈ کی ٹیم اور دیگر ایجنسیوں کے 200 سے زیادہ اہلکار منگل کی صبح سے مسٹر سدھارتھ کی تلاش کر رہے تھے۔

  • اپوزیشن بکھر گئی ، 15 سینیٹرز کی جانب سے سنجرانی کی حمایت کا قوی امکان

    اپوزیشن بکھر گئی ، 15 سینیٹرز کی جانب سے سنجرانی کی حمایت کا قوی امکان

    لاہور :” سینیٹرز بچاو اور نمبر پورے کرو ” اپوزیشن نے اس فارمولے پر عمل کرتے ہوئے کمزور دکھائی دے رہی ہے. اپوزیشن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے میں‌ناکام نظر آنے لگی ، سینٹ الیکشن میں جوڑ توڑ عروج پر ، ن لیگ کے دو سینیٹرز کی حکومتی ظہرانے میں شرکت کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ’’ سینیٹرز بچاؤ اور نمبر پورے کرو‘‘ پر کام شروع کر دیا۔

    یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے بھی اپنے سینیٹرز کی نگرانی پر جن اہم ذمہ داران کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی ان کے ساتھ بھی ناراضگی کا اظہار کیا گیا ۔ مزید ن لیگ کے کتنے سینیٹرز صادق سنجرانی کے حق میں جا سکتے ہیں، ن لیگ نے اس پر کام شروع کر دیا۔

    دوسری طرف ذرائع نے بتایا چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں، ن لیگ کے دو سینٹرز کلثوم بی بی اور دلاور خان کی حکومتی عشائیہ میں جانے کے بعد ن لیگ کے مزید 8 سینیٹرز کے پارٹی فیصلے کے خلاف ووٹ دینے کے حوالے سے بھی شنید ہے ۔

    ذرائع کے مطابق دیگر اپوزیشن جماعتوں نے نہ صرف ن لیگ کی قیادت کے ساتھ اس پر سخت احتجاج کیا ہے بلکہ انہیں واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ان کے سینیٹرز ان کے کنٹرول میں نہیں تو پہلے ہی بتا دیا جائے ، اگر موقع پر دھو کہ ہوا تو اس سے اپوزیشن کا اتحاد ختم ہو جائے گا۔

    دوسری طرف ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مریم نواز اس وقت بہت پریشان ہیں کیونکہ مریم کو خدشہ ہے کہ کئ ن لیگی سینیٹرز اس وقت حکومت سے رابطے میں ہیں اور صادق سنجرانی کے حق میں ووٹ دیں‌گے اس خفت سے بچنے کے لیے آ ئندہ 48 گھنٹے میں اپنے سینیٹرز کا دوبارہ اجلاس بلا کر ان سے حلف بھی لیا جائے اور ہر سینیٹر پر دو دو ارکان اسمبلی کی ڈیوٹی بھی لگائی جائے ۔

    یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے کئی سینیٹرز بھی حکومتی رابطے میں آ چکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق چار تو ایسے اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز ہیں جنہوں نے یہ حامی بھر لی ہے کہ وہ اجلاس کے موقع پر غیر حاضر ہو ں گے ۔

    ذرائع کے مطابق آ ئندہ 48 گھنٹوں میں 14 سے 15 اپوزیشن کے سینیٹرز صادق سنجرانی کے حق میں جا سکتے ہیں اور بہت سے سینیٹرز کے نام اور ان کے وعدوں کو خفیہ رائے شماری تک خفیہ رکھا جائے گا جبکہ چار سینیٹرز آ ئندہ ایک اور ظہرانے میں شرکت کر کے سامنے آ سکتے ہیں