Baaghi TV

Tag: اپوزیشن

  • سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ,آئینی ترمیم ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن کی کوششیں تیز

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ,آئینی ترمیم ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن کی کوششیں تیز

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق آئینی ترمیم ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن نے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سینیٹ انتخابات سے متعلق پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے رہنماؤں کے آپس میں رابطے ہوئے جس میں دونوں ایوانوں سے ترمیم کی منظوری روکنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق آئینی ترمیم کو دونوں ایوانوں سے منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔
    پیر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں میں اس حوالے سے مزید مشاورت ہو گی۔ پیپلز پارٹی نے آئینی ترمیم کی مخالفت کا دو ٹوک فیصلہ کر لیا ہے اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کا ترمیمی بل جلد بازی اور بد نیتی پر مبنی ہے، وزیراعظم نے ارکان کو ترقیاتی بجٹ نہیں رشوت دی۔

  • اپوزیشن رہنماؤں کی ”کورونا سیاست“ نہیں چلے گی، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار

    اپوزیشن رہنماؤں کی ”کورونا سیاست“ نہیں چلے گی، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار

    اپوزیشن نے پہلے سیاست کو کاروبار بنایا اور اب کورونا کو سیاست کی نذر کیا۔ 22 کروڑ عوام دو چہروں والے ان سیاست دانوں کی منفی سیاست سے متنفر ہو چکے ہیں۔ پاکستانی قوم کورونا پر سیاست چمکانے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اپوزیشن رہنماؤں کا رویہ ”دوسروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت“ کے مترادف ہے۔ عوام کے سامنے بلند و بانگ دعویٰ کرنے والوں کی قلعی کھل چکی ہے۔عثمان بزدار

    اپوزیشن جماعتوں نے غیر معمولی حالات میں بھی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ ہنگامی صورتحال کے باوجود اپوزیشن رہنماؤں نے ہر موقع پر سیاست چمکانے کی کوشش کی۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت نے بروقت فیصلے کئے۔ حکومت کے دور اندیش اقدامات کے باعث صورتحال سے نمٹنے میں بہت مدد ملی۔ وزیراعلیٰ پنجاب

  • عمران خان کا استعفیٰ مانگنے والے پہلے خوداستعفیٰ دیں ،پھردیکھیئے آگے آگے ہوتا ہے کیا ؟اسدعمر

    اسلام آباد:عمران خان کا استعفیٰ مانگنے والے پہلے اپنے استعفے دیں ،پھردیکھیئے آگے آگے ہوتا ہے کیا ؟اسدعمرکا اپوزیشن کو چیلنج مگر لگتا ہےکہ اپوزیشن ایسی کوئی غلطی نہیں کرے گی تحریک انصاف کے رہنما اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد عمر نے کہا ہے کہ اپوزیشن والے کل کا انتظار کیوں کررہے ہیں؟ آج ہی استعفے دیں اور میدان میں آئیں۔

    ن لیگ کادھرنے میں شامل ہونے سے انکار،مولانا نے "گونواز گو”کے نعرے…

    انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں بات کرنے والے ہیں ہم نے جواباً دھمکیاں نہیں دینی، مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ہم عدالت جارہے ہیں، وزیراعظم کہ چکے ہیں کہ معاہدے کے مطابق یہ اپنا احتجاج کا حق استعمال کریں۔اسد عمر نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ وہ دوبارہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف الیکشن کے لیے تیار ہیں۔

    تازہ ، اہم ترین ، تحقیقاتی خبروں،تجزیوں اورتبصروں کا وہ چینل جوہرکسی کی پہنچ میں…

    خیال رہے کہ آج ہونے والے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے استعفے پر متفق ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں، ملگ گیر شٹر ڈاؤن اور ہائی ویز کو بلاک کرنے سمیت دیگر آپشنز زیر غور ہیں۔

    دنیا کے تخلیقی شہروں میں پاکستان کا کون سا شہر شامل ؟ یونیسکونے بتادیا

    فضل الرحمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وزیراعظم نے دو روز میں استعفیٰ نہ دیا تو یہ اجتماع قدرت رکھتا ہے کہ خود وزیر اعظم کو گھر جا کر گرفتار کر لے البتہ ہم پُرامن لوگ ہیں چاہتے ہیں کہ پُرامن رہیں، اداروں کے ساتھ کوئی لڑائی یا تصادم نہیں،اداروں کا استحکام چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ادارے بھی غیر جانب دار رہیں

  • انتشار پھیلانے والی اپوزیشن خود انتشار کا شکار ہے: عثمان بزدار

    انتشار پھیلانے والی اپوزیشن خود انتشار کا شکار ہے: عثمان بزدار

    انتشار پھیلانے کی ناکام کوشش کرنے والی اپوزیشن خود انتشار کا شکار ہے: عثمان بزداراپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی مخلص نہیں،غیر فطری اتحاد جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گامایوسی پھیلانے والے سابق حکمرانوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، سڑکیں، پل اور عمارتیں ان کی ترجیحات تھیںہماری حکومت نے ذاتی نمود و نمائش کے منصوبوں کی بجائے انسانی ترقی پر فوکس کیا ہے

    اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمنٹ کے اندر اور باہر طرز عمل غیر جمہوری ہے۔ انہو ں نے کہا کہ کئی برس سے حکمران رہنے والوں نے عوام کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کیا۔ مایوسی پھیلانے والے سابق حکمرانوں نے اپنے دور میں عوام کیلئے کچھ نہیں کیا اور سڑکیں، پل اور عمارتیں ان کی ترجیحات تھیں جبکہ ہماری حکومت نے انسانی ترقی پر فوکس کیا ہے اور ذاتی نمود و نمائش کے منصوبوں کی بجائے انسانی ترقی کو اپنا محور بنایا ہے۔