Baaghi TV

Tag: اپووا

  • اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    (چوتھی اپووا خواتین کانفرنس کی مختصر روداد)
    حافظ محمد زاہد‘ سینئر نائب صدر

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اَپووا) ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک طرف میدانِ ادب میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے تودوسری طر ف ملک کے طول وعرض اور بیرون ملک میں اس کے ممبران کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ادب کی خدمت کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔مردوں کی نسبت اس میں خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہے ‘اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے چار سال پہلے خواتین کے عالمی دن کے موقع پرپہلی بار’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے پچاس کے قریب منتخب خواتین کو اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر اپووااچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی حلقوں میں اس کانفرنس کو نہ صرف بہت زیادہ سراہا گیا بلکہ چند تنظیموں اور این جی اوزنے اپووا کے طریقہ کار کو کاپی کرتے ہوئے خواتین کانفرنس مع ایوارڈ کا انعقاد کیا جو صحیح معنوں میں اپووا کے لیے باعث ِ اعزاز ہے۔ اسی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے اپووا انتظامیہ نے سالانہ بنیادوں پر خواتین کانفرنس کے انعقاد کا عزم کیا اور گزشتہ تین سالوں سے یہ کانفرنس کامیابی سے منعقد کی جارہی ہے۔

    اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں اپووا کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری کی زیر سرپرستی‘ بانی اپووا ایم ایم علی کی زیر کی زیر نگرانی اور خواتین ونگ کی صدر ثمینہ طاہر بٹ کی زیر صدارت ’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف ڈرامہ رائٹر صائمہ اکرم چوہدری‘ سینئر اداکارہ میگھا جی‘معروف لکھاری نازیہ کامران کاشف‘ خوش اخلاق و منفردانداز کی حامل اینکرپرسن ارم محمود‘سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دادا کی پوتی سیدہ ماہا بخاری‘ معروف اینکر پرسن ثنا آغا خان‘ ماہر ہیلتھ ڈاکٹر انعم پری‘معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ‘ معروف براڈ کاسٹر ریحانہ عثمانی‘ ہر دلعزیز شاہین آپا سمیت پاکستان کے دور دراز اضلاع سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ پروگرام کی ہوسٹنگ کے فرائض مدیحہ کنول جبکہ ریسپشن کی ذمہ داری مرکزی صدر حافظ محمد زاہد اورنائب صدر ساجدہ چوہدری نے نبھائی۔

    مقررین کی گفتگو کا نچوڑ اور لب لباب نکات کی صورت میں ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
    ٭ اسلام نے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ حقوق دیے ہیں ‘بس ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کوصحیح معنوں میں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں۔اور خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنے دائرے اور حدود میں رہتے ہوئے آگے سے آگے بڑھیں اور یہ ثابت کریں کہ خواتین کسی طور پر پیچھے نہیں ہیں۔
    ٭ خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کیا جائے اور انہیں بھی آگے بڑھنے کے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔
    ٭ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اس لیے کہ بااختیار خواتین کےذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے۔
    ٭ کسی بھی مرد کے غیور یعنی غیرت مند ہونے کی یہ دلیل نہیں ہے کہ وہ عورت کو کس قدر ڈراتے ہیں‘ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ عورت کو کس قدر سراہتے ہیں!
    ٭ بعض مقرر خواتین نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ پاکستانی معاشرے میں مرد حضرات کی جانب سے خواتین کو جتنی عزت دی جاتی ہے‘خواتین کے کاموں کی جتنی پذیرائی کی جاتی ہے اور خواتین کو آگے بڑھنے کے جتنے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں‘اتنا کسی اور معاشرے میں نہیں دیکھنے کو ملتا۔
    ٭ یاد رکھنا چاہیے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنی خواتین کو عزت دیتے ہیںاور ایک خاتون کو بہن‘ بیٹی‘ ماں اوربیوی کے بجائے ان کی ذات میں ایک شخصیت اور خودمختار سمجھا جاتا ہے۔

    کانفرنس کے اختتام پراپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی خواتین کو ایوارڈ ‘ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور بذریعہ قرعہ اندازی خوبصورت تحائف پر مشتمل گفٹ پیک تقسیم کیے گئے۔ شرکاء کانفرنس سےیہ عہد بھی لیا گیا کہ آپ اپنے دائرہ کار میں مزید آگےبڑھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گی۔اپووا خواتین کانفرنس میں فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر امت مسلمہ اور بالخصوص مسلم امہ کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اپووا خواتین کانفرنس‘عورتوں کے حقوق کے لیے توانا آواز ہے ۔آئندہ سالوں میں بھی اپووا یہ ذمہ داری احسن طریقے سے یہ سوچ کر پوری کرتی رہے گی کہ’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!‘‘اور اپووا کا ماننا ہے کہ:
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں جو دیا ہو وہ جلا دینا!

    خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے
    بااختیار خواتین کے ذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے
    مرد کے غیرت مند ہونے کی دلیل عورت کو ڈرانا نہیں‘سراہنا ہے

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    سیالکوٹ : نوجوانوں میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے میں اَپووا کا کردارمثالی ہے-گورنرپنجاب

  • مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد نے پیٹرن ان چیف زبیر احمد انصاری اور اپوا کے بانی ایم ایم علی کی سربراہی میں سنئیر صحافی معروف تجزیہ نگار اور اینکر پرسن مبشر لقمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

    دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس ملاقات میں اہم موضوعات پر تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ملک کی مجموعی صورتحال،بالخصوص سیاسی ،معاشی اور خاندانی مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔گرما گرم چاۓ کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا مبشر لقمان نے وفد کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے،انہوں نے نئے لکھنے والوں کو مفید تجاویز سے بھی نوازا اور ان کے ساتھ اپنے تجربات بھی شئیر کیے ۔
    ml

    سینئرصحافی ،معروف اینکرپرسن اور باغی ٹی وی کے سی ای اومبشر لقمان نے اپووا کی ادبی کاوشوں کو سراہا ،ان کا کہنا تھا کہ وہ اپووا کی ایک ورکشاپ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کر چکے ہیں، اپووا ایک متحرک اور منظم تنظیم ہے۔انہوں نے اپووا وفد کو دوبارہ آنے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ اگلی ملاقات میں ہم اکٹھے ڈنر کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ باغی ٹی وی کا پلیٹ فارم آپ لوگوں کے لیے حاضر ہے آپ لوگ اس پلیٹ فارم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
    ml

    اپووا کے وفد کی طرف سے مبشر لقمان کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی ۔اپووا وفد نے اس خوبصورت ملاقات کا انعقاد کروانے پر ممتاز اعوان کا بھی شکریہ ادا کیا،وفد میں زبیر احمد انصاری،ایم ایم علی،رفیق بھٹی،اظہر حسین بھٹی،فاروق خان،مدیحہ کنول،نبیلہ اکبر،مریم راشد،ساجدہ اصغر،عائشہ صدیقہ اور نگار بیگ سمیت دیگر شامل تھے۔
    ml

    عمران خان کی تقریر میں لکھتا تھا، مبشر لقمان کا انکشاف
    آل پاکستان رائٹررز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ دھرنے کے دوران عمران خان کی تقریر میں اور محسن بیگ لکھا کرتے تھے،جب ہم نے تقریر لکھنا چھوڑی تو پھر عمران خان کی ایک ہی تقریر اس کے بعد چل رہی ہے،میرے اوپر 57 مقدمات تھے جن میں سے اب چھ رہ گئے ہیں باقی میں جیت گیا ہوں،باقی بھی جیت جاؤں گا۔ وقت گزر جاتا ہے لیکن لوگوں کے چہرے بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ حریم شاہ کو زندگی میں کبھی نہیں ملا، بشری بی بی اور فیاض الحسن چوہان نے اسکو میرے جہاز پر بھیجا تھا ۔ میں نے انکے خلاف درخواست دی لیکن اس وقت فیاض الحسن چوہان صوبائی وزیر تھے،اسلئے مقدمہ نہیں ہوا۔
    ml

    میری کتاب "کھرا سچ” بیسٹ سیلر کتاب تھی،مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ رائیٹر کو آسان زبان میں لکھنا چاہئے عام فہم ہو تا کہ پڑھنے والے کو آسانی ہو اس سے زیادہ لوگ پڑھیں گے۔ الفاظ کا چناو کرتے ہوئے پڑھنے والے کے لیے آسانی کرنی چاہئے۔ میں نے کھرا سچ کتاب 15 دن میں لکھی تھی اور ایک ماہ اسکی ایڈیٹنگ میں لگا کہ کیا شائع کرنا چاہئے یا کیا نہیں۔ میری کتاب اس وقت دنیا کی بیسٹ سیلر بنی تھی۔لکھاری کو عوامی سوچ کے ساتھ لکھنا چاہئے، ناول لکھیں، افسانہ لکھیں یا جو بھی لکھیں آسان زبان میں لکھیں،

    جوائنٹ فیملی کی وجہ سے گھر میں برکت رہتی ہے،مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میرا گھر ہے،پاکستان میں ہی رہوں گا پاکستان سے باہر دل نہیں لگتا ۔ زیادہ سے زیادہ بیس سے پچیس دن پاکستان سے باہر رہتا ہوں پھر اکتا جاتا ہوں اور پاکستان واپس آ جاتا ہوں،رشتوں کی حرمت بتانی نہیں پڑتی ۔ ہمارے ہاں معاشرے میں ملازمین کو بھی اہمیت دی جاتی ہے پاکستان میں اکنامک مسائل کی وجہ سے مشکلات ہیں۔ جوائنٹ فیملی کا خاتمہ ہونے کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔ جوائنٹ فیملی کی وجہ سے گھر میں برکت رہتی ہے۔ سب ایک ساتھ رہیں تو خاندان اچھی زندگی بسر کرتا ہے۔ معاشرے میں عورت پر ظلم عورت کرتی ہے۔ مرد نہیں کرتا ۔ خواتین کے حقوق کے ساتھ مردوں کو بھی حقوق ملنے چاہیے۔ انگلینڈ اور کینیڈا میں خواتین کو جتنی مار گھروں میں پڑتی ہے اسکا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ جنت ماں کے قدموں تلے ہے عورت کو بھی اس پر سوچنا ہو گا تبھی معاملات سنوریں گے۔

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش