Baaghi TV

Tag: اپٹما

  • بجٹ کے بعد ملکی برآمدات میں بڑی کمی کا اندیشہ ہے،اپٹما

    بجٹ کے بعد ملکی برآمدات میں بڑی کمی کا اندیشہ ہے،اپٹما

    اسلام آباد: آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن( اپٹما) نے کہا ہے کہ ظالمانہ بجٹ سے ٹیکسٹائل سیکٹر تباہ ہو جائےگا۔

    باغی ٹی وی : اپٹما کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بجٹ کے بعد ملکی برآمدات میں بڑی کمی کا اندیشہ ہے، بجٹ میں ملکی صنعتوں کو درپیش مسائل حل کرنےکا کوئی پلان نہیں دیا گیا، ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے بجلی کا ٹیرف 16.4 سینٹ فی یونٹ تک پہنچ چکا ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے بجلی کی قیمت 18.4 سینٹ فی یونٹ تک پہنچ جائے گی۔

    اپٹما کا کہنا ہےکہ انڈسٹری پر کراس سبسڈی کا بوجھ 240 ارب سے بڑھ کر 380 ارب روپے تک پہنچنےکا اندیشہ ہے، برآمدات پر 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس لگایا گیا ہے، ایڈوانس ٹیکس لگنے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سرمائے کی قلت کا سامنا کرنا پڑےگا ٹیکسٹائل سیکٹر پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگنے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، ٹیکسٹائل انڈسٹری پر ٹرن اوور ٹیکس کے نفاذ سے صنعتی پہیہ رک جائےگا، ملک میں 60 فیصد ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہوچکی ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری 50 فیصد لیبر فورس کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔

    صرف بجٹ کا معاملہ نہیں، ہمیں پنجاب میں اسپیس چاہیے،یوسف رضا گیلانی

    پیپلز پارٹی کس بات پر ناراض؟جاگیرداروں پر تو ٹیکس لگایا ہی نہیں گیا،خالد مقبول صدیقی

    جنوبی وزیرستان میں جے یو آئی کے سابق ضلعی امیر پر فائرنگ

  • آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے امریکا سے قرض کی درخواست کر دی

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے امریکا سے قرض کی درخواست کر دی

    اسلام آباد: حالیہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے امریکا سے قرض کی درخواست کر دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اپٹما نے پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا کاٹن امپورٹ کے لیے دو ارب ڈالر قرض پاکستان کو فراہم کرے، پاکستان میں کاٹن کی پیداوار تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، پاکستان کو بارشوں اور سیلاب کے باعث سالانہ 5 ملین بیلز کا نقصان ہوا۔

    ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

    خط میں اپٹما نے کہا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کی تباہی کے باعث محض کاٹن کی فصل کو 2 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، جون تا اکتوبر 2022ء کے دوران سیلاب کے باعث پاکستان کو15.2 ارب ڈالرکا معاشی نقصان ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ مقامی کاٹن کی پیداوار انتہائی حد تک کم ہونے کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، رواں سیزن کیلئے پاکستان کو 10 ملین کاٹن بیلز امپورٹ کی ضرورت ہے،امریکی قرض کی رقم سے لاکھوں لوگوں کا روزگاربچ جائے گا، قرض سے پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹ میں بہتری آئے گی-

    چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی

  • برآمدکنندگان کےلیے 100 ارب روپے کے سبسڈی دے رہے ہیں‌،اسحاق ڈار

    برآمدکنندگان کےلیے 100 ارب روپے کے سبسڈی دے رہے ہیں‌،اسحاق ڈار

    اسلام آباد:وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے برآمدکنندگان کےلیے بجلی کی مد میں 90سے 100 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کردیا۔اطلاعات کے مطابق اپٹما رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ برآمدکنندگان سے معاہدہ ہوا ہے،ان کیلئے ٹیرف لاک کیا جائے گا، ان کیساتھ بجلی کا ریٹ طے ہوا ہے،19روپے99 پیسےچارج کیا جائے گا۔ ریٹ کا جو فرق ہوگا وزارت خزانہ برداشت کرے گی۔

    میڈیکل کالجز کیلئے داخلہ ٹیسٹ کی تاریخ کا اعلان

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجلی کے اس ریٹ میں تمام ٹیکس شامل ہیں، یہ سہولت پانچوں برآمدی شعبوں کیلئے ہے اور ایک سال میں90سے 100 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں، مجھے معلوم ہے کیا کررہا ہوں،میرے پاس جواز موجود ہے، جب آئی ایم ایف والےآئیں گے توبات کرلیں گے۔

    صدر عارف علوی نے ریکوڈک پراجیکٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی سمری کی منظوری دیدی

    وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں ایکسپورٹرز کو180 ارب روپے کا پیکج دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایکسپورٹ میں12.7 فیصداضافہ ہوا، اگر اگلی حکومت پالیسی برقراررکھتی توبرآمدات میں اضافہ ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایکسچینج ریٹ خود ہی ایڈجسٹ ہورہا ہے، ابھی ڈنڈا چلانے کی ضرورت نہیں پیش آئی،ڈالرنیچےآرہاہے، ڈالر کی صحیح قدر 200 روپے سے نیچے ہے۔

    پچھلے 24 گھنٹوں میں کیا ہوا اوراگلے 24 گھنٹوں میں کیا ہونے والا ہے:خبرآگئی

  • ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ ہوگئی:آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز    ایسوسی ایشن کاملک بھرمیں فیکڑیاں بندکرنےکافیصلہ

    ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ ہوگئی:آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کاملک بھرمیں فیکڑیاں بندکرنےکافیصلہ

    اسلام آباد:آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں فیکڑیاں بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہفتے کے روز سے ملک بھر کی ٹیکسٹائل انڈسٹریز کو بند کر دیا جائے گا، 1600 ٹیکسٹائل انڈسٹریز پہلے ہی بند ہو چکی ہیں۔اپٹما نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹریز کی بندش سے 50 لاکھ ملازمین فارغ جبکہ 3 کروڑ افراد متاثر ہوں گے۔

    عمران خان کوسخت جواب دینےپرباتھ روم میں بندکیا گیا:بشیرمیمن نےتصدیق کردی

    ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے توانائی کے مسابقتی نرخ واپس لے لئے ہیں، ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بندش سے ملکی برآمدات کو بڑا دھچکا لگے گا، ملکی معیشت کے لیے برآمدات کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے، ملکی معیشت کو گرداب سے نکالنے کا واحد حل برآمدات کو بڑھانا ہے۔

    اپٹما نے کہا کہ حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مسابقتی نرخوں پر بجلی اور گیس فراہم کرے، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا وفد کل اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کرے گا۔

    صدر عارف علوی نے ریکوڈک پراجیکٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی سمری کی منظوری دیدی

    ایپٹما کے وفد کی قیادت سینئر رہنما گوہر اعجاز کریں گے، ملاقات میں بجلی کے ٹیرف کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافے کی تفصیلات پر بات چیت ہو گی۔

    ریلوے کو تاریخ کا سب سے بڑا نقصان:مگرخواجہ سعد رفیق کوکوئی پرواہ ہی نہیں

    سینئر رہنما ایپٹما کا کہنا ہے کہ حکومت نے صنعت کاروں کی بات نہ سنی تو ہڑتال مجبوری ہو گی اور بجلی کی موجودہ قیمتوں کے ساتھ برآمدی شعبہ بری طرح متاثر ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کی موجودہ قیمت سے پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے برآمدی آرڈر پورے کرنا مشکل ہیں۔

    شہر کی تمام ٹیکسٹائل تنظیموں نے بجلی گیس و دیگر مسائل کو ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے کرونا سے بڑا خطرہ قرار دیا یہ بات محمد امجد خواجہ سینئر وائس چیئرمین پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن (نارتھ زون) نے آج ایسو سی ایشن کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جس میں ڈاکٹر خرم طارق صد ر چیمبر FCCI، عارف احسان ملک APBUMA،وحید خالق رامے پاور لومزاونرز ایسوسی ایشن، رانا عبد الغفور ایمبرائیڈری ایسو سی ایشن، چوہدری محمد نواز پاور لُو م ایسو سی ایشن، شیخ قیصر شمس گچھا چیئرمینPYMA، شکیل انصاری سائزنگ ایسو سی ایشن، حافظ محمد اصغرAPTPMA، ِِ ِِِِِ ِِِاعجازکھوکھرسابق چیئرمینPRGMEA ، مبشر نصیر بٹ سنٹرل چیئرمینPRGMEA ، وسیم احمد خان زونل چیئرمینPRGMEA ، چوہدری سلامت علی گروپ لیڈر پی ایچ ایم اے، سید ضیاء علمدار سابق صدر چیمبر، میاں فرخ اقبال سابق سینئر وائس چیئرمین پی ایچ ایم اے، حاضر خان، رانا الطاف احمد، شاہین تبسم، فرخ زمان، ادریس پنسوتا، و دیگر صنعتکاروں نے بھی شرکت کی۔

    محمد امجد خواجہ سینئر وائس چیئرمین نے کہا کہ ملکی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے ٹیکسٹائل سیکٹر کو مسابقتی ممالک جیسی مساوی سہو لتیں دینا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی نرخوں پر بجلی اور گیس کی پالیسی اقدام کو جاری رکھنا ضروری ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو نہ صرف انڈسٹری بند ہوجائے گی بلکہ لاکھوں مزدور بھی بے روزگار ہوجائینگے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہوسکتی ہے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بارش اور سیلاب سے ہماری کپاس کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے ہمسایہ ممالک سے یارن کی نہ صرف امپورٹ کی اجازت دی جائے بلکہ اس پر تمام ڈیوٹی ٹیکسt Exempکئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ کے بیرونی قرضوں سے چھٹکارا پانے کیلئے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کو بڑھایا جائے تاکہ IMFکے Dictationسے بچا جاسکے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے رُکے ہوئے تمام ریفنڈز فوری طور پر ادا کئے جائیں۔

    ڈاکٹر خرم طارق صدر FCCIنے کہا کہ ہم حکومت سے کوئی Subsidyنہیں مانگ رہے بلکہ ہمیں بجلی اصل قیمت پر مہیا کی جائے تاکہ ہم Regionمیں مقابلے کی سکت رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ Line Lossesاور ریکوری نہ ہونے کا سارا بوجھ ہماری انڈسٹری پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جس سے انڈسٹری کیلئے بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور سارا بوجھ ہماری انڈسٹری برداشت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے بجلی کا پرانا ٹیرف بحال نہ کیا تو 15اکتوبر سے ہم احتجاجی تحریک کا اعلان کریں گے۔

    عارف احسان ملک سابق چیئرمین APBUMAنے کہا کہ حکومت کو ہمارے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے تمام مسائل جلد حل کرنے ہونگے انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے بلکہ ہم ملکی ایکسپورٹ کو بڑھا کر ڈوبتی معیشت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر زکو اعتماد میں لیا جائے۔

    وحید خالق رامے چیئرمین پاور لومزاونرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہماری انڈسٹری بھی بندش کے قریب ہے اگر موجودہ حکومت نے بجلی کے نرخوں کو کم نہ کیا تو نہ صرف مزدور بلکہ مالکان بھی سڑکوں پر ہونگے۔
    چوہدری سلامت علی گروپ لیڈرپی ایچ ایم اے نے کہا کہ حکومت کو ان تمام مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گااور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتما د میں لے کر ملکی مفاد میں فیصلے کرنے ہونگے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نہ صرف ملک کیلئے قیمتی زر مبادلہ کمانے کا ذریعہ ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے بروقت فیصلے نہ کئے تو ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی اور واپسی کا راستہ مشکل ہوجائے گا۔