Baaghi TV

Tag: اپیکس کمیٹی

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے،آرمی چیف

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے،آرمی چیف

    اسلام آباد: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں نیشنل ایکشن پلان پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا،اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے،اجلاس کا مرکزی ایجنڈا پاکستان کی انسداد دہشت گردی (CT) مہم کو دوبارہ فعال کرنا تھا۔ شرکاء کو ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا اور کمیٹی کو خیبر پختونخوا، بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،کمیٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سکیورٹی فورسزکےآپریشنزپر اطمینان کا اظہار کیا،نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی نے بلوچستان میں دہشتگرد تنظیموں کےخلاف جامع فوجی آپریشن کی منظوری دے دی۔

    اجلاس میں طے کیا گیا کہ مذہبی انتہا پسندی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جرائم اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے دشمن قوتوں کی طرف سے پھیلائی گئی گمراہ کن مہمات کا سدباب کیا جائے گا، ان چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ایک متحد سیاسی آواز اور قومی بیانیہ ضروری ہے۔

    سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے اور مکمل قومی ہم آہنگی کو انسداد دہشت گردی مہم کی کامیابی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا، اجلاس میں نیکٹا (NACTA) کو دوبارہ فعال کرنے اور قومی و صوبائی سطح پر انٹیلی جنس فیوژن اور تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔

    اجلاس میں ایک جامع حکمت عملی اپنائی گئی جس میں سفارتی، سیاسی، معلوماتی، انٹیلی جنس، سماجی و اقتصادی اور عسکری کوششوں کو شامل کیا گیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے اضلاع کی سطح پر کوآرڈی نیشن کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اپیکس کمیٹی کے مطابق اجلاس میں بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں، بشمول مجید بریگیڈ، بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے ایس کے خلاف ایک جامع فوجی آپریشن کی منظوری دی گئی۔ ان تنظیموں پر الزام ہے کہ وہ معصوم شہریوں اور غیر ملکیوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی اجلاس سے خطاب میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کی سلامتی کو لاحق ہر خطرے کو ختم کرنے کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور حکومت کی جانب سے امن و استحکام کے اقدامات کو بھرپور حمایت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، اس جنگ میں کوئی یونیفارم میں ہے اور کوئی یونیفارم کے بغیر اور ہم سب کو مل کردہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سب پر آئین پاکستان مقدم ہے، آئین ہم پرپاکستان کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور جوبھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، ہمیں کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہوں گے پاکستان آرمی اورقانون نافذ کرنے والے ادارےگورننس میں موجود خامیوں کو روزانہ اپنے شہیدوں کی قربانی دےکرپوراکر رہے ہیں۔

    اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پاکستان کی معیشت سب کی کاوشوں سے استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، اہم پہلو ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے، ترقی اور خوشحالی کیلئے ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام اہم ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ صوبوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کیلئے وفاق کی مدد کی، آج پاکستان کا اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، ہماری آئی ٹی ایکسپورٹس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، ترقی تب ہوگی جب ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری ہو اور میری دعا ہے یہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف پروگرام کیلئے ہمیں سعودی عرب، یو اے ای اور چین کی مدد لینا پڑی ہمیں ٹیکس بیس بڑھانا ہے لیکن یہ راتوں رات نہیں ہوگا، سب کو ہاتھ بٹانا ہوگا، ہمارے پاس اربوں روپے کے معدنی ذخائر ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب نے ایگری کلچر ٹیکس میں لیڈ لی ہے، وزیراعلیٰ کے پی نے بھی کابینہ سے ایگری کلچر ٹیکس منظور کرالیا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھاکہ کیا دھرنا پاکستان کے مفاد ہے؟ ہمیں بیٹھ کرٹھنڈے دل سے سوچنا ہے، فیصلہ کرنا ہے دھرنے اورلانگ مارچ کریں یا ترقی کیلئےکام کریں؟ کیا ملک اس وقت دھرنے، جلوس اور لانگ مارچ کامتحمل ہوسکتاہے؟ ہمیں ملکی خوشحالی کیلئے مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

    وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ طے شدہ اقدامات کو تندہی سے آگے بڑھائیں اور ان کے بروقت نفاذ کو یقینی بنائیں،وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ، عوام کے تحفظ اور اقتصادی و سماجی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مربوط اور مستقل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

  • وزیراعظم نے  نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    اسلام آباد: وزیراعظم میاں شہبازشریف نے نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ،اجلاس میں سروسز چیفس بھی شریک ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : 18 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں قومی سلامتی امور کا جائزہ لیا جائےگا،اجلاس میں شرکت کیلئے اپیکس کمیٹی کے ارکان کو دعوت دےدی گئی،حساس اداروں کے سربراہان بھی اجلاس میں شرکت کریں گے-

    قبل ازیں وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے باران رحمت کے لیے نمازاستسقا ادا کرنےکی اپیل کردی، اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام نماز استسقا کے اہتمام میں کردار ادا کریں، ‎بارش سے ماحول بہترہوگا اور بیماریوں سےنجات میں بڑی مدد مل سکتی ہے،وفاق اور صوبوں کے زیر اہتمام تمام مساجد میں نماز استسقا کا اہتمام کیا جائے، ‎موجودہ صورتحال میں باران رحمت کی شدت سے ضرورت ہے۔

    دریں اثناء آج پنجاب میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام مساجد میں باران رحمت کے لیے نماز استسقا ادا کی گئی اس حوالے سے سیکرٹری اوقاف نے کہا کہ کل نماز جمعہ کے بعد بھی صوبے بھر کی جامع مساجد میں نماز استسقا ادا کی جائےگی، عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے پورا خطہ شدید متاثر ہوا ہے۔

  • معاشی چیلینجز سے نمٹنے کیلیے سب کا مل بیٹھنا خوش آئند ،وقت کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    معاشی چیلینجز سے نمٹنے کیلیے سب کا مل بیٹھنا خوش آئند ،وقت کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں سول و عسکری قیادت نے شرکت کی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خصوصی طور پر شریک تھے،اجلاس میں سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور نگران کابینہ بھی شریک رہی،چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ مریم نواز، سرفراز بگٹی، مراد علی شاہ اور علی امین گنڈا پور بھی اجلاس میں شریک تھےوفاقی وزراء بھی ایپکس کمیٹی اجلاس میں شریک تھے،اجلاس میں ایس آئی ایف سی سے متعلق ارکان کو تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس کے دوران ملک میں سرمایہ کاری سے متعلق امور کا جائزہ بھی لیاگیا،

    آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر گزارا نہیں،وزیراعظم
    وزیر اعظم شہباز شریف نے سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیاست کی بجائے ریاست کو بچانا ہے، امید کی جاتی ہے اگلے ماہ 1 بلین سے زائد کی مزید قسط جاری ہو جائے،بجلی چوری ، دیگر لیکیجز کے ساڑھے 1300 ارب روپے آجائیں تو ہم کشکول توڑنے کیطرف بڑھیں گے، ہماری محصولات 9 ٹریلین روپے ہیں، اصل میں 13 سے 14 ٹریلین ہونی چاہیئے،مجھے پورا یقین ہے ہم سب مل کر ملک چلائیں گے،پسند ناپسند سے بڑھ کر کام کریں گے تو امید ہے ایک دن کامیابی ہو گی، ہم سب نے مل کر پاکستان پچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی آئی اے اور سٹیل ملز کو بیچنا پڑے گا۔825ارب روپے پی آئی اے کا قرضہ ہے، سالانہ 400 ارب روپے بجلی کی چوری ہورہی ہے، بجلی اور گیس سیکٹر کا سالانہ گردشی قرضہ پانچ ہزار ارب روپے ہے، آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ ہمیں ایک اور آئی ایم ایف پروگرام بھی چاہئے ہو گا ،آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر گزارا نہیں، آگے ہمیں آئی ایم ایف سے ایک اور معاہدہ کرنا ہوگا جس کا دورانیہ تین سال ہوگا،16 ماہ کی حکومت میں عسکری قیادت نے مثالی معاونت کی، تعاون کی فراہمی پر آرمی چیف کا مشکور ہوں

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ غیرملکی سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے سرمایہ کاری سہولت کونسل کا کلیدی کردار ہے،ایس آئی ایف سی ملک کی  معاشی بحالی  کی جامع حکمت عملی کا مظہر ہے،پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی مسائل اور بحرانوں سے نجات دلانا ہے، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے،منصوبے کے تحت زراعت، لائیو سٹاک، معدنیات، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور زرعی پیداوار جیسے شعبوں میں پاکستان کی اصل صلاحیت سے استفادہ کیا جائے گا،منصوبے کے تحت ان شعبوں کے ذریعے پاکستان کی مقامی پیداواری صلاحیت اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری بڑھانےکے اقدامات لئے جارہے ہیں، کونسل کا مقصد منصوبے کے تحت  ایک حکومت  اور  اجتماعی حکومت  کے تصور کو فروغ دینا ہے،ملک میں سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے گا،ایس آئی ایف سی کے تحت بیرون ممالک سے سرمایہ کاروں اور سرمایہ کاری میں سہولت کے لئے سنگل ونڈو کی سہولت دی گئی ہے،اس منصوبے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اشتراک عمل پیدا کرنا ہے،ایس آئی ایف سی ایک اہم پلیٹ فارم ہے جیسے جاری رکھا جائے گا، ایس آئی ایف سی کی ایپیکس کمیٹی نے نگراں حکومت میں بھی موثر اور بھر پور کام کیا جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،معاشی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے یہ پلیٹ فارم بہت اہم ہے،ملک کو درپیش معاشی چیلینجز سے نمٹنے کے لیے سب کا مل بیٹھنا خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے،عسکری قیادت نے اس پلیٹ فارم کی کامیابی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں غیر معمولی کام کیا

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    نیشنل ایکشن پلان پر ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا.

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت قومی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں سول اور عسکری حکام ، حساس اداروں کے سربراہان، چاروں صوبائی آئی جیز اور چیف سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ، ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے،اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کیلئے خبردار کیا جاتا ہے۔

    اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 1 نومبر 2023 سے وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی گرفتاری اورجبری ملک بدری کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔ 10 اکتوبر 2023 سے پاکستان -افغانستان بارڈر سے نقل و حرکت کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (E-Tazkira) پر ہو گی جب کہ 1 نومبر 2023 سے نقل و حرکت کی اجازت صرف پاسپورٹ اور ویزا پر دی جائے گی۔ دیگر تمام قسم کی دستاویزات سرحد پار سفر کیلئے غیر موثر اور غیر قانونی ہوں گے۔1 نومبر 2023 سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے کاروبار /جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی اور غیر قانونی کاروبار کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔1 نومبر 2023 کے بعد پاکستان میں مقیم غیر قانونی غیر ملکیوں کو رہائش فراہم کرنے یا سہولیات فراہم کرنے والے کسی بھی پاکستانی شہری یا کمپنی کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔

    جعلی شناختی کارڈ کے حامل، جعلی کاغذات پر بنی غیر قانونی جائیداد ہو گی ضبط
    وزارت داخلہ کی زیر نگرانی ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلیجنس کے اراکین شامل ہوں گے۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد جعلی شناختی کارڈ کے حامل لوگوں اور ان کی جعلی کاغذات پر بنی غیر قانونی جائیدادوں کو ضبط کرنا ہو گا۔ نادرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام جعلی شناختی کارڈز کی منسوخی کوفوری طور پر یقینی بنائے اوراگر کسی کی شناخت میں شک ہو تو اس کی تصدیق کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔ویب پورٹل اور یو اے این ہیلپ لائن پر پاکستان میں مقیم غیر ملکی افرادکی غیر قانونی رہائش یا کاروبار کرنے والے کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی شہری حکومت سے تعاون کرے گا اس کو انعام دیا جائے گا اور اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔غیر قانونی سرگرمیوں بشمول ذخیرہ اندوزی، سامان یا کرنسی کی اسمگلنگ، حوالہ/ ہنڈی اور بجلی چوری کے خلاف سخت ایکشن پہلے سے ہی لیا جا رہا ہے۔ ان جرائم میں ملوث افرد کے خلاف کسی بھی قسم کی رعائت نہیں برتی جائے گی۔ جوائنٹ چیک پوسٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کو کسٹم پاورز دی گئی ہیں۔ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنیادی خوردنوش کی نقل و حمل کو چیک کیا جا رہا ہے جس سے اسمگلنگ میں کمی آئے گی اور جو حکومتی اہلکار کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے۔

    کرنسی کے سمگلرز،حوالہ ہنڈی کے کاروبار اور بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف بھی ایکشن لیا جا رہا ہے۔ ویب پورٹل اور یو اے این ہیلپ لائن پر ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی شہری حکومت سے تعاون کرے گا اس کو انعام دیا جائے گا اور اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    منشیات کے سمگلرز کے ساتھ کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی،فیصلہ
    منشیات کی روک تھام کیلئے نیشنل کاوئنٹر نار کو ٹکس کنٹرول سنٹر قائم کیا جا رہا ہے یہ سنٹر منشیات کی روک تھام میں کوششوں کی ہم آہنگی اور انٹیلیجنس معلومات کی فراہمی یقینی بنائے گا۔منشیات کے سمگلرز کے ساتھ کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق مثالی سزائیں دی جائیں گی۔ ہر صوبے کے اندر منشیات بحالی مراکز مرحلہ وار قائم کیے جائیں گے۔

    کسی بھی سیاسی مسلح گروہ، جتھے یا تنظیم کو طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں،فیصلہ
    طاقت کے استعمال کا حق صرف ریاست کے پاس ہے اس کے علاوہ کسی کوبھی طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں ہو گی۔ پاکستان میں کسی بھی سیاسی مسلح گروہ، جتھے یا تنظیم کی اجازت نہیں ہے اور ایسے طریقہ کار اپنانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔اسلام امن کا دین ہے اور ریاست کسی کو مذہب کی من پسند تشریح کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنیکی اجازت نہیں دے گی۔

    اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی اسلام اور پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ریاست قانون کے مطابق طاقت کا بھر پور استعمال کرے گی۔ملک میں قائم تنظیمیں پر امن اور مہذب طریقے سے اپنے جائزمطالبات ریاست کے سامنے رکھ سکتی ہیں جنھیں سنا اور قانونی طور پر حل کیا جائے گا۔تاہم اگر کوئی تنظیم طاقت یا تشدد کا راستہ اختیار کرے گی تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    پروپیگنڈا اور غلط معلومات کی مہم جوئی کرنے والوں کو سائبر قوانین کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا۔ قوانین کی آگاہی اور عمل درآمد کیلئے تکنیکی طریقہ کار وضع کیے جا رہے ہیں جو قانون کی پاسداری اور عوام کی سہولت کو مدنظر رکھ کر بنائے جا رہے ہیں۔ایمان، اتحاد اور نظم کے بنیادی اصولوں کو یقینی بنایا جائے گا۔ دنیا میں تمام ترقی یافتہ قومیں نظم و ضبط کو اپنا کرہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی ہیں۔تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ نظم و ضبط کو قائم کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔نظم و ضبط کو ہی اپنا کر ہم اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔

    کئی دہشت گرد پکڑے گئے جو پاکستانی نہ تھے لیکن ان کے پاس ہمارا آئی ڈی کارڈ تھا، وزیر داخلہ سرفراز بگٹی
    اجلاس کے بعد وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں غیر ملکی پاسپورٹ کے بغیر بھی آجاتے ہیں، اگر وہ نہیں جاتے تو پوری طاقت سے اس فیصلے پر عمل درآمد کریں گے، ہمارا واحد ملک ہے جہاں آپ بغیر پاسپورٹ ویزہ کے آسکتے ییں، یکم نومبر سے کوئی بھی شہری ویزہ کے بغیر نہیں آ سکے گا، پاسپورٹ اور ویزہ پالیسی نافذ کرنے جا رہے ہیں، یکم نومبر سے غیر قانونی شہریوں کی پراپرٹیز کے خلاف بھی آپریشن شروع کرنے جا رہے ہیں،ان جائدادوں کو بحق سرکار ڈھونڈ کر ضبط کیا جائے گا،ملوث ہونے والے پاکستانیوں کو بھی سزا دی جائے گی، شناختی کارڈز کے اجرا کے حوالے سے بھی غیر قانونی کام ہوتے رہے، ان شناختی کارڈز پر پاسپورٹ بن کر غیر ملک سفر کیا گیا،کئی دہشت گرد پکڑے گئے جو پاکستانی نہ تھے لیکن ان کے پاس ہمارا آئی ڈی کارڈ تھا، ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت آ چکی ہے، ویب پورٹل بنا رہے ہیں جہاں یونیورسل نمبر دیا جائے گا، اس نمبر کے ذریعے شہری ہم تک اطلاع پہنچا سکے گا، اطلاع دینے والے شہریوں کو انعام بھی دیا جائے گا، ذخیرہ اندوزی کے لیے جوائنٹ چیک پوسٹس بنا دی ہیں،14 چیک پوسٹس بلوچستان 10 خیبرپختونخواہ اور 5 پنجاب میں بنائی ہیں، حوالہ ہنڈی اور بجلی چوروں کے خلاف بھی کاروائیاں جاری ہیں، نارکوٹکس کا زہر پاکستانی نوجوانوں میں پھیلایا جارہا تھا،وزیراعظم کی ہدایت پر سخت ترین اقدامات کرنے جا رہے ہیں، پاکستان میں 44 لاکھ افغان باشندے ہیں۔ یکم نومبر تک جتنے بھی غیر ملکی ہیں انکو یکم نومبر تک پاکستان چھوڑنے کی مہلت ہے اسکے بعد ادارے سخت ایکشن لیں گے ۔ جنوری 2023 سے پاکستان میں 24 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 14 میں افغان شہری ملوث ہیں ،کسی کو بندوق کے زور پر اپنا ایجنڈا مسلط کر نے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،اسلام کا نام لے کر ریاست پر حملہ آور گروہوں کو سختی سے کچلا جائے گا کسی کو بندوق کے زور پر اپنا ایجنڈا مسلط کر نے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں