Baaghi TV

Tag: اچکزئی

  • سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ 14 دسمبر سے شروع کرنے والی سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کر دیں۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور ان مذاکرات سے مسائل کا حل نکالنا ملک کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے سے قبل حکومت کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق کیا جا سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر بات چیت سے مسائل کا حل نکلتا ہے تو یہ سب سے بہترین حل ہوگا، لیکن اگر مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑے گی۔

    اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی تنقید
    ذرائع کے مطابق، محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی واضح حکمت عملی کے محض احتجاج کرنا یا کسی تحریک کا آغاز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں کوئی خاص منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر احتجاج کرنا زیادہ موثر اور دانشمندانہ عمل ہو گا، کیونکہ اس طرح عوام میں زیادہ بیداری پھیلائی جا سکتی ہے۔محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے نرم رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے فیصلوں میں ابہام اور اختلافات نے پی ٹی آئی کے موقف کو کمزور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات اور حکمت عملی کی کمی سے پارٹی کے حامیوں میں اضطراب بڑھا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے بانی کی رہائی کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں اپنائی، جس کی وجہ سے ان کی حمایت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ حکومت کے ساتھ بات چیت سے صرف وقتی فائدہ ہوگا، لیکن اگر حکومت اپنی پوزیشن پر قائم رہتی ہے تو پھر تحریک کا آغاز ضروری ہو گا۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اگر مذاکرات میں کامیابی نہیں ملتی تو سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ایک ناگزیر عمل بن جائے گا، اور اس تحریک کے ذریعے عوامی حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

    محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر چار ماہ کے اندر انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے کہ حکومت کب اپنی مدت مکمل کرے گی اور نئے انتخابات کا انعقاد کب ہوگا۔ اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات سے مسائل کا حل نکلنے کی صورت میں ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور اس کے نتیجے میں عوام کو فائدہ ہوگا۔

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • محمود اچکزئی کو  سیاسی قیادت سے مذاکرات بارے مکمل اختیارات دینے کا فیصلہ

    محمود اچکزئی کو سیاسی قیادت سے مذاکرات بارے مکمل اختیارات دینے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کے اتحادی محمود اچکزئی کو پی ٹی آئی نے سیاسی قیادت سے مذاکرات بارے مکمل اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا ہے

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی حالیہ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے اتحادی بنے، انہوں‌نے قومی اسمبلی میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا بعد ازاں تحریک انصاف کے جلسوں سے بھی خطاب کیا،اب تحریک انصاف کی سینئر قیادت کی جانب سے اپوزیشن لائنس کے پلیٹ فارمز سے مذاکرات کا مشورہ دیا گیا ہے اور اس ضمن میں محمود خان اچکزئی کو سیاسی قیادت سے مذاکرات کے لئے مکمل اختیار دیا جائے گا،سیاسی قیادت سے روابط سے قبل مذاکرات کی شرائط اور طریقہ کار پر مشاورت ہوگی ،محمود خان اچکزئی مذاکرات کے لئے روابط کا سلسلہ آگے بڑھائیں گے، تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک میثاق پر اتفاق رائے ڈائیلاگ کی بنیاد ہوگا رہنماؤں اور ورکرز کی رہائی کے ساتھ انتخابی عمل کی شفافیت بھی مذاکرات ایجنڈے کا حصہ ہونگے۔عدلیہ، پارلیمان اور ریاستی اداروں کی آئینی حدود مذاکراتی کے نکات میں شامل ہونگی۔پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی قیادت مذاکراتی عمل میں شامل ہوگی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی مذاکرات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور مذاکرات کے لیے اپنے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیں گے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • محمود اچکزئی کے وارنٹ گرفتاری معطل

    محمود اچکزئی کے وارنٹ گرفتاری معطل

    چیئرمین پشتونخوا میپ کے وارنٹ گرفتاری جوڈیشل مجسٹریٹ 9 نے معطل کر دئیے

    محمود اچکزئی کے وارنٹ گرفتاری کی معطلی آئندہ سماعت تک کی گئی ہے،عدالت نے آئندہ سماعت 31 مئی تک مقرر کر دی، محمود اچکزئی کے وکیل کی جانب سے دوران سماعت وارنٹ معطلی کی استدعا کی گئی تھی جو عدالت نے منظور کر لی،کیس کے پیروی کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ قاری رحمت اللہ کاکڑ، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نصیب اللہ اچکزئی، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ جہانگیر خان نے کی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز محمود خان اچکزئی کے وارنٹ گرفتاری جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ نےجاری کیے تھے، وارنٹ گرفتاری کوئٹہ کے تھانہ گوالمنڈی میں درج ایف آئی آر کے حوالے سے جاری کیے گئے تھے،تھانہ گوالمنڈی میں محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کے دوران کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا،ایف آئی آر کے سلسلے میں پیش نہ ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے وارنٹ جاری کیے،جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ محمود خان اچکزئی کو گرفتار کر کے 27 اپریل کو پیش کیا جائے۔

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    پیپلز پارٹی کےچیئرمین سابق وزیر خارجہ بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہےکہ محمود اچکزئی کے گھر پر ریڈ ہوا،محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہیں،بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔کیونکہ اس معاملےکی وجہ سے صدارتی الیکشن کو متنازعہ بنانےکی کوشش کی گئی۔قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنا ٹائم محمود خان اچکزئی کو دے دیا۔

    ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،بلاول
    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، پہلے سانحے اور پھر تماشے کی صورت میں ،اپنے خاندان کی تیسری نسل کا نمائندہ ہوں جو اس ہاؤس میں دوسری بار منتخب ہوا، بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے فیصلے لیں کہ یہ ہاؤس مضبوط ہو،قائد حزب اختلاف نے یہ اعتراض کیا کہ ان کی تقریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کیا گیا تو میں یہ کہوں گا کہ ہمیں خان صاحب کی اس روایت کو ختم کرنا چاہیئے، پارلیمان نہ میرا ہے ، نہ انکا ہے، یہ ہم سب کا ہے،شہباز شریف اور سرفراز بگٹی سے اپیل کروں گا کہ محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی تحقیقات کروائی جائیں، کل دونوں جانب سے تقاریر کے دوران جو گالیاں دے رہے تھے ،افسوس ہو رہا تھا، انہوں نے اپنے ہی ادارے ، ملک و جمہوریت کو کمزور کر دیا، اس ہاؤس تک پہنچنے کیلئے ہمارے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،پاکستان کے عوام نے پیغام دیا کہ وہ لڑائیوں سے تھک چکے ہیں، اگر آپ کو مخصوص نشستیں مل بھی جائیں آپ پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے، ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر میں بنیادی نکات عوام تک نہیں پہنچ سکے،فارم 47 یا 45 کی وجہ سے نہیں کارکنوں کے خون پسینے کی وجہ سے یہاں آئے ہیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت میں پیپلز پارٹی کے وزراء نہیں ہیں، جمشید دستی نے بلاول کو لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے وزراء ہونے چاہئیں،بلاول زرداری نے جواب دیا کہ آپ آ جائیں تو ہم بھی آ جائیں گے،بلاول زرداری کاکہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا،اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق میں کچھ وزارتیں تحلیل نہیں ہو سکیں، 18 وزارتوں کو 2015 میں تحلیل ہونا چاہئیے ، ان 18 وزارتوں کا سالانہ خرچہ 328 ارب روپے ہے،سالانہ 1500 ارب روپے کی اشرافیہ کو سبسڈی ملتی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے 18 اضافی وزارتوں اور 1500 ارب روپے کی سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

    انتخابی اصلاحات پر بات کرنی چاہیے، اگلی بار شہباز شریف یا قیدی نمبر 804 انتخابات جیتے توکوئی انگلی نہ اٹھا سکے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی اور انتخابی اصلاحات کی فی الفور ضرورت ہے،اگر عدالتی اور انتخابی اصلاحات ہوتی ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی جمہوریت کو کمزور نہیں کر سکتی،بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو عدالتی اور انتخابی اصلاحات پر مل کر قانون سازی کرنے کی پیشکش کر دی اور کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دھاندلی کا مسئلہ حل ہو تو مل کر بیٹھنا ہو گا، ہم سمجھتے ہیں مل بیٹھ کر انتخابی اصلاحات پر بات کرنی چاہئیے، اگلی بار شہباز شریف یا قیدی نمبر 804 انتخابات جیتے توکوئی انگلی نہ اٹھا سکے،بلاول بھٹو زرداری کے ریمارکس پر سنی اتحاد کونسل نے ڈیسک بجائے.

    بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے دوران جمشید دستی نے شور شرابہ کیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دستی صاحب مجبور نہ کریں کہ میں آپ کے خلاف ایکشن لوں،بلاول زرداری نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی جو بھی کرے گا اس کو سزا دی جائے، اگر عدم اعتماد کے وقت یہ ایوان تحلیل ہوا تو آئین کی خلاف ورزی ہوئی،اگر آپ آئین کی بات کرتے ہیں تو میں کہوں گا کہ آپ ہوتے کون ہیں؟

    قومی اسمبلی اجلاس، سنی اتحاد کونسل کے گوزرداری گو کے نعرے،یہ ایک جملے پر چیخ اٹھے،بلاول
    بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل اراکین نے ایوان میں ہنگامہ کر دیا،سنی اتحاد کونسل اراکین نے گو زرداری گو کے نعرے لگائے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین بلاول بھٹو زرداری کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے، جس پر بلاول زرداری نے کہا کہ یہ بہت جذباتی لوگ ہیں میں کیا کہوں، یہ ایک جملے پر چیخ اٹھے، عوام تنگ آ چکے ہیں، آپکو گالی دینے کے لیے عوام نے ووٹ نہیں دیا۔شورشرابے کے لئے ووٹ نہیں دیا، ووٹ اس لئے دیا کہ ہم معاشی بحران سے بچائیں،اگر یہ لوگ یہاں آئین اور قانون کی باتیں کررہے ہیں تو میں ان کو کہونگا کہ who the hell are you to talk to me like this.میں اس شخص کا نواسہ ہوں جس نے پھانسی چڑھنا پسند کیا لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، بلاول زرداری نے اپوزیشن کو کارٹون قرار دے دیا اور کہا کہ ہم پر اور ان کارٹون پر فرض ہے کہ ہم ملکر اپنا فرض ادا کریں ،اس سے پہلے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرنا شروع کر دیں،شہباز شریف کو اگر آپ وزیراعظم نہیں مانتے تو آپکو انکی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا،سنی اتحاد کونسل کے اراکین سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے الفاظ حذف کرنے کی درخواست کی گئی جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو الفاظ حذف کرنا ہوں گے میں کروں گا،بلاول کا کہنا تھا کہ میں خود مانتا ہوں میرے الفاظ حذف کریں ،ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا،

    سائفر گمشدگی کی تحقیقات اور سزاہونی چاہئے، 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،بلاول

    جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے،تحقیقات اور سزا ہونی چاہئے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنے گھر میں سیکرٹ کاغذات رکھے تو امریکی ایجنسیوں نے اسکے گھر پر چھاپہ مار کر وہ کاغذات برآمد کیے تھے۔اور کیس بنایا، ہم نے یہ نہیں کیا، نہ ہی تجویز دی، قانون کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے، آئین اور قانون کے مطابق گھر پر چھاپہ مار کر سائفر برآمد کیا جا سکتا ہے ،عمران خان کی گرفتاری کے بعد سائفر انٹرنیشنلی پبلش ہوگیا.مسئلہ تب شروع ہوا جب خان صاحب کو گرفتار کیا جاتاہے صحیح یا غلط وہ کیس لڑیں،سائفر کی گُمشدگی قومی سلامتی کو کمپرومائز کر سکتی ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات اور سزا ہونی چاہئیے،سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس اور دیگر اداروں کو جاتی ہے،سوائے وزیراعظم ہاؤس جانے والی کے دیگر کاپیز کا حساب موجود ہے،عمر ایوب صاحب درست کہہ رہے ہیں وزارت خارجہ میں سائفر کی ایک کاپی ہوتی ہے،یہ کاپی اگر کسی دشمن کو مل جائے تو وہ ہمارے کوڈٹریک کرسکتے ہیں، سائفر معاملے کو ذوالفقار علی بھٹو سے منسلک کرنے پر مذمت کرتا ہوں،میں وزیرخارجہ رہا ہوں میں جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے خود مانا کہ ان سے سائفر کی کاپی گم ہوئی،جان بوجھ کر کسی نے سائفر کی کاپی کو غیرملکی جریدے میں چھپوایا،سائفر کے معاملے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تذکرہ ہوا، بھٹو نے کہا تھا وہ پاکستان کے بارے میں بہت راز جانتے ہیں، بھٹو نے کہا کہ وہ یہ راز اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے،امریکہ سے آنے والے سائفر کی وزیر اعظم ہاؤس والی کاپی کی حفاظت نہیں کی جا سکی، خان صاحب نے خود کہا کہ سائفر گم ہوگیا، اگر ایک سائفر دشمن کے ہاتھ لگ جائے تو وہ سارے سائفرز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے،

    بلاول نے 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کوئی ہمارے ادارے پر حملہ کرے اور پاکستان اُس کو بھول جائے، وزیراعظم شہبازشریف سے اپیل ہے 9 مئی سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنائیں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا، جنہیں سزا ملنی چاہئے انہیں سزا ملے،

    ڈرانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں خوف کا وقت گزر چکا،اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سائفر کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنائے، ایک امریکی ڈیپلومیٹ نے حکومت پاکستان کو ڈکٹیٹ کیا، سائفر کو بنیاد بنا کر عمران خان پر مقدمات بنائے گئے، انہیں سزائیں دی گئیں، سنی اتحاد کونسل نے بھی سائفر معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا ،اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ڈرانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں خوف کا وقت گزر چکا،عمران خان کے ساتھ 29 سال گزارے، انہوں نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی، نہ ہمارا لیڈر جھکا، نہ ہم جھکیں گے،میں مر جاؤں گا عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، یہاں جو فارم 47 والے بیٹھے ہیں انھیں انکے بچے بھی ایم این اے نہیں مانتے ، جنکو یہ لگتا ہے کہ عمران خان کوئی آفر قبول کر لے گا تو وہ سن لیں ایسا کچھ نہیں ہوگا، ہمارا کل بھی ایک ہی مقصد اور آج بھی ہم اسی مقصد پر قائم ہیں کہ پاکستان میں آئین و قانون کی علمبرداری ہو

    پنجاب میں ہمارا ورکر زخمی ہوا، آئی جی پنجاب کو ہٹایا جائے،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مریم نواز پر بات کرنے لگے تو ان کا مائیک بند کر دیا گیا، جس پر عمر ایوب اور پی ٹی آئی کے ارکان اسپیکر ڈائس پر چلے گئے جس کے بعد اسپیکر نے ان کو دوبارہ بات کرنے کی اجازت دے دی،عمر ایوب نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہمارا ایک نو عمر سیاسی ورکر زخمی ہوا، آئی جی پنجاب کو ہٹایا جائے، اس معاملے پر ذمے داری وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر عائد کی جائے،میری تقریر براہ راست نہیں دکھائی گئی، میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار تھا، کل میری تقریر بار بار روکی گئی، شہباز شریف کی تقریر نہیں روکی گئی، کیا وہ آسمان سے اترے تھے ان کی تقریر نہیں کاٹی گئی، اس پر میں تحریک استحقاق پیش کر رہا ہوں،جس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ قواعد کے مطابق آپ یہ نہیں کر سکتے،عمر ایوب نے کہا کہ گزشتہ رات صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، ان کے گھر پر چھاپے کے خلاف قرار داد پیش کریں گے اور اس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہاؤس کس طرح چلتا ہے اس کے قواعد لکھ کر ٹیبل پر رکھ دیے ہیں، اس سے زیادہ بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی،

    ہمیں خطرہ ہے پاکستان مالی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائے،خالد مقبول صدیقی
    قومی اسمبلی اجلاس، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ نظام کوبدلنے کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، تجارتی خسارہ اس وقت خطرناک صورتحال اختیار کرچکا، ہمیں خطرہ ہے پاکستان مالی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائے ، 2024 کی اسمبلی میں جو ہو رہا ہے 2018 میں بھی یہی ہوا، یہ شور شرابہ اور احتجاج ثابت کر رہا ہے کہ جمہوریت اپنا وجود کھو رہی ہے،بلاول بھٹو زرداری نے وفاق سے مزید تحلیل کی درخواست کی ہے، اٹھارہویں ترمیم طاقت کی تحلیل کی بجائے طاقت کی مرکزیت کیسے ثابت ہوئی،

    جب ہماری عورتیں جیل میں گئیں کیا جمہوریت کا درس دینے والوں نے ایک لفظ بھی بولا؟بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کل جمہوریت کے لئے بہت ہی افسردہ دن تھا،جمہوریت کا درس دینے والے خود اپنے نانا کی سیاست دفن کر چکے، جب ہماری عورتیں جیل میں گئیں کیا جمہوریت کا درس دینے والوں نے ایک لفظ بھی بولا؟ ہمارے کاغذات نامزدگی چھینے گئے، ہمارے لوگوں کو پابند سلاسل کیا گیا، کیا پیپلز پارٹی میں زرداری کے علاوہ کوئی صدارت کے لائق نہیں ہے؟ جمہوریت ایسے نہیں چلتی، عوام کو ان سے کوئی توقع نہیں، عمران خان کا کوئی بھانجا بھتیجا اس وقت یہاں نہیں بیٹھا، ہمیں پی ٹی وی پر ٹائم نہیں دیا جا رہا، ہمیں بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے،ہماری اصل بات لوگوں تک پہنچ جائے یہی ہمارا مدعا ہے،چیخ و پکار پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا ہے،جب ہم ایوان کے ممبر کی حیثیت سے تقریر کرتے ہیں تو وہ لائیو دکھانا چاہئیے، یہ لوگ ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتے ،ہمارا کہنا ہے کہ ہماری تقریر کو میوٹ کیا جاتا ہے ، ہمارے گھروں پر پولیس گردی ہوئی ہے، ہمارے کارکنوں کو جیلوں میں رکھا گیا ہے،ہمیں ٹارچر کیا گیا ہے، صرف اس لئے تاکہ ہم عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیں، عمران خان کے خلاف سارے کیسز جعلی ہیں، زرداری اور نواز شریف کے خلاف بھی گاڑی لینے پر احتساب ہونا چاہئے،لیول پلینگ فیلڈ بنائیں،

    بلاول ابھی نانا کی سیاست دفن کرکے گیا ، نام کیساتھ بھٹو لگانے سے انسان بھٹو نہیں بن جاتا ،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی عدالت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی ہے کون محب وطن ہے۔ ہم سب سے زیادہ محبت وطن ہے ہمارا لیڈر سب سے زیادہ محب وطن ہے،ہم شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتے، انہوں نے کل نہیں کہا کہ ہماری خواتین کو رہا کرینگے، ان سے تو یوسف رضا گیلانی بہتر تھا جس نے کہا تھا ججز کو آزاد کرائوں گا، یہ جمہوری نہیں،عمران خان نے موروثی سیاست کو ختم کیا، میرے جیسا کارکن چیئرمین تحریک انصاف بنا، انہوں نے ایک ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھنے والوں میں عہدے تقسیم کیے، کیا پیپلز پارٹی میں زرداری کے علاوہ کوئی اور صدارت کا اہل نہیں، یہ جمہوریت نہیں ہے،ہمیں تو درس دیتے ہیں اپنے گریبانوں میں جھانکیں، پی ڈی ایم ون حکومت نے پچاس ارب کے کیس معاف نہیں کروائے، یہ حقیقت ہے، کیا آج یہ کہہ سکتے ہیں؟ اتنا ہی گھمنڈ ہے جمہوریت پر تو بتائیں ایک لفظ ہماری گرفتار خواتین بارے بولا ہے،قیصرہ الہیٰ کا دوپٹہ چھینا گیا کیا انہوں نے ایک لفظ بولا،بلاول ابھی نانا کی سیاست دفن کرکے گیا ہے نام کیساتھ بھٹو لگانے سے انسان بھٹو نہیں بن جاتا بھٹو کی سیاست اب گزر چکی ہے.وہ ہار کہاں گئے جو سوئس میں پڑے تھے، یہ ہمیں 30 نشستیں بھی نہیں دے رہے تھے، جو 91 آئے ہیں اس لیے آئے کہ یہاں دھاندلی کرنا ممکن نہیں تھا، ہمارے تجویز تائید کنندہ گرفتار ہوئے، قیصرہ الہیٰ کا دوپٹہ چھینا گیا، کیا تب بولے.

    لیڈر کے بارے میں غلط بات کریں گے تو آپ کی قیادت کو بھی کوئی نہیں بخشے گا،راجہ پرویز اشرف
    پیپلزپارٹی کے ارکان نے بیرسٹر گوہر کی تقریر کے دوران احتجاج کیا،اس دوران راجہ پرویز اشرف بیرسٹر گوہر پر برس پڑے، راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ جس مقصد کے لیے آئے ہیں وہ پورا کریں یا دنیا کو تماشا دکھائیں،اگر کسی کے لیڈر کے بارے میں غلط بات کریں گے تو آپ کی قیادت کو بھی کوئی نہیں بخشے گا، اپنے دوستوں کو طریقہ اور سلیقہ سکھائیں،ایسے ہی رہا تو یہ کمپنی چلتی نظر نہیں آ رہی۔

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر چھاپہ، قومی اسمبلی میں بھی بات پہنچ گئی

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ میری زندگی کا مال متاع آئین کی بالا دستی ہے،نواز شریف بیس سال اسٹیبلشمنٹ سے لڑتا رہا آپ کی غلط کاریوں کا شکار ہو گیا ،عمران خان، نواز شریف اور بینظیر بھٹو سے رشتہ صرف پارلیمنٹ کی بالادستی کا ہے، محمود خان اچکزئی بولنا شروع ہوئے تو قومی اسمبلی سے انکی تقریر دکھانا بند کردی گئی ،اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ محمود خان صاحب کل کیا واقعہ ہوا وہ بتائیں؟

    محمود اچکزئی کے گھر چھاپے کی مذمت کرتا ہوں،بلاول
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا ہے کہ مجھے پتہ چلا ہےکہ محمود اچکزئی کے گھر پر ریڈ ہوا،محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہیں،بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔کیونکہ اس معاملےکی وجہ سے صدارتی الیکشن کو متنازعہ بنانےکی کوشش کی گئی۔قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنا ٹائم محمود خان اچکزئی کو دے دیا۔بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، پہلے سانحے اور پھر تماشے کی صورت میں ،اپنے خاندان کی تیسری نسل کا نمائندہ ہوں جو اس ہاؤس میں دوسری بار منتخب ہوا، بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے فیصلے لیں کہ یہ ہاؤس مضبوط ہو،قائد حزب اختلاف نے یہ اعتراض کیا کہ ان کی تقریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کیا گیا تو میں یہ کہوں گا کہ ہمیں خان صاحب کی اس روایت کو ختم کرنا چاہیئے، پارلیمان نہ میرا ہے ، نہ انکا ہے، یہ ہم سب کا ہے،شہباز شریف اور سرفراز بگٹی سے اپیل کروں گا کہ محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی تحقیقات کروائی جائیں، کل دونوں جانب سے تقاریر کے دوران جو گالیاں دے رہے تھے ،افسوس ہو رہا تھا، انہوں نے اپنے ہی ادارے ، ملک و جمہوریت کو کمزور کر دیا، اس ہاؤس تک پہنچنے کیلئے ہمارے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،پاکستان کے عوام نے پیغام دیا کہ وہ لڑائیوں سے تھک چکے ہیں، اگر آپ کو مخصوص نشستیں مل بھی جائیں آپ پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے، ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر میں بنیادی نکات عوام تک نہیں پہنچ سکے،فارم 47 یا 45 کی وجہ سے نہیں کارکنوں کے خون پسینے کی وجہ سے یہاں آئے ہیں،

    محمود اچکزئی،ذاتیات پر بات نہ کریں دور تک چلی جائیگی، وزیراعظم شہباز شریف
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی آپ سینئر سیاستدان ہیں آپکا احترام کرتا ہوں لیکن ذاتیات پر بات نہ کریں۔ اگر ذاتیات کی بات ہوتی تو بات بہت دور تک چلی جائیگی۔

    تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے محمود خان اچکزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب میں عامر ڈوگر اور سردار لطیف کھوسہ عمران خان سے ملنے گئے تو 200 دن کی قید کے بعد بدن میں گولیاں کھانے کے بعد ،اپنے گھر پر حملے کے بعد ،ظلے شاہ کھونے کے بعد، 1500 سالہ تاریخ میں پہلی بار نکاح کرنے پر سزا کے باوجود ،ارشد شریف کھونے کے بعد اور بہت ساری قربانیوں کے بعد بھی عمران خان نے جیل کے اندر سے پیغام دیا کہ میں فتح مکہ کے ماڈل پر یقین رکھتا ہوں ۔

    محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کی جانب سے صدارتی امیدوار بنے تو انکے لئےبھی مشکلات کھڑی ہو گئیں، گھر پر چھاپے کی مبینہ اطلاعات ہیں،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے اور ایک محافظ کی گرفتاری کا الزام عائد کیا ہے جبکہ انتظامیہ نے تردید کی ہے

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری عبدالرحیم نے نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ محمود خان اچکزئی کے کوئٹہ میں موجود رہائش گاہ پرچھاپا مارا گیا اور محمود خان اچکزئی کے ایک محافظ کو گرفتار کیا گیاہے،انہوں نے ملک گیراحتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں خطاب کی سزادی گئی ہے

    جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کی جانب سے بھی محمود خان اچکزئی کے گھر پر مبینہ چھاپے کی مذمت کی گئی ہے۔ ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا تھا کہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر پر پولیس چھاپہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔نئے لاڈلے پارلیمنٹ میں دلیل کی بنیاد پر بات کرنے کی بجائے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں ۔دھاندلی زدہ حکمران سیاسی وطیرہ اپنائیں ،کچھ اقدار کا خیال رکھیں ۔کٹھ پتلی حکمرانوں کی بوکھلاہٹ ان کے انجام کی خبر دیتی ہے ۔حکمران طبل جنگ بجانے سے قبل اپنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھیں ۔امن وامان قائم رکھنے میں ناکام ادارے اپنا غصہ شہریوں پر چھاپے مار کر نکالتے ہیں ۔محمود خان اچکزئی کے گھر کے تقدس کو پامال کیا گیا ۔

    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا ہے کہ کل محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، محمود اچکزئی کے گھر سے دو گارڈز کو اٹھایا گیا، جس کی مذمت کرتے ہیں،محمود اچکزئی اس چھاپے کیخلاف قرارداد پیش کریں گے، تحریک انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی کے گھر چھاپہ آئین کی بالادستی کی بات کا ردعمل ہے، پولیس کا چھاپہ انتخابی دھاندلی کےحقائق بیان کرنے پر ردعمل ہے، آئین قومی اسمبلی فلور پر تقاریر کو آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے،تحریک انصاف کے مطابق منتخب کردہ نمائندے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا پارلیمان کی توہین ہے، الیکشن کمیشن متعصب رویے سے قانون پامال کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں،محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے،الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری انجام دینے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے،

    دوسری جانب سابق نگران وزیراطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، انتظامیہ نے مالک کی شکایت پر محمود خان اچکزئی کے گھر کے سامنے موجود ان کے پلاٹ پر سے قبضہ واگزا کرونے کیلئے کارروائی کی تھی۔

    ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے مطابق کوئٹہ کی کواری روڈ پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے صدارتی امیدوار محمودخان اچکزئی کی رہائش گاہ کےقریب خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا گیا ہے محمودخان اچکزئی نےڈھائی کنال سرکاری اراضی پر چار دیواری لگاکر قبضہ کر رکھا تھا، کار سرکار میں مداخلت اور اسسٹنٹ کمشنر پر اسلحہ تاننے پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے

    محمود اچکزئی کو نامزد کر کے عمران خان نے زبردست پیغام دیا ،علی محمد خان

    انتخابی دھاندلی، پی ٹی آئی کا احتجاج،کئی رہنما ،کارکنان گرفتار

    محمود اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

    پی ٹی آئی کی لیڈرشپ چار چار جماعتوں کی منکوحہ رہی،خواجہ آصف