Baaghi TV

Tag: اڈانی

  • اڈانی گروپ کو بڑا دھچکا،کینیا نے معاہدے منسوخ کر دیئے

    اڈانی گروپ کو بڑا دھچکا،کینیا نے معاہدے منسوخ کر دیئے

    امریکہ سے اڈانی کے وارنٹ، کینیا نے اڈانی گروپ سے معاہدے منسوخ کر دیئے

    کینیا کے صدر ولیم روٹو نے قوم سے خطاب میں بھارتی کمپنی اڈانی گروپ کے ساتھ تمام مجوزہ معاہدوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان معاہدوں میں بجلی کی ترسیل اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع جیسے بڑے منصوبے شامل تھے۔ کینیا کی حکومت نے 700 ملین ڈالر کے پاور ٹرانسمیشن معاہدے اور 1.8 بلین ڈالر کے ہوائی اڈے کی توسیع کے منصوبے کو ختم کر دیا ہے۔

    کینیا کےصدر روٹو نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ میں اڈانی گروپ کے خلاف رشوت ستانی کے سنگین الزامات کے بعد کیا گیا ہے۔ اڈانی گروپ کو کینیا کے اہم ہوائی اڈے کا کنٹرول دینے کے منصوبے کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح، توانائی کی وزارت کے تحت اڈانی گروپ کے ساتھ ہونے والے 30 سالہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدے کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، جو کینیا میں بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے متعلق تھا۔

    کینیا کے صدر روٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فیصلہ نئی معلومات اور تفتیشی ایجنسیوں کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کینیا کے اس اقدام کو اڈانی گروپ کے لیے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، اور اب سب کی نظریں اڈانی گروپ کے ردعمل اور کینیا کی حکومت کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

    کینیا سے معاہدے کے تحت اڈانی گروپ کو ایک اضافی رن وے اور ٹرمینل تعمیر کرنے کے عوض ہوائی اڈے کو 30 سال تک چلانے کے حقوق حاصل ہونا تھےاس مجوزہ ڈیل کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھاجس کے باعث اڈانی مخالف مظاہرے ہوئے، کینیائی ہوائی اڈے کے کارکنوں نے ہڑتال کی۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ اس ڈیل کے نتیجے میں کام کے حالات مزید خراب ہوں گے اور بعض صورتوں میں ملازمتوں کا نقصان ہو گا،اڈانی گروپ کو مشرقی افریقہ کا کاروباری مرکز سمجھے جانے والے ملک کینیا میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کی تعمیر کا معاہدہ بھی دیا گیا تھا۔

    دوسری طرف اڈانی گروپ کے بحران نے اسٹاک مارکیٹ کو بڑا دھچکا دیا۔ صرف ایک دن میں مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو 5.35 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جو بھارت کے سالانہ دفاعی بجٹ کے برابر ہے۔ اڈانی گروپ کی کمپنیوں کی مالیت 14.31 لاکھ کروڑ روپے سے کم ہو کر 12.10 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی۔ گوتم اڈانی دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 22ویں مقام سے 25ویں پر آ گئے ہیں۔

  • امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر کی رشوت دی اور سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے ان کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

    اڈانی کے وارنٹ جاری ہونے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کرائن جین پیئر نے کہا ہے کہ "ہم اڈانی پر لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں۔ ان الزامات کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ انصاف سے رجوع کرنا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور یہ تعلقات مستقبل میں بھی برقرار رہیں گے۔

    نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی سمیت آٹھ افراد پر اربوں روپے کے فراڈ اور رشوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے اٹارنی کے دفتر کا کہنا ہے کہ اڈانی نے ہندوستان میں شمسی توانائی سے متعلق ایک معاہدہ حاصل کرنے کے لیے حکام کو 265 ملین ڈالر (تقریباً 2200 کروڑ روپے) کی رشوت دی۔

    اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور جرم ثابت ہونے تک ملزمان بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔ گروپ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

    کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ایک بار پھر گوتم اڈانی کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف کانگریس تک محدود نہیں بلکہ "انڈیا” اتحاد اس مسئلے پر ایک ساتھ کھڑا ہے اور پارلیمنٹ میں بھی متحد ہوگا۔

    راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گوتم اڈانی کو گرفتار کیا جائے، ان سے تفتیش کی جائے، اور جو لوگ اس سازش میں ملوث ہیں، انہیں بھی پکڑا جائے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آئے گا۔”راہول گاندھی نے مزید کہا کہ امریکہ میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ گوتم اڈانی نے بھارتی اور امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، لیکن حیرت ہے کہ وہ ابھی بھی بھارت میں آزاد گھوم رہے ہیں۔”یہ حیران کن بات ہے کہ اڈانی جیسے شخص نے دونوں ممالک کے قوانین توڑے، پھر بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔”

    راہول گاندھی نے اڈانی کے معاملے میں جے پی سی (جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی) کے قیام کی اپنی پارٹی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے اڈانی کی مبینہ محافظ مدهابی بچ کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ اڈانی کو آج ہی گرفتار کیا جائے اور مدهابی بچ، جو اڈانی کی محافظ بنی ہوئی ہیں، کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ جے پی سی کی تشکیل کا ہمارا مطالبہ اپنی جگہ برقرار ہے۔”راہول گاندھی نے انڈیا اتحاد کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف کانگریس کا نہیں بلکہ پورے اتحاد کا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کے اندر بھی تمام جماعتیں اس مسئلے پر متحد ہوں گی۔بھارت میں اڈانی کا کچھ نہیں کیا جا سکتا، چیف منسٹر دس 15 کروڑ میں اندر چلے جاتےہیں اور اڈانی نے دو ہزار کروڑ کا دھوکہ کیا لیکن کچھ نہیں ہو رہا کیونکہ مودی اسکے ساتھ ملا ہوا ہے،اڈانی پاور،مودی پاور پتہ نہیں کون سا چل رہا ہے،دونوں ایک ہیں.

    واضح رہےکہ بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

  • بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد

    بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

    امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے مشرقی نیویارک کے دفتر میں ایک اہم کیس سامنے آیا جس میں بھارتی کاروباری گروپ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی گرینڈ جیوری نے گوتم ایس اڈانی، ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین، رنجیت گپتا، سائریل کابانیز، سوربھ اگروال، دیپک ملہوترا، اور روپیش اگروال کے خلاف فرد جرم پیش کی ہے۔الزامات میں بھارتی حکومتی اہلکاروں کو رشوت دے کر قابل منافع شمسی توانائی کے معاہدے حاصل کرنا۔ امریکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو کمپنی کی انسداد رشوت پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کرنا۔امریکی حکومت کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش شامل ہیں،الزامات امریکی قوانین کے مختلف دفعات سیکیورٹیز فراڈ،منی لانڈرنگ،تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا،رشوت ستانی کے الزامات کے تحت عائد کیے گئے ہیں،

    یہ کیس بھارت میں ایک قابل تجدید توانائی کمپنی اور اس کی کینیڈین شراکت دار کے مبینہ غیر قانونی کاموں پر مبنی ہے، جس میں بھارتی حکومتی اہلکاروں سے شمسی توانائی کے بڑے معاہدے حاصل کرنے کے لیے رشوت دی گئی۔ مزید برآں، کمپنی نے اپنے مالی معاملات کے حوالے سے امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو بھاری مالی جرمانوں، جائداد ضبطی، اور طویل مدتی قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔یہ کیس بھارت اور امریکہ کے درمیان کاروباری تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں۔

    امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق اڈانی گروپ نے 3 بلین ڈالر کے قرضے اور بانڈز حاصل کرنے کے لیے اپنی بدعنوانی کو چھپایا۔ کیس کی تفصیلات میں کہا گیا کہ ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں کو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے راغب کیا اور رشوت کی ادائیگی کو پوشیدہ رکھا،نیویارک کے بروکلین میں پراسیکیوٹرز نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ اڈانی اور دیگر ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈز اکٹھا کرنے کے منصوبے کے بارے میں جھوٹ بولا۔ پانچ نکاتی فرد جرم میں ساگر آر اڈانی، وینیت ایس جین اور دیگر افراد، جو امریکہ، سنگاپور اور ہندوستان میں مقیم ہیں، ایک آسٹریلوی شہری اور آندھرا پردیش کے ایک سرکاری اہلکار، جن کی عدالتی دستاویزات میں ’فارن آفیشل 1‘ کے طور پر شناخت کی گئی ہے، پر امریکی وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ایسٹ ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے امریکی اٹارنی بریون پیس نے بیان میں کہا، ملزمان نے ہندوستانی سرکاری حکام کو رشوت دینے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ تیار کیا تاکہ اربوں ڈالر کے معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔

    بلومبرگ کے مطابق، امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا اڈانی گروپ نے رشوت دی اور کمپنی کے ارب پتی بانی کے طرزِ عمل میں بھی بدعنوانی شامل تھی۔ ملزمان نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک شواہد مٹا دیے اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور ایف بی آئی کے نمائندوں سے جھوٹ بولا۔ ایس ای سی نے ایک علیحدہ دیوانی مقدمہ بھی دائر کیا۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اڈانی خاندان اور اڈانی گرین انرجی کے سابق سی ای او وینیت جین نے قرضوں اور بانڈز کی شکل میں 3 بلین ڈالر سے زیادہ رقم اکٹھی کی، جبکہ اپنی بدعنوانی کو قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے چھپایا۔فرد جرم کے مطابق، کچھ سازشی افراد نے نجی طور پر گوتم اڈانی کے لیے ’نومرو اونو‘ اور ’بِگ مین‘ جیسے کوڈ نام استعمال کیے، جبکہ ساگر اڈانی مبینہ طور پر اپنے موبائل فون کے ذریعے رشوت سے متعلق تفصیلات کا پتہ لگاتے رہے۔

    کیس اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دوسری کمپنی کے درمیان 12 گیگا واٹ شمسی توانائی ہندوستانی حکومت کو فروخت کرنے کے معاہدے کے گرد گھومتا ہے۔ امریکی فرد جرم کے مطابق، انہوں نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں کو کئی ارب ڈالر کے اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے جھوٹے ریکارڈز بنائے، جبکہ بھارت میں حکومتی عہدیداروں کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رشوت دی یا دینے کا منصوبہ بنایا۔اسی دوران، ایک دیگر دیوانی کارروائی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اڈانی اور دو دیگر ملزمان پر امریکی سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ریگولیٹر مالی جرمانے اور دیگر پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایس ای سی کے انفورسمنٹ ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر سنجے وادھوا نے اے پی کو بتایا کہ گوتم اور ساگر اڈانی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلا کر اپنی کمپنی کے بانڈ خریدنے پر آمادہ کیا کہ نہ صرف اڈانی گرین کے پاس ایک مضبوط اینٹی برائبری کمپلائنس پروگرام موجود تھا بلکہ کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ نے کبھی رشوت دینے کا وعدہ نہیں کیا اور نہ کرے گی۔

    ایس ای سی نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف مقدمہ اینٹی فراڈ قوانین کی خلاف ورزی پر دائر کیا ہے، جس میں مستقل پابندیاں، جرمانے، اور افسران و ڈائریکٹرز کے عہدوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ اسی طرح، سائریل کبینیس کے خلاف مقدمہ FCPA کی خلاف ورزی پر دائر کیا گیا ہے۔اس مقدمے کی تحقیقات میں امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی، اور دیگر اداروں کی مدد شامل ہے۔ مقدمات امریکی ریاست نیویارک کے مشرقی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں دائر کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ افراد پر کریمنل چارجز بھی عائد کیے گئے ہیں۔یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ SEC اور امریکی حکام عالمی سطح پر کارپوریٹ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔