Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • ،فیض حمید کا اوپن کورٹ ٹرائل کریں،علیمہ خان کا مطالبہ

    ،فیض حمید کا اوپن کورٹ ٹرائل کریں،علیمہ خان کا مطالبہ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ
    القاد رکیس میں جج صاحب بھاگ رہے ہیں ضمانت کو سن نہیں رہے ہیں،

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے واضح کہا ہے کہ سنگجانی میں جلسہ ہو گا، عمران خان نے کہا ہے کہ 8 فروری کو خواتین کا اہم کردار تھا، چونکہ خواتین کو اپنے بچوں کا مستقبل نظر آرہا ہوتا ہے، نومئی کو خواتین کے ساتھ ظلم ہوا ، عالیہ حمزہ پر بہت ظلم ہوا ان کو متعدد جیلوں میں گھمایا گیا، اب بھی عالیہ حمزہ کو دھمکیاں مل رہی ہیں،8 فروری کی سونامی 8 ستمبر تک پہنچ گئی ہے ، 8 فروری مائیں نکلی تھیں 8 ستمبر کو بھی نکلیں گی،حکمرانوں کے لائف اسٹائل کی قیمت ہم سب کو بھگتنا ہو گی، ملک کے حالات مزیدخراب ہونے جارہے ہیں،فیض حمید کا اوپن کورٹ ٹرائل کریں تاکہ ہم بھی دیکھیں ہمارے بھائی پر اور کون سا مقدمہ بنانا ہے،8 ستمبر کو کوئی بہانہ نہیں چلے گا بس سب نے ہر حال میں جلسہ گاہ پہنچنا ہے.

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

  • سزائے موت کے قیدی کی سہولیات مجھے ملی ہوئی ہیں،عمران خان

    سزائے موت کے قیدی کی سہولیات مجھے ملی ہوئی ہیں،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، 3 ملاقاتوں کے علاوہ سیل میں ہی رہتا ہوں، میرا سیل اوون بن جاتا ہے، کبھی نہیں کہا کہ مشکل ہے،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ صرف سُپریم کورٹ ہی ایک شناخت بچی ہے،اب یہ اُسے تباہ کرنے جا رہے ہیں،جب بھی انہوں نے سُپریم کورٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہم ملک بھر میں سٹریٹ موومنٹ شروع کریں گے،قوموں کو تباہ کرنے کیلئے دشمن کے حملے کی ضرورت نہیں ہوتی،اداروں پر کرپٹ اور نااہل لوگ بٹھا دیے جائیں تو قوم تباہ ہو جائے گی،پاکستان کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش سے وائٹ واش ہوگئی اس سے بری اور شکست کیا ہوگی،ایسا کون سا ایٹم بم پھٹا کہ تین سال میں ہماری کرکٹ بنگلہ دیش سے نیچے اور تباہ ہو گئی، کرکٹ ایک ٹیکنیکل کھیل ہے اس پر آپ نے سفارشی بٹھا دیے محسن نقوی کی کیا قابلیت ہے ؟رمیز راجہ میرا رشتہ دار نہیں تھا ایک پروفیشنل کرکٹر تھا جسے میں نے چیئرمین پی سی بی بنایا، اب بڑے صاحب نے اپنا چیئرمین پی سی بی رکھ لیا یہ کرپٹ اور فراڈیا ہے، اس نے الیکشن کا فراڈ کیا،گندم فراڈ کیا،اسے وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی بڑے صاحب نے اپوائنٹ کیا،اس نے کرکٹ کا بیڑا غرق کر دیا ہے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے اڑھائی ماہ سے نیب ترامیم اپیل کا فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے، انتظار کیا جا رہا ہے کہ مجھے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا ہو تو وہ نیب ترامیم کا فیصلہ سنائیں، نیب ترامیم اپیل کے باعث شہباز شریف کے 4 نواز شریف کے 5زرداری اور اس کے فرنٹ مینوں کے 9 ریفرنس فریز ہوئے پڑے ہیں، نیب نے القادر یونیورسٹی کا ڈونیشن بند کر دیا ہے تاکہ یہ یونیورسٹی بند ہو جائے، اگر القادر یونیورسٹی بند ہو گئی تو میرا کوئی نقصان نہیں ہوگا،اگر شوکت خانم اسپتال بند ہو گیا تو مریضوں کو 10 گنا زائد خرچ کر کے علاج کرانا پڑے گا، نمل یونیورسٹی میں 90 فیصد طلبہ مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں، میری بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی،صرف اس کی شکایت کی،اسی کی مجھے تکلیف ہے، میں ایک دن بھی جیل میں ہسپتال نہیں رہا، نواز شریف،شہباز شریف اور آصف زرداری کو ایئر کنڈیشن کمرے،اٹیچ باتھ دیئےگئے تھے، قیدی میرے لئے کھانا بناتا ہے میں نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی،نواز شریف 40 لوگوں کو ملتا تھا اس کے لیے اوپن ہاؤس ہوتا تھا، نواز شریف صحافیوں سے بھی اپنے کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتا تھا، ہفتے میں 3 ملاقاتوں کے علاوہ مجھے تمام وقت اپنے سیل میں گزارنا ہوتا ہے، مجھے نہانے کے لیے بھی دوسرے کمرے میں جانا پڑتا ہے،پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ فائیو اسٹار سہولیات دی گئی ہیں، میرے پاس وہی سہولیات ہیں جو سزائے موت کے قیدی کو ملتی ہیں، سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں، حق ہے کہ اوپن کورٹ میں صحافیوں سے بات کر سکوں، عدلیہ واحد ادارہ ہے جس سے اُمید ہے،پولیس اور نیب کے ادارے کو ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، راولپنڈی کے کمشنر نے سچ باتیں کیں تو اس کو غائب کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اگر بے گناہ ہوتے تو لازمی راولپنڈی کمشنر کو اپنی عدالت میں بُلاتے،

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • اڈیالہ جیل میں آج پھر صحافیوں کو کوریج سے روک دیا گیا

    اڈیالہ جیل میں آج پھر صحافیوں کو کوریج سے روک دیا گیا

    اڈیالہ جیل میں آج پھر صحافیوں کو کوریج سے روک دیا گیا۔

    اڈیالہ جیل میں آج 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ہورہی ہے۔جیل انتظامیہ نے صرف 5 رپورٹرز کو کوریج کی اجازت دے دی۔مختلف چینلز کے 7 سے 8 رپورٹرز کو جیل کے باہر روک دیا گیا۔جی ٹی وی، جیو نیوز، 92 نیوز، ایک نیوز، جی این این اور پبلک نیوز کے رپورٹر کو کوریج اجازت نہیں دی گئی۔صحافی قمر میکن کے مطابق جیل انتظامیہ نے صرف سماء نیوز، ایکسپریس نیوز، سنو نیوز، اے آر وائی نیوز اور دنیا نیوز کو کوریج کی اجازت دی۔جیل انتظامیہ گزشتہ چار پانچ سماعتوں سے صحافیوں کو کوریج کی اجازت نہیں دے رہی۔جیل انتظامیہ صحافیوں کو کوریج سے روکنے کی وجوہات بھی نہیں بتارہی۔

    واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے کیسزکی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے ،صحافی کوریج کے لئے جاتے ہیں،گزشتہ کئی سماعتوں سے صحافیوں کو کوریج سے روکا جا رہا ہے، عمران خان نے بھی کئی بار عدالت میں اس معاملے کو اٹھایا،

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

  • بات اُن کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں،عمران خان

    بات اُن کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں 2 نئی انٹریاں ہونے والی ہیں، ایک انٹری اُس یوٹرن پر ہوگی جس میں "ووٹ کو عزت دو” کا کہہ کر "بُوٹ کو عزت” دی گئی

    عمران خان کا کہنا تھا کہگینز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں دوسری اینٹری اس پر ہوگی کہ نوازشریف چاروں امپائروں کو ساتھ ملا کر کھیلا پھر بھی ہارگیا، دوسری پارٹی کو میچ کھیلنے ہی نہیں دیا گیا، نواز شریف کو جتانے کیلئے 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے، پتن کی رپورٹ ہے یاسمین راشد سے جتانے کیلئے نواز شریف کو 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے، نواز شریف اڑھائی سال تک "ووٹ کو عزت دو” کا کہتے رہے،فوج اور مارشل لاؤں پر تنقید کرتے رہے، جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے تویہ 9 مئی کا شور مچاتے ہیں، 9مئی ان کی انشورنس پالیسی ہے، 9مئی ختم ہوا تو ان کی حکومت اور سیاست دونوں ختم ہوجائیں گے،جمہوریت کی باتیں کرنے والے بُوٹ کے آگے لیٹ گئے ہیں،9مئی کی تحقیقات کرنی ہیں تو اس کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،مجھے اغواء کرنے کا جس نے حکم دیا اور جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی 9 مئی کی سازش اُسی نے کی ہے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کی حکومت سے مذاکرات کی بات چل رہی ہے،بات چیت کیلئے ہمیشہ تیار ہیں،بات چیت کو کبھی نا نہیں کی ہے، بات اُن کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں، جو ان کو لیکر آئے ہیں،ان سے بات کرنا الیکشن میں ان کے ڈاکے کو تسلیم کرنا ہے،

    عمران خان نے 8 ستمبر کے اسلام آباد جلسہ کے 3 مقاصد بتا دیئے،عمران خان کا کہنا تھا کہ جلسے کے مقاصد چوری کیا ہوا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو واپس کیا جائے،قبضہ گروپ سے ملک کو حقیقی آزادی دلانا ہے،ملک میں آزاد عدلیہ ہے،شامل ہیں،عمران خان کا کہنا تھا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بننا پاکستان کیلئے اعزاز ہوگا،اگر چانسلر نہ بن سکا تو بھی کوئی بات نہیں،پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ میں اس مقام تک کوئی نہیں پہنچا جہاں میں پہنچا ہوں، پاکستان میں سب سے بڑا philanthropist میں ہوں، ہم نے 2 ہسپتال بنائے،2 یونیورسٹیاں بنائیں،ایک یونیورسٹی بن رہی ہے،

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • خیبرپختونخوا حکومت فیصلہ سازی میں مراد سعید کے اہم کردار کا انکشاف

    خیبرپختونخوا حکومت فیصلہ سازی میں مراد سعید کے اہم کردار کا انکشاف

    تحریک انصاف کے روپوش رہنما مراد سعید اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے مابین رابطے کا انکشاف سامنے آیا ہے

    مراد سعید نومئی کے واقعات کے بعد سے روپوش ہیں، مراد سعید کا ٹویٹر اکاؤنٹ ایکٹو رہتا ہے تا ہم مراد سعید خود سامنے نہیں آتے، مراد سعید کی کئی بار گرفتاری کے لئے چھاپے مارے گئے لیکن وہ گرفتار نہ ہو سکے،اب انکشاف سامنے آیا ہے کہ مراد سعید روپوشی کے دوران پارٹی میں نہ صرف متحرک ہیں بلکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت دیگر پارٹی قیادت سے رابطے میں ہیں،خیبر پختونخوا حکومت میں فیصلوں کے لئے مرادسعید سے بھی رائے لی جاتی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روپوش مرادسعید نے عاطف خان اور شکیل خان کو عہدوں سے ہٹانےکی تحریک شروع کی ،مراد سعید نے ہی علی امین گنڈاپور کو شکیل خان کے معاملات پر سخت ردعمل دینے پر آمادہ کیا،تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کے پیچھے بھی مراد سعید کا کردار ہے اور مراد سعید مخالف گروپ کے رہنما کی عمران خان سے ملاقات کرانے پر مشعال یوسفزئی کو بھی ہٹایا گیا

    مراد سعید عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس پر مراد سعید کو عدالتوں نے اشتہاری قرار دے رکھا ہے،

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں عمران خان اور مراد سعید کا تذکرہ

    نومئی مقدمہ، مراد سعید،اعظم سواتی، زبیر نیازی سمیت پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

  • اڈیالہ جیل میں قیدی ایک بار پھر لڑ پڑے، ایک زخمی

    اڈیالہ جیل میں قیدی ایک بار پھر لڑ پڑے، ایک زخمی

    اڈیالہ جیل میں قیدی ایک بار پھر لڑپڑے ، ایک قیدی زخمی ہو گیا

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی آپس میں لڑائی کی آئے روز خبریں آتی رہتی ہیں، اب اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ایک بار پھر لڑائی ہوئی ہے،اس لڑائی کے دوران ایک قیدی زخمی ہو گیا ہے،واقعہ کے بعد اڈیالہ جیلکے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عمران شہزاد کی مدعیت میں حوالاتی آتش حسین کے خلاف مقدمہ درج کروادیا گیا ہے،مقدمہ تھانہ صدر بیرونی میں درج کیا گیا ہے،مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ لڑائی کا واقعہ 29 اگست کو مسجد کے قریب پیش آیا، قتل کے مقدمہ میں گرفتار حوالاتی آتش حسین کا حوالاتی انجم سے کسی بات پر لڑائی جھگڑا ہوا، اس دورا آتش حسین نے خود ساختہ کٹر کے وار سے انجم کے گردن،سر اور کندھے کو زخمی کیا، زخمی حوالاتی کا طبی معائنہ بھی کروا لیا گیا ہے چیف وارڈر نواب خان اور وارڈر ریاض اقبال واقعہ کے گواہ ہیں،

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان، بشریٰ بی بی بھی قید ہیں، جیل کے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    قبل ازیں 29 جون کو بھی اڈیالہ جیل میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا،قیدی آپس میں لڑ‌پڑے ، ایک قیدی زخمی ہو گیا، واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا،جیل میں بنائے گئے کٹر کے وار سے ایک قیدی شدید زخمی ہو گیا، تھانہ صدر بیرونی پولیس نے اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عامر شہزاد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔ مقدمے میں3حوالاتیوں حماد صدیق،شاہ ویز اور شمس کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، درج مقدمے میں کہا گیاکہ حوالاتی حماد صدیق بارک 1سے 8گیا،شاہ ویز اور شمس سے جھگڑے بارے صلاح مشورہ کیا،حوالاتی شمس بارک 1،کمرہ 2سے صائم کو بلا کر برآمدے لایا۔ حوالاتی حماد صدیق،شاہ ویز نے خود ساختہ کٹر سے صائم پرحملہ کرکےناک پیشانی اور بازو کو زخمی کیا۔مقدمے میں ایس جی وارڈرعدیل شہزاد،چیف ہیڈ وارڈر فیاض احمد کو گواہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے،مقدمے میں تین حوالاتیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ آئے روز اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے آپس میں لڑنے کے واقعات سامنے آتے ہیں، قیدیوں سے ملنے کے لئے آنے والے افراد سے منشیات بھی برآمد ہوتی ہے،اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل اڈیالہ کے مطابق چند روز قبل حوالاتی ماجد سے ملاقات کے لیے اعجاز خان آیا،تلاشی کے دوران ملاقاتی سے منشیات اور سم ملی ، واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا،ملاقاتی سے دوران تلاشی بٹوا سے 10گرام چرس اور ایک عدد موبائل فون سم برآمد ہوئی،واقعہ کا مقدمہ تھانہ صدر بیرونی پولیس نے درج کر لیا

  • عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ کر لیا

    آکسفورڈ یونیورسٹی کی گورننگ باڈی کی جانب سے 300 سال کی روایت کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق سیاست دانوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا نیا چانسلر بننے سے روک دیا جائے گا۔آکسفورڈ کے ماہرین تعلیم کو بھیجی گئی اور برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو لیک ہونے والی ایک ای میل میں، یونیورسٹی کے رجسٹرار گیلین ایٹکن نے کہا کہ سیاست میں سرگرم افراد کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے سے روکا جائے گا

    یونیورسٹی کی کونسل سے نکلنے والے غیر معمولی فیصلے نے سینئر کنزرویٹو کی طرف سے غصے کو جنم دیا اور انتخابی عمل میں تبدیلیوں کے حوالہ سے نئی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں،سابق سینئر سرکاری ملازم ایٹکن کے طے کردہ معیار کی وجہ سے سیاستدان تھریسا مے، بورس جانسن اور عمران خان کے وائس چانسلر کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے جو امیدوار ہیں،

    یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی امیدوار مسز مے کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں رکن پارلیمنٹ کے طور پر دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن وہ کنزرویٹو کے لیے مہم جاری رکھیں گی، اب عمران خان کے لئے بھی مشکل پیدا ہو گئی ہے، عمران خان جیل میں ہیں، سزا یافتہ بھی ہیں، مقدمات بھی ہیں،اور الیکشن لڑنے کے بھی خواہشمند بھی ،وہیں پاکستان کا الیکشن لڑنے کے خواہشمند بھی ہیں، اس ضمن میں عمران خان نے سپریم کورٹ میں نااہلی کے خلاف درخواست جلد سماعت مقرر کرنے کے لئے ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، اب عمران خان کے لئے یہ فیصلہ مشکل ہو گا کہ اگر وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننا چاہتے ہیں تو انہیں سیاست سے دستبردار ہونا پڑے گا بصورت دیگر ان کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے.

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    دوسری جانب کئی برطانوی سیاستدانوں نے کرکٹر سے سیاست دان بننے والے عمران خان کی فروری میں موجودہ لارڈ پیٹن کے استعفیٰ کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کا اگلا چانسلر بننے کی حمایت کی ہے۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم، خان کو 2022 میں ایک متنازعہ عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان پر مقدمات قائم ہوئے، سزائیں بھی ہوئیں اور وہ اب جیل میں ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، عمران خان کو دوسرے امیدواروں سے مقابلے کا سامنا ہے، جن میں "برطانوی سیاست کے باوقار” پیٹر مینڈیلسن اور ولیم ہیگ، یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر لیڈی ایلش انجیولینی، اور مشرقی لندن کے بارٹینڈر ریان احمد شامل ہیں۔اگر لیڈی ایلش جیت جاتی ہیں، تو "وہ اس عہدے کی پہلی خاتون ہوں گی”

    آنے والے انتخابات میں کئی قابل ذکر پہلو شامل ہیں۔ ایک یہ کہ آنے والے چانسلر کو 10 سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جائے گا، دوسرا یہ کہ آکسفورڈ کے طلباء، عملے اور گریجویٹس کے "کانووکیشن” کے ذریعے ووٹنگ آن لائن ہوگی۔ ابتدائی ووٹنگ 28 اکتوبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں ہوگی، اگر امیدواروں کی تعداد 10 سے کم ہے، تو ووٹنگ کا صرف ایک دور ہوگا، اور نچلے درجے کے امیدواروں کو اس وقت تک ختم کردیا جائے گا جب تک کہ ایک امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر لے۔ اگر 10 یا اس سے زیادہ امیدوار ہوں تو ووٹنگ کا دوسرا دور نومبر میں ہوگا۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    تحریک انصاف اور عمران خان کے تابوت میں اگر کوئی کیل ثابت ہوگاتو وہ میری نظرمیں ایک سو نوے ملین پاونڈوالاکیس ہوگا ۔ یہ اتنا بڑا معاملہ کہ اس کے آگے پاناما اورسوئس کیسسز کچھ نہیں ۔بلکہ دونوں بہت چھوٹے ہیں ۔یا یہ کہہ لیں کچھ بھی نہیں ۔پر کیونکہ عمران خان کی میڈیااور سوشل میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ سے اعلی رہی ہے ۔ اس لیے یہ معاملہ اتنا ہائی لائٹ نہیں ہوا ۔میں گزشتہ کئی ماہ سے اس کیس کی سماعت کو فالو کر رہاہوں ۔ مگر ہر باراسٹوری جورپورٹ ہوتی ہے کہ عمران خان نے ایک سو نوے ملین پاونڈ کی پیشی پر الیکڑک برش مانگ لیا۔ ڈیمانڈ کر دی جیو کےرپورٹرکوبلائیں ۔کبھی یہ اسٹوری لگی ہوتی ہے کہ ایکسرسائز کے لیے ڈمبل نہیں دیا گیا کبھی کان میں تکلیف تو کبھی قبض کی شکایت ۔ پراس کیس میں کیا ہوچکا ہےاور کیا ہو رہا ہے اس پر میڈیا کچھ نہیں بتا رہا تو میں اور میری ٹیم نے اس پر پوری ورکنگ کر لی ہےاور اس نتیجے پرپہنچ چکےہیں کہ یہ کیس عمران کے گلے کاپھندہ ہے۔اس کیس میں عمران کرپٹ بھی ثابت ہوتا ہےبلکہ میری نظر میں تو یہ ملک ریاض سےصاف صاف کیک بیکس لینے والا معاملہ ہے۔

    ۔اتنی بڑی کرپشن کااسکینڈل شریف خاندان یاپیپلزپارٹی کےساتھ جوڑا ہوتاتواب تک ان پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہوتی ۔ ان کی نسلوں کو تباہ وبربا دکرنےکےاحکامات جاری ہوچکے ہوتے ۔ ان کے تانے بانے امریکہ سمیت اسرائیل کیا خلائی مخلوق تک سے جوڑ دیے گئے ہوتے ۔ چینلز نان اسٹاٹ اس پر ٹرانسمیشن کر رہے ہوتے ۔ جبکہ سب اینکرز کے روز کا ایک ہی ٹاپک ہوتا ایک سو نوےملین پاونڈ ۔ مگر کیونکہ معاملہ عمران خان ہے اس لیے اسکو پہلے دن سے ڈاون پلے کیا گیا ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ کوئی جج گھرسےمجبور نہ ہوا تو اس معاملے میں عمران خان لمبےاندر جائیں گے اور بڑی سزا ہوگی ۔ کیونکہ بڑے واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں ۔

    ۔میں اتنا یقین سے جو کہہ رہا ہوں ۔اسی کی وجہ ہے سب سے پہلے اس کیس کا پس منظر بتا دیتا ہوں ۔ نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع چار سو اٹھاون کینال، چار مرلے اوراٹھاون مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں عمران خان نے ملک ریاض کو پچاس ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ۔اور یہ معاملہ بالکل واضح ہے صاف ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔ اس کی توانکوئری کی بھی ضرورت نہیں ۔ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ کیونکہ ادھر زمین ٹرانسفرکی گئی ادھر ریلیف دے دیاگیا ۔ بہرحال اکتوبر دوہزاربائیس میں نیب نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ۔ نیب دستاویزات کے مطابق تین دسمبر دوہزارانیس کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی پچاس ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی ۔۔این سی اے۔۔کی جانب سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔ ۔ جبکہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے چھبیس دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا ۔ جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف تین ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس انیس سو ننانوے کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت تین دسمبر دوہزار انیس کے کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ۔اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے تین دسمبر دوہزار انیس کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر دوپر فیصلہ کیا۔ آئٹم نمبر دو کا عنوان تھا۔احمد علی ریاض، ان کے خاندان اور میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کا انجماد اور پاکستان میں فنڈز کی منتقلی کا حکم نامہ۔ ایجنڈا آئٹم شہزاد اکبر نے پیش کیا تھا اور بریفنگ دینے کے ساتھ کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد علی ریاض کو بھی طلب کیا گیا تھا۔آجکل بھی سنا ہے شہزاد اکبر ملک ریاض کے ہی ٹکڑوں پل رہاہے ۔

    ۔ سوال یہ ہےکہ این سی اے کی رقم ملک ریاض کو کیسے واپس ملی؟ دراصل دوہزار انیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایک سونوے ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔ تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو چار سو ساٹھ ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔ اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔ اس حوالے سے دوہزارانیس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں ور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات بھی رازداری میں رکھی گئی تھیں اور این سی اے کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی عوام یا میڈیا کو یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاستِ پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا تھا۔

    ۔یہ سب کچھ مفت میں نہیں کیا گیا بدلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے پچاس ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کینال مالیت کی اراضی حاصل کی۔ ۔ ان کی دونمبر ی کا عالم دیکھیں کہ ساری زندگی عمران خان اور انکی جماعت اس چیز کا پرچار کر تی رہی ہے ۔ کہ ہم نے بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا پیسہ واپس لانا ہے اور جب باہرکے ممالک پاکستان کا لوٹا پیسہ خود واپس کرنے لگے تو انھوں نے کہا نہیں رہنےدیں ہمیں نہیں چاہیئے ۔ میں اور میری بیوی نے بدلے میں زمین لے لی ہے۔ ایسی اسکیم تو کبھی کسی اور جماعت کے ذہن میں نہیں آئی ۔ مطلب یہ واردات ڈال کر عمران خان کرپشن کرنے والوں میں سب سے اعلی درجے پر فائز ہوگئے ہیں ۔

    ۔ اسی وجہ سے عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، بہرحال جب یہ کیس چلا تو ستائیس فروری دوہزار چوبیس کو احتساب عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فردجرم عائد کی ۔ اس سے قبل چھ جنوری دوہزار چوبیس کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے چھ شریک ملزمان ان کے بیٹے علی ریاض ملک، فرحت شہزادی(وہی گوگی جس کو کپتان نے سب سے پہلے بھگایا اور کہا تھا کہ یہ معصوم ہے )، ضیاالاسلام، شہزاد اکبر، زلفی بخاری کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا گیا۔ ملک ریاض نے حاضری سے استثنیٰ اور وڈیو لنک کے ذریعے حاضری سے متعلق دو الگ الگ درخواستیں بھی دائر کیں لیکن دائر دونوں درخواستوں کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔ تئیس جنوری کو عمران خان نےضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس کے بعد چودہ مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کی ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ تحقیقات مکمل ہیں، ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب پراسیکیوٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی شخصیت ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی ریکارڈ ٹیمپرنگ یا ٹرائل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم نیب کے ان تحفظات کے حوالے سے ریکارڈ پر کوئی جواز موجود نہیں ہے، لہٰذا عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اٹھائیس جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں نیب نے استدعا دی کہ سپریم کورٹ اسلام آبادہائی کورٹ کا چودہ مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔پھر سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں ریکارڈ کروایا ۔جس پر یاد ہو تو علی امین گنڈا پور اور یوتھیوں کو بہت مرچیں لگیں تھیں ۔ بلکہ اس دن جو پرویز خٹک نےبیان دیا وہ کہیں ڈسکس نہیں ہوا ۔ پرپرویز خٹک کی نیگٹوکردارسازی چھائی رہی ۔ پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔ سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔ پھر تیرہ جولائی کو عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے، اس نوٹ پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے، نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا۔ اعظم خان کے مطابق شہزاد اکبر نے بتایا کہ اس کانفیڈینشل ڈیڈ کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی ہے، شہزاد اکبر کی اس بات پر فائل کیبنٹ سیکرٹری کو بھجوا دی تاکہ معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جا سکے، میں نے وہ فائل کیبنٹ سیکرٹری کے حوالے کر دی، میں نے کابینہ میٹنگ میں ان کیمرہ اجلاس ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔سابق پرنسپل سیکرٹری نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان پر اپنے دستخط ہونے کی تصدیق کی ۔ اعظم خان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ معاہدے پر ہونے والے دستخط کو میں نے پہچان لیا تھا، معاہدے کے ساتھ ایک خفیہ تحریر موجود تھی جس سے متعلق بتایا نہیں گیا۔ پھر سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال نے احتساب عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر کی جانب سےایک بند لفافہ اضافی ایجنڈے کے طور پیش کیا گیا، اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ضروری طریقہ کار نہیں اپنایا گیا، ضروری تھا کہ اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنےسےقبل ممبران کو بریفنگ دی جاتی ۔ شہزاد اکبر نے زور دیا کہ معاملہ حساس ہے اسےفوری طور پر منظور کیا جائے۔ اضافی ایجنڈےکو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا اور کہا کہ منظوری سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نےبھی کہا تھا کہ اس اضافی ایجنڈے کو منظور کرلیں، صرف اس منطق پر مجھ سمیت کابینہ ممبران نے اس اضافی ایجنڈے کی منظوری دی۔

    ۔ آج تک کی موجودہ صورتحال میں اس ریفرنس میں پینتیس گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔اب چند روز قبل اس ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا بیان سامنے آیا۔میاں عمر ندیم نے بیان دیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی منجمد کرنے کیلئے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے۔ تفتیشی افسر نے کہا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے چار سو اٹھاون کینال چار مرلے اٹھاون مربع فٹ زمین خریدی، خریدی گئی زمین ملزم ذلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد عمران خان سے ذلفی بخاری، شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون ملے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ گیارہ جولائی دو ہزارانیس کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ تین دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ بند لفافے میں کابینہ میں پیش کر کے اس کی منظوری پر اصرار کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفیٰ نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزارت خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی، ٹرسٹ ڈیڈ میں ترمیم کر کے عمران خان ، بشریٰ بی بی اور ذلفی بخاری کو شامل کیا گیا۔ پھر بشریٰ بی بی نے چوبیس مارچ دوہزار اکیس کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں دو سو چالیس کینال اراضی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، مگرعمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت سے متعلق ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ثبوت دینے کیلئے متعدد نوٹسز کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے۔ جبکہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بطور فرنٹ پرسن کام کیا۔ اب سمجھ آیا عمران خان کو یہ گوگی معصوم کیوں لگتی تھی۔

    ۔ یہ سب کچھ شہزاد اکبر اپنے ایماء پر تو کر نہیں سکتےتھے ۔ یقینا عمران خان کی آشیر آباد انکو حاصل تھی ۔ اسی لیے تو ان کو ، زلفی بخاری اورفرح گوگی کو ملک سے ایسے فرار کروایا جیسے مکھن سے بال ۔ کیونکہ پتہ تھا کہ یہ دونوں ان کی حکومت جانےکےبعد روکے تو ضرور گرفت میں آئیں گے اور یہ گرفت میں آئےتو پھر قانون کا ہاتھ عمران خان سمیت بشری بی بی کی گردن تک ضرور پہنچے گا ۔

  • وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، عمران خان

    وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، عمران خان

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کمرہ عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے دوران عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہ میرے لیڈنگ وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کروانے کے لیے کل فون ملایا لیکن وہ موجود نہیں تھے،جب بھی ان کے بیٹوں کو فون ملاتے ہیں وہ دستیاب نہیں ہوتے،

    بانی پی ٹی آئی نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو جج کے سامنے ڈانٹ پلا دی،عمران خان نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو جواب دیا کہ تم پڑھے لکھے آدمی ہو عقل کی بات کرو، بانی پی ٹی آئی نے بیٹوں سے بات کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے دی،عدالت نے جیل انتظامیہ کو بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے کی ہدایت کر دی،ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی.

    پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،عمران خان
    پلان بی بن گیا تو عہدے سے اترتے ہی شہباز شریف بھی مسنگ پرسن ہو جائے گا،عمران خان
    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ جو دہشتگردی ہو رہی ہے یہ پی ٹی آئی کی وجہ سے ہے کیا بلوچستان میں دہشت گردی ہماری وجہ سے ہے؟ بارڈر دہشتگردی ہماری وجہ سے ہے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کی دہشتگردی ہماری وجہ سے ہے ؟ملک بھر میں سٹریٹ کرائم میں اضافہ لوٹ مار کیا ہماری وجہ سے ہو رہی ہے ،‏میں پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،‏جو کچھ ہو رہا ہے بہت برا ہو رہا ہے اس کا نزلہ بھی اسٹیبلشمنٹ پر گر رہا ہے،یہ دہشت گردی پاکستان کو تباہ کر رہی ہے ،‏میرے بیٹوں سے فون پر بات ہی نہیں کروائی جا رہی، عدالت کو درخواست دی ہے عدالت کی جانب سے حکم صادر کر دیا گیا ،‏

    ‏پولیس کہتی ہے کہ اڈیالہ جیل سے ڈپٹی سپریڈنٹ کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ فرار ہو گیا،عمران خان
    چُھپے ہوئے پی ٹی آئی کے کسی بندے کو باہر آنے کا نہیں کہا،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حیرت ہے عون چوہدری ایک لاکھ ووٹوں سے جیت گیا، ‏آٹھ فروری کو ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ،‏میں ساری قوم کو کہتا ہوں 8 ستمبر کو باہر نکلیں جلسے میں شرکت کریں ،فائز عیسی کے جاتے ہی 4حلقے کھلنے ہیں اور یہ حکومت گر جائے گی،‏اگر ان کا پلان بی بن گیا تو عہدے سے اترتے ہی شہباز شریف بھی مسنگ پرسن ہو جائے گا، ‏پولیس کہتی ہے کہ اڈیالہ جیل سے ڈپٹی سپریڈنٹ کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ فرار ہو گیا، یہ کیا ہو رہا ہے،چُھپے ہوئے پی ٹی آئی کے کسی بندے کو باہر آنے کا نہیں کہا،اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہوں، ہمیں جیلوں سے ڈر نہیں لگتا،ہمارے بندے اغواء کرلئے جاتے ہیں،میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانا چاہتا تھا لیکن باجوہ،الیکشن کمیشن اور پیپلز پارٹی نے نہیں لانے دی،

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    جیل میں سختیاں بڑھ گئیں،عمران خان نے چار مطالبات کر دیئے،علیمہ خان کا انکشاف
    دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جب میڈیا سے گفتگو کررہے تھے تو ڈی ایس پی طاہر شاہ نے اُن سے بدتمیزی کی، ہمیں یہ بات پسند نہ آئی، تکلیف ہوئی، بدتمیزی نہ کریں، عمران خان عاجزی سے پیش آتے ہیں، سختیاں بڑھا دی گئی ہیں،ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان کو میڈیا سے بات کرنے سے روکا گیا، پچھلے کئی دنوں سے سختی ہوتی جا رہی ہے،یہ اوپن کورٹ ہے جس میں میڈیا کو ہونا بہت ضروری ہے، عمران خان نے جج سے آج 4 چیزیں مانگی ہیں کہ بچوں سے بات کروائی جائے، جو نہیں کروائی جارہی یہ اسکا حق ہے، دوسراعمران خان کتابیں مانگ رہے ہیں، ہم کتابیں لے کر جاتے ہیں جیل رول کے مطابق کتابیں انکا حق بنتا ہے لیکن کتابیں نہیں پہنچائی جارہیں،تیسرا عمران خان نے کہا کہ ایکسرسائز کیلئے ڈمبل چاہئیں، پولیس والا کھڑا کردیں، میں ورزش کروں گا، 15 منٹ بعد واپس لے جائے،عمران خان نے چوتھی ڈیمانڈ میں کہا کہ ملاقات کی لسٹ دیتا ہوں وہ ملاقاتیں کروائی جائیں، 6 لوگوں کو کہتا ہوں، 2 اندر ہوتے ہیں 3 باہر روک لیتے ہیں،ایسا نہیں ہونا چاہئے، قانون او ر عدالتی احکامات کے مطابق ملاقات ہونی چاہئے، جمعرات کو جن چھ لوگوں کا کہتا ہوں ان کو نہیں بھیجا جاتا،ہم نے خان صاحب کو کہا آپ مانگیں ہی نہ، یہ آپ کو تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں،

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ 8 ستمبر کا جلسہ شروعات ہو گی قوم اپنے حق کیلئے، اپنے مینڈیٹ کی واپسی کیلئے اور آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے ہر صورت نکلے،پہلے میں کہہ دوں گھبرانا نہیں، سیاست میں نہیں آرہی، عمران خان کا پیغام دے رہی ہوں کہ 8 ستمبر کو ہماری شروعات ہے، سب اپنے حق کیلئے نکلیں،چھینا ہوا مینڈیٹ واپس لینا ہے یہ آپکے ووٹ ہیں، اسکے لئے نکلنا ہے، اور آئین کے مطابق حق ہے کہ نکلیں اوراحتجاج کریں، حق نہیں دیا جا رہا، ناانصافی ہو رہی ہے تو حق مانگ سکتے ہیں،

  • اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران  کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ عمران خان کونسلر کا الیکشن نہیں لڑ سکتا، چانسلر بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، یہ اس قوم اور آکسفورڈ یونیورسٹی کیساتھ مذاق ہے

    بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ جو شخص اس ملک کی سیاست میں کونسلر تک منتخب نہیں ہو سکتا وہ کہتا ہے چانسلر بنوں گا،یہ دنیا کے ساتھ مذاق ہے، یہ اسکے ذہنی مریض ہونے کا واضح ثبوت ہے،عمران خان کی حرکتیں کیا رہی ہیں سب کے سامنے ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی معیار کا ادارہ ہے ،عمران خان کی اب حقیقت سامنے آ چکی ہے، ڈیلی میل نے سب کچھ لکھ دیا ہے، بین الاقوامی میڈیا نے عمران خان کو ڈس گریس کا لقب دیا، عمران خان نے پاکستان کے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی ،چوری کرنا عمران خان کی عادت ہے، ملک میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی آپ کا دیا ہوا تحفہ ہے، آپ نے اپنے دور حکومت میں طالبان کو ری انٹیگریشن کے نام پر جیلوں سے رہا کیا، آج قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔

    بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ یہ بڑا پرچار کرتے ہیں کہ ہم ہیومین رائٹس کے علم بردار ہیں،لوگوں کی عمران خان سے محبت نہیں، ’’کلٹ فالوونگ‘‘ ہے، اِس میں ذہن مفلوج اور مائوف ہو جاتا ہے، اِس بیماری کا کوئی علاج نہیں، اسٹاک ہوم سنڈ روم کی بیماری میں یہ مبتلا ہیں، عمران خان اپنی غیرقانونی حرکات کی وجہ سے پابندِ سلاسل ہیں، یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز ان کے ذریعے داغدار ہونے سے رہ نہ جائے،اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران خان کو شکست ہو گی، کر لیں یہ شوق پورا،عمران نیازی آج گھڑی چوری،190 ملین پاؤنڈ کرپشن، لوٹ مار ،ملک میں انتشار افراتفری پھیلانےکیوجہ سےپابندسلاسل ہیں،پاکستانی قوم کو اشتعال انگیزی دینے کی وجہ سے عمران پابند سلاسل ہیں، دن دہاڑے انہوں نے ڈکیتیاں کیں، اسکا حساب دینا پڑے گا، عمران خان نے ملکی معیشت، سفارتی تعلقات کا بیڑہ غرق کیا ،چوری چکاری طالبان کی سپورٹ کیوجہ سےنیازی کو ڈس گریسڈ کالقب دیا

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری