Baaghi TV

Tag: اکتوبر

  • 12 اکتوبر  تاریخ کے آئینے میں

    12 اکتوبر تاریخ کے آئینے میں

    12 اکتوبر تاریخ کے آئینے میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1492ء کرسٹوفر کولمبس کے تین جہازوں میں سے ایک جہاز پنٹا نے کیریبین سمندر سے نئی دنیا (امریکہ) دریافت کی یہ علاقہ سین سلواڈور کا تھا۔

    1755ء امریکی بحریہ کا قیام عمل میں آیا۔

    1836ء ٹیکساس کے انڈیانولا میں زبردست سمندری طوفان میں 250 لوگوں کی موت ہوئی۔

    1860ء برطانوی اور فرانسیسی افواج نے بیجنگ پر قبضہ کر لیا۔

    1879ء برطانوی افواج نے کابل پر قبضہ کیا۔

    1906ء جنوبی افریقی آئینی کانفرنس ڈربن میں ہوئی۔

    1918ء امریکہ کے مینسیٹو اور شمالی وسکوناسین کے جنگل میں لگی آگ سے 800 لوگوں کی موت ہوئی۔

    1925ء شام میں بغاوت ہوئی۔

    1928ء لوہے کے بنے ہوئے مصنوعی پھیپھڑے کا ایک پولیو کے مریض پر کامیاب تجربہ کیا گیا۔

    1934ء یوگوسلاویہ میں پیٹر دوم تخت نشین ہوئے۔

    1942ء دوسری جنگ عظیم میں جاپانی فوج کو امریکہ نے گواڈ کنال میں شکست دی۔

    1945ء دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی پارٹی کو توڑ دیا گیا۔

    1956ء برطانیہ نے اسرائیلی حملے کی صورت میں اردن کی مدد کرنے کا اعلان کیا۔

    1960ء اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں سوویت رہنما نکیتا روشچیف نے غصے میں آ کر کئی بار اپنے جوتے میز پر پٹکے۔

    1964ء فوج نے جنوبی ویتنام میں میجر جنرل این یو این کانہہ کو سرکار سے ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

    1967ء جنوبی لبنان میں اہم ٹھکانوں پر قبضے کے لئے فلسطینی چھاپہ ماروں نے شیعہ ملیشیا سے لڑائی کی۔

    1968ء میکسکو میں 19 ویں اولمپک کھیلوں کی شروعات ہوئی۔

    1969ء سوویت یونین نے تین خلا بازوں سمیت سویوز 7 کا تجربہ کیا۔

    1973ء اسپین میں ملک بدر زندگی گذار کر لوٹنے کے بعد انتخاب جیتنے پر جوآن پرسن کو ارجنٹینا کا صدر اور ان کی اہلیہ ایسابیل کو نائب صدر بنایا گیا۔

    1976ء۔۔فیصل مسجد اسلام آباد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔1959ء میں جب اسلام آباد کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی تو ان منصوبہ سازوں کے ذہن میں ایک ایسی مسجد کا خاکہ بھی تھا، جو پرشکوہ بھی ہو، پر جمال بھی ہو اور اس جدید ترین شہر کی شناخت اور پہچان بھی ہو۔ اسلام آباد کا شہر آہستہ آہستہ بستا رہا اور جب 1966ء میں سعودی عرب کے شاہ فیصل پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو انہوں نے اس مسجد کے تمام تر اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا۔ 1968ء میں حکومت پاکستان نے اس مسجد کے ڈیزائن کے لئے ایک بین الاقوامی مقابلے کا اہتمام کیا۔ یہ مقابلہ ترکی کے جواں سال آرکٹیکٹ ویدت دلو کے نے جیتا۔ مارچ 1975ء میں جب شاہ فیصل شہید کردیئے گئے تو حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا کہ یہ مسجد ان کے نام سے معنون کردی جائے۔ چنانچہ 28 نومبر 1975ء کو حکومت نے اس مسجد کا نام ’’شاہ فیصل مسجد‘‘ رکھنے کا اعلان کردیا۔ اکتوبر 1976ء میںجب سعودی عرب کے فرمانروا شاہ خالد پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو حکومت پاکستان نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے بھائی کے نام سے معنون اس عظیم مسجد کا سنگ بنیاد نصب فرمائیں۔ چنانچہ 12 اکتوبر 1976ء مطابق 17 شوال 1396ھ کو شاہ خالد نے ایک باوقار تقریب میں اس عظیم الشان مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ فیصل مسجد کے مرکزی ہال کا رقبہ 51 ہزار 984 فٹ مربع فٹ ہے مرکزی ہال کے چاروں طرف چار مینار ہیں جن میں سے ہر ایک کی بلندی 286 فٹ ہے۔ مسجد کا مرکزی ہال ایک خیمے کی شکل میں ڈیزائن کیا گیا ہے جس کی اونچائی اندرونی جانب سے 134 فٹ اور بیرونی جانب سے 150 فٹ ہے۔ اس مرکزی ہال میں پاکستان کے دو ممتاز مصوروں صادقین اور گل جی نے بھی آیات ربانی کی خطاطی کا شرف حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس ہال کے اوپر نصب کئے جانے والے طلائی ہلال کی تنصیب کا کام بھی گل جی نے انجام دیا تھا۔ یہ مسجد 10 سال کی شب و روز تعمیر کی بعد 2 جون 1986ء مطابق 23 رمضان المبارک 1406ھ کو پایہ تکمیل کو پہنچی۔ یوں وہ خواب جو شاہ فیصل نے 1966ء میں دیکھا تھا، دو دہائیوں کے بعد حقیقت کا روپ دھار گیا۔

    1983ء جاپان کے سابق وزیراعظم کاکوئی تناکا کو رشوت خوری میں ملوث پانے جانے پر چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    1986ء ملکہ الزبیتھ دوئم چین کا دورہ کرنے والی پہلی برطانوی تاجدار بنیں۔

    1986ء ریجاوک میں امریکی صدر رونالڈ ریگن اور سوویت یونین کے صدر میخائل گوربا چوف کے درمیان ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق میٹنگ برخواست ہو گئی۔

    1999ء پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کا تختہ پلٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔٭12 اکتوبر 1999ء کو جب پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف سری لنکا کی آزادی کی پچاس سالہ تقریبات میں شرکت کرکے کولمبو سے واپس آرہے تھے، پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے اچانک انہیں ان کے عہدے سے برطرف کردیا اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف مقرر کردیا۔ جونہی یہ اطلاع ٹیلی وژن سے نشر ہوئی اور جی ایچ کیو پہنچی، کورکمانڈرز نے اس حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ حکومت اگر انہیں ان کے عہدے سے ہٹانا ہی چاہتی تھی تو اسے ان کی واپسی کا انتظار کرنا چاہئے تھا، بصورت دیگر وہ جنرل پرویز مشرف ہی کے احکامات کی تعمیل کریں گے۔ ادھر جنرل پرویز مشرف اس کارروائی سے بے خبر تھے اور وہ مالے کے راستے کولمبو سے کراچی کے لئے محو سفر تھے۔ حکومت نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہا اور کوشش کی کہ جنرل پرویز مشرف جس طیارے میں سوار ہیں اسے کراچی ائیر پورٹ پر اترنے نہ دیا جائے۔ مگر فوج کے کورکمانڈروں نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ جنرل پرویز مشرف کا طیارہ کراچی ائیر پورٹ پر ہی اترا اور جب جنرل پرویز طیارے سے باہر آئے تو فوج نے انہیں آرمی چیف ہی کا پروٹوکول دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں فوج نے پورے ملک کے انتظامی حالات پر کنٹرول کرلیا۔ وزیراعظم نواز شریف کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا اور جنرل پرویز مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔

    2002ء انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں کُوتا ساحلی علاقہ پر بم دھماکے میں 202 افراد ہلاک اور 209 زخمی ہو گئے، جن میں زیادہ تر غیر ملکی سیاح تھے، یہ حادثہ انڈونیشیا کی تاریخ میں ہونے والا خطرناک ترین دہشت گردانہ عمل تھا۔

    2007ء سابق امریکی صدر الگور کو امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

    2007ء پاکستان کے بلے باز انضمام الحق بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوئے۔

    12اکتوبر 2015ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ترکی میں اردو کی تدریس کی سوویں سالگرہ کے موقع پردس روپے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر استنبول یونیورسٹی کی عمارت کی تصویربنی تھی اور انگریزی میں 100 YEARS OF URDU IN TURKEY A NEW MILESTONE کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

    تعطیلات و تہوار:

    1822ء برازیل، پرتگال سے آزاد ہوا۔

  • پنجاب میں لہور لہور ہے کے نام سے ہو گا ثقافتی میلہ

    پنجاب میں لہور لہور ہے کے نام سے ہو گا ثقافتی میلہ

    وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر نے کہاہے کہ اکتوبر کے آخری ہفتے میں پنجاب میں لہور لہور ہے کہ نام سے دس روزہ ثقافتی میلہ منعقد کیا جائے گاجس میں مختلف ممالک سے سفارتکار خصوصی شرکت کریں گے۔ لاہور میں منعقد ہونے والے ثقافتی میلے میں پورے پنجاب سے مقامی ثقافتوں کو بھر پور نمائندگی دی جائے گی۔”لہور لہور ہے” دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بنے گا۔

    ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے الحمراء آرٹس کونسل میں لاہور میں ثقافتی میلے کے انعقاد کے لیے وزیر اعلیٰ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس کا مقصد ثقافتی میلے کی کامیابی کے لیے تجاویز کا جائزہ تھا۔صوبائی وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ پنجاب حکومت صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کے لیے بھی پر عزم ہے۔ثقافتی سرگرمیاں صوبے میں سیاحوں کی آمد و رفت کو یقینی بنائیں گی۔لاہور کا ثقافتی میلہ پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان بنے گا۔ عامر میر کا کہنا تھاکہ اس وقت جب عالمی سطح پر ثقافتی سرگرمیوں کو سیاحت کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے اور سیاحت ایک باقاعدہ صنعت بن چکی ہے ضروری ہے کہ ہم بھی سیاحت سے اسی طرح استفادہ کریں۔لاہور مرکز کی حیثیت سے پنجا ب کی ثقافتی و تجارتی سر گرمیوں کا گڑھ تسلیم کیا جاتاہے۔لاہور میں ثقافتی میلے کے ذریعے دنیا کو پنجاب کی ثقافت کے مختلف رنگوں اور سیاحتی اہمیت سے متعارف کروایاجائے گا۔ثقافتی میلے میں شاپنگ فیسٹول کا اہتمام صوبے میں کاروبار سرگرمیوں کے فروغ کا سبب بنے گا۔ مقدس مقامات پر محافل سماع مذہبی سیاحت میں دلچسپی رکھنے والوں کی شرکت کو یقینی بنائیں گی۔میلے میں میوزک نائیٹس کا اہتمام بھی کیا جائے گا

    اس ضمن میں لاہور کے تاریخی مقامات پر پرفارمنگ آرٹ اور دیگر فنون لطیفہ کی نمائش عمارتوں کی طرز تعمیر اور تاریخی اہمیت سے آگاہی کا سبب بنیں گی۔ میلے میں آ ن لائن کاروبار کرنے والوں کو سٹالز کی شکل میں پلیٹ فارم کی فراہمی کی تجویز بھی سود مند ثابت ہو گی۔ اسی طرح فوڈ کورٹس، مقامی دستکاریوں اور کپڑوں کے سٹال سیاحوں اور ریٹیلز دنوں کی توجہ کا مرکز بنیں گے۔ ثقافتی میلے میں تمام سرگرمیوں کی بھر پور برینڈنگ مقاصد کے حصول میں معاون ہو گی۔ عامر میر نے تمام متعلقہ محکموں کے نمائندگان کو ہدایت کی کہ وہ اپنی مجوزہ سرگرمیوں کے ساتھ مقام اور بجٹ کے تخمینہ بھی تیار کریں۔ کمیٹی میں پیش کی جانے والی تجاویز کی منظوری کابینہ کے آئندہ اجلاس میں دی جائے گی۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات و ثقافت علی نواز، سیکرٹری ٹورازم آصف بلال لودھی، کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا اور ڈی جی فورڈ اتھارٹی اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان شریک تھے

    ہم نئی نسل کو تباہ کررہے ہیں. روکیئے، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

    ترک ڈرامہ’ارطغرل’دیکھنا جائزنہیں ہے ، جامعۃ‌العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون، فتوے سے نئی بحث چھڑگئی سچا،کون جھوٹا کون ؟

    ترک سیریز ارطغرل غازی یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کی جائے گی

    فلمساز اپنی فلموں کے ذریعے بحثیت قوم اپنے ذاتی تشخص کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ سیکرٹری اطلاعات

  • ورلڈ کپ ، پاک بھارت میچ کیلئے احمد آباد میں ہوٹلزکی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں

    ورلڈ کپ ، پاک بھارت میچ کیلئے احمد آباد میں ہوٹلزکی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں

    گجرات: آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 کے شیڈول کا اعلان ہوتے ہی ٹکٹس بکنگ اور میچز وینیوز کے قریب ہوٹل بکنگ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، اس سے ہوٹلنگ کا کاروبار بھی خاصا ہائی جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق احمد آباد میں شیڈول پاکستان اور بھارت کے مابین میچ کیلئے ابھی سے ہوٹلوں میں بکنگ شروع ہو گئی ہے اس لئے ہوٹل مالکان نے ریٹس بھی بڑھا دیئے، کرکٹ کی دنیا میں اہم ترین میچ پاکستان اور بھارت کے مابین ہوتا ہے جسے دیکھنے کیلئے نہ صرف دونوں ممالک کے لوگ شدت سے منتظر ہوتے ہیں بلکہ غیر ملکی اور دیگر کھیلوں سے وابستہ لوگ بھی اسے دیکھنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔

    15 اکتوبر کو ہونے والے میچ کیلئے تیاریاں بھرپور انداز سے جاری ہیں، میچ دیکھنے کیلئے احمد آباد سٹیڈیم کے قریب تمام ہوٹلز کے کمرے بک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بعض ہوٹلز لاکھوں کرایہ لینے لگے سیاسی منظر نامے کے درمیان دونوں کے درمیان ٹھنڈے تعلقات کی وجہ سے کرکٹ کے میدان پر ہندوستان اور پاکستان کا آمنا سامنا ایک نایاب منظر بن گیا ہے۔ گجرات کے احمد آباد میں 15 اکتوبر کو شہر میں ہوٹل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں-

    ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں،دوسروں سے اسی کی درخواست کرتے ہیں،محمد رضوان

    ہوٹلوں کی بکنگ کی متعدد ویب سائٹس کےمطابقغیر معمولی مانگ 15 اکتوبر کے لیے کمروں کے ٹیرف میں زبردست اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جب روایتی حریف احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں بہت متوقع میچ کھیلیں گے۔

    کمروں کا کرایہ تقریباً 10 گنا بڑھ گیا ہے، کچھ ہوٹلوں کی قیمت 1 لاکھ روپے کے قریب ہے، جبکہ بہت سے اس دن کے لیے پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ عام دنوں میں شہر میں لگژری ہوٹلوں میں کمرہ کا کرایہ 5000 سے 8000 روپے کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ 15 اکتوبر کے لیے 40,000 روپے اور کچھ جگہوں پر 1 لاکھ روپے سے زائد ہو گیا ہے۔

    ہوٹل بکنگ پورٹل ‘booking.com’ کے مطابق، شہر میں آئی ٹی سی ہوٹلز کے ویلکم ہوٹل میں 2 جولائی کے لیے ایک ڈیلکس کمرے کا کرایہ 5,699 روپے ہے۔ لیکن، اگر کوئی 15 اکتوبر کو ایک دن ٹھہرنا چاہتا ہے تو وہی ہوٹل 71,999 روپے وصول کرے گا۔

    شاہد آفریدی کا بیٹی کی رخصتی پر جذباتی پیغام،تصاویر بھی شیئرکردیں

    ایس جی ہائی وے پر واقع احمد آباد ہوٹل، جو اب ایک دن کے لیے تقریباً 8,000 روپے لیتا ہے، اکتوبر میں میچ والے دن کمرہ کا فی دن کرایہ 90,679 روپے دکھا رہا ہے۔ اسی طرح ایس جی ہائی وے پر واقع پرائیڈ پلازہ ہوٹل کا کرایہ اس دن کے لیے 36,180 روپے ہو گیا ہے۔ سابرمتی ریور فرنٹ پر واقع کاما ہوٹل، ایک دوسری صورت میں بجٹ کے موافق ہوٹل جو آنے والے اتوار کے لیے 3,000 روپے سے تھوڑا زیادہ چارج کرے گا، نے اپنا کرایہ بڑھا کر 27,233 روپے کردیا ہے۔

    فائیو سٹار ہوٹل جو اب ایک دن کے لئے 12880 روپے وصول کر رہا ہے وہ اکتوبر 14 سے 16 تک 181440 روپے وصول کرے گا اسی طرح نرمادہ ہوٹل جو اب 18880 روپے وصول کر رہا ہے،اکتوبر کو 177000 روپے وصول کرے گا-

    پاکستان کی خاطر بھرپور توانائی کے ساتھ میدان میں اتریں گے،بابر اعظم