Baaghi TV

Tag: اکثریت

  • مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا اور انصاف نہیں ملے گا اور یہی میں قوم کو بتانا چاہتی تھی!

    مریم نواز نے کہا کہ جب فیصلے آئین،قانون اور انصاف کے مطابق نا ہوں تو فُل کورٹ سے خطرہ رہتا ہے۔کیونکہ ایماندار ججز کے شامل ہونے سے فیصلے کی خامیاں منظرِ عام پر آ جاتی ہیں اور لوگ جان جاتے ہیں کہ فیصلہ آئین و قانون نہیں، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
    مگر اب کچھ بھی کر لیں،لوگ تو جان گئے!


    ‏ہمارے ۲۰ ووٹ بھی آپ نے ہم سے چھین لیےاور ق۔لیگ کے ۱۰ ووٹ بھی آپ نے PTI کو عطا کر دیے تو پرویز الہی صاحب کی majority تو آپ کی دین ہے می لارڈ !

    اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں آج جب پریس کانفرنس کیلئے آرہی تھی تو مجھے بہت لوگوں نے روکا کہ میں یہ پریس کانفرنس نہ کروں، لیکن مجھے بہت سے حقائق آج قوم کے سامنے رکھنے ہیں،خالد مقبول صدیقی کی فلائٹ منسوخ ہوچکی ہے ،نہیں پہنچ پائے جماعت کی طرف سے پریس کانفرنس کی ذمہ داری تھی، اتحادی جماعتوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتی ہوں،چرچل نے سوال کیاتھا کہ کیا عدالتیں انصاف دیں گی عوامی نمائندوں کو خود سے بڑھ کر سوچنا پڑتاہے، گزشتہ چند سال سے آج تک کےحقائق سامنے رکھنا چاہتی ہوں،فیصلوں کے اثرات آنے والے وقتوں پر بھی ہوتے ہیں ،اداروں کی توہین اداروں کے اندر سے ہوتی ہے عدلیہ کی توہین متنازعہ فیصلے کرتے ہیں، عوام نہیں،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط فیصلہ سارے مقدمے کواڑا کررکھ دیتا ہے،ناانصافیوں کی فہرست بہت طویل ہے فیصلہ ٹھیک کیا جائے توتنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، جب سے حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ بنا ہے اسے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حمزہ کا الیکشن ہوا، جیت گئے، پی ٹی آئی سپریم کورٹ درخواست لے گئی،قوم نے دیکھا چھٹی کے دن رات کو سپریم کورٹ رجسٹری کھلی رجسٹرار خود گھر سے آیا اور کہا کہاں ہے پٹیشن،پی ٹی آئی نے رجسٹرار سے کہا ابھی پٹیشن تیار نہیں ہوئی ،جب پٹیشن آتی ہے، پہلے سے علم ہوتا ہے کہ بینچ کونسا ہوتا ہے،جب بنچ بنتا ہے تو لوگوں کو پتہ ہوتا ہے فیصلہ کیا ہو گا، یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں6 ووٹ مسترد قرار دیئے گئے،چودھری شجاعت کے کہنے پر بھی انہیں کورٹ بلا لیا گیا، یہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی،سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ ٹرسٹی وزیراعلیٰ ،یہ کیاہے ،بلیک لاڈکشنری اور منفرد آئیڈیاز کہاں سے لے آتے ہیں ؟کبھی سنا ہے آپ نے کہ کوئی ٹرسٹی وزیراعلیٰ ہو ؟25 ارکان کو پارٹی ہیڈ کے خلاف ہونے پر ڈی سیٹ کیا گیا،ہمارے خلاف ہر مقدمے میں ایک ہی جج کو مونیٹرنگ جج لگایا گیا ہے واٹس آپ کال پر نوازشریف کے مقدمات کو لڑا گیا، کل کا مانیٹرنگ جج آج بھی تاحیات مانیٹرنگ جج ہے پارٹی ہیڈ اگر نوازشریف ہیں، پانامہ فیصلہ توردی کی ٹوکری میں جائے گا،پانامہ پر نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا دیا گیا پارٹی ہیڈ سے سب کچھ چلتا ہے، ان سے صدارت لے لی گئی ، چودھری شجاعت کوبلایا جاتا ہے اور عمران خان پر آئین کی تشریح ہی بدل جاتی ہے

  • اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا:اسد قیصرکااعلان:آئینی ذمہ داریوں کاسُن کراپوزیشن پریشان

    اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا:اسد قیصرکااعلان:آئینی ذمہ داریوں کاسُن کراپوزیشن پریشان

    لاہور: اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا: اسد قیصرنے اعلان کیا تو دوسری طرف اپوزیشن والے گھبرا گئے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے سے رابطے بھی کررہےہیں ، متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ میں ملکی قومی اسمبلی کا نگراں ہونے کے ناطے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا اور آئین کے آرٹیکل95 اور قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس 2007 کے رول 37 کے تحت کارروائی ہو گی۔

    خیال رہے کہ ان دنوں ملکی سیاسی صورتحال میں گہما گہمی ہے کیونکہ اپوزیشن ارکان نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔

     

     

    تحریکِ عدم اعتماد پر ن لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی سمیت 86 اراکین کے دستخط ہیں۔ تحریکِ عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے سٹاف نے وصول کی۔

    اس حوالے سے جہاں وزیراعظم عمران خان کے مخالفین سامنے آرہے ہیں تو وہیں اُن کے حمایتی خوب اُن کا ساتھ دیتے نظر آرہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کیا وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوسکے گی یا نہیں۔

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

    حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔