Baaghi TV

Tag: اگست

  • زندہ قومیں اپنے قومی تہوار شاندار انداز میں مناتی ہیں،شرجیل میمن

    زندہ قومیں اپنے قومی تہوار شاندار انداز میں مناتی ہیں،شرجیل میمن

    کراچی:سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 10 اگست کو سکھر، 13 اگست کو کراچی نیشنل اسٹیڈیم، اور دیگر شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں زیادہ سے زیادہ شرکت کر کے جشنِ آزادی کو یادگار بنائیں۔

    صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سینیئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج کی طرف سے دی جانے والی تاریخی شکست کو پوری قوم شاندار انداز میں منائے، کیونکہ ماضی کی جنگوں کا مشاہدہ صرف پرانی نسلوں نے کیا تھا، جبکہ موجودہ نوجوان نسل نے پہلی بار اپنی فضائیہ، بری فوج، بحریہ اور پوری قوم کو ایک ساتھ دشمن کو عبرتناک شکست دیتے دیکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ،اسی جذبے کے تحت سندھ بھر میں ضلعی سطح پر خصوصی تقریبات جاری ہیں، جن میں کھیلوں کے مقابلے، خواتین کی واکس، میوزیکل شوز، آتش بازی اور دیگر رنگا رنگ پروگرام شامل ہیں،مزارِ قائد پر وزیر اعلیٰ سندھ، کابینہ اراکین اور خصوصی بچوں کے ساتھ یومِ آزادی کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جبکہ 11 اگست کو اقلیتوں کے لیے خصوصی دن کے طور پر آزادی کے پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔

    منڈی بہاؤالدین: ملازم نے زمیندار اور اسکی بیوی کو قتل کردیا

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حیدرآباد میں حکومت سندھ اور عارف حبیب کے تعاون سے شاندار میوزیکل ایوننگ آج ہونے جا رہا ہے ، 10 اگست کو سکھر میں رنگا رنگ میوزک پروگرام ہوگا، جبکہ 13 اگست کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان کا سب سے بڑا گرینڈ شو منعقد ہوگا، جس میں ملک کے معروف فنکار اور سیلیبرٹیز شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ سی ویو پر ڈونکی ریس اور بوٹس کی ریس جیسے منفرد ایونٹس بھی ہوں گے۔

    مریم نواز سے آسٹریلین ہائی کمشنر کی الوداعی ملاقات

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بزنس کمیونٹی، اپوزیشن رہنماؤں، تمام پارلیمانی لیڈرز، مذہبی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں افراد کو ان تقریبات میں شامل ہونے کی دعوت دی، تاکہ یہ جشن کسی ایک گروہ کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ جشن بنےانہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سکھر، کراچی اور دیگر شہروں میں ہونے والے ان گرینڈ شوز میں بھرپور شرکت کریں، کیونکہ زندہ قومیں اپنے قومی تہوار شاندار انداز میں مناتی ہیں۔

    اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن لیڈر نےنیتن یاہو کی مخالفت کردی

    شرجیل میمن نے کہا کہ اس جنگ میں پوری پاکستانی قوم نے اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اتحاد سے فتح حاصل ہوتی ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی پارلیمانی وفد کے ہمراہ دنیا بھر میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا،انہوں نے اسمبلی فلور اور میڈیا کے ذریعے دوبارہ عوام کو دعوت دی کہ 10 اگست کو سکھر، 13 اگست کو کراچی نیشنل اسٹیڈیم، اور دیگر شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں زیادہ سے زیادہ شرکت کر کے جشنِ آزادی کو یادگار بنائیں۔

  • ملک میں 4 روزہ تعطیلات کا امکان

    ملک میں 4 روزہ تعطیلات کا امکان

    یومِ آزادی اور چہلم امام حسینؑ کے باعث ملک میں 4 روزہ تعطیلات کا امکان ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو یومِ آزادی کی ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی جب کہ یومِ آزادی ہر سال جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے، حکومت نے ملک بھر میں پرچم کشائی، ثقافتی تقاریب، پریڈز اور تحریکِ آزادی کے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے بھرپور پروگرامز کا اعلان کیا ہے۔

    15 اگست کو چہلم کی تعطیل وفاقی فہرست میں شامل نہیں، تاہم صوبائی سطح پر مقامی تعطیل دی جا سکتی ہے،15 اگست کو حضرت امام حسینؓ کا چہلم مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا ، ملک بھر میں مجالس، ماتمی جلوس اور دیگر مذہبی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے، جہاں کربلا کے عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کاضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    اس صورت میں 14 تا 17 اگست (جمعرات تا اتوار) تعطیلات یکجا ہو سکتی ہیں جب کہ گزشتہ سال بھی کراچی اور راولپنڈی میں چہلم پر مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا،ان 2 تعطیلات کے بعد 16 اور 17 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات آتی ہیں-

    حکومت کا 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ

  • اسلام آباد میں سڑکوں پر باجے بجانے اور خریدو فروخت پر پابندی عائد

    اسلام آباد میں سڑکوں پر باجے بجانے اور خریدو فروخت پر پابندی عائد

    کراچی کے بعد اسلام آباد اور کوہاٹ میں بھی سڑکوں پر باجے بجانے اور خریدو فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں 14 اگست پر سڑکوں پر باجے بجانے پر پابندی ہو گی،دفعہ 144 نافذکر دی گئی ہے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق سڑکوں پرہارن کے استعمال پر بھی پابندی عائد ہے۔

    دوسری جانب سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کوہاٹ میں کھلونا پریشر ہارن کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی گئی ہے ڈپٹی کمشنر کوہاٹ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کے مطابق کھلونا پریشر ہارن کے خلاف عوامی شکایات موصول ہو رہی تھی جس پر اس کی خرید و فروخت پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    اس سلسلے میں ٹریفک انچارج فہیم بنگش نے ایڈیشنل انچارج عرب جان کے ہمراہ کوہاٹ شہر میں کھلونا پریشر ہارن استعمال کرنے والے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے درجنوں پریشر ہارن سرکاری تحویل میں لے لیے۔

    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    قبل ازیں کراچی کی ملیر کورٹ نے گزشتہ روز جشن آزادی کے موقع پر باجا بجا کر عوام کو پریشان کرنے والو ں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے،کراچی کی ملیر کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ سید انور علی شاہ نے یوم آزادی کے موقع پر باجے کے استعمال اور خریدو فروخت پر پابندی لگاتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او شرافی گوٹھ اور سچل کو باجے بجانے والوں اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیاعدالت نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کے جشن آزادی کے موقع پر باجے بجا کرعوام کو پریشان کیا جاتا ہے، باجے بجانے والوں کے خلاف کارروائی کرکے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

    15 اگست تک جی میل ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

  • قومی ٹیم  ہاکی چیمئینز ٹرافی کھیلنے بھارت پہنچ گئی،

    قومی ٹیم ہاکی چیمئینز ٹرافی کھیلنے بھارت پہنچ گئی،

    پی ایچ ایف کے مطابق قومی ٹیم 3 اگست کو ملائیشیا کے خلاف پہلا میچ کھیلے گی،،چنائے میں 3 اگست تا 12 اگست کھیلی جانے والی ایشیئن چیمپینز ٹرافی میں شرکت کیلئے پاکستان ہاکی ٹیم بھارت پہنچ گئی قومی پلیئرز نے واہگہ بارڈر امرتسر سے بزریعہ ہوائی جہاز بنگلور پہنچے جو کہ رات 9 بجے میزبان شہر چنائے پہنچیں گے، پاکستان 3 اگست کو ملائشیا کے خلاف مہم کا آغاز کرے گا، اگلے ہی روز کوریا سے مقابلہ ہو گا،6 اگست کو جاپان جبکہ 7 اگست کو چین سے آمنا سامنا ہو گا، پانچویں میچ میں 9 اگست کو روایتی حریف بھارت سے زور کا جوڑ پڑے گا ، ایونٹ کا فائنل 12 اگست کو کھیلا جائے گا

  • مون سون: موسلا دھار بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    مون سون: موسلا دھار بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا اگست میں ملک بھر میں شدید بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گا۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات مطابق بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سےجاری انتباہ میں مزید کہا گیا ہے کہ موسلا دھار بارش سے کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، دادو، جامشورو، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص میں 11 سے 13 اگست تک سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی، سبی، بولان، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، تربت، پنجگور، پسنی، جیوانی، کوہاٹ، صوابی، نوشہرہ، مردان، پشاور، کرک، بنوں، ٹانک اور وزیرستان میں بھی سیلاب کا امکان ہے۔

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے تاہم بھکر، لیہ، ساہیوال، بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور رحیم یار خان میں بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارش سے کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔

    شمالی بلوچستان میں مون سون کا چوتھا اسپیل طوفانی شکل اختیار کر گیا ہے چمن میں قلعہ سیف اللہ کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی جس کی وجہ سے مسلم باغ میں شدید سیلابی صورتحال ہے۔

    لیویز حکام کے مطابق سیلابی ریلے مسلم باغ قصبے میں داخل ہوگئے جس کی وجہ سے بازار میں کھڑی گاڑیاں ریلے میں بہہ گئیں مسلم باغ بازار ریلے میں 2 افراد بھی بہہ گئے جن کی تلاش جاری ہےمسلم باغ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کی ہدایات کی گئی ہے قلعہ سیف اللہ میں ڈپٹی کمشنرکی عدم تعیناتی سے انتظامی امور متاثر ہورہے ہیں، وزیراعظم نے متاثرین کو کھانا فراہم نہ کرنے کی شکایت پر ڈپٹی کمشنرکو معطل کیا تھا۔

    کوئٹہ میں بھی سہ پہر 2 گھنٹے تک تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، ان علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں جبکہ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیاریسکیو حکام اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ٹیموں نے فوری طور پر ان علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

    سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ کچھ کچے مکانات کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے محکمہ موسمیات کی جانب سے طوفانی بارشوں کے ایک اور اسپیل کی پیش گوئی کے بعد سیلاب کی وارننگ جاری کر دی ضلعی انتظامیہ کو لوگوں کو نالے اور ندیوں کے قریبی علاقوں سے دور منتقل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں خبردار کیا کہ اس موسم میں پورے ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی۔

    پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹر سیمی ایزدی کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کو چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب اور اربن فلڈنگ کے خطرے پر بھی بریفنگ دی-

    وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے کہا کہ یہ صورتحال معمول بن جائے گی اور ملک کا مجموعی انفراسٹرکچر ایسی آفات کے لیے تیار نہیں ہے جس سے شدید انسانی بحران جنم لے گا محکمہ موسمیات کی واضح وارننگ کے باوجود صوبائی حکومتوں کے پاس ریلیف اور ریسکیو کی صلاحیت کا فقدان ہے۔

    تاہم وزارت موسمیاتی تبدیلی کے سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے یہ دعویٰ کیا کہ محکمہ موسمیات جدید آلات کی کمی کی وجہ سے بعض علاقوں میں موسم کی حتمی انداز میں پیش گوئی نہیں کر سکتا کمیٹی نے متفقہ طور پر اس بات سے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی نے 11 ہزار 639 امدادی سرگرمیاں شروع کی ہیں جبکہ سیلاب سے متاثرہ 23 ہزار 61 افراد کے لیے 78 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جون سے اب تک بارشوں سے متعلقہ حادثات میں 575 اموات ہوئیں جن میں سے 176 بلوچستان میں، 127 سندھ اور 119 پنجاب میں ہوئیں جبکہ 939 افراد زخمی ہوئے۔

  • اگست ترقیوں،تعیناتیوں،تنزلیوں کا مہینہ ہے،شیخ رشید

    اگست ترقیوں،تعیناتیوں،تنزلیوں کا مہینہ ہے،شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ مائنس اور پلس کا فیصلہ زمینی خداؤں نے نہیں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔

    باغی ٹی وی : شیخ رشید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ صوبے اور مرکز آمنے سامنے آگئے ہیں۔ مائنس اور پلس کا فیصلہ زمینی خداؤں نے نہیں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ غیر یقینی سیاسی اور معاشی حالات سب کے چراغ بجھا سکتے ہیں۔ اگست ترقیوں،تعیناتیوں،تنزلیوں کا مہینہ ہے۔

    پنجاب، خیبرپختونخوا اورسندھ کےمختلف علاقوں میں آج بھی بار شوں کی پیشگوئی


    سربراہ عوامی لیگ نے کہا کہ حکمران جماعتوں نے اپنے کیس سامنے رکھ کر نیب میں ترمیم کی ہیں۔ جب چیف الیکشن کمیشنر پر ہی اعتبار نہیں ہوگا تو عمران خان الیکشن کو کیسے مانے گا۔احتساب،ججز کی تقرری صدر نہیں،کرپشن زدہ لوگ کریں گے۔ جیلیں غریبوں کے لیے،اشرافیہ کے لیے یہ5سٹار ہوٹل ہیں۔12اگست3بجے اہم پریس کانفرنس کروں گا-

    قانون کے مطابق عمران خان کو نااہلی کے ساتھ پھانسی کی سزا ہو سکتی ہے:جاوید لطیف

    قبل ازیں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے موجودہ فسطائی حکومت سے نمٹنے کا ایک اور منصوبہ تیار کر لیا ہے جس کا اعلان وہ آزادی جلسے میں کریں گے۔

    ایک بیان میں عمران خان نے کہا تھا کہ برسرِ اقتدار مجرموں اور ان کے سرپرستوں کی شکل میں پاکستان آج یزیدیت کے نرغے میں ہے، کیا ہمارے لوگ بھی خوف میں مبتلا ہوکر اس سازش کے سامنےسر جھکائیں گے؟ یا بحیثيت قوم اس کڑے امتحان کا سامنا کریں گے؟فسطائی حکومت سے نمٹنے کے لیے ایک اور منصوبہ تیار کر لیا ہے جس کا اعلان 13 اگست کو آزآدی جلسے میں کروں گا۔

    پنجاب کے سیاحتی مقامات پر ہیلپ لائن 1421 کا آغاز کر دیا گیا

  • اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں. رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لئے ماہ مقدس میں پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور رب کو عبادات کے ذریعے منانے کی اور اپنے گناہ بخشوانے کی کوشش کرتے ہیں. ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ در و دیوار، گلی محلوں بازاروں کو سجا کر اور ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجا اور لوگوں میں نیاز تقسیم کر کے اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں.

    محرم میں غم حسین رضی اللہ عنہ میں اتنے سوگوار ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں خوشیوں کی تقریبات کو ملتوی کر دیتے ہیں لوگ محبت حسین رضی اللہ عنہ میں اور قاتلین کربلا سے نفرت میں مجالس منعقد کرتے ہیں نوحے و مرثیے پڑھے جاتے ہیں.ماتمی جلوس نکال کر اور سینہ کوبی کر کے یزیدی لشکر کی مذمت کی جاتی ہے مظلوم کربلا کے سوگ میں کالے کپڑے پہن کر اپنے غم کا اظہار کیا جاتا ہے.

    محرم میں پانی کی سبیلیں لگا کر اور لنگر حسینی رضی اللہ عنہ تقسیم کر کے قاتلین کربلا کے اس عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جب انہوں نے کربلا کے مسافروں پر کھانا اور پانی بند کیا.

    اسی طرح اگست کے مہینے میں قومی یکجہتی کے اظہار کے لئے اور ایک الگ وطن حاصل کرنے کی خوشی میں گھروں پر اور عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں. گلی محلوں میں ملی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں گھروں کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے عمارتوں پر لائٹنگ کی جاتی ہیں اور ریلیاں نکال کر اپنی خوشی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے.

    لیکن ہوتا کیا ہے ہماری عبادات صرف رمضان المبارک، عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اظہار صرف ربیع الاول میں، مظلوم کربلا سے اظہار یکجہتی صرف محرم میں اور حب الوطنی کے جذبات صرف اگست میں بیدار ہوتے ہیں. کیا ان مہینوں کے علاوہ ہم مسلمان، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق حسین رضی اللہ عنہ اور محب وطن نہیں ہیں.

    آئیں ہم آج کے بعد مخصوص مہینے کے لئے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لئے مسلمان اور محب وطن بن جائیں اگست کا مہینہ ہے تو ہم اپنی ابتدا اسی مہینے سے کرتے ہیں ہم اپنی خود احتسابی کرتے ہیں کیا یہ ملک کسی مخصوص فرقے کے لئے حاصل کیا گیا یا مسلمانوں کے لئے، اگر مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تو ہم نے دیگر فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اس ملک کو جہنم کیوں بنا دیا.

    قائد اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمانوں کے لئے اس علیحدہ خطے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی سےزندگی گزار سکیں لیکن افسوس آج ہم اپنے قائد کے فرمان کو بھول کر سیاسی، نسلی، لسانی تعصبات کا شکار ہو گئے فرقہ بندیوں میں پڑ گئے جس قوم نے مضبوط ہو کر دیگر مظلوم مسلمان اقوام کی مدد کرنی تھی وہ آج خود مدد کے لئے غیر مسلم حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے.

    اس سب کی وجہ صرف فرقہ واریت اور عدم برداشت ہے ہم جب تک فرقہ واریت سے پاک رہے ہماری ترقی کی رفتار قابل رشک تھی دنیا کی دیگر اقوام ہمیں رشک سے دیکھتی تھیں لیکن پھر ہم نے آپس کی محبت ختم کر دی اور اپنا اتحاد ختم کر کے ٹکڑوں میں بٹ گئے آج یہ حالت ہے کہ ہم نے جن سے آزادی حاصل کی اب انہی کے ملک میں جانا اور وہاں اپنے خاندان سمیت مستقل رہائش اختیار کرنا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے.

    ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ایک ہیں لیکن ہم عملی طور پر اس پرچم کے سائے تلے ایک نہیں ہیں. ہمیں ایک ہونے کے لئے اپنے دلوں میں سے ہر قسم کے تعصبات کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں ایک دوسرے کی نیک نیتی پر یقین کرنا ہو گا ہمیں اس طرح آپس میں متحد ہونا پڑے گا جیسے 1947 میں تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد تھے.

    بڑے بڑے علماء کرام نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے کہ حقیقی آزادی قائد اعظم کی قیادت میں ملے گی آپ کو اپنا راہنما تسلیم کیا اور مساجد اور ممبر رسول سے لوگوں کو آپ کی قیادت پر متفق کیا. اسی جذبے کی ہمیں آج ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں”