Baaghi TV

Tag: اہرام مصر

  • ”مسٹر بیسٹ“ کا اہرام مصر کرائے پر لینے کا دعویٰ، حکومت کو وضاحت دینی پڑ گئی

    ”مسٹر بیسٹ“ کا اہرام مصر کرائے پر لینے کا دعویٰ، حکومت کو وضاحت دینی پڑ گئی

    قاہرہ: دنیا کے امیر ترین یوٹیوبر جیمز سٹیفن ڈونلڈسن جنہیں ”مسٹر بیسٹ“ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے حالیہ اعلان نے مصر کی عوام کو آگ بگولہ کر دیا-

    باغی ٹی وی: یوٹیوبر جیمز سٹیفن ڈونلڈسن نے اپنے دوستوں کے گروپ کے لیے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے گیزا کے اہرام “خوفو، خفرع، منقرع “ کو 100 گھنٹے کے لیے کرائے پر لیا تھا۔ اس بیان کے بعد مصری وزارت نوادرات کو معاملے کی وضاحت کے لیے بیان جاری کرنا پڑا ہے۔

    مشہور نوجوان نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو میں وضاحت کی کہ وہ اور ان کی ٹیم 100 گھنٹے تک اہراموں کی فلم بندی کریں گے اور جگہیں تلاش کریں گے وہ اور اس کے دوست اہراموں کے اندر سوئیں گے اور ان کے ساتھ ایک ٹور گائیڈ بھی ہو گا جو انہیں تاریخی معلوما ت فراہم کرے گا، وہ اُن کمروں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بھی ہوں گے جنہیں کبھی عوام نے نہیں دیکھا ہوگا۔

    مسٹر بیسٹ کی ویڈیو پر مصری آگ بگولہ ہو گئے جس کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ہنگامہ برپا ہوگیا مصریوں کی ایک بڑی تعداد نے اہراموں کو کرائے پر لینے کی خیال کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    وہیں مصر کے ماہرِ آثار قدیمہ زاہی حواس نے اہراموں کو کرائے پر لینے کی خبروں کی تردید کردی انہوں نے کہا مصری قوانین میں ”اہراموں کو کرائے پر دینا“ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا بلاگر کے بیانات کو زبان کی پھسلن یا مبالغہ آرائی سمجھنا چاہیے۔

    ماہرِ آثار قدیمہ نے وضاحت کی ہے کہ ”مسٹر بیسٹ“ نے ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے بعد 4 دن تک اہرام کے علاقے میں ویڈیو شوٹ کی، مشہور بلاگر نے قدیم مصری تہذیب اور جادو میں دلچسپی رکھنے والوں کے سامنے اپنے نئے مواد کی تشہیر کے میدان میں اہرام کے حوالے سے اپنے بیان میں دھوکہ دیا ہے۔

    ماہر آثار قدیمہ زاہی نے اس بات کی تردید کی کہ ’’مسٹر بیسٹ‘‘ اہرام کے اندر سوئے تھے یا سوئیں گے انہوں نے کہا اہرام کے ساتھ والے صحرا میں ان کے سونے کے لیے ایک خیمہ تیار کیا گیا تھامعروف ماہر آثار قدیمہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ نوجوان یوٹیوبر، جسے دنیا بھر میں کروڑوں لوگ فالو کرتے ہیں، اس دورے کی سیاحتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مصر میں سیاحت کے لیے زبر دست پروپیگنڈہ کریں گے۔

    مصر کی وزارت سیاحت و نوادرات نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا جس میں تصدیق کی گئی کہ امریکی بلاگر کی جانب سے ”اہرام کے علاقے کو کرائے پر لینے“ کا موضوع مکمل طور پر بے بنیاد ہے، علاقے کو کرائے پر دینا غیر منطقی اور ناقابل تصور ہے۔

  • دریائے نیل کی  ایک شاخ نے  اہرام مصر کی تعمیر  کا معمہ حل کردیا

    دریائے نیل کی ایک شاخ نے اہرام مصر کی تعمیر کا معمہ حل کردیا

    مصر: ماہرین کی نئی دریافت نے اہرام مصر کی تعمیر کا معمہ حل کردیا-

    یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا ولیمنگٹن کی ایک تحقیق کے مطابق محققین کے ایک گروپ کو دریائے نیل کی ایک 64 کلومیٹر لمبی شاخ ملی ہے، جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ شاید یہی وہ معمہ ہے جس نے اہرام مصر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا، یہ نہر ہزار سال تک صحرا اور کھیتوں کے نیچے چھپی ہوئی تھی، دریا کی یہ شاخ مصر میں 31 اہراموں کے ساتھ ساتھ بہتی تھی، دریائے نیل کو پتھر کے بڑے بلاکس کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    اس تازہ ترین دریافت نے ایک طرح سے 4,700 اور 3,700 سال پہلے کے درمیان اہرام کی تعمیر کی وجہ بھی بتائی ہے، محققین نے ریڈار سیٹلائٹ کی تصاویر کو دریا کی شاخ کا نقشہ بنانے کے لیے استعمال کیا،یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا ولیمنگٹن کے ارتھ اینڈ اوشین سائنسز کے پروفیسر ایمن گونیم نے”اے ایف پی ” کو بتایا کہ ریڈار نے انہیں ’ریت کی سطح پر گھسنے کے نشان، دبے ہوئے دریاؤں اور قدیم ڈھانچے سمیت پوشیدہ خصوصیات کی تصاویر بنانے کی منفرد صلاحیت فراہم کی۔

    یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ، ٹیم نے یہ بھی پایا کہ کئی اہراموں میں کاز ویز تھے جو مجوزہ دریا کے کناروں پر ختم ہوتے ہیں، جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ دریا کو تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا گیا تھا-

    آرمی چیف سے آسٹریلین ڈیفنس فورسز کے سربراہ کی ملاقات

    مطالعہ میں شامل ایمان غونیم کا اس دریافت پر کہنا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ جو قدیم مصر میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس بات سے واقف ہیں کہ مصریوں نے اہرام اور وادی کے مندروں کی طرح اپنی بہت بڑی یادگاروں کی تعمیر کے لیے آبی گزرگاہ کا استعمال کیا ہوگا، لیکن کسی کو بھی اس مقام یا اس کی شکل، سائز، یا اس میگا واٹر وے کی اصل اہرام کی جگہ سے قربت کے بارے میں یقین نہیں تھا ہماری تحقیق اتنے بڑے پیمانے پر دریائے نیل کی ایک اہم قدیم شاخ کا پہلا نقشہ پیش کرتی ہے اور اسے مصر کے سب سے بڑے اہرام کے میدانوں سے جوڑتی ہے۔

    پاکستان کو اپنی نیٹ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ پوزیشن مضبوط کرنا ہوگی، آئی ایم ایف

  • صدیوں پرانے اہرام مصر: سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز

    صدیوں پرانے اہرام مصر: سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز

    صدیوں پرانے اہرام مصر: سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز

    صدیوں پرانے اہرام مصر عرصے سے لوگوں اور سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق ہزاروں سال پرانے اہرام مصر کے بارے میں ابھی بھی بہت کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے اور اس کو جاننے کے لیے مسلسل تحقیقی کام ہوتا رہتا ہے۔ جبکہ گیزہ کا عظیم ہرم عرصے سے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور دہائیوں سے ماہرین اس کے اندر کھوج کرتے رہے ہیں۔

    اب مصر کے محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے گیزہ کے عظیم ہرم میں ایک حیرت انگیز دریافت کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ہرم کے مرکزی داخلی راستے کے پیچھے چھپی 9 میٹر طویل راہداری کو دریافت کیا گیا ہے۔ مصری حکام نے بتایا کہ اس دریافت سے گیزہ کے عظیم ہرم کے بارے میں مزید جاننے کا راستہ کھل جائے گا۔

    یہ دریافت Scan Pyramids نامی سائنسی پراجیکٹ کے دوران ہوئی جس کے لیے 2015 سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ہرم کے اندرونی حصوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ جبکہ مصری حکام نے بتایا کہ یہ نامکمل راہداری ممکنہ طور پر مرکزی داخلی راستے پر ہرم کے اسٹرکچر کے وزن کا دباؤ کم کرنے کے لیے تعمیر ہوئی یا یہ کسی ایسے چیمبر کی جانب جاتی ہوگی جو اب تک دریافت نہیں ہوسکا۔

    خیال رہے کہ گیزہ کا عظیم ہرم زمانہ قدیم کے 7 عجائبات میں شامل واحد عجوبہ ہے جو اب بھی دنیا میں موجود ہے اور اسے نئے 7 عجائبات عالم کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ اسے 2560 قبل میسح میں فرعون خوفو کے عہد میں تعمیر کیا گیا تھا۔