Baaghi TV

Tag: اہم

  • کراچی:دہشت گردی کا خدشہ، سیکیورٹی ہائی الرٹ

    کراچی:دہشت گردی کا خدشہ، سیکیورٹی ہائی الرٹ

    کراچی: سکیورٹی اداروں نے ملک کے دیگر حصّوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے کے بعد کراچی میں بھی دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔کراچی سے سیکورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے جن میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں میں سی ٹی ڈی کے مرکز پر دہشت گردوں نے قبضہ کیا جسے چھڑانے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو آپریشن کرنا پڑا ، اسی طرح ملک کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی ویلیو ٹارگٹ پر خودکش حملہ ناکام بنایا گیا لیکن اس ناکام حملے میں بھی حملہ آور کی جانب سے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑانے کے نتیجے میں ایک پولیس افسر شہید اور دیگر زخمی ہوئے۔

    ذرائع نے بتایا کہ اسی تناظر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں بھی دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کردیا ہے، اس سلسلے میں گزشتہ چند روز سے منگھوپیر، سہراب گوٹھ اور ڈاکس کے علاقے میں قائم مچھر کالونیز اور حب ریور روڈ پر مواچھ گوٹھ میں کچھ مشتبہ افراد کی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں لیکن ابھی فی الحال فوری طور پر کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا ہے، ان تمام مشتبہ سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جارہا ہے، ان علاقوں میں ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آئی تھیں۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ چونکہ شہر کے اندر آنے والے راستوں پر کوئی ٹھوس سیکیورٹی اقدامات نہیں ہیں جس کے باعث شہر میں اسلحہ اور گولہ بارود کی ترسیل بھی جاری رہتی ہے تاہم حالیہ دنوں میں شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی مانیٹرنگ میں اضافہ کردیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ماضی کی طرح ٹی ٹی پی سمیت دیگر کالعدم تنظیمیں اب ملک کے معاشی حب کو نشانہ بناتے ہوئے دوبارہ اپنی مذموم کارروائیاں کرسکتی ہیں جن میں بم دھماکے ، خودکش حملے اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ فائرنگ کے واقعات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ مواچھ گوٹھ اور ڈاکس مچھر کالونی سے قانون نافذ کرنے والے ادارے حالیہ کچھ عرصے میں بڑی تعداد میں مارٹر گولے بھی برآمد کرچکے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہر میں بڑی تعداد و مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود موجود ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے ان واقعات کی مزید تحقیقات کررہے ہیں اور کچھ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔

  • بڑی مخبریاں۔اندر کی لڑائی،عمران ریاض کوکس نے رکوایا؟ شہباز گل کی کمال دھلائی

    بڑی مخبریاں۔اندر کی لڑائی،عمران ریاض کوکس نے رکوایا؟ شہباز گل کی کمال دھلائی

    لاہور:بڑی مخبریاں۔اندر کی لڑائی،عمران ریاض کوکس نے رکوایا؟ شہباز گل کی کمال دھلائی ۔رندا پھر گیا،اکڑ غائب یہ ہے آج کا موضوع مگر اس وقت ایک بحث چل رہی ہے کہ پہلے اسد عمر نے سخت ریمارکس دیئے اور اب عدالت سے معافی مانگ لی ، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ پہلے وہ بڑی بڑی باتیں‌کرتیں پھرکھسیانی بلی کی طرح پیروں میں پڑجاتے ہیں ، ایسے ہی عمران خان کا حال ہے اور دیگرپی ٹی آئی رہنماوں نے بھی یہی انداز اپنا رکھا ہے ، ان کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان کا میرے ساتھ بھی یہی رویہ تھا ، اب میری طرف بندے بھیج رہا ہے کہ ملاقات کرلیں تو میں نے ملاقات سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے نہیں کسی اصولی موقف پر بات ہوگی

     

    مبشرلقمان نے ایک سوال کا جواب دیا کہ عمران خان سے ذاتی لڑائی نہیں ، ہم بھی چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ہر حوالے سے بہتری آنی چاہے ،عمران خان کہتا تھا کہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتا ہوں ، چینی مافیا کے خلاف اپریشن کروں گا ، اس کرپٹ نظام کے خلاف جدوجہد کروں گا، مگرپھرفرح گوگی اور بشریٰ‌ بی بی نے جب کرپش کی تو ان سے پوچھ بھی نہ سکے ، اور پھر وہی باتیں ، ایسے تو نظام بہتر نہیں ہوسکتا، ان کا کہنا تھا کہ میں بھی عمران خان کے ساتھ اسی لیے کھڑا ہوا تھا کہ چلو میرے ملک سے کرپشن اور چوربازاری ختم ہوجائے گی مگرایسے نہ ہوسکا،ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اس قابل نہیں رہا کہ وہ اس ملک میں‌تبدیلی لا سکے

    شہبازگل کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہبازگل نے جھوٹ اور بہتان اور بتنگڑ کے تیر چلائے ، وہ سب فلاپ ہوگئے ، شہبازگل جیسے شخص کو تمیز ہی نہیں ، کس طرح وہ اپنے مخالفین پر طنز کرتا رہا اور کمرٹیڑھی ہونے کے طعنے دیتے رہا ، مگرجب اداروں کے خلاف زبان درازی کی وجہ سے پکڑا گیا تو وہ کمراور جو جٹ ہونے کا نعرہ لگاتا تھا سب نکل گئے، پھر وہ کیلے کھلانے والی ویڈیو جب باہر آئی تو کہنے لگا کہ یہ مجھے زبردستی کھلائے گئے ہیں‌

    انہوں نے مزید بتایاکہ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اس قسم کا حلیہ بنایا تھا کہ پتہ نہیں کہ کیا ایسا ہوگیا کہ دنیا کو باورکرارہا تھا کہ وہ تو سخت بمار ہیں لیکن جب عدالت لے جایاگیا تو پھر کلین شیو اور ہشاش بشاش اور پھر جب وکیلوں نے بتایا کہ بابا ایسا نہیں جوآپ سمجھ رہے ہیں توپھر وہیل چیئر بھی آگئی اور وہ ڈرامے پھر شروع ہوگئے

    شہبازگل کے حوالےسے کہا کہ یہ مراثی ہے یہ ڈھونگ رچا رہا ہے ، یہ ڈرامے بازی ہے ، یہ پی ٹی آئی میں‌ کیوں گھسا ہوا ہے ، ، ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سیاستددانون کے قول وفعل میں بڑا تضاد ہے ، یہ اس ملک کے سیاستدان ہے جو یہ حرکتیں‌ کررہےہیں

    عام انتخابات کے‌حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات اکتوبر یا نومبر میں ہوں گے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ انتخابات مزید تاخیر کا شکارہوجائیں گے ، وہ عارف علوی جو کھیل کھیلے رہے تھے مذاکرات کا وہ بھی بے سود، اسد عمر نے بڑی جلدی سے معافی مانگ لی اس کو پتہ تھا کہ الیکشن آرہے ہیں تو نااہلی ہوسکتی ہے پھر جلدی سے معافی مانگ لی اور عمران خان بھی یہی کرتا ہے ، پہلے بھی نااہل ہوچکا ہے اور اب پھر ہوگا

    فواد چوہدری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عارف علوی کی کیا جرات تھی کہ وہ دستخط نہ کرتے ، یہ سب اس قسم کی گفتگو کرتے ہیں ، یہ لوگ ہی اصل مسئلہ ہیں

     


    ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں‌ کو کچھ حیا نہیں ، چوہدری پرویز الٰٰہی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں‌کہ کیا کچھ ہورہا ہے ، عمران ریاض خان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ فنڈ ریز نگ کے حوالے سے جارہا تھا تو اس کا ویزہ کینسل کروا دیا تھا ، مونس الٰہی کا کہنا تھا وہ کون ہے کہ جس کا ویزہ کینسل ہوگیا ، تو سب جانتے ہیں کہ مونس الٰہی پی ٹی آئی کے کتنے قریب ہیں اور یہ کون کرسکتا ہے

    ان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پنجاب میں اور ہوسکتا ہے کہ مرکز میں ن لیگ کی حکومت نہ بن سکے اس کی وجہ پارٹی کے اندر اختلافات ہیں اور ن لیگی امیدواوراحمزہ کو قبول نہیں کرتے تو یہ آگے دیکھیں کیا کیا ہوتا ہے ،

  • انتہائی اہم معاملہ ہے جو فل کورٹ کےبغیر حل نہیں ہوسکتا،عطاتارڑ

    انتہائی اہم معاملہ ہے جو فل کورٹ کےبغیر حل نہیں ہوسکتا،عطاتارڑ

    پنجاب کے صوبائی وزیر داخلہ اورمسلم لیگ (ن) کے رہنما عطاتارڑ نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز واضح اکثریت سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے،عمرا ن خان کی طرح چوہدری شجاعت حسین نے پارٹی سربراہ کے طورپر جب ہدایات جاری کیں تومعیار بدل گیا ہے، یہ انتہائی اہم معاملہ ہے جو فل کورٹ کےبغیر حل نہیں ہوسکتا ، آئینی ماہرین کابھی خیال ہے کہ اس معاملے کی فل کورٹ سماعت سے مزید بہتری آئے گی ۔

    مسلم لیگ نواز الیکشن سے بھاگ رہی ہے. شیخ رشید

    ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ حمزہ شہباز واضح اکثریت سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ۔ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں عمران خان نے اپنے ارکان کو پرویز الہٰی کو ووٹ دینے کا کہا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہدایات عمران خان نے پارٹی سربراہ کےطور پر جاری کی تھیں مگر جب ایسی ہی ہدایات مسلم لیگ (ق) کےسربراہ چوہدری شجاعت نےجاری کیں تو معیار بدل گیا۔ انہوں نےکہا کہ رن آف الیکشن 186ووٹ حاصل نہ کرنے پر کرایا جاتاہے۔

     

    اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

     

    انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کےخط پر اعتراض کیا جاتاہے مگرعمران خان کا خط معتبر سمجھا جاتاہے یہی وجہ ہے کہ لوگ انصاف کے دوہرے معیار پرسوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بارایسوسی ایشن کےسابق صدور نے بھی سوال اٹھایا کہ دوہرا معیار کیوں ہے؟۔ ترامیم میں درج ہے کہ پارٹی سربراہ ہی ہدایات جاری کرسکتاہے۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کےمعاملے پر پارٹی سربراہ کےکردارپر روشنی ڈالی گئی تھی۔

     

    فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

     

    انہوں نے کہاکہ پارٹی سربراہ کی ہدایات اگر مقدم نہیں ہیں تو کیا ضمنی الیکشن کالعدم قراردیا جائےگا؟۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں چیئرمین سینیٹ کےالیکشن کے موقع پر بھی 7ووٹ مسترد کیے گئے اور کہاگیا کہ پریذائیڈنگ افسر کی رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے جو فل کورٹ کےبغیر حل نہیں ہوسکتا ۔ عطاتارڑ نے کہاکہ عمران خان محاذآرائی اور گالم گلوچ کی سیاست کرتاہے،ہم عوام کی حالت بہتر کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ آئینی ماہرین کا کہنا ہے فل کورٹ سے معاملے میں مزید بہتری آئے گی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ فرح گوگی بہت سے مقدمات میں مطلوب ہے،اسے واپس لے آئیں تو پتہ چل جائےگا کہ عمران خان نے کتنی کرپشن کی ہے۔

  • حکومتی اتحادیوں  اور پی ڈی ایم قائدین کی آج لاہور میں اہم بیٹھک

    حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم قائدین کی آج لاہور میں اہم بیٹھک

    وزیراعظم شہباز شریف نے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اجلاس آج ماڈل ٹاون لاہور میں بلا لیا ہے ، اجلاس میں شرکت کیلئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کراچی سے لاہور پہنچ گئے .

    اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی کے لیے اتحادی جماعتوں کے رہنماوں سے مشاورت کی جائے گی ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس آج دوپہر ہو گا ،وزیراعظم نے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر دعوت دی ہے .

    96 ایچ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین مجموعی ملکی صورتحال کا جائزہ لیں گے ،حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کے اجلاس میں اہم امور پر مشاورت ہوگی.

    قبل ازیں اغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ، سردار ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی کی مرکزی قیادت کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات اور آئندہ کی حکمت عملی اور حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ بچانے کے لئے حکمت عملی پرمشاورت کی گئی.زرائع کے مطابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے قبل ازوقت انتخابات نہ کرانےکا فیصلہ کرلیا۔

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے بعد بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سی ای سی کے اجلاس میں سیاسی صورت حال پر بات ہوئی، پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرےگی، سی ای سی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے، قیادت آج لاہور میں اتحادیوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرےگی۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہونے والے اجلاس میں انتخابی اصلاحات پر مشاورت ہوگی، پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے فیصلہ کیا ہے الیکشن اپنے وقت پر ہوں۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونگے اوروفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے.

    انہوں نےکہا کہ عمران خان مسٹر ایکس اور مسٹر وائی سے معافی مانگیں، پنجاب میں ضمنی الیکشن جیت کر بھی عمران ہارگیا۔ الیکشن میں عمران خان نے الیکشن کمیشن کو متنازع بنایا۔

  • سفرکرنے سے عاجزنوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے پہنچ گئے

    سفرکرنے سے عاجزنوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے پہنچ گئے

    اسلام آباد:سفرکرنے سے عاجز نوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے جانے لگے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں علاج کے لئے موجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف ہسپتالوں کے بجائے فیکٹریوں کے دوروں میں مصروف ہیں۔اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے بیٹوں کے ہمراہ مانچسٹر کے قریب نیلسن میں فیکٹری کا دورہ کیا ۔

    نواز شریف نوازشریف کے ہمراہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی فیکٹری کے معائنہ کے لیے لندن سے نیلسن گئے جہاں پر انہیں بریفنگ بھی دی گئی۔واضح رہے کہ جس فیکٹری کا نواز شریف نے دورہ کیا وہ لندن سے 425 کلو میٹر دور نیلسن کے علاقے میں قائم ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ والد کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ 4، 5 ماہ پرانی ہے- نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کے دوران حسین نواز نے کہا کہ نواز شریف کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ 4، 5 ماہ پرانی ہے، حکومت اس سے پہلے یہ ویڈیو سامنے کیوں نہیں لے کر آئی؟ میں نواز شریف کو 2 گھنٹے کے لیے اُن کے جاننے والے شخص کے گھر ماحول کی تبدیلی کے لیے لےکر گیا تھا، وہ شخص انہیں فیکٹری میں لے گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ نواز شریف کا کسی دوسرے کی فیکٹری میں جانا کوئی گناہ ہے؟ اس معاملے کا پاکستان آنے سے کیا تعلق ہے؟ لندن میں کورونا ایس او پیز کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازمین کم ہوتے ہیں، ایسا ہی وہاں بھی تھا جہاں نواز شریف گئے تھے۔

    حسین نواز نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ نواز شریف کی پاکستان میں طبیعت کیوں بگڑی تھی؟ حکومت نے نواز شریف کی طبیعت کا جائزہ لینے کے لیے لندن میں کسی سے رابطہ نہیں کیا، اب رابطہ کرے گی تو میری طرف سے بھاڑ میں جائیں۔حسین نواز نے کہا کہ میرے والد کا علاج معالجہ چل رہا ہے، ابھی بھی برطانیہ میں کورونا بہت زیادہ ہے، ابھی نواز شریف کا علاج ہونا باقی ہے، ابھی ان کا علاج مکمل نہیں ہوا۔نواز شریف کا علاج اس وقت ختم ہوگا جب ڈاکٹرز سمجھیں گے، جس ڈاکٹر نے رائے بھیجی ہے اس کی بہت اچھی ساکھ ہے، ڈاکٹر کی رائے کے بعد رپورٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو سفر کرنے سے روک دیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروائی۔ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ 3 صفحات پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف انجیو گرافی کے بغیر لندن سے نہ جائیں، ذہنی دباؤ میں نواز شریف کی طبیعت مزید بگڑ سکتی ہے، کلثوم نواز کی وفات کے بعد نواز شریف شدید دباؤ میں ہیں۔

    میڈیکل رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف دل کے مریض ہیں، کورونا کے سبب نواز شریف کو سانس کا مسئلہ ہو سکتا ہے، نواز شریف انجیو گرافی تک اپنی ادویات جاری رکھیں، سابق وزیراعظم ذہنی دباؤ کے بغیر سرگرمیاں جاری رکھیں، نواز شریف دل کے مریض ہیں، کورونا کے باعث جان بھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض نے کہا کہ کوئی سوال ہو تو مجھ سے رابطہ کیا جائے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جھوٹی رپورٹ جمع کروانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ امید کرتا ہوں عدالت ان جعلی رپورٹوں کا سختی سے نوٹس لے گی۔

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے ویر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قائد ن لیگ کے پاس سب سے آسان راستہ قوم کے پیسے واپس کریں اور لندن ہی رہیں، ان کا مسئلہ جھوٹی رپورٹ سے حل نہیں ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ایسی رپورٹ کا مقصد پاکستان کے قانونی نظام کا مذاق اڑانا ہے،

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ یہ رپورٹ نہیں ہے ایک فلمی خط ہے، ایازصادق اپنے دل کوخوش کرنے کے لیے ایسی باتیں کررہے تھے، نوازشریف نے پاکستان نہیں آنا، جھوٹی رپورٹیں دکھا کربھاگے،

    رات کے اندھیرے میں بھاگنے والا دن کے اُجالے میں واپس نہیں آتا، ان کی گزربسرہی جھوٹ بولنے میں ہے، ہم نے تو سابق وزیراعظم سے7ارب کی گارنٹی مانگی تھی، اگران سے7ارب لیے جاتے تو نوازشریف فوری ٹھیک ہو جاتے لندن نہ جاتے۔

    یاد رہے کہ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرفیاض شال نے تیار کی ، ان کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ 2011میں ڈاکٹر فیاض شال پر بھارتی اداکارہ پریانکاچوپڑا نے الزامات لگائے تھے۔

    پریانکاچوپڑا نے ڈاکٹرفیاض شال پر دوران پرواز جہازمیں بدتمیزی کاالزام لگایا تھا جبکہ یہ بھی الزام لگایا تھا ڈاکٹر فیاض شال نشے میں تھے۔

    پریانکا نے ڈاکٹرفیاض شال پر بڑے نام لیکر دھمکیاں دینے کا بھی الزام لگایا تھا جبکہ ڈاکٹر فیاض شال کا کہنا تھا کہ پریانکا کو جہاز میں فون کے استعمال سے روکا تھا۔

    یاد رہے ڈاکٹر فیاض شال کی تیار کردہ نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی، جس میں ڈاکٹر نے نواز شریف کو پاکستان سفر کرنے سے روک دیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کورونا دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے ایسے میں سفر کے لیے ائیر پورٹس اور پبلک مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں کرونا کے خدشات زیادہ ہیں۔

    رپورٹ کہ نواز شریف شدید ذہنی دباو میں ہیں۔ نواز شریف لندن سے مکمل علاج کے بغیر گئے تو قید تنہائی اور شریک حیات کے دنیا سے جانے کے دباؤ کی وجہ سے انکا یہ عمل دل کے عارضے کو بڑھا بھی سکتا ہے۔

    ڈاکٹر فیاض شال کوں ہیں‌؟
    ڈاکٹر شال اس وقت تکوما پارک، میری لینڈ کے واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ہیں، ساتھ ہی واشنگٹن، ڈی سی، امریکہ میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن میں انٹروینشنل کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے پروفیسر اور ڈائریکٹر ہیں۔

    1977 میں، ڈاکٹر شال امریکہ چلے گئے اور والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں کارڈیالوجی فیلوشپ مکمل کی۔بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرمیجر فیاض نے 1980 میں والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں ریاستہائے متحدہ کی ملٹری (آرمی، نیوی، ایئر فورس) میں پہلا پی ٹی سی اے کیا۔

    کہا جاتا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان مخالف عالمی قوتوں کی مدد حاصل ہے اورانہیں قوتوں نے یہ میڈیکل رپورٹ تیار کرنے میں بھارتی نژاز امریکی میجر ڈاکٹرفیاض شال کو ذمہ داری سونپی تھی

    حقائق کے مطابق 1979 اور 2003 کے درمیان، ڈاکٹرفیاض شال جارج ٹاؤن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن اور یونیفارمڈ سروسز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں طبی تقرریوں کو برقرار رکھا، جب کہ واشنگٹن ایڈونٹسٹ اسپتال اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال دونوں میں انٹروینشنل کارڈیالوجی میں کام کررہے ہیں‌

    بھارتی نژاد امریکی فوج کے میجر ڈاکٹرفیاض شال امریکن کالج آف فزیشنز، برطانیہ کے رائل کالج آف فزیشنز، یونائیٹڈ کنگڈم کی جنرل میڈیکل کونسل، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔ وہ امریکن کالج آف کارڈیالوجی، امریکن کالج آف چیسٹ فزیشنز، امریکن کالج آف فزیشنز، امریکن کالج آف انجیوولوجی اور دی سوسائٹی فار کارڈیک انجیوگرافی اینڈ انٹروینشنز کے فیلو ہیں۔اور امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں‌

    ڈاکٹرفیاض شال واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں 1987 سے 1998 اور پوری دنیا میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کی دیگر تکنیکوں (بشمول کورونری، کیروٹڈ اور دیگر پیری فیرل اور نان کارڈیک مداخلت جیسے والوولوپلاسٹی، IHSS کے لیے ابلیٹیو ٹیکنیک وغیرہ) کے لائیو سیشنز کے ذریعے تعلیم دے رہے ہیں۔ . اس قسم کے تدریسی سیمینار سیٹلائٹ کے ذریعے یا CATH لیب سے براہ راست مقامی نشریات کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    ہائی رسک والے مریض کے ساتھ کام کرنے میں ایک انقلاب برپا کرنے والے ڈاکٹر شال پہلے انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ تھے جنہوں نے ایکلیپس ہولمیم لیزر کے ساتھ ساتھ اینجیو ٹریکس میکانیکل ڈیوائس (1999) کو پرکیوٹینیئس ٹرانسلومینل مایوکارڈیل ریواسکولرائزیشن کے لیے استعمال کیا جو آخری مرحلے کے ایتھروسکلروٹک کے تحقیقاتی علاج میں تھا۔

    دل کی بیماری (مریض جن کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے)۔ اس نے دونوں طریقہ کار کو تحقیق کے ایک حصے کے طور پر دنیا میں سب سے پہلے نئی دہلی، ہندوستان میں کیا۔ وہ 1985 میں واشنگٹن ڈی سی میٹروپولیٹن ایریا میں مائٹرل والوولوپلاسٹی کرنے والے پہلے بھی تھے۔

    بھارتی نژاد امریکی میجر ڈاکٹر فیاض شال معروف بین الاقوامی گروئنٹزگ سوسائٹی کے رکن ہیں