Baaghi TV

Tag: ایئر لائن

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    3 روز قبل جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر جیجو ائیر کا ایک طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں 179 افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم خوش قسمتی سے دو مسافربچ جانے میں کامیاب ہو گئے۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیجو ائیر کا طیارہ موان ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں کل 181 مسافر سوار تھے، جن میں سے صرف 2 مسافر زندہ بچ سکے۔ ان دونوں مسافروں کی شناخت 32 سالہ خاتون "لی” اور 25 سالہ "وون” کے طور پر کی گئی ہے۔ جیجو ائیر کے سی ای او نے میڈیا کو بتایا کہ طیارہ حادثے کی وجوہات ابھی تک غیر واضح ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں طیارے میں کسی قسم کی خرابی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ سی ای او نے مزید کہا کہ اس حادثے کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں تھا اور کمپنی اس سانحے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، دونوں زندہ بچ جانے والے مسافر طیارے کے "ایمپنیج” (دُم والے حصے) میں موجود تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طیارے کے اس حصے کو حادثے کے بعد زخمی حالت میں نکالا گیا تھا۔ دونوں متاثرین کو سر اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق، طیارے کے پچھلے حصے میں موجود مسافر اس لئے بچ گئے کیونکہ یہ حصہ حادثے کے دوران نسبتاً زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ 2015 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے ایک مطالعے میں جہاز کے دُم والے حصے کو کمرشل پروازوں کے لئے محفوظ ترین حصہ قرار دیا تھا۔ اس مطالعے کے مطابق، طیارہ حادثے میں جہاز کی پچھلی نشستوں پر اموات کی شرح 32 فیصد، وسطی نشستوں پر 39 فیصد اور سامنے کی نشستوں پر 38 فیصد رہتی ہے۔

    یہ حادثہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں 1997 کے بعد سے کسی بھی جنوبی کوریائی ائیر لائن کا بدترین حادثہ ہے۔ 1997 میں ہونے والے ایک اور طیارہ حادثے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو کہ اس علاقے کی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک سنگین حادثہ تھا۔

    قازقستان میں ہونے والے ایک اور فضائی حادثے کا موازنہ کیا جا سکتا ہے جس میں آذربائیجان کا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں بھی 38 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ 29 افراد زندہ بچ گئے تھے۔ زندہ بچ جانے والے افراد بھی طیارے کے پچھلے حصے میں موجود تھے۔

    جنوبی کوریا میں ہونے والے اس حادثے نے پورے خطے میں صدمے کی لہر دوڑ دی ہے۔ اگرچہ خوش قسمتی سے دو مسافر بچ گئے ہیں، تاہم اس سانحے میں 179 افراد کی ہلاکت نے پورے ملک کو غم میں ڈبو دیا ہے۔ حادثے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس کی وجوہات کو سامنے لایا جا سکے اور آئندہ کے لئے حفاظتی تدابیر میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

  • پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،گوادر جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ

    پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،گوادر جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 503، جو کراچی سے گوادر کے لیے روانہ ہوئی تھی، ایک فنی خرابی کے باعث کراچی ایئرپورٹ واپس لوٹ آئی۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق، پرواز پی کے 503 صبح 8 بج کر 13 منٹ پر کراچی سے گوادر کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ تاہم، کچھ ہی دیر بعد پائلٹ نے طیارے کے انجن میں فنی خرابی کی اطلاع ایئر ٹریفک کنٹرولر کو دی۔ اس پر ایئر ٹریفک کنٹرول نے پرواز کو فوری طور پر واپس کراچی ایئرپورٹ پر واپس آنے کی ہدایت دی۔روانگی کے صرف 43 منٹ بعد، طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر کامیابی سے لینڈ کر گیا، جہاں طیارے کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان کے مطابق، طیارہ اے ٹی آر 42 ماڈل کا ہے اور اس کا مکمل معائنہ پی آئی اے کے انجینئرنگ شعبہ کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ انجینئرنگ سے کلیئرنس ملتے ہی، پرواز کو دوبارہ گوادر روانہ کیا جائے گا۔اس واقعے کے نتیجے میں مسافروں کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم پی آئی اے کی طرف سے انہیں متبادل پرواز فراہم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    2025 کو پاکستان کیلئے ترقی اور امید کا سال بنائیں گے ،بلاول

    ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

  • جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا کے نگران صدر چوہی سنگ موک نے پیر کے روز ملک کی تمام فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کرانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ تفتیش کار اس بدترین فضائی حادثے کے متاثرین کی شناخت کرنے اور اس کے سبب کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں، جس میں ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

    یہ حادثہ جےجو ایئر کی پرواز 7C2216 کے ساتھ پیش آیا، جو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر رہی تھی۔ جہاز ایک بویئنگ 737-800 تھا جو زمین پر اترتے وقت حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس حادثے میں 175 مسافر اور چھ میں سے چار عملے کے اراکین ہلاک ہو گئے، جبکہ دو عملے کے ارکان کو زندہ نکال لیا گیا۔پرواز 7C2216 جب موان ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، تو جہاز کا توازن برقرار نہ رہ سکا اور یہ رن وے کے آخر تک پھسلتے ہوئے ایک دیوار سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکر سے جہاز میں زبردست آگ بھڑک اُٹھی۔ تحقیقاتی حکام مختلف عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں پرندوں کے ٹکراؤ اور موسمی حالات شامل ہیں۔تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ جہاز اتنی تیز رفتاری سے کیوں چل رہا تھا اور لینڈنگ کے دوران اس کا گیئر نیچے کیوں نہیں تھا۔

    جنوبی کوریا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا جنوبی کوریا کی تمام فضائی کمپنیوں کے 101 بویئنگ 737-800 جہازوں کی خصوصی جانچ کی جائے یا نہیں۔ نگران صدر چوہی سنگ-موک نے اپنے بیان میں کہا کہ "حادثے کی تحقیقات کا عمل شفاف طریقے سے جاری رکھا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو جلد اطلاع دی جائے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کے فضائی حادثے کی روک تھام کی جا سکے۔

    مذکورہ حادثے کے وقت، طیارہ کے پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی تھی کہ جہاز پر پرندے کے ٹکراؤ کا سامنا ہوا ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے انہیں اس علاقے میں پرندوں کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا تھا، اور پھر پائلٹس نے مے ڈے سگنل جاری کیا اور لینڈنگ کو منسوخ کرنے اور دوبارہ کوشش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تاہم، چند لمحوں بعد جہاز رن وے پر بلی لینڈنگ کرتے ہوئے اختتام پر موجود دیوار سے ٹکرا گیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر وہ افراد شامل ہیں جو تھائی لینڈ سے تعطیلات کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، جن میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے۔ موان ایئرپورٹ پر لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ ایک متاثرہ خاندان کے رکن پارک ہن-شین نے بتایا کہ ان کے بھائی کی شناخت ہو گئی ہے لیکن وہ ابھی تک اس کا جسم نہیں دیکھ پائے۔حکام نے کہا کہ جہاز کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر مل گیا ہے لیکن اس پر کچھ بیرونی نقصان آیا ہے، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ڈیٹا تحلیل کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔

    موان ایئرپورٹ تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے، لیکن ملک کے دیگر ایئرپورٹس، بشمول انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ، معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ عالمی ہوابازی کے ضوابط کے مطابق جنوبی کوریا اس حادثے کی سول تحقیقات کی قیادت کرے گا اور اس میں امریکہ کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کو بھی شامل کیا جائے گا کیونکہ بویئنگ 737-800 جہاز کو امریکہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔اس حادثے کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس دل دہلا دینے والے حادثے کی کیا وجوہات تھیں اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا کے ایئرپورٹ پر سوگ اور دعاؤں کی گونج، فضائی حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی آہ و فغاں

    جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک ایئرپورٹ کی روانگی ہال میں اتوار کی صبح ہونے والے ایک فضائی حادثے کے بعد سوگ اور دعاؤں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ ماؤن کاؤنٹی کے موان ایئرپورٹ پر جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ ان کے پیاروں کی شناخت کے لیے بے چین ہو کر انتظار کر رہے تھے۔

    اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے مقامی وقت کے مطابق، جےجو ایئر کی ایک پرواز جو 175 مسافروں اور چھ عملے کے ارکان کو لے کر بنکاک سے موان جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں دو افراد کے علاوہ تمام مسافر اور عملہ ہلاک ہو گئے، جو جنوبی کوریا کے تقریباً تیس سالہ تاریخ کا سب سے مہلک فضائی حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے روانگی ہال میں متاثرہ خاندانوں کے افراد، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی، سوگ میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کے درمیان فریاد، دعائیں اور آہیں سنائی دے رہی تھیں۔ طبی عملے نے 141لاشوں کی شناخت کا اعلان کیا، جبکہ باقی 28 لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔

    ایئرپورٹ کی معمول کی طور پر وسیع ایٹریئم میں کئی خاندان ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو کر خاموشی سے دعائیں کر رہے تھے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گلے مل کر رو رہے تھے، جبکہ کئی بدحال رشتہ دار حکام سے مزید معلومات کی درخواست کر رہے تھے۔ ایئرپورٹ کے باہر پیلے رنگ کے خیمے لگے ہوئے تھے جہاں لوگ رات بھر رکے رہے تھے۔محققین اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخرکار کیا وجہ تھی جس سے جےجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کو حادثہ پیش آیا۔ مقامی حکام نے پرواز کے دوران ایک ممکنہ پرندوں کے ٹکرا جانے کے امکان پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

    اتوار کے روز حادثے کا جو ویڈیو فوٹیج نشر کیا گیا، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بوئنگ 737-800 کے دونوں لینڈنگ گیئر مکمل طور پر کھلے ہوئے نہیں تھے۔ طیارہ اپنی پیٹ کے بل تیز رفتاری سے رگڑتا ہوا زمین پر گرا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اُٹھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی انڈرکاریاج (یعنی وہ پہیے جو طیارے کو اڑنے اور لینڈ کرنے میں مدد دیتے ہیں) مکمل طور پر نہیں کھلے، جو کہ ایک نادر اور غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاہم اس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔

    مواصلاتی وزارت کے مطابق، حادثے کے مقام سے دو بلیک باکسز (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور وائس ریکارڈر) بازیاب کر لیے گئے ہیں، لیکن فلائٹ ریکارڈر کو بیرونی نقصان پہنچا تھا جس کی وجہ سے اس کا مزید تجزیہ کرنے کے لیے سیول بھیجا گیا۔جنوبی کوریا کے عبوری صدر، چوی سانگ موک نے ملک بھر میں سات دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور فضائی حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک جامع انکوائری کا آغاز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی پیش رفت کو عوام کے سامنے شفاف طریقے سے پیش کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے گا۔حادثے کے فوراً بعد چوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اس سانحے کو ایک "خصوصی قدرتی آفت” قرار دیا، جب کہ انہوں نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 84 مرد، 85 خواتین اور 10 افراد ایسے تھے جن کی جنس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ جنوبی کوریا کی فائر سروس کے مطابق، حادثے میں دو افراد زندہ بچ گئے، جن میں ایک مرد اور ایک خاتون عملے کے رکن شامل ہیں۔ یہ دونوں افراد جاپان کے شہری تھے، باقی تمام مسافر جنوبی کوریا کے تھے۔حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے، جن کے بارے میں جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے بتایا۔ ان کے علاوہ، باقی تمام افراد جنوبی کوریا کے شہری تھے۔

    حادثے کے فوراً بعد جنوبی کوریا کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو ایک پرندوں کے ٹکرا جانے سے بچنے کے لیے سمت تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر پائلٹ نے عمل کیا۔ تاہم، ایک منٹ بعد ہی پائلٹ نے ایمرجنسی کال کی اور تقریباً دو منٹ بعد لینڈنگ کی کوشش کی۔جنوبی کوریا کی وزارت نقل و حمل نے بتایا کہ پرواز کے کپتان نے 2019 سے اس عہدے پر کام کیا تھا اور ان کے پاس تقریباً 6,800 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا۔مجموعی طور پر، اس سانحے کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر مختلف تحقیقاتی ادارے اس میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

    موان میں ایک عوامی یادگاری یادگار قائم کی گئی ہے، جہاں لوگ پھول اور موم بتیاں رکھ کر جاں بحق افراد کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔یہ حادثہ ایک دل دہلا دینے والی سانحے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس نے پورے جنوبی کوریا کو سوگوار کر دیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک کٹھن وقت ہے۔

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا
    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

  • جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    جنوبی کوریا میں طیارے کے حادثے میں ایک مسافر کی فیملی سے آخری دل چیر دینے والی گفتگو سامنے آئی ہے

    جنوبی کوریا میں لینڈنگ کے دوران پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے طیارہ حادثے میں 179 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دو افراد کی جان بچا لی گئی۔ اس واقعے کے بعد، طیارے میں سوار ایک مسافر کی اپنے اہل خانہ سے کی جانے والی آخری گفتگو نے لوگوں کو غم و افسوس میں ڈوبو دیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ جنوبی کوریا کی قومی ائیر لائن کے طیارے میں پیش آیا، جس کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح تحقیقات نہیں کی گئی ہیں۔ سی ای او جیجو ائیر نے بتایا کہ طیارے کی خرابی کے کوئی ابتدائی شواہد نہیں ملے، اور نہ ہی طیارے کے حادثات کا کوئی سابقہ ریکارڈ موجود تھا۔ انہوں نے طیارہ حادثے پر معذرت بھی ظاہر کی اور تحقیقات کے لیے اپنی ٹیم تشکیل دی۔

    اس حادثے کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے، ایک مسافر کی فیملی کے ایک فرد نے بتایا کہ انہیں طیارے کے حادثے سے قبل اپنے عزیز کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو کا علم ہوا۔ اس شخص نے بتایا کہ انہیں طیارے سے پرندہ ٹکرائے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔اس فرد نے بتایا کہ چند منٹ قبل اس نے اپنے عزیز سے فون پر بات کی تھی، جس میں مسافر نے بتایا: "ہمارے جہاز کے وِنگ میں پرندہ پھنس گیا ہے اور ہم ابھی لینڈ نہیں کر سکتے۔” یہ پیغام موصول ہونے کے بعد، اس شخص نے مزید سوالات کیے کہ "کتنا وقت اور لگے گا؟ اور یہ مسئلہ کب سے شروع ہوا؟” جواب میں، مسافر نے کہا: "یہ ابھی ہوا ہے، کیا مجھے اپنے آخری الفاظ کہہ دینے چاہئیں؟ کیا مجھے اپنی وصیت لکھ دینی چاہیے؟”اس دردناک بات چیت کے بعد، مذکورہ فرد کو اپنی فیملی کی طرف سے کوئی اور پیغام موصول نہیں ہوا، اور اس کے بعد طیارہ حادثے کی اطلاع دی گئی جس میں 179 افراد ہلاک ہو گئے۔

    جنوبی کوریا کی قومی ائیر لائن کے سی ای او نے حادثے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کی تکنیکی خرابی یا دیگر عوامل کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم، طیارے کی ابتدائی حالت کے بارے میں کسی قسم کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں، اور یہ واقعہ کسی غیر معمولی یا غیر متوقع صورت حال کا نتیجہ لگتا ہے۔جنوبی کوریا کی حکومت اور ائیر لائن حکام اس حادثے کی تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ طیارے کی حادثے کی وجوہات اور اس کی درست نوعیت کا علم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

  • آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ قازقستان میں تباہ ہونے والے طیارے کو روسی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکی حکام نے بھی طیارے کے میزائل کا نشانہ بننے کے امکان کے ابتدائی اشارے ملنے کا کہہ دیا ہے،رپورٹ کے مطابق طیارے نے اس علاقے سے اپنا رُخ تبدیل کیا جہاں روسی دفاعی نظام نصب ہے جبکہ قازق حکام کا کہنا ہےکہ طیارہ حادثے کی تحقیقات ابھی کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکیں۔آذربائیجان کے طیارے کی کرئش ہونے کی تحقیقات میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، جس سے اس بات کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں کہ روسی اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم نے اس طیارے کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق، تحقیقات میں یہ ممکنہ طور پر ایک "غلط شناخت” کا معاملہ ہو سکتا ہے، جہاں روسی فوجی یونٹس نے غیر ارادی طور پر اس طیارے کو نشانہ بنایا۔

    یہ حادثہ کرسمس کے دن قازقستان کے شہر آکٹاؤ کے قریب پیش آیا، جس میں 67 افراد میں سے کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس حادثے کے حوالے سے اہم معلومات ہیں جن میں سے ایک دوسرے بلیک باکس کا ملنا ہے، جو اس حادثے کی اصل وجہ کے بارے میں اہم تفصیلات فراہم کر سکتی ہے۔

    طیارہ باکو سے گروزنی (روس) جا رہا تھا، اور یہ آکٹاؤ کے قریب ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ روسی میڈیا کے مطابق طیارہ گروزنی میں شدید دھند کے باعث راستہ تبدیل کر رہا تھا۔فلائٹ ریزلٹ ویب سائٹ کے مطابق، یہ پرواز مقامی وقت کے مطابق 7:55 پر روانہ ہوئی تھی اور تقریباً 2.5 گھنٹے بعد حادثہ پیش آیا۔ حکام نے یہ وضاحت نہیں کی کہ طیارہ کس وجہ سے کاسپین سمندر کے اوپر سے گزر رہا تھا، جب کہ باکو اور گروزنی سمندر کے مغرب میں اور آکٹاؤ اس کے مشرق میں واقع ہیں۔

    دوسرے بلیک باکس کو حادثے کے مقام سے تلاش کر لیا گیا ہے، جس سے تحقیقات میں مزید مدد ملنے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان بلیک باکسز کو پڑھنے میں تقریباً دو ہفتے لگیں گے۔قازقستان کے نائب وزیر اعظم، کاناٹ بوزمبایف نے بتایا کہ ایک کمیشن قائم کیا گیا ہے جس میں قازقستان، آذربائیجان اور روس کے نمائندے شامل ہوں گے، تاہم روس اور آذربائیجان کے حکام کو فرانزک تحقیقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    حادثے میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو پائلٹ اور ایک فضائی میزبان بھی شامل تھے۔ 29 افراد بچ گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق، طیارے میں سوار 37 آذربائیجانی شہری، 16 روسی، 6 کازاخ اور 3 قرغز شہری شامل تھے۔

    طیارے کے حادثے کے بعد، جو ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں، ان میں طیارے کے جسم میں شگاف نظر آ رہے ہیں جو ممکنہ طور پر شیل یا ملبے سے ہونے والے نقصان کی علامات ہو سکتی ہیں۔ آذربائیجان ایئرلائنز نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ حادثہ پرندوں کے ٹکرانے کی وجہ سے پیش آیا تھا، تاہم روسی ایوی ایشن حکام نے بھی اسی وجہ کو حادثے کی توجیہہ کے طور پر پیش کیا تھا۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حادثے کے حوالے سے قیاس آرائیاں نہ کریں، جب تک کہ تحقیقات مکمل نہ ہوں۔ روس، آذربائیجان اور قازقستان کے ماہرین اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات کر رہے ہیں، اور اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    آذربائیجان کے مسافر طیارے کا بلیک باکس مل گیا، تحقیقات کا آغاز

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

  • جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

    جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

    جاپان کی معروف ایئرلائنز کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اسے ایک سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں اندرون ملک اور بین الاقوامی پروازوں میں تاخیر ہوئی۔

    یہ سائبر حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا اور کمپنی کے داخلی و بیرونی سسٹمز کو متاثر کیا۔ ایئرلائنز کے ترجمان نے کہا کہ حملے کے باعث سسٹم میں سنگین خرابی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے کمپنی نے ایک راؤٹر کو عارضی طور پر بند کر دیا۔اس حملے کے نتیجے میں جمعرات کو روانہ ہونے والی پروازوں کے ٹکٹوں کی فروخت بھی معطل کر دی گئی، جس سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایئرلائنز کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کے سسٹمز کی بحالی کے لیے کام جاری ہے اور پروازوں کے شیڈول کی دوبارہ ترتیب دی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب جاپان کی دوسری بڑی ایئرلائنز، آل نیپون ایئر ویز ( کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کی کمپنی نے اپنے سسٹمز پر سائبر حملے کے کوئی آثار نہیں دیکھے اور ان کی پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

    یہ سائبر حملہ جاپانی ایئرلائنز کے لیے کوئی منفرد واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی ایئرلائنز، امریکن ایئرلائنز نے بھی ایک گھنٹے کے لیے اپنی تمام پروازوں کو گراؤنڈ کیا تھا۔ اس کی وجہ نیٹ ورک ہارڈویئر میں فنی خرابی تھی، جس کے باعث کرسمس کے موقع پر ہزاروں مسافروں کو سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ ان ایئرلائنز کے لیے ایک یاد دہانی بن گیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے معاملے میں مسلسل احتیاط ضروری ہے۔

    سائبر حملے دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں اور ان کا نشانہ اکثر بڑی کمپنیاں اور ادارے بنتے ہیں۔ عالمی سطح پر سائبر حملے کسی بھی ملک کے داخلی معاملات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اور ان میں اکثر ہیکرز عالمی طاقتوں کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں امریکہ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک کو بھی ایسے حملوں کا سامنا ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ کے مختلف بڑے ایئرپورٹس پر بھی سائبر حملے ہوئے تھے جن کے نتیجے میں ایئرپورٹس کی ویب سائٹس متاثر ہو گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حملوں کے ذریعے بڑی ایئرلائنز کی سروسز متاثر ہوئیں اور ان کی ویب سائٹس پر غیر معمولی بوجھ پڑا تھا۔سائبر حملے اب ایک عالمی مسئلہ بن چکے ہیں اور ان کا اثر نہ صرف ایئرلائنز بلکہ دیگر شعبوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایئرلائنز اور دیگر کمپنیاں اپنی سائبر سیکیورٹی کی پالیسیوں کو مزید مستحکم کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ ایسے حملوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
    پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستانی نامور مصنفہ بیپسی سدھوا امریکا میں چل بسیں

  • پی آئی اے کی پروازیں تاخیر کا شکار

    پی آئی اے کی پروازیں تاخیر کا شکار

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی کراچی سے اسلام آباد اور لاہور جانے والی پروازوں میں تاخیر کا سامنا ہوا ہے۔

    پی آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ تاخیر جہازوں کی روٹین کی مینٹیننس کے دوران ایک جہاز کے سافٹ ویئر اپڈیٹ میں تاخیر کی وجہ سے ہوئی۔پی کے 300 جو کہ کراچی سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والی تھی، اس کی روانگی میں تاخیر ہوگئی۔ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ پرواز اب دوپہر 1:30 بجے روانہ ہوگی۔اسی طرح پی کے 301 کی پرواز بھی متاثر ہوئی ہے، جو اسلام آباد سے کراچی واپس آنا تھی۔ یہ پرواز بھی معمولی تاخیر کا شکار ہوئی ہے اور پی آئی اے کے مطابق یہ پرواز بھی جلد روانہ ہوگی۔پی آئی اے حکام نے یہ بھی بتایا کہ لاہور جانے والی پرواز پی کے 304 کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ تاہم، اس پرواز کے مسافروں کو متبادل پروازوں پر روانہ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

    پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) خود اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے مسافروں کی سہولت اور آرام کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔پی آئی اے حکام نے مسافروں کو یقین دلایا کہ تمام متاثرہ پروازوں کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ اور محفوظ سفر کر سکیں۔تاخیر اور منسوخی کے باوجود پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مسافروں کو اس صورت حال میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔

    اداکارہ بلیک لائیولی کاساتھی اداکار پر جنسی ہراسانی کا مقدمہ، اداکاروں کی حمایت

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

  • آئندہ برس  8 طیارے پی آئی اے  میں شامل ہونگے،سی ای او پی آئی اے

    آئندہ برس 8 طیارے پی آئی اے میں شامل ہونگے،سی ای او پی آئی اے

    سی ای او پی آئی اے خرم مشتاق نے کہا ہے کہ آئندہ سال 8 طیارےقومی ائیرلائن کے بیڑے میں شامل ہونگے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی نوابزادہ افتخار کی زیر صدارت ہوا ،اجلاس میں ممبران شریک ہوئے جبکہ سی ای او قومی ائیرلائن نے بریفنگ دی،اجلاس کے دوران کمیٹی چیئرمین نے ارکان سے کہا کہ سی ای او قومی ائیرلائن نئے آئے ہیں، ان کے سامنے سوالات رکھ دیں،بیرسٹر عقیل ملک نے سوال کیا کہ قومی ائیرلائن اگلےمہینےنئے جہاز خرید رہا ہےتو کیا لانگ رینج جہاز خریدےجائیں گے؟ پچھلےتین سال میں قومی ائیرلائن کے کتنے ملازمین بیرون ملک فرار ہوئے ہیں؟ ملازمین بیرون ملک پناہ نہ لیں، اس کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟سی ای او قومی ائیرلائن نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک 8 نئے 777 طیارے قومی ائیرلائن کے بیڑے میں شامل ہونگے، 4 سال بعد یورپی یونین کی پابندی ختم ہوگئی ہے، پیرس میں ہمیں ٹرمینل 3 ملا ہے، یورپ جانے والےٹرمینل تک قومی ائیرلائن کو رسائی ملے گی توکنکٹنگ فلائٹ بھی جاسکے گی، اسلام آباد سے پیرس کے لیے ہفتہ وار 2 پروازیں چلائی جائیں گی، ائیر فرانس کے معاہدےکی وجہ سے یورپی مسافروں کوبھی سہولت ملے گی، ایس پی ایس معاہدےکے تحت پیرس کے ساتھ دیگریورپی ممالک کےسفرکی سہولت بھی ملے گی۔

    ممبر کمیٹی مہرین بھٹو نے اجلاس میں کہا کہ قومی ائیرلائن کی فوڈ کوالٹی پر تو الگ سے کمیٹی ایجنڈا ہوگا ، ممبر شریف خان نے کہا کہ قومی ائیر لائن میں فلائٹ اسٹاف کا رویہ بہت تضحیک آمیز ہوتا ہے، اس موقع پر سی ای او نے جواب دیا کہ قومی ائیرلائن کی فلائٹس میں فوڈ کوالٹی بہتر بنا دی ہے،چیئرمین کمیٹی نے ائیرپورٹ ڈویلپمنٹس پر 4 رکنی ذیلی کمیٹی بناتے ہوئے کہا کہ ذیلی کمیٹی ائیرپورٹس کی ڈویلپمنٹ اور جاری کام پر پیشرفت رپورٹ دے گی۔

    ٹریول ایجنٹس نے آج تک قومی ایئرلائن کوکتنا نقصان پہنچایا،تفصیلات طلب
    اجلاس میں قومی ائیرلائن کے ملازمین کی تعداد، پروموشن اورپوسٹنگ سے متعلق تفصیلات ممبران کوپیش کی گئی،کمیٹی ممبر رمیش لال نے بتایا کہ قومی ائیرلائن کےکچھ ملازمین کی 10سال سے پروموشن نہیں ہوئی، مکمل بریفنگ دی جائے تاکہ معلوم ہو کیا کیا جا رہا ہے،اجلاس میں اراکین نے سوال کیےکہ قومی ائیرلائن کے ایئرمارشل (ر) سی ای او تھےتو کتنی پروازیں تھیں اور اب کتنی ہیں؟ ایک ممبر نے کہا کہ ٹریول ایجنٹس نے آج تک قومی ایئرلائن کوکتنا نقصان پہنچایا، تفصیلات آئندہ میٹنگ میں فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے حکام کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں اس پر دوبارہ بریفنگ دی جائے۔

    قائمہ کمیٹی ایوی ایشن نے ملتان کے فلائنگ کلب کے عہدیداروں کو طلب کر لیا
    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کے چیئرمین نوابزادہ افتخار نے اگلے اجلاس میں ملتان کے فلائنگ کلب کے عہدیداروں کو طلب کر لیا،کمیٹی اجلاس میں ملتان فلائنگ کلب کے آڈٹ سے متعلق ایجنڈا زیرِ بحث لایا گیا،ممبر کمیٹی رمیش لال نے اس دوران کہا کہ فلائنگ کلب ملتان کے ڈی جی کے پیش نہ ہونے پر کیا کارروائی ہونی چاہیے،ممبر کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے اجلاس کے دوران سوال اٹھایا کہ فلائنگ کلب ملتان کے آڈٹ کو بغیر ضوابط کیوں کرایا گیا؟ فلائنگ کلب میں تربیت پانے والے بچے اب متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ سروس نہیں دی جا رہی، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہر کام نیب اور ایف آئی اے کے حوالے ہو جائے۔

    سیکریٹری ایوی ایشن نے کہا کہ فلائنگ کلب وزارت ہوا بازی کے تحت کام کرتے ہیں، فلائنگ اسکولز کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،ہ بچوں نے لاکھوں روپے فیس بھری تو ان کو ٹریننگ کیوں نہیں مل رہی، یہ دیکھنا ہو گا، ابھی بھی آپ کے پاس حل نہیں ہے، آج تو ذیلی کمیٹی کی سفارشات آنا تھیں، میرا مدعا ہے کہ بچوں کو فیس واپس کرنے کے بجائے ٹریننگ مکمل کرائی جائے،ہم ایک ماہ میں فلائنگ اسکولز کے نئے رولز بنا کر کمیٹی کو پیش کریں گے، مریدکے میں ایئرپورٹ اتھارٹی نے اپنی فنڈنگ سے فلائنگ اسکول بنایا جو 15 جنوری کو فعال ہو جائے گا، ملک کو نئے پائلٹس کی اشد ضرورت ہے، ملتان فلائنگ کلب ٹرسٹ ہے تو اس پر ٹرسٹیز کا معاملہ بھی دیکھنا ہو گا۔

    اجلاس کے دوران ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ سول ایوی ایشن نے ایئر لائنز کے لیے پائلٹ ٹریننگ اور فراہمی کی نئی پالیسی بنائی ہے جو پیش کی جائے گی،چیئرمین کمیٹی نوابزادہ افتخار نے کہا کہ اگلا اجلاس ملتان میں ہوگا اور وہاں فلائنگ کلب کے عہدیدار پیش ہوں۔

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    آئندہ پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

  • کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز میں فنی خرابی کی وجہ سے اسے روانگی کے 25 منٹ بعد واپس کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کروا لیا گیا۔

    ، پی آئی اے کی پرواز پی کے 300 نے کراچی سے اسلام آباد کے لیے روانگی لی تھی، تاہم طیارے کے ٹیک آف کے بعد اس میں ایک فنی خرابی کا سامنا ہوا۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق، طیارے کا لینڈنگ گیئر صحیح طریقے سے بند نہیں ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے کپتان نے حفاظتی اقدامات کے تحت فوری طور پر واپس کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کا فیصلہ کیا۔یہ واقعہ روانگی کے تقریباً 25 منٹ بعد پیش آیا، اور طیارہ بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر واپس پہنچا۔ پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ تمام مسافر محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    پی آئی اے کے سی ای او، خرم مشتاق، بھی اس پرواز میں سوار تھے، ترجمان نے مزید بتایا کہ طیارے کو تبدیل کر کے مسافروں کو روانہ کر دیا گیا اور ان کی سفری سہولت میں کوئی خلل نہیں آیا۔پی آئی اے کی انتظامیہ نے اس واقعہ کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں.

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    آئندہ پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں