Baaghi TV

Tag: ایئر پورٹ

  • نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

    نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

    آج کا دن پاکستان کی فضائی تاریخ میں ایک اہم سنگ ہے ، کیونکہ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اپنے آپریشنز کا آغاز کر رہا ہے۔پہلی کمرشل پرواز نیو گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر لینڈ کر گئی ،پی آئی اے کی پہلی پرواز (PIA503) کراچی سے گوادر پہنچی ہے، جو ایک اے ٹی آر 42 طیارہ ہے۔اس تاریخی موقع پر مسافروں کا استقبال وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ محمد آصف نے کیا۔ پہلی پرواز کی لینڈنگ کے بعد روایتی واٹرکینن سلامی پیش کی گئی، جس میں ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ سروسز (آر ای ایف ایس) کے واٹر باؤزرز شامل ہوں گے۔

    پاکستان کے جنوبی علاقے گوادر میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو مکمل طور پر آپریشنل کر دیا گیا ہے، جو کہ سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کا اہم فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ ایئرپورٹ سالانہ 4 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرے گا۔نیو گوادر ایئرپورٹ 4,300 ایکڑ پر محیط ہے اور اس میں جدید ترین کنٹرول سسٹمز کی سہولت موجود ہے۔ ایئرپورٹ کا رن وے 3.6 کلومیٹر طویل ہے، جو بڑے طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے۔ اس ایئرپورٹ پر ایئر بس اے 380 اور بوئنگ 747 جیسے بڑے طیارے بھی آسانی سے لینڈ کر سکتے ہیں۔
    گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر پر 246 ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ یہ منصوبہ دسمبر 2024 میں مکمل ہوا، جس کے بعد اس پر پروازوں کی باقاعدہ آمد و رفت کا آغاز ہو رہا ہے۔ ایئرپورٹ کی تکمیل سے گوادر کی معیشت اور علاقے کے دیگر حصوں کے درمیان رابطوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

    نیو گوادر ایئرپورٹ پر مسافروں کا استقبال کرنے کے لیے گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر خواجہ آصف اور چین کی اہم شخصیات موجود تھیں۔ ایئرپورٹ پر ایک رنگا رنگ تقریب بھی منعقد کی جا رہی ہے۔

    گوادر کا یہ ایئرپورٹ پاکستان کے سب سے بڑے ایئرپورٹس میں سے ایک ہے، جو 430 ایکڑ پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کا ایک ہی رن وے 3658 میٹر طویل اور 75 میٹر چوڑا ہے، جس میں بڑے ہوائی جہازوں کی گنجائش ہے۔ یہ ایئرپورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم اقتصادی اور تجارتی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نیو گوادر ایئرپورٹ کی تکمیل سی پیک کے تحت گوادر کی ترقی میں ایک سنگ میل ہے۔ یہ ایئرپورٹ نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا، بلکہ پورے علاقے میں معاشی ترقی کے امکانات کو بھی بڑھائے گا۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی افتتاحی پرواز اور اس کی مکمل آپریشنل ہونے سے گوادر اور پورے بلوچستان کے لیے اہم ترقیاتی مواقع پیدا ہوں گے۔ اس منصوبے کی کامیابی نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو گی۔

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    شکارپور،ڈاکوؤں کی فائرنگ،سابق صوبائی وزیر زخمی، دو سیکورٹی گارڈ جاں بحق

  • دہلی ایئر پورٹ پر  شہری گرفتار، سامان سے مگرمچھ کی کھوپڑی برآمد

    دہلی ایئر پورٹ پر شہری گرفتار، سامان سے مگرمچھ کی کھوپڑی برآمد

    کینیڈا کے ایک شہری کو بھارتی حکام نے دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کر لیا جب اس کے سامان میں مگرمچھ کی کھوپڑی پائی گئی۔

    32 سالہ کینیڈیائی شہری، جس کا نام حکام نے ظاہر نہیں کیا، دہلی سے کینیڈا جا رہا تھا جب اسے ہوائی اڈے پر سیکیورٹی چیک کے دوران روکا گیا۔دہلی کسٹمز کے مطابق، "معائنے کے دوران، ایک کھوپڑی جو تیز دانتوں والی تھی اور جو ایک بچے مگرمچھ کے جبڑے کی طرح نظر آتی تھی، تقریباً 777 گرام وزنی تھی اور کریم رنگ کے کپڑے میں لپٹی ہوئی تھی، برآمد ہوئی۔”حکام نے بتایا کہ یہ کھوپڑی بھارت کے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت محفوظ نوع سے تعلق رکھتی ہے اور اس شہری نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ کسٹمز ایکٹ کے تحت بھی یہ ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔کسٹمز نے مزید بتایا کہ کھوپڑی کو محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ اس کی لیب ٹیسٹنگ کی جا سکے۔

    دہلی کسٹمز نے اس کیس کو وائلڈ لائف اور کسٹمز قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسٹمز اور جنگلات کے محکموں کے درمیان تعاون اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کی محفوظ نوع کی وائلڈ لائف کی اسمگلنگ نہ ہو۔

    ایک غیر سرکاری تنظیم، جو وائلڈ لائف ٹریڈ کی نگرانی کرتی ہے، کی 2022 کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیسے جیسے بھارت کا ہوا بازی کا شعبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اسی طرح ہوائی اڈوں کو وائلڈ لائف کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔2011 سے 2020 تک، بھارت بھر میں 141 وائلڈ لائف ضبطی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 146 مختلف جانوروں کی اقسام شامل تھیں۔ ان میں رینگنے والے جانور، جیسے مگرمچھ، چھپکلیاں، سانپ اور کچھوے سب سے زیادہ تعداد میں پکڑے گئے، جو ان ضبطیوں کا 46% تھے۔”بھارت وائلڈ لائف ٹریفکنگ کے لیے ایئر لائن کے شعبے کو استعمال کرنے والے دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے،” اس وقت بھارت میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے سربراہ آتُل بگائی نے رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد کہا تھا۔ "یہ ایک ناپسندیدہ اعزاز ہے۔”

    بھارتی حکومت نے اپنے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت جنگلی جانوروں کی اسمگلنگ پر قابو پانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اور بھارت سی آئی ٹی ایس کا رکن بھی ہے، جو عالمی سطح پر وائلڈ لائف ٹریڈ پر قانون سازی کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی مسافر نے اپنے سامان میں جانوروں یا جانوروں کے حصے اسمگل کرنے کی کوشش کی ہو۔ پچھلے سال، فلوریڈا کے ٹمپا ہوائی اڈے پرایک مسافر کے بیگ میں چار فٹ لمبا زندہ بوآ کنسٹریکٹر ملا تھا جس کے بعد انسٹاگرام پر سانپوں سے متعلق مذاق کیے گئے تھے۔

    شادی میں شراب اور میوزک کی چھٹی،21 ہزار انعام پائیں

    شیر افضل مروت،سلمان اکرم راجہ کی لفظی جنگ،بیرسٹر گوہر بھی بول پڑے

  • سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    کراچی: سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 63 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے پاکستانیوں کی بے دخلی کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان ممالک سے مجموعی طور پر 63 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا، جنہیں کراچی ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد قانونی کارروائی کے بعد گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔سعودی عرب سے بے دخل ہونے والوں میں 4 پاکستانی بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے، 15 افراد ہاروب ہونے کی وجہ سے اور 10 افراد زائد المیعاد قیام کے باعث پاکستان واپس بھیجے گئے۔

    ملائیشیا سے 16 پاکستانیوں کو ممنوعہ تارکین وطن کی حیثیت کی وجہ سے پاکستان واپس بھیجا گیا۔ یہ افراد اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ملک سے بے دخل کیے گئے۔عراق سے 11 پاکستانیوں کو غیر قانونی داخلے اور زائد المیعاد قیام کے باعث ایمرجنسی پاسپورٹ کے ذریعے پاکستان واپس بھیجا گیا۔یو اے ای سے 4 پاکستانیوں کو بے دخل کر کے پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ ان افراد کا تعلق غیر قانونی اقامت یا ویزے کی خلاف ورزی کرنے والے تارکین وطن سے تھا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق تمام افراد کی واپسی کے بعد قانونی کارروائی کی گئی ہے اور انہیں اپنے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ ادارے ان معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تارکین وطن کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

  • کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کی وجہ سے فلائٹ سیفٹی کو خطرہ

    کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کی وجہ سے فلائٹ سیفٹی کو خطرہ

    کراچی کے جناح ایئرپورٹ پر جنرل ایوی ایشن ایریا میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے فلائٹ سیفٹی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

    آوارہ کتوں کی بہتات کی وجہ سے ، کتوں کا آزادانہ گھومنا ٹیکسی وے اور ایئرپورٹ کے دیگر حساس علاقوں میں پروازوں کی حفاظت کو متاثر کر رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی موجودگی اور ان کا ٹیکسی وے پر آزادانہ گھومنا خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ ان کتوں کا کسی بھی طیارے سے ٹکرا جانا فلائٹ سیفٹی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس علاقے میں مسلسل تربیتی طیاروں کی آمدورفت بھی جاری رہتی ہے، جس سے پروازوں کے آپریشن میں مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    گزشتہ شام ایک آوارہ کتا ایک طیارے سے ٹکرا جانے کے قریب پہنچ گیا تھا، جس کی وجہ سے جنرل ایوی ایشن ہینگر سے روانہ ہونے والی ایک پرواز کو حادثے کے خدشے کے پیش نظر منسوخ کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ایئرپورٹ پر پروازوں کے آپریشن میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور ایئرپورٹ کی انتظامیہ کے لیے صورتحال کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، اور اس کی ناکامی نے ایئرپورٹ کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماضی میں آوارہ کتوں کو مرکزی رن وے پر بھی گھومتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس سے پروازوں کے دوران حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ نہ صرف فلائٹ سیفٹی کے لیے خطرہ بنے گا بلکہ ایئرپورٹ کی مجموعی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کو فوری طور پر آوارہ کتوں کی تعداد کو کنٹرول کرنے اور ان کی ایئرپورٹ کے اندر موجودگی کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

  • 2024 میں بروقت   پہنچنے والی  دنیا کی  ایئرلائنز

    2024 میں بروقت پہنچنے والی دنیا کی ایئرلائنز

    دنیا کے سفر میں ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ عالمی سیاحت 2024 میں وبا سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہے۔ اس سال سفر کی دنیا میں کئی چیلنجز بھی رہے ہیں، جن میں سمگلنگ کی کوششیں، چھپ کر سفر کرنے والے مسافر، اور دیگر فضائی مسائل شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود ایک اچھی خبر بھی آئی ہے۔

    ایوی ایشن اینالٹکس فرم Cirium نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں دنیا کی سب سے زیادہ وقت پر پہنچنے والی ایئرلائنز اور ایئرپورٹس کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ایئرلائنز رینکنگ کے مطابق، ایئرلائنز کے لئے "وقت پر پہنچنا” کا مطلب ہے کہ ایک پرواز اپنے شیڈیول کردہ وقت سے 14 منٹ 59 سیکنڈ کے اندر اندر پہنچ جائے یا روانہ ہو۔ اس معیار کے مطابق، 2024 کی سب سے زیادہ وقت پر پہنچنے والی ایئرلائنز درج ذیل ہیں:

    ایرو میکسیکو (Aeromexico)
    سعودیہ ایئرلائنز (Saudia)
    ڈیلیٹا ایئر لائنز (Delta Air Lines)
    LATAM ایئرلائنز
    قطر ایئرلائنز (Qatar Airways)
    ازول ایئرلائنز (Azul Airlines)
    ایوانکا ایئرلائنز (Avianca)
    ایبریا ایئرلائنز (Iberia)
    سکینڈینیوین ایئرلائنز (Scandinavian Airlines – SAS)
    یونائیٹڈ ایئرلائنز (United Airlines)

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال کی تین سب سے وقت پر پہنچنے والی ایئرلائنز اسکائی ٹیم اتحاد کے ارکان ہیں، جن میں ایرو میکسیکو, سعودیہ, اور ڈیلیٹا ایئر لائنز شامل ہیں۔ یہ اتحاد 2000 میں قائم ہوا تھا اور اس کے بانی ارکان میں ایرو میکسیکو اور ڈیلیٹا شامل ہیں، جب کہ سعودیہ ایئرلائنز اس اتحاد میں نسبتاً نیا رکن ہے۔

    ایشیا پیسیفک خطے میں، جاپان کی دو بڑی ایئرلائنز نے ٹاپ پوزیشنز حاصل کیں۔ جاپان ایئرلائنز نے سونے کا تمغہ جیتا، اور (ANA) نے چاندی۔ دونوں ایئرلائنز کے درمیان صرف 0.4 فیصد کا فرق تھا۔سنگاپور ایئرلائنز نے اس خطے میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے، اور اس ایئرلائن کو پانچ بار دنیا کی بہترین ایئرلائن کے اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔مشرق وسطی اور افریقہ خطے میں جنوبی افریقہ کی سیفیر ایئرلائنز نے سب سے زیادہ وقت پر پہنچنے والی ایئرلائن کا اعزاز حاصل کیا، جب کہ عمان ایئر اور رائل اردنی ایئرلائنز بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔یورپ میں اسپین کی ایبریا ایئرلائنز نے دوسرے نمبر پر اپنی جگہ بنائی، جبکہ اس کی ذیلی ایئرلائن ایبریا ایکسپریس پہلے نمبر پر رہی۔شمالی امریکہ میں ڈیلیٹا ایئرلائنز نے پہلے نمبر پر آ کر سب سے وقت پر پہنچنے والی ایئرلائن کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ایلاسکا ایئرلائنز نے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر جگہ بنائی۔لاطینی امریکہ میں، پاناما کی کوپا ایئرلائنز نے مسلسل دوسرے سال سب سے زیادہ وقت پر پہنچنے والی ایئرلائن کا اعزاز حاصل کیا۔

    Cirium نے دنیا کے مختلف ایئرپورٹس کی بھی تفصیلات فراہم کی ہیں۔

    بڑے ایئرپورٹس:
    ریاض کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ (RUH)
    لیما جورج شاویز انٹرنیشنل ایئرپورٹ (LIM)
    میکسیکو سٹی بینیٹو جواز انٹرنیشنل ایئرپورٹ (MEX)

    درمیانے سائز کے ایئرپورٹس:
    پاناما ٹوکومن انٹرنیشنل ایئرپورٹ (PTY)
    اوکاسا اٹامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ITM)
    برازیلیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ (BSB)

    چھوٹے ایئرپورٹس:
    گوایا کیل جوز جواکیو ڈی اولمیڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ (GYE)
    کیوٹو مارِسکل سکرے انٹرنیشنل ایئرپورٹ (UIO)
    ایلسالواڈور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (SAL)

    یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایئرلائنز اور ایئرپورٹس کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کئی عوامل جیسے موسم یا ماحولیاتی تبدیلیاں پروازوں کی تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، 2024 میں عالمی ایوی ایشن انڈسٹری نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے مسافروں کو سفری تجربے میں سہولت ملی ہے۔

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    یو نائیٹڈ ایئر لائنز کے طیارے میں پہیوں کے کمپارٹمنٹ سے لاش برآمد

    ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز میں چھپ کرسفر کرنے والی روسی خاتون دوبارہ گرفتار

    عالمی درجہ بندی،بھارتی انڈیگو بدترین ایئر لائنز میں شامل

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

  • پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی ایک اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سعودی عرب سے ملتان جانے والی پرواز کے مسافر 12 گھنٹے سے لاہور ایئر پورٹ پر بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔

    پی آئی اے کی پرواز جدہ سے ملتان کے لیے روانہ ہوئی تھی، لیکن خراب موسم اور دھند کی وجہ سے اسے لاہور اتارنا پڑا۔مسافروں کا کہنا ہے کہ جب پرواز لاہور پہنچی تو انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جلد ہی ملتان روانہ کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود 12 گھنٹے گزر جانے کے باوجود کوئی حل نہیں نکالا گیا۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافر سخت پریشانی کا شکار ہیں اور پی آئی اے کے عملے کے ساتھ ان کے برتاؤ کو لے کر شدید غم و غصہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    مسافروں کی ایک ویڈیو سانے آئی ہے جس میں وہ احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک مسافر نے بتایا کہ وہ رات 11 بجے سے ایئر پورٹ پر بیٹھے ہیں اور انہیں مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ اگلے کچھ وقت میں پرواز ملتان کے لیے روانہ ہو جائے گی۔ تاہم، اب تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں اور وہ گھنٹوں گزر جانے کے باوجود ملتان روانہ نہیں ہو سکے۔ویڈیو میں مسافروں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دے رہی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور تمام مسافر پی آئی اے کی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ایک مسافر کا کہنا تھا کہ "ہم نے پی آئی اے پر بھروسہ کیا تھا لیکن اب یہاں آ کر ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے کتنا بڑا غلط فیصلہ کیا تھا۔”مسافروں کی جانب سے مزید شکایات یہ بھی ہیں کہ ایئر پورٹ پر کوئی مناسب رہنمائی یا سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کی طرف سے رابطہ کرنے کے لئے کوئی نمبر نہیں دیا جا رہا اور پی آئی اے کا عملہ صرف وقت گزاری کر رہا ہے، جبکہ مسافر سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ لاہور ایئر پورٹ پر اس وقت پی آئی اے کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے اور مسافر اس وقت تک ایئرپورٹ پر موجود ہیں جب تک کہ ان کا معاملہ حل نہیں کیا جاتا۔

    پی آئی اے کی پروازیں تاخیر کا شکار

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

  • پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک، آذربائیجان سے یورپ تک کا غیر قانونی راستہ

    پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک، آذربائیجان سے یورپ تک کا غیر قانونی راستہ

    پاکستانی انسانی اسمگلروں کی جانب سے آذربائیجان، ایران، عراق، اور سعودی عرب کے راستے یورپ اور مغربی ممالک شہریوں‌کو بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    گزشتہ دنوں یونان میں کشتی ڈوبنے کے واقعات میں متعدد پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کا پتہ چلا، جس نے ان افراد کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ آذربائیجان پاکستانی انسانی اسمگلروں کے لیے ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ آذربائیجان کے وزٹ ویزے کی قیمت صرف 26 ڈالر (تقریباً 7206 پاکستانی روپے) ہے اور یہ آن لائن دستیاب ہوتا ہے۔ اس ویزے کے لیے کسی پاکستانی شہری کو بینک اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ یا دیگر اضافی دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پاکستانی اور مقامی ٹریول ایجنٹس کا ایک نیٹ ورک موجود ہے جو غیر قانونی اسمگلنگ کی سرگرمیاں چلاتا ہے۔ یہ ایجنٹ پاکستانی شہریوں کو باآسانی آذربائیجان کا وزٹ ویزہ دلاتے ہیں اور وہاں پہنچنے کے بعد، یہ افراد غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیے مزید سہولتیں حاصل کرتے ہیں۔

    آذربائیجان کے راستے یورپ کی طرف غیر قانونی سفر
    آذربائیجان کے وزٹ ویزے کے ذریعے یورپ جانے کا طریقہ کار کچھ یوں ہے: پاکستانی شہری آذربائیجان پہنچ کر ایجنٹوں سے رابطہ کرتے ہیں اور پھر مختلف ممالک کی طرف غیر قانونی طور پر سفر کرتے ہیں، جہاں سے یورپ پہنچنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ آذربائیجان میں پہنچنے کے بعد اکثر افراد ایجنٹوں کے ساتھ مل کر جعلی دستاویزات یا ویزے حاصل کرتے ہیں، جس سے انہیں یورپ پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔

    سعودی عرب، ایران اور عراق کے راستے اسمگلنگ
    اسی طرح سعودی عرب میں عمرہ ویزے پر پہنچ کر وہاں موجود ایجنٹوں سے جعلی ویزے یا پاسپورٹ حاصل کر کے اگلے سفر کی تیاری کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب سے ایسے درجنوں افراد کو پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا ہے جو عمرہ ویزے پر سعودی عرب گئے تھے اور وہاں سے آگے غیر قانونی طور پر سفر کرنا چاہتے تھے۔
    ایران اور عراق کے راستے بھی پاکستانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے لیے اہم ہیں۔ ایران میں زمینی یا بحری راستوں سے پہنچ کر پاکستانی یا مقامی ایجنٹس کے ذریعے جعلی دستاویزات حاصل کی جاتی ہیں، اور پھر یہ افراد یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح عراق میں بھی انسانی اسمگلنگ کا ایک نیٹ ورک سرگرم ہے، جہاں پاکستانی شہری مختلف طریقوں سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستانی انسانی اسمگلروں کا نیٹ ورک صرف آذربائیجان، ایران، سعودی عرب اور عراق تک محدود نہیں بلکہ ترکی، ملائیشیا، تھائی لینڈ، مراکش، جارجیا اور دیگر ممالک میں بھی پاکستانی اسمگلرز موجود ہیں۔ ان ممالک میں مختلف طریقوں سے پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک پہنچانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

    پاکستان کی حکومت کی جانب سے اس مسئلے کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر ایس او پیز (معیاری آپریٹنگ پروسیجرز) موجود نہیں ہیں۔ 2005 میں آخری بار وزارت داخلہ نے امیگریشن پالیسی جاری کی تھی، جس کے بعد سے اس میں کوئی تبدیلی یا اپ ڈیٹ نہیں کی گئی۔ نتیجتاً، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک نے آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اور ہزاروں افراد غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی اسمگلنگ کے اس پیچیدہ نیٹ ورک کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان کو فوری طور پر نئی پالیسی تیار کرنے اور انٹرنیشنل لیول پر کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، پاکستانی شہریوں کو آگاہی دینے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ انسانی اسمگلروں کے جال میں نہ پھنسیں اور غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوششوں میں جان کی بازی نہ ہاریں۔یونان میں کشتی ڈوبنے کی حالیہ واردات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کے شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کی کوشش میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    کراچی ، انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

    انسانی سمگلنگ،وزیراعظم کی ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل

  • اسلام آباد ایئر پورٹ پر غیرملکی باشندے سے منشیات برآمد

    اسلام آباد ایئر پورٹ پر غیرملکی باشندے سے منشیات برآمد

    اسلام آباد: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹمز اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے ایک بڑی کارروائی کی گئی ہے جس کے دوران ایک فرانسیسی باشندے سے 1 کلو 58 گرام چرس برآمد ہوئی۔

    ملزم جس کا تعلق فرانس سے ہے، انڈیا سے اسلام آباد آیا تھا اور اب وہ مسقط کے ذریعے سری لنکا جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایئرپورٹ پر اس کی مشکوک حرکات کو دیکھتے ہوئے اے این ایف نے اس کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران ملزم کے بیگ سے چاکلیٹس کی پیکنگ میں چھپائی گئی بھاری مقدار میں چرس برآمد ہوئی۔ملزم نے منشیات کو چاکلیٹس کے پیکٹ میں چھپانے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ اس کو ایئرپورٹ سے باہر لے جا سکے۔ اے این ایف کی ٹیم نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔مزید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ملزم پاکستان وزٹ ویزہ پر آیا تھا اور اس کی نیت منشیات کی اسمگلنگ کی تھی۔ اے این ایف نے ملزم کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    یہ کارروائی اے این ایف کی جانب سے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ ہے اور ایئرپورٹ پر اس قسم کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے متعلقہ حکام مزید احتیاطی تدابیر اپنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب عمرہ ادائیگی کے لیے کراچی سے سعودی عرب جانے والے 3 افراد کو ممنوعہ اشیاء لے جانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، کراچی سے جانے والے 3 عمرہ زائرین سعودی عرب کی جیلوں میں ہیں جنہیں ممنوعہ اشیاء لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے،گرفتار افراد کے اہل خانہ نے شکایت درج کرائی ہے کہ ٹریول ایجنٹ نے انہیں جاتے ہوئے ادویات کا کہہ کر منشیات تھما دی تھیں، منشیات اسمگلنگ میں ملوث ٹریول ایجنٹ روپوش ہے،ٹریول ایجنٹ کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ سرکل میں درج کر لیا گیا ہے اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔

    برطانوی ایئر پورٹ پر پولیس سے جھگڑا،دو پاکستانیوں پر فردجرم عائد

    جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

  • برطانوی ایئر پورٹ پر پولیس سے جھگڑا،دو پاکستانیوں پر فردجرم عائد

    برطانوی ایئر پورٹ پر پولیس سے جھگڑا،دو پاکستانیوں پر فردجرم عائد

    برطانیہ کے مانچسٹر ایئرپورٹ پر پولیس اہلکاروں سے جھگڑنے کے الزام میں دو پاکستانی نوجوانوں پر فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔

    کراؤن پراسیکیوشن سروس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان نوجوانوں پر پولیس اہلکاروں سے بدسلوکی اور جھگڑے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم اس واقعے میں کسی پولیس افسر پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔یہ واقعہ جولائی 2023 میں پیش آیا تھا جب مانچسٹر ایئرپورٹ پر پولیس اور دو پاکستانی نوجوانوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اس دوران پولیس نے ایک نوجوان کو زمین پر گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ پولیس اہلکار ایک نوجوان کو طاقت کے ساتھ قابو کر رہے تھے، جس پر عوامی سطح پر تشویش اور غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔

    اس واقعے کے بعد، سوشل میڈیا پر پاکستانی کمیونٹی اور دیگر افراد کی جانب سے پولیس کے رویے پر سخت تنقید کی گئی۔ ویڈیو میں نوجوان پر ہونے والے تشدد کو غیر ضروری اور زیادتی قرار دیا گیا۔ مانچسٹر سے منتخب برطانوی پاکستانی رکن پارلیمنٹ، افضل خان نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پولیس نے شہری پر طاقت کا بے جا استعمال کیا ہے اور اس معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہیے۔افضل خان نے انڈپینڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ سے اس واقعے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی ذمہ داریوں سے تجاوز کیا ہے یا نہیں۔

    اس دوران، نوجوانوں کی والدہ نے برطانوی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ نہ صرف غیر قانونی تھا بلکہ غیر اخلاقی بھی تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی اور انصاف کا دروازہ کھلے گا۔

    مانچسٹر پولیس کی جانب سے اس معاملے میں ابھی تک کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی کارروائی اس وقت کے حالات کے مطابق تھی اور انہیں عوامی حفاظت کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کے واقعات کی مکمل تحقیقات کی جاتی ہیں تاکہ ایسی صورتحال کے دوران اہلکاروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    اس واقعے کے بعد مانچسٹر سمیت پورے برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے پولیس کے اس رویے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ متعدد افراد نے سوشل میڈیا پر اپنی آواز بلند کی اور مطالبہ کیا کہ پولیس کے اہلکاروں کو جوابدہ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ، کئی تنظیموں نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے اور نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے کا مطالبہ کیا۔یہ واقعہ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی حالت اور پولیس کے رویے پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے اور اس کے اثرات مستقبل میں برطانوی پولیس اور کمیونٹی کے تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ایئر پورٹ پر پولیس کا نوجوان پر تشدد،شہریوں کا پولیس کے خلاف احتجاج

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

  • نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق 30 دسمبر 2024 کو نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو باقاعدہ طور پر آپریشنل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس کا افتتاحی کمرشل پرواز قومی ائیرلائن پی آئی اے کی طرف سے چلائی جائے گی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے پی آئی اے کی انتظامیہ اور ائیرپورٹس اتھارٹی کے درمیان ایک پانچ گھنٹے تک طویل اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں ائیرپورٹ کی آپریشنلائزیشن سے متعلق تمام تکنیکی اور انتظامی معاملات کو طے کر لیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پی آئی اے آئندہ چند دنوں میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اپنے عملے کو تعینات کرے گا اور ائیرپورٹ پر چیک ان کے لیے کمپیوٹرز سمیت دیگر اہم سامان بھی نصب کرے گا۔ذرائع کے مطابق، اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک سال تک قومی ائیرلائن پی آئی اے سے کوئی ائیرپورٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ائیرپورٹس اتھارٹی کے حکام نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ قومی ائیرلائن کو ائیرپورٹ چارجز کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور انہیں اس حوالے سے سہولت فراہم کی جائے گی۔

    گوادر میں ڈیپ سی پورٹ کے قریب چین کی 246 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گوادر کا یہ جدید ائیرپورٹ نہ صرف عالمی تجارت کے لیے اہم ہے بلکہ سی پیک (CPEC) کے تحت چین، پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی فعالیت سے نہ صرف بلوچستان میں سیاحت اور کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے بھی یہ ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم کی جانب سے اس ائیرپورٹ کو فعال کرنے کا فیصلہ، اور پی آئی اے کی طرف سے اس میں اہم کردار، پاکستان کے اسٹریٹجک تجارتی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب