Baaghi TV

Tag: ایاسا

  • یورپ کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ نہ ہوسکا

    یورپ کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ نہ ہوسکا

    اسلام آباد: یورپ کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ نہ ہوسکا، یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی ریویو بورڈ نے معاملہ ٹی سی او بورڈ کو بھجوا دیا۔

    باغی ی وی : ایوی ایشن ذرائع کے مطابق یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) کے آج ہونے والے اجلاس میں پاکستانی ائیرلائنز پر عائد پابندی اٹھانےکا فیصلہ نہ ہوسکا ،13مئی کو ہونے والے یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی ( ایاسا ) ریویو بورڈ کے اجلاس کے بعد پاکستان کا نام ممنوعہ فہرست سے نکال دیا گیا تھا تاہم ایاسا نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) اور دیگر پاکستانی ائیرلائنز پر عائد پابندی اٹھانے کا معاملہ تھرڈ کنٹری آپریٹر بورڈ کو بھجوا دیا ہے جس کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا-

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق تھرڈ کنٹری آپریٹر بورڈ کے اجلاس میں پی آئی اے اور دیگر پاکستانی ائیرلائنز پر سے پابندی اٹھانے یا نہ اٹھانے کا حتمی فیصلہ ہوگا، بورڈ کے اجلاس میں سیکرٹری ایوی ایشن اور ڈپٹی ڈی جی ریگولیٹری سی اے اے آن لائن شرکت کریں گے۔

    پاک چین دوستی وقت کی کسوٹی پر کھڑی رہی ہے،چین

    ادھر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی ایاسا کے ٹی سی او بورڈ کا اجلاس اگلے ہفتے ہوگا، پابندی اٹھائے جانے کی خبریں قبل از وقت ہیں، حتمی فیصلہ اگلے ہفتے میں متوقع ہے۔

    دفعہ 144 خلاف ورزی اور توڑپھوڑ کیس ،عمران خان 28 جون کو طلب

  • یورپی ایوی ایشن سیفٹی کا پی آئی اے پروازیں بحال کرنے سے انکار

    یورپی ایوی ایشن سیفٹی کا پی آئی اے پروازیں بحال کرنے سے انکار

    یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں کی بحالی سے پھرانکار کردیا۔

    باغی ٹی وی : یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی یورپ کے لیے پروازیں بحال کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    رجسٹریشن اور اوور سائٹ معاملات بہترکرنے میں سول ایوی ایشن کو اب تک کامیابی نہ مل سکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایاسا نے کہا ہے کہ اوور سائٹ اور رجسٹریشن سے متعلق اقدامات کرنے تک پروازیں بحال نہیں کر سکتے۔

    ایاسا کا کہنا ہے کہ پاکستان سی اے اے کے ابتدائی اقدامات تک پی آئی اے کی یورپ پروازوں کی بحالی ناممکن ہے۔

    واضح رہے کہ جعلی لائسنس والے پائلٹس کے معاملے پر یورپی ایوی ایشن ایجنسی نے پی آئی اے پر جولائی 2020 سے پابندی عائد کر رکھی ہے، یورپی ممالک اور برطانیہ میں پابندی سے اب تک پی آئی اے کو 150 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

    پولیس کی بے حسی یا بوڑھی ماں کا نصیب

    پی آئی اے کی یورپ میں پروازیں بحال کرنے سے قبل، ایاسا، پاکستان سی اے اے اور پی آئی اے کا آن سائٹ آڈٹ کرے گا۔

    سی اے اے حکام نے پی آئی اے کے یورپ آپریشن کی بحالی کے لیے پہلے مارچ 2021، پھر نومبر 2021، پھر مارچ 2022 اور اب نئی تاریخ مارچ 2023 دی ہے۔

    یورپی سیفٹی ایجنسی نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اعتماد بحال کرنے میں ناکام ہے اور فی الحال ایاسا کا آڈٹ کے لیے پاکستان آنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔

    ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایاسا کے دورے سے متعلق کام کیا جارہا ہے۔

    وزیراعظم کو منی لانڈرنگ کیس میں عدالت حاضری سے مستقل استثنیٰ مل گیا

  • پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں پر پابندیاں ختم نہ کرنے فیصلہ:یورپین ادارے کا اعلان

    پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں پر پابندیاں ختم نہ کرنے فیصلہ:یورپین ادارے کا اعلان

    کراچی:پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں پر پابندیاں ختم نہ کرنے فیصلہ:یورپین ادارے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ایکاو ) آڈٹ کی بنیاد پر یورپی روٹ کی پابندیاں ختم نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    پی آئی اے پر پابندیاں نہ ختم کرنے کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کے خط کا جواب دے دیا۔ خط ایاسا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے سی ای او پی آئی اے کو لکھا، جس میں کہا گیا کہ پاکستانی ائیرلائنز سے پابندیاں ہٹانے کیلئے ایاسا سول ایوی ایشن کا آڈٹ کروائے گی،

    یورپین ہوابازی کے ادارے کی طرف سے یہ وضاحت کی گئی ہےکہ ایاسا آڈٹ کے بعد یورپی روٹ کی پابندیاں ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا، عالمی ہوا بازی کی تنظیم اکاو آڈٹ کا یورپی روٹ پر پابندی سے کوئی تعلق نہیں، ایاسا اکاو آڈٹ کے بعد بھی سول ایوی ایشن کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔

    خط کے متن میں مزید کہا گیا کہ ایاسا تیسرے ملک کے ذریعے پابندی اٹھانے کے لئے آڈٹ کروا سکتا ہے، پابندیاں ہٹانے کے لیے ایاسا متعلقہ حکام سے مشاورت کرے گا، پیشہ وارنہ لائسنس سے متعلق ایاسا حکام کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں، کورونا کے باعث ایاسا عملے کی سفری سرگرمیاں محدود ہیں، کورونا صورتحال بہتر ہوتے ہی آڈٹ کروایا جائے گا۔ ایاسا نے پی آئی اے کے سیفٹی مینجمنٹ سسٹم سے متعلق اقدامات پر اعتماد کا اظہار کر دیا۔

    یاد رہے کہ چند ہفتے پہلے پی آئی اے کے غیرملکی ادارے کی طرف سے آڈٹ کی رپورٹ آنے کے بعد یہ خوش فہمی تھی کہ اب پاکستان کی قومی ایئرلائنز پریورپ کے دروازے کھول دیئے جائیں گے لیکن ایاسا کے بیان کےبعد مایوسی ہوئی ہے اور اب یہ بھی احساس ہوا ہے کہ بین الاقوامی طور پربھی مختلف ریجنز کی اجارہ داری ہے جو وہ ہر صورت قائم رکھنا چاہتے ہیں‌