Baaghi TV

Tag: ایجنڈا

  • پنجاب کابینہ نے  بجٹ کی منظوری دیدی،عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات کئے،حمزہ

    پنجاب کابینہ نے بجٹ کی منظوری دیدی،عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات کئے،حمزہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا.پنجاب کابینہ اجلاس میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے آئندہ مالی سال 2022-2023 کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

    صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ 15 فیصد سپیشل الاونس کی ادائیگی کی منظوری دے دی گئی.صوبائی کابینہ نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے ایم او یو کی منظوری دی.اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبائی وزراء، چئیرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام نے دن رات محنت کر کے بہترین بجٹ دستاویز تیار کی ۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔میں ہمیشہ مشاورت پر یقین رکھتا ہوں۔یہ بجٹ سیاسی و انتظامی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انساف نے سبطین خان کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا، تحریک انصاف نے سبطین خان سے متعلق اسمبلی سیکریٹریٹ کو آگاہ کردیا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کچھ دیر میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے.

    واضح رہے کہ پنجاب کیلئے 3 ہزار 226 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائےگا، صوبائی وزیر اویس لغاری بجٹ پیش کریں گے۔ پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 685 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 200 ارب روپے سستے گھی، چینی اور آٹے کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

    پنجاب اسمبلی میں آج بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کا امکان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ق لیگ نے بجٹ اجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

    پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا، اجلاس کی صدارت اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کریں گے۔ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔اجلاس میں مالی سال 22-2021 کا سپیلمنٹری بجٹ بھی پیش کیا جائے گا۔

    جاری کردہ ایجنڈے کے مطابق پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 میں ترامیم بھی ایوان میں پیش ہوں گی۔

    پنجاب کا بجٹ مسلم لیگ ن کے وزیر اویس لغاری پیش کریں گے، اس سلسلے میں محکمہ خزانہ پنجاب نے بجٹ تقریر کے پوائنٹس اویس لغاری کو بجھوا دیئے ہیں۔تاہم کے وزیر خزانہ کا نام اب تک سامنے نہیں آسکا۔

    پنجاب کیلئے 3 ہزار 226 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائےگا، پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 685 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 200 ارب روپے سستے گھی، چینی اور آٹے کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

    زرائع کے مطابق آج کے بجٹ اجلاس کیلئے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان کی جانب سے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ اور بجٹ تقریر کے دوران بھرپور احتجاج کا پروگرام بنایا ہے.

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سبطین خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بجٹ اجلاس میں رویہ ٹھیک رکھے گی تو اپوزیشن کا بھی ٹھیک ہو گا، حکومت نے اجلاس میں بلڈوز کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن مزاحمت کرے گی.

  • قوم کوتاریخ کی بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو،مریم نواز

    قوم کوتاریخ کی بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو،مریم نواز

    بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف زرداری ایوان میں پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : اپوزیشن اراکین نے بلاول بھٹو کا ڈیسک بجا کر استقبال کیا سابق صدر آصف زرداری حکومتی بینچز پر گئے زرداری نے حکومتی اراکین سے مصافحہ کیا آصف زرداری اپنی سیٹ سے اٹھ کر شوکت ترین سے ملاقات کیلئے آئے حماد اظہر نے بھی آصف زرداری سے مصافحہ کیا-

    دوسری جانب ایم کیو ایم کے اراکین بھی اپوزیشن بینچز پر موجود ہیں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کی-

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پارلیمان پر حملہ کرنا یاد ہے نا؟ آج انشاءاللّہ پارلیمان ہی تمہیں گھر بھیجے گی۔

    ٹوئٹر پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ قوم کو مہنگائی، نا اہلی، نالائقی اور تاریخ کی ہر لحاظ سے بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو ! اب اچھے دن آئیں گے انشاءاللّہ-


    انہوں نے کہا کہ قوم کوتاریخ کی بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو انہوں نے یوم نجات کے حوالے سے پوسٹر بھی شئیر کیا-


    مسلم لیگ کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس 174ووٹ ہیں انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے 84،پیپلزپارٹی کے 56 اورایم ایم اے کے 14 اراکین ہیں ایم کیو ایم کے 6،بی اے پی 4،بی این پی مینگل 4 اور4 آزاد اراکین ہیں،بی این پی اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن بھی متحدہ اپوزیشن کا حصہ ہے وزیر اعظم شہباز شریف ہوں گے لیکن اگر کوئی غیر آئینی حرکت کی گئی تو اس کے نتائج آئین میں موجود ہیں۔

    قبل ازیں مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ عمران خان اکثریت کھو بیٹھے ہیں عمران خان اب سابق وزیراعظم ہو گئے ہیں اگر استعفیٰ دیں تو عمران خان ایم این اے بھی نہیں رہےگا،عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر چپکے ہوئے ہیں،ہم عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانا چاہتے ہیں،شہبازشریف وزیراعظم پاکستان ہوں گے پی ٹی آئی کے مزیدمنحرف ارکان بھی ہمیں ووٹ دیں گے اور آج ہم ان کو سرپرائز دیں گے۔

    تحریک عدم اعتماد،شہبازشریف کی زیر صدارت متحدہ اپوزیشن کا مشاورتی اجلاس ہوا اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی موجود ہیں اجلاس میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین موجود نہیں مشاورتی اجلاس میں 177 اراکین موجود تھے-

    سابق صدر آصف علی زرداری بھی تحریک عدم اعتماد کے موقع پر قومی اسمبلی پہنچ گئے آصف زرداری سے سوال کیا گیا کہ اجتماعی استعفے دیئے جا رہے ہیں کوئی بحران تو پیدا نہیں ہوگا؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ہم سب بحرانوں سے نمٹ لیں گے ان بحرانوں کے سامنے کھڑے ہوں گے-

    شہباز شریف نے کہا کہ صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان کہتے ہیں آپ کے ہاتھ میں وزیر اعظم بننے کی لکیر نہیں ہے جس پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کسی جادو ٹونے کا علم ہوگا مجھے معلوم نہیں مطلوبہ نمبر زسے ہمارے ممبرز کی تعداد زیادہ تھی –

    صحافی نے آصف زرداری سے پوچھا کہ کیا آپ نے ن لیگ کو پھنسا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک تو میں ن لیگ کو جتوا رہا ہوں آپ کہہ رہے کہ پھنسا رہے ہیں-

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ دوبارہ صدارت کے امیدوار ہیں؟ آصف زرداری نے کہا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے آپ بھی صدر بن سکتے ہیں-

    صحافی نے سوال کیا کہ معاشی بحران میں ن لیگ کی حکومت کیسے چلے گی،سابق صدر نے جواب دیا کہ یہ سوچیں آپ کیسے گزارہ کریں گے-

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پیشگوئی کی ہے نئے الیکشن ہوسکتے ہیں عمران خان کو گرفتار کیا جاسکتا ہےشیخ رشید نے کہا کہ عمران خان بہت بڑا لیڈر بن چکا ہے وہ عوام میں جائے گا گیم کا فائنل جنرل الیکشن ہے یہ تو سیمی فائنل ہے ایک ہی درمیانی راستہ ہے کہ الیکشن ہو جائے پاکستان کا سب سے مہنگا اینکر بننے جا رہا ہوں-

    متحدہ اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی۔

    متحدہ اپوزیشن اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بھی میدان میں آ گئی اسپیکر اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ،ایاز صادق، خورشید شاہ، نوید قمر اور شاہدہ اختر علی کی جانب سے جمع کرائی گئی-

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو سرپرائز قرار دے دیا ہے-

    دوسری جانب مرتضیٰ جاوید عباسی کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کیخلاف تحریک عدم اعتماد تیار ہو رہی ہے اسپیکر کیخلاف تحریک جمع نہ کرواتے تو اپوزیشن کیلئے مسائل پیدا ہو سکتے تھے، تحریک جمع ہونے کے بعد اب اجلاس 7 روز تک ملتوی نہیں کیا جا سکتا-

    نوید قمرنے کہا کہ اسپیکر کےخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو جائے تو وہ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں کرسکتا جب تک اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ نہ ہو جائے اجلاس چلتا رہےگا –

    ادھر وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیےقومی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 11 بجے ہو ا وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قائدِ حزب اختلاف، صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر ووٹنگ ہو گی عدم اعتماد کی قرار داد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ارکان قومی اسمبلی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ارکانِ قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ سے پیدل پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب روانہ ہو گئے ریاض پیرزادہ ،خالد رند ،اختر مینگل اور ناز بلوچ قومی اسمبلی پہنچ گئے-

    اختر منگل نے اپنے بیان میں کہا کہ امید ہے آج معاملہ حل ہو جائے گا معلوم نہیں عمران خان کیا سرپرائز دیں گے،پی ٹی آئی والے استفیٰ دیتے ہیں تو دے دیں-

    پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیر علی محمد خان کا کہنا ہے کہ آج حق پرستوں اور زر پرستوں کا مقابلہ ہے انشاء اللہ حق کی جیت ہوگی-

    ادھرپی ٹی آئی کے 10سے زائد منحرف ارکان پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے شرجیل میمن کچھ منحرف اراکین کو لے کر پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئےپی ٹی آئی کے منحرف ارکان ریاض مزاری ،نور عالم خان پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں ایک ایم این اے اور ڈرائیور کو اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے-

    علی وزیر پولیس کسٹڈی میں پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں وزیراعظم کی سیکیورٹی چیمبر کے باہر پہنچ گئی ہے-

    دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے 177 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کر رکھا ہے جبکہ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کو شکست دینے کے لیے نئی حکمت عملی بنائی ہے اور حکومت ارکان کو اجلاس میں جانے کی ہدایت کرتے ہوئے خود بھی اجلاس میں پہنچنے کا اعلان کیا۔

    ترجمان وزیراعظم آفس نے کہا ہے کہ عدم اعتماد سے متعلق ایک میڈیا چینل پر بےبنیاد خبریں چلائی جا رہی ہیں کہ اپوزیشن کے ارکان کو اسمبلی تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی جائے گی وزیراعظم آفس اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہے اور ایسی یک طرفہ پروپیگنڈا مہم کی سخت مذمت کرتا ہے، وزیراعظم جمہوری عمل پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی غیر آئینی اقدام کے مخالف ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس صرف قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، کسی بھی پارلیمنٹیرین کو روکنے کی ہدایات نہیں ملیں، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو ریڈ زون میں داخلے کی ہدایات نہیں دی گئیں اجلاس کے لیے بھرپور سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں-

    لاہور:پنجاب اسمبلی سیاسی منظر نامہ

    ادھرلاہور میں بھی سیاسی کارکن پنجاب اسمبلی میں پہنچ رہے ہیں، جہانگیر خان ترین گروپ پنجاب اسمبلی پہنچ گیا نعمان لنگڑیال کے مطابق ہمارے گروپ کے 13 ارکان آج حمزہ شہباز کو ووٹ دیں گےپی ٹی آئی کی اس سے بڑی بدبختی کیا ہو گی کہ اس کا وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہے،تحریک انصاف کو ختم ہو جانا چاہیے-

    پنجاب اسمبلی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے ووٹنگ میں آئیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا استعفیٰ ایک ہی آئے گا، وہ عمران خان کا ہوگا-

    ترین گروپ کے رہنما علیم خان پنجاب اسمبلی پہنچ گئے انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ گورنر پنجاب کو ہٹانے سے بھی جنہوں نے ہارنا ہے وہ ہار کر رہیں گے-

    سیاسی رہنما عمر ایوب نے کہا کہ ہم مقابلے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں پارٹی کا پرچم پہن کر آیا ہوں لوکل باڈی الیکشن میں کامیابی ہوئی ہے-

    دوسری جانب دارالحکومت اسلام آباد میں ممکنہ فساد سے بچنے کیلئے ریڈ زون سیل کردیا گیا،روڈ زون آنے جانے کےلیے صرف مارگلہ روڈ استعمال کیا جاسکتا ہے-

    اسلام آباد سیکورٹی ذرائع کے مطابق اتوارکے روز تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اور پی ٹی آئی کی جانب سے ڈی چوک میں کارکنوں کی آمد پر سیکورٹی انتظامات کیلئے وفاقی پولیس اور ضلعی انتظامیہ الرٹ کردی گئی ہے۔

    ریڈزون میں پی ٹی آئی کارکنوں کو داخل کی مذمت کرتے ہیںُ:مریم نواز

    سیکورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ کسی جماعت کے سیاسی کارکنوں کو ریڈزون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی انتظامیہ کے مطابق ریڈ زون میں ہر قسم کے اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی ہے اسلام آباد میں دفعہ 144 کے تحت ڈبل سواری پرپابندی ہوگی جبکہ کل اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    جبکہ وزارت داخلہ نے موبائل فون سروس بند کرنے پر بھی غور شروع کردیا ہے اسلام آباد میں ریڈ زون کے ارد گرد پولیس، ایف سی اور رینجرز کے 8 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں فورس کو اینٹی رائٹ کٹس اور آنسو گیس شیلز کی بھاری مقدار میں فراہم کی گئی ہے-

    جبکہ اسلام آباد کی سیکورٹی کیلئے مختلف صوبوں سے مزید فورس منگوائی جائے گی جس میں ایف سی کے 1500 جوان اور افسران شامل ہیں اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے 300 مرد اور 100 خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی بلایا جائے گا-

    نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

    باخبر ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن ارکان کو پہلے پارلیمنٹ لاجز میں ہی روکا جائے گا تاکہ وہ قومی اسمبلی نہ پہنچ سکیں، جو ارکان قومی اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں، انہیں زدوکوب کیے جانے کا خدشہ ہے تاکہ ووٹنگ نہ ہوسکے جبکہ ووٹنگ سے روکنا سپریم کورٹ کے حکم اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے منصوبے کے شواہد موجود ہیں اور ان افسران کے خلاف مستقبل میں مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں جو اس منصوبے پر عمل کریں گے ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ووٹنگ کے عمل میں تاخیر کی تجویز کی اسپیکر نے مخالفت کی تھی، انہوں نے کہا کہ اتوار آخری دن ہے، ووٹنگ موخر نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو بتایا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک کوئی بین الاقوامی سازش ہے، اگر حکومت کے پاس اس بارے میں شواہد ہیں تو مہربانی کرکے فراہم کردے-

    عشائیہ میں وزیراعظم نےاپوزیشن کو سرپرائزدے دیا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج صبح ساڑھے گیارہ بجے ہوگا، اجلاس کا 6 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہےاجلاس میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر ووٹنگ ہوگی وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ ایجنڈے میں شامل ہے، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان وزیراعظم عمران خان پر عدم اعتماد کرتا ہے، عمران خان ایوان کا اعتماد کھوچکے وہ وزیراعظم کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے وقفہ سوالات قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہے-

    پھرنہ کہنا کہ بتایا نہیں تھا:مریم نواز نے پاکستان میں کچھ کرنے کی دھمکی دے دی

    ن لیگ نے تحریک عدم اعتماد میں 200 سے زائد ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب بننے کےلئے 186ووٹ درکار ہیں جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ نے حمزہ شہباز کی حمایت کا اعلان کیا ہے ادھر پرویز الہیٰ بھی کامیابی کے لئے متحرک ہیں-

    عمران خان وزیراعظم رہیں گے یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا:زرداری شریف اورفضل الرحمن متحرک

  • ایک بارپھر قومی اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا جاری، تحریک عدم اعتماد شامل

    ایک بارپھر قومی اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا جاری، تحریک عدم اعتماد شامل

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے کل ہونے والے اجلاس کا 27 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی شامل ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے 8 مارچ کی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے، اسی سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس کل ہونے جارہا ہے جس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی کا ایجنڈا 27 نکات پر مشتمل ہے جس میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سرفہرست ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر پیر شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا تھا۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکراسد قیصرکی صدارت میں شروع ہوا، تلاوت قرآن پاک کے بعد اجلاس میں مرحوم ارکان قومی اسمبلی کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

    سپیکر کا کہنا تھا کہ پارلیمانی روایت ہے رکن اسمبلی کی وفات پر اجلاس فاتحہ خوانی کے بعد ملتوی کر دیا جاتا ہے، تحریک عدم اعتماد پر قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس پیر 28 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔

    اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی میں 159 ارکان شریک تھے، اپوزیشن ارکان کی کل تعداد 162 ہے۔ پارلیمان میں ن لیگ کےارکان کی تعداد 84 ہے، سب حاضرتھے۔

    پیپلزپارٹی کے 56 میں سے 55 ارکان حاضر تھے۔ پیپلزپارٹی کے جام عبدالکریم دبئی میں ہونے کے باعث شریک نہیں ہوئے۔ ایم ایم اے کے 15 میں سے 14 ارکان اجلاس میں حاضرتھے۔ پی ٹی ایم کے علی وزیرجیل میں، جماعت اسلامی کے اکبر چترالی غیر حاضر تھے۔ اے این پی ایک، بی این پی 4 اور 2 آزاد میں سےایک رکن حاضر تھا۔