Baaghi TV

Tag: ایرانی حملے

  • ایرانی حملوں سے خلیج میں 17 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان

    ایرانی حملوں سے خلیج میں 17 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان

    خلیجی خطے میں ایران کے حملوں سے امریکی فوج کی 17 تنصیبات متاثر ہوئیں اب تک جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جب کہ تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکا کی کم از کم 17 فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، ایران کئی تنصیبات کو ایک سے زائد بار نشانہ بنا چکا ہےخطے میں امریکا کی مجموعی طور پر 22 فوجی تنصیبات موجود ہیں جن میں سے 11 تنصیبات ایرانی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق 9 مارچ کو ایران نے قطر میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایاجنگ کے نتیجے میں اب تک امریکی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جب کہ تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، دوسری جانب اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور 3369 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں خطے کے دیگر ممالک میں بھی جانی نقصان ہوا ہے، کویت میں 6، اومان میں 3 اور سعودی عرب میں 2 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    ایرانی حملوں سے خلیج میں 17 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان

    ایران میں حکام کے مطابق جنگ کے دوران شہدا کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ 18 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں لبنان میں بھی بھاری جانی نقصان ہوا ہے جہاں اب تک 850 شہری شہید ہو چکے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیکشان نے کہا ہے کہ خطے میں ایران کے خلاف امریکی فوجی اڈوں کا استعمال بند ہونا چاہیے کیونکہ اس کا مقصد ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا ہے، اس معاملے پر انہوں نے فرانسیسی صدر سے گفتگو بھی کی ہے۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    ایران کے نائب وزیرخارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ایران جب تک ضرورت ہو لڑنے کے لیے تیار ہے، ایران فی الحال سفارتی حل پر توجہ نہیں دے رہا ہے اور اگر امریکا نے ایران میں زمین فوج اتاری تو اسے ایک اور ویت نام کا سامنا ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذرا پڑھیں کہ ویت نام میں کیا ہوا تھا۔

  • پاکستان کا ایران کو منہ توڑ جواب،ایران اب بھی سمجھ جائے،مبشر لقمان

    پاکستان کا ایران کو منہ توڑ جواب،ایران اب بھی سمجھ جائے،مبشر لقمان

    ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں پاکستان نے بھر پور کاروائی کرتے ہوئے منہ توڑ جواب دیا اور ایران میں گھس کر دہشت گردوں کے سات ٹھکانوں‌کو نشانہ بنایا

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے پاکستان کے منہ توڑ جواب پر کہا ہے کہ ” پاکستان نے ایران کی جانب سے حملوں کا بھر پورجواب دیا ہےآج صبح تقریبا چھ بجے ایران کے اندر ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا تو ایران میں دہشت گردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں تھیں،پاک فضائیہ کے طیاروں نے ایران میں ان ٹھکانوں کا نشانہ بنایا اور ایک ہی دن میں انتہائی سخت جواب دیا ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے، انتخاب ایران نے کرنا ہے”.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مبشر لقمان کا ایک اور ٹویٹ میں کہنا تھا کہ جے ایف 17 تھنڈر نے ایران کے سرحدوں علاقوں میں کاروائی کی، یہ پاکستان کا ایکشن تھا، پاک فضائیہ نے ایرانی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا،اگر اس جنگ میں اضافہ ہوتا ہے تو فلسطینیوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے،اس سے مسلم ممالک انتشار کا شکار رہیں گے، اور دشمن مضبوط ہوں گے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پاکستان نے احتیاط سے ردعمل دیا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی چینی مفاد اس آپریشن کا حصہ نہ بنے،پاکستان کے ایران کے اندر کاروائی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کی، ایران کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے اور اچھے پڑوسی کے طور پر برتاؤ کرنا چاہیے ورنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاک فضائیہ نے ایران کے اندر صرف بی ایل اے اور بی ایل ایف کے اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کی ایک بھی پوسٹ پر حملہ نہیں کیا گیا دو پڑوسیوں کے درمیان یہ کشیدگی صرف مسلم دنیا اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالے گی۔ چین یا روس جیسے مشترکہ دوست صرف مداخلت کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ کیا آپ کو ایران،عراق کا 10 سالہ تنازع یاد ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ "پاکستان کی تمام مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔تمام چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور پاکستان کسی بھی دوسری مہم جوئی کے لیے تیار ہے۔ امن کے لیے ہماری پہل کو کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا”۔

    مبشر لقمان کامزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ٹھیک چھ بجے ایرانی سرحد کے اندر سات اہداف کو نشانہ بنایا جو بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ یہ سخت گیر مجرم ایک طویل عرصے سے ہمارے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ایرانی حکومت نے تمام معلومات کے باوجود ان کے خلاف کاروائی نہیں کی تھی۔ آج صبح پاکستان کا ردعمل سب پر واضح ہو جانا چاہیے کہ ہم اپنے دفاع کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ہم بلوچستان میں امن چاہتے ہیں۔ایران جان لے کہ پاکستان نہ عراق ہے نہ شام، انہوں نے ہمارے امن کے اقدامات کو کمزوری کی علامت کے طور پر غلط شمار کیا۔ آج صبح درست ہدف انہیں اٹھنے بیٹھنے اور سوچنے پر مجبور کر دے گا۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی غلط مہم جوئی کا وقت انتخابات سے تین ہفتے قبل اور سیاسی بحران کے درمیان تھا۔ ایسے وقت میں جب پاکستان میں ایک نگران حکومت ہے، ایران نے سوچا ہو گا کہ ہم بے خبر ہو جائیں گے ، تا ہم اب پاکستان کے بھر پور جواب، ٹارگٹ حملوں کے بعد ایران یقینا بیٹھ کیا ہو گا،کل کے برعکس آج ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا خاموش ہے، اور انہوں نے ابھی تک پاکستان کے جواب کی کوئی خبر نہیں دی.

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں