Baaghi TV

Tag: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

  • ایٹمی الزامات بے بنیاد،  پرامن مقاصد چاہتے ہیں، ایرانی صدر

    ایٹمی الزامات بے بنیاد، پرامن مقاصد چاہتے ہیں، ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن توانائی کے لیے ہے، ایٹمی ہتھیاروں کا حصول نہ پالیسی کا حصہ ہے نہ اسلامی جمہوریہ کے عقائد میں شامل۔

    انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ایران ہمیشہ عالمی معائنوں کے لیے تیار رہا ہے.صدر نے کہا کہ 60 فیصد یورینیم افزودگی کا فیصلہ امریکا کے جے سی پی او اے سے انخلا کے بعد کیا گیا۔ غزہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیلی اقدامات کو غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیا اور کہا کہ انسانی بحران ختم کرنے کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔

    امریکا سے تعلقات پر ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت سے نہیں گھبراتا مگر اعتماد کی کمی بڑی رکاوٹ ہے۔ صدر پزشکیان نے زور دیا کہ ایران امن چاہتا ہے لیکن خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ اور نیتن یاہو میں تلخ گفتگو، غزہ جنگ بندی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    اسلام آباد میں پہلی نارتھ ویمنز رغبی سیونز چیمپئن شپ کا شاندار انعقاد

    آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 248 رنز کا ہدف دے دیا

    بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کا مقامی قبائل پر حملہ، 4 دہشتگرد ہلاک

  • ایران کا پاک–سعودی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

    ایران کا پاک–سعودی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    صدر ایران نے کہا کہ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان علاقائی سیکیورٹی کے نئے نظام کا آغاز ہے، جس سے سلامتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سفارتکاری سے غداری تھے، مگر دشمن ایرانی عوام کو تقسیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک مجرم ہیں، جبکہ ایران نے کبھی ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی مستقبل میں کرے گا، ایران کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

    پاک–سعودی دفاعی معاہدہ
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA) پر دستخط کیے۔ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع کو یقینی بنانا ہے۔معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاک–سعودی تعلقات آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہیں اور یہ معاہدہ اسی قریبی تعاون اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کا تسلسل ہے۔

    ایشیا کپ ٹی20: بھارت نے بنگلادیش کو 169 رنز کا ہدف دے دیا

    بھارتی علاقے لداخ احتجاجات میں تشدد،4 ہلاک، درجنوں زخمی

    وزیراعظم کی سری لنکا کے صدر سے ملاقات،دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

    امریکہ،ڈلاس میں دفتر پر فائرنگ، ایک ہلاک متعدد زخمی

  • ایرانی صدر اور روسی صدر پیوٹن کی ٹیلیفونک گفتگو

    ایرانی صدر اور روسی صدر پیوٹن کی ٹیلیفونک گفتگو

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔

    عرب میڈیا کے مطابق ماسکو سے جاری کریملن کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں کی بات چیت کا مرکز جوہری توانائی پروگرام رہا۔اعلامیہ کے مطابق دونوں صدور نے الاسکا میں ہونے والے روس۔امریکا سربراہی اجلاس پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری ہتھیاروں کے حصول کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    کریملن کے مطابق صدر پیوٹن اور صدر پزشکیان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے دوران ملاقات پر بھی اتفاق کیا۔

    وزیراعظم کی غذر کے قومی ہیروز سے ملاقات، 25،25 لاکھ کے انعامی چیک اور شیلڈز پیش

    پنجاب میں سیلابی خطرہ، مریم نواز نے انخلا کے احکامات جاری کر دیے

    ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ کے انکشافات

    سوزوکی آلٹو کی فروخت میں 75 فیصد کمی

  • اسرائیل نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی،ایرانی صدر

    اسرائیل نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملوں کے دوران انہیں قتل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اس میں ناکام رہا۔

    تہران میں امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جس وقت اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی، وہ ایک میٹنگ میں شریک تھے، اور اس حملے کا ہدف وہ خود تھے۔صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ان پر ہونے والی اس مبینہ حملے کے پیچھے امریکا نہیں بلکہ اسرائیل تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو مذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم یہ شمولیت مشروط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا: ’’ہم امریکا پر ایک بار پھر کیسے یقین کریں؟ اور کیسے مان لیں کہ مذاکرات کے دوران اسرائیل کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؟‘‘

    ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا ماننا ہے کہ امریکی سرمایہ کار ایران میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں، ایران کی راہ میں اصل رکاوٹ اسرائیل ہے جو خطے میں امن قائم نہیں ہونے دیتا۔

    لندن بم دھماکوں کے 20 سال مکمل، سینٹ پال کیتھڈرل میں دعائیہ تقریب

    جنوبی افریقہ کی اننگز ڈیکلیئر، برائن لارا کا 400 رنز کا ریکارڈ بچ گیا

    پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے مخصوص نشستوں کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

  • ایرانی صدر کا تمام مسلم ممالک کو یکجا ہونے کا مطالبہ

    ایرانی صدر کا تمام مسلم ممالک کو یکجا ہونے کا مطالبہ

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو مزید شدید اور تباہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایرانی صدر کی عراق کے وزیراعظم شیاع السُودانی سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا لیکن بھرپور اور طاقتور جواب ضرور دیا۔عراقی وزیراعظم سے گفتگو کے دوران ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا تمام مسلم ممالک کا فرض ہے، اگر اسرائیل کو نہ روکا گیا تو وہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی نشانہ بنائے گا۔

    اس موقع پر عراقی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، شیاع السُودانی نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو روکنے کے لیے عراقی کوششوں پر زور دیا۔شیاع السُودانی کا کہنا تھا کہ عراق، ایران کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔بیان کے مطابق ایرانی صدر نے خطے میں اسرائیلی حملوں کو مسترد کرنے پر عراقی حکومت کے مؤقف کو سراہا، اور کہا کہ اسرائیل نے مختلف اسلامی ممالک پر بار بار حملے کر کے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔

    ایرانی صدر نے اسرائیلی اقدامات کے خلاف مسلم دنیا کی مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، اور کہا کہ یہ جارحانہ کارروائیاں دیگر مسلم ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

    یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیلی فضائیہ نے تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں فوجی اڈوں اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں 200 سے زائد جنگی طیارے استعمال کیے گئے۔ ان حملوں میں ایران کے کئی اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنسدان شہید ہوئے۔

    بھارتی صحافی کرن تھاپر کا پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا اعتراف

  • مسلم امہ متحد ہو کر ایران کی سپورٹ کے لیے کھڑی ہے، شہزادہ محمد بن سلمان

    مسلم امہ متحد ہو کر ایران کی سپورٹ کے لیے کھڑی ہے، شہزادہ محمد بن سلمان

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر رابطہ کیا-

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ ہم ایران میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہیں، پوری مسلم امہ متحد ہو کر آپ کی سپورٹ کیلئے کھڑی ہے ایرانی بھائیوں کی سپورٹ کے لئے ہر ممکن کاوشیں جاری رکھیں گے ہمیں اعتماد ہے ایران دانش مندانہ اقدام کرےگا۔

    ایرانی صدر نے کہ کہا صدارت سنبھالتے ہی امن اور خطے کے استحکام کی کوشش کی۔ لیکن ان کی ہر کوشش کو صہیونیوں نے ناکام بنانے کی کوشش کی-

    ایران کے اسرائیل پر حملے، امریکا نے یوکرین سے میزائل دفاعی نظام مشرق وسطیٰ منتقل کردیے

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا،دونوں رہنماؤں نے ایران اسرائیل کشیدگی کے بعد خطے کی صورتحال اور پیش رفت کا جائزہ لیا اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تحمل مزاجی سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا، سعودی ولی عہد اور ترکیہ کے صدر نے کہا کہ ایران اور اسرائیل مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کریں۔

    ایران کا اسرائیل پر ایک بار پھر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ، 9 اسرائیلی ہلاک، 200 سے زائد زخمی

  • شہباز شریف کا بھارت سے مذاکرات اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعلان

    شہباز شریف کا بھارت سے مذاکرات اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعلان

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی پالیسی واضح کر دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق انہوں نے بھارتی کشیدگی کے دوران ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور ایران کے پُرامن نیوکلیئر پروگرام کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ پانی، دہشت گردی اور تجارت جیسے اہم مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو پاکستان بھرپور دفاع کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہا، "ہم امن کے لیے بات چیت چاہتے ہیں، اور اگر بھارت امن کی تجویز کو قبول کرتا ہے تو ہم بھی عملی طور پر ثابت کریں گے کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے ثقافتی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں، اور ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایرانی صدر کے ساتھ تعمیری گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے علاقائی امن، تجارت اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    غزہ پر مؤقف
    وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم پر شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور عالمی برادری اگر خاموش رہی تو تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک کے طور پر ایران اور پاکستان کے مشترکہ موقف کی بھی توثیق کی۔

    ایرانی صدر کا خیر مقدم
    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ انہوں نے پاک بھارت سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ایرانی صدر نے بھی غزہ میں مظالم کی مذمت کرتے ہوئے مغربی ممالک کے "خاموش تماشائی” بنے رہنے کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    علاقائی دورہ
    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد تہران پہنچے، جہاں سعدآباد محل میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم اس وقت 25 سے 30 مئی 2025 تک ترکی، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے اہم دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ عالمی اہمیت کے حامل موضوعات پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم 29 اور 30 مئی کو تاجکستان کے شہر دوشنبے میں ہونے والی بین الاقوامی گلیشیئرز کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی بھی کریں گے۔

  • وزیراعظم کا ایرانی صدر کو فون، دہشتگرد حملے کی مذمت

    وزیراعظم کا ایرانی صدر کو فون، دہشتگرد حملے کی مذمت

    وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا وزیرِ اعظم نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے یکجہتی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ شہباز شریف نےبندر عباس دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے ایرانی صدر اور برادر ایرانی قوم سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

    ایرانی صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ شہباز شریف نے پہلگام واقعے کے پس منظر میں بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیوں پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران انہوں نے پہلگام واقعے میں پاکستان کے کسی بھی قسم کے براہِ راست یا بالواسطہ ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، اگر ایران خطے میں قیامِ امن کے لیے کوئی تعمیری کردار ادا کرنا چاہے تو پاکستان اس کا خیر مقدم کرے گا۔

    شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان اور اربوں ڈالر کا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت جاری رکھیں گے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے ساتھ ہر سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔

    صدر مسعود پیزشکیان نے سانحہ بندرعباس پر اظہارِ یکجہتی پر وزیراعظم شہبازشریف کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔صدر پیز شکیان نے شہبازشریف کو دورہ تہران کی دعوت دی، جس پر وزیرِاعظم نے ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔

    بلوچ نوجوان بھارت میں زندگی ہار گیا، ہسپتال کا پہلے پیسے پھر میت کا مطالبہ

    پانی کا دہشتگردی سے کیا تعلق ہے، ایسے فیصلے تو جنگ میں نہیں ہوتے، بلاول بھٹو

    کراچی‘ مزاحمت پر رائیڈر قتل،4 ماہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں 34 شہری جاںبحق

  • شہباز شریف کی ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت

    شہباز شریف کی ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت

    وزیراعظم شہباز شریف کی قاہرہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں، دو طرفہ تجارت، معیشت اور دیگر امور پر گفتگو کی۔دونوں رہنماؤں نے سلامتی اور علاقائی روابط کے حوالے سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے برکس کا رکن بننے پر ایران کو مبارکباد دی، پاکستان نے برکس میں رکنیت کیلئے حمایت کی درخواست بھی کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مسعود پزشکیان کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔اس سے قبل وزیراعظم نے قاہرہ میں ڈی ایٹ اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات۔۔ تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو ملکی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں بالخصوص آئی ٹی، زراعت اور گرین ٹیکنالوجی کے نئے شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور کثیر الجہتی تعلقات ہیں.

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات

    دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، عارف علوی

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم