پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں-
لاڑکانہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر مختصر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بتایا کہ کفایت شعاری اور توانائی بچت کے تحت تقریب کو مختصر رکھا گیا، جس میں صرف دو ڈویژن کی تنظمیں شامل ہیں انہوں نے تقریر کے آغاز پر ایران کیخلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای سمیت دیگر کی شہادت اور اسکول پر حملے میں معصوم طالبات کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، لیکن عوام جانتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں انہیں ریلیف دینے کے لیے کام کر رہی ہیں مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں، ایران جنگ نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا اور اب خدشہ ہے کہ یہ جنگ پوری دنیا میں پھیل جائے گی کیونکہ اب اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں ہیں،جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، دعا ہے جلد جنگ ختم ہو اور امن قائم ہو، ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے ایران، فلسطین، لبنان اور دیگر ممالک پر حملہ کرنے والے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی مستقبل میں بھی ملک کی ترقی اور دفاع میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ قائدِ عوام نے ایٹمی بنیاد رکھ کر ملک کو عالمی طاقتوں کے شر سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا پاکستان کو ایٹمی تحفہ دینے پر ذوالفقار علی بھٹو کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گاذوالفقار علی بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کے عظیم ترین لیڈر تھے، لاہور میں او آئی سی کانفرنس کا انعقاد شہید بھٹو کی عالمی سفارتی بصیرت کا مظہر تھا۔
انہوں نے مزید کہاکہ آج مسلم ممالک کے مابین اتحاد کے لیے عالمی سطح پر ذوالفقار بھٹو جیسی قیادت ناگزیر ہے وہ پاکستانی حکومت سمیت ان تمام قوتوں کے لیے دعاگو ہیں جو مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں کررہی ہیں قومی پالیسی کی تشکیل اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے باہمی اتحاد ناگزیر ہے، صدر مملکت اعلیٰ سطح کی مشاورت میں تمام صوبوں کے نمائندوں کی شرکت یقینی بنانے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مشکل حالات میں عوامی ریلیف کیلیے وفاق کی طرح صوبائی حکومتیں بھی فنڈز کی کٹوتی کر کے حصہ ڈال رہی ہیں، سندھ حکومت نے کسان کارڈ کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو مالی مدد کا پلان بنایا ہے اور یہ منصوبہ جلد شروع ہوجائے گا آج ملک میں تاریخی مہنگائی اور بحران ہے، جس سے عوام کو بچانے کیلیے صوبائی حکومت کچھ ریلیف فراہم کرے گی، ہم کسانوں اور موٹرسائیکل چلانے والے کو فائدہ دینا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے چھوٹے کسانوں اور موٹرسائیکل مالکان پر زور دیا کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کروائیں کیونکہ معلوم نہیں یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی، اگر ایسے ہی بحران رہا تو ہوسکتا ہے وفاق اور صوبے مل کر عوام کی مدد کرنے کا نیا پلان تشکیل دیں جو موٹرسائیکل نام پر ہے اُسے ریلیف ملے گا، شناختی کارڈ نمبر اور نام پر موٹرسائیکل کروائیں، گاڑی نام کرنے والی ٹرانسفر فیس کو معاف کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات میں فیصلہ کیا کہ صوبے میں جوبھی سرکاری یا پرائیوٹ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات ہیں اور انہیں مالی سپورٹ دی جائے تاکہ کرایے میں اضافہ نہ ہو جبکہ وفاق کے ساتھ مل کر ڈیزل کی قیمت میں اضافے پر ٹرانسپورٹرز کو سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا تمام صوبے اپنے وسائل سے وفاق کے فنڈ میں حصہ ڈالیں گے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو سہولت دی جائے اور کرایے نہ بڑھیں ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ معاشی بحران کے لیے یہ اقدامات ناکافی ہیں کیونکہ عوام سخت مشکلات سے دوچار اور ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں جتنے وسائل ہیں اُن کے مطابق اقدامات کریں گی تاکہ غریب کو ریلیف دیا جائے انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت کے پاس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، جس سے چاروں صوبوں میں شفافیت کے ساتھ مالی مدد پہنچائی جارہی ہےعوام کی مدد کیلیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کیا جائے اور بجٹ کو بڑھایا جائے، اگر اس کیلیے وفاقی حکومت منی بجٹ لاتی ہے تو اُس کی حمایت کریں گے۔
بلاول نے مشکل حالات میں ساتھ دینے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان میں اتفاق رائے ہونا جبکہ سیاست سے گریز کرنا اچھی بات ہے، ہمیں ایسی صورت حال میں قومی مقصد کو ترجیح دینا چاہیے سہیل آفریدی بھی عوامی ریلیف کیلیے اقدامات کرر ہے ہیں، پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ بھی کررہے ہیں، ہم سب مل کر ان مشکلات کا سامنا کریں گے، پاکستان میں اتفاق ہوگا تو دنیا کی کوئی قوت ہمیں گراسکتی ہے اور نہ توڑ سکتی ہے، ہماری نسل اس امتحان کا مقابلہ کرے گی، انشاء اللہ جیت عوام اور امن کی ہوگی۔