Baaghi TV

Tag: ایس ایس پی انویسٹی گیشن

  • ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے اپنے دفتر میں اردل روم کا انعقاد کیا، جس میں مختلف رینکس کے افسران اور اہلکار پیش ہوئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اردل روم کے دوران متعدد افسران اور اہلکاروں نے اپنی مختلف درخواستیں پیش کیں، جن میں رخصت کی درخواستیں، اہل خانہ کے لیے ویلفیئر کی درخواستیں، اور بعض افسران نے اپنے کام کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل کو بیان کیا۔ ایس ایس پی محمد نوید نے ان مسائل کی فوری طور پر جانچ کی اور متعلقہ افسران کو جلد از جلد ان کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر اہلکار کو انصاف ملنا چاہیے اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے اردل روم کے دوران کہا کہ یہ عمل سفارشی کلچر کے خاتمے اور پولیس اہلکاروں کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں اہلکار بلا جھجھک اپنے مسائل سامنے لا سکتے ہیں اور ان کے حل کے لیے فوری کارروائی کی جاتی ہے۔محمد نوید نے کہا کہ پولیس کے اہلکاروں اور افسران کو ہمیشہ محنت اور ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے کی ترغیب دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جو افسران اور اہلکار اپنے کام میں ایمانداری سے کوتاہی نہیں کریں گے، انہیں ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ایس ایس پی نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ میں کرپشن اور شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے، اور عوامی خدمت میں غفلت یا بدعنوانی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس حوالے سے انہوں نے تمام افسران اور اہلکاروں کو اپنے فرائض منصبی ایمانداری اور محنت سے ادا کرنے کی تاکید کی تاکہ پولیس فورس کی کارکردگی میں بہتری آئے اور عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا کہ پولیس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا ہر فرد اپنے کام کو درست طریقے سے انجام دے اور ادارے کی ساکھ کو مزید بہتر بنائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام افسران و اہلکاروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کا ہر عمل عوام کی نظر میں ہوتا ہے اور ان کی ایمانداری اور محنت کا براہ راست اثر پولیس فورس کی کارکردگی اور شہرت پر پڑتا ہے۔ایس ایس پی محمد نوید نے یہ عہد کیا کہ وہ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے، تاکہ وہ بہترین طریقے سے اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔

  • ڈویژنل اور سرکل افسران زیر تفتیش مقدمات کو جلد از جلد نمٹائیں، ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور

    ڈویژنل اور سرکل افسران زیر تفتیش مقدمات کو جلد از جلد نمٹائیں، ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور

    لاہور: ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی زیر صدارت پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں میٹنگ ہوئی،کرائم میٹنگ میں ڈویژنل ایس پیز، سرکل ڈی ایس پیز اور تمام تھانوں کے انچارج انویسٹی گیشنز نے شرکت کی-

    باغی ٹی وی :محمد نوید نے پینڈنگ اور زیر التواء مقدمات کی پراگرس کا تفصیلی جائزہ لیا،ڈویژنل اور سرکل افسران کو زیر تفتیش مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کی سخت ہدایات کیں،عدم دلچسپی اور کارکردگی بہتر نہ بنانے پر متعدد ڈی ایس پیز کو وضاحتی لیٹر جاری کیا گیا-

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے ہدایت کی کہ بیرون ملک فرار اشتہاری ملزمان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری یقینی بنائی جائے گی، ڈویژنل اور سرکل افسران ریکارڈ کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنائیں، خواتین اور بچوں سے متعلقہ مقدمات کو برق رفتاری سے نمٹایا جائے-

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن نےافسران کو سنگین نوعیت کے واقعات پر موقع پر پہنچنے اور اپنی نگرانی میں شواہد اکٹھے کروانے کی ہدایت کی،ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی افسران کو فنانشل کرائم کے مقدمات کے چالان جلد از جلد عدالتوں میں جمع کروانے کی ہدایات کیں کہا کہ خواتین سے زیادتی، ظلم و تشدد اور ہراسگی کے مقدمات کی تفتیش میں کوتاہی برداشت نہیں ہو گی-

    محمد نوید نے افسران کو سوشل کرائمز کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کی ہدایات کیں،کہا کہ شواہد کی روشنی میں مضبوط چالان مرتب کر کے گنہگاروں کو سخت سزائیں دلوائیں، کرپشن، اختیارات سے تجاوز اور میرٹ پر سمجھوتا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے میرے دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں-

  • ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہورنے کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ پیش کر دی

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہورنے کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ پیش کر دی

    آج ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور نے قومی ائیر لائن کی پرواز پی کے 8303 کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کی عدالت میں پرواز پی کے 8303 کے حادثےپیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کا ذمہ دار پی آئی اے کی انتظامیہ کو قرار دیا گیا، پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت بھی مانگی۔

    گستاخانہ بیانات: جماعت اسلامی اور اراکین سینیٹ کا بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاج کا اعلان


    عارف اقبال فاروقی کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور لیاقت علی رانجھا کو پیش کی گئی جس میں ایس ایچ او تھانہ سرور روڈ لاہور کی جانب سے کہا گیا کہ 22 مئی 2020 بوقت دن 2:45 منٹ پر پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 لاہور سےکراچی جاتے ہوئے ماڈل ٹاؤن کراچی میں گر کر تباہ ہوئی جس میں سوار 97 مسافر بشمول میری فیملی تمام افراد جاں بحق ہو گئے جو پی آئی اے انتظامیہ مجرمانہ غفلت کی مرتکب پائی گئی انتظامیہ کے خلاف کاروائی کی جائے-

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ طیارہ ماڈل ٹاؤن میں گر کر تباہ ہوا ،حکومت پاکستان ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ بنا چکی ہے انوسٹی گیشن بورڈ کی ابتدائی رپورٹ نمبری سی پی نمبر 7050-2016 سانھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے پٹیشن ہذا متعلقہ تھانہ سرور روڈ نہیں ہے لہذا پٹیشن ہذا داخل دفتر فرمائی جائے-

    واضح رہے کہ 22 مئی 2020 کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب پیش آئے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ایئربس طیارے کے المناک حادثے میں مسافروں اور عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    22 مئی کی سہ پہر رمضان المبارک کے آخری جمعہ جب لاہور سے اڑان بھرنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 کا ایئربس طیارہ لینڈنگ کی دوسری کوشش کے دوران کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا اس حادثہ میں عملہ سمیت 97 مسافر جاں بحق ہوئے، ان میں عید منانے کے لیے اپنے شہر کراچی آنے والےمسافر بھی شامل تھے۔ تاہم اس المناک حادثے میں دو خوش قسمت مسافر ایسے بھی تھے جو زندہ سلامت رہے۔

    اس حوالے سے موصول فوٹیج میں اس بات کی تصدیق ہوگئی تھی لینڈ نگ کی پہلی کوشیش کے دوران طیارے کے پہیے کھلے ہوئے نہیں تھےلینڈنگ کرتے ہوئے طیارے کے انجن 3 مرتبہ رن وے سے ٹکرائے، جس کے بعد طیارہ دوبارہ فضا میں بلند ہوگیا، لیکن انجنوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے طیارہ بلندی حاصل نہیں کر سکا اور آبادی پر گِرگیا۔

    ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹیگیشن بورڈ نے ابتدائی رپورٹ میں حادثہ کا ذمہ دار طیارے کے پائلیٹس کو قرار دیا تھا جبکہ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق حادثہ کی حتمی رپورٹ آنے میں مزید ایک سے دیڑھ سال لگ سکتا ہےپی آئی اے ترجمان کا کہنا تھا کہ حادثہ میں جاں بحق 97 میں سے 71 مسافروں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ 11 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔

    20 سے زیادہ لواحقین نے سندھ ہائی کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا ان کا مؤقف ہے کہ پی آئی اے جاں بحق مسافروں کا معاوضہ عالمی معیار سے بہت کم ادا کر رہی ہے اور ایسی دستاویزات پر دستخط کے لیے مجبور کیا جارہا ہے جس سے لواحقین مستقبل میں بہتر معاوضہ کے لیے اپنے حق سے محروم رہ جائیں-

    سلمان شہباز،ملک مقصود اور طاہر نقوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری