Baaghi TV

Tag: ایس 400 میزائل سسٹم

  • روس نے بھارت کو ایس-400 میزائل سسٹم کی ترسیل 3 سال کے لیے مؤخر کر دی

    روس نے بھارت کو ایس-400 میزائل سسٹم کی ترسیل 3 سال کے لیے مؤخر کر دی

    پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیارے کی تباہی اور بھارتی فضائیہ کی ناقص کارکردگی پر سوالات اٹھنے کے باوجود، مودی حکومت شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

    اس دوران روس نے بھارت کو جدید ترین فضائی دفاعی نظام ایس-400 کی ترسیل تین سال کے لیے مؤخر کر دی ہے۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ فیصلہ روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    واضح رہے کہ 2018 میں بھارت اور روس کے درمیان 5.4 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت روس کو بھارت کو ایس-400 میزائل سسٹم فراہم کرنا تھا، اور ترسیل 2024 تک مکمل ہونا تھی۔ تاہم اب نئی ڈیڈ لائن 2027 مقرر کر دی گئی ہے۔

    وجوہات اور اثرات
    رپورٹ کے مطابق اس تاخیر کی بڑی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ہے، جس کی وجہ سے روس کی دفاعی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اس تاخیر نے بھارت اور روس کے دفاعی تعلقات پر بھی اثر ڈالا ہے۔

    حالیہ برسوں میں بھارت نے دفاعی تعاون کے لیے فرانس، جرمنی اور دیگر مغربی ممالک کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ مثال کے طور پر 2023 میں بھارت نے روسی آبدوزوں کے بجائے جرمنی کی کمپنی سے 6 آبدوزیں خریدنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ رافیل جنگی طیاروں کی خریداری بھی اسی رجحان کا حصہ ہے۔

    تبدیل ہوتی دفاعی حکمت عملی
    تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی دفاعی پالیسی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں وہ فرانس، اسرائیل اور امریکہ جیسے مغربی اتحادیوں کے ساتھ زیادہ فوجی تعاون حاصل کر رہا ہے، جبکہ روایتی اتحادی روس سے فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    وزیرستان خود کش حملہ،دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین،خالد مسعود سندھو

    شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملہ، 13 جوان شہید، 14 دہشتگرد ہلاک

  • روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    ماسکو:روس کی ایران اور چین فوجی مشقیں جاری: بیلا روس کے ساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کی بیلا روس کے ساتھ ہنگامی فوجی مشقیں شروع کےاعلان نے امریکہ اور اتحادیوں‌پر بجلی گرادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے روس کودھمکی آمیز پیغام بھیجنے کا پھرفیصلہ کیا ہے

    اطلاعات کے مطابق روس نے فوجی مشقوں کے لیے 2 فضائی دفاعی سسٹم بیلاروس بھیج دئیے،اور تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ روس اور بیلاروس کے درمیان فوجی مشقیں 10 فروری کو شروع ہوں گی،اس سلسلے میں‌ فضائی دفاعی میزائل سسٹم اور 12 ایس یُو 35 جنگی طیارے بھی بیلاروس بھیجے جائیں گے،

    روسی دفاعی حکام کے مطابق روسی ایس 400 بیلاروس میں متوقع مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کریں گے،

    ادھر پہلے ہی ایران، روس اور چین کے بحری بیڑوں نے بحیرہ ہند کے شمال میں وسیع پیمانے کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

    ادھر ایران کی سرکار ی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق "2022 بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان اور "مِل کر امن و سلامتی کے لئے” کے سلوگن کے ساتھ بحیرہ ہند کے شمال میں 17 ہزار مربع کلو میٹر علاقے میں مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔

    خبر کے مطابق مشقوں میں ایران کابحری بیڑہ ، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے جنگی بحری جہاز اور فضائی یونٹیں اور روس اور چین کے جنگی و لاجسٹک بحری جہاز شامل ہیں ۔

    مشقوں کے ترجمان ایڈمرل مصطفیٰ تاج الدین نے کہا ہے کہ باب المندب، مالاکہ اور آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گزرگاہوں کے ساتھ رابطے کی وجہ سے بحیرہ ہند کا شمالی حصہ اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ "یہ مشقیں، طلائی تکون کے نام سے معروف اور عالمی تجارت کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل علاقے میں، تینوں ممالک کے مفادات کے تحفظ اور پائیدار بحری سلامتی کو یقینی بنانے کی ایک مشترکہ کوشش ہیں”۔

    تاج الدین نے کہا ہے کہ مشقوں میں جلتے ہوئے بحری جہاز کو بچانے، اغوا شدہ بحری جہاز کی رہائی، متعینہ اہداف اور رات کے وقت فضائی اہداف کو نشانہ بنانے جیسے مختلف آپریشن کئے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی کو تقویت دینا، بحری ٹوئرازم اور بحری قزاقوں کے خلاف جدوجہد، تلاش و بچاو کے علاقوں میں معلومات کا تبادلہ اور جنگی چالوں کے آپریشنوں میں تجربات کا تبادلہ مشقوں کے سرفہرست اہداف ہیں۔

    واضح رہے کہ "بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان موجودہ مشقیں ایران، روس اور چین کے درمیان تیسری مشقیں ہیں۔مذکورہ مشقوں کی پہلی مشقیں دسمبر 2019 میں کی گئی تھیں۔

  • ترکی:ایس۔400 کی پہلی کھیپ 10 دنوں کے اندر ترکی پہنچ جائیگی، طیب اردوان

    ترکی:ایس۔400 کی پہلی کھیپ 10 دنوں کے اندر ترکی پہنچ جائیگی، طیب اردوان

    استمبول:ترک صدر طیب رجب اردوان نے بالآخر روس سے ایس-400 دفاعی میزائل سسٹم کی خریداری سے متعلق امریکی دباو کو مسترد کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ ترکی روس سے ایس -400 میزائل سسٹم لے گا نہیں بلکہ لے چکا ہے اور پہلی کھیپ اگلے دس دنوں تک ترکی پہنچ جائے گی.ایس ۔400 کے معاملے میں ٹرمپ کے ترکی کو حق بجانب ٹھرانے کی وضاحت کرنے والے ایردوان کا کہنا تھا کہ”جناب ٹرمپ نے یہ نہیں کہا کہ ترکی پر فلاں فلاں پابندیاں عائد کی جائینگی۔ ایس۔400 کے معاملے میں بھی انہوں نے کہا کہ”آپ کا مؤقف درست ہے، یہ چیز انتہائی اہم ہے۔ روسی صدر ولادیمر پوتن سے سہہ رکنی ملاقات میں ٹرمپ نے ایک بار پھر معقول باتیں کیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی قسم کی پریشانی کے بغیر ہم اس سلسلے کی تکمیل کریں گے۔ ایک ہفتہ۔ 10 دنوں میں ایس۔400 کی پہلی کھیپ ترکی پہنچ جائیگی۔”

    طیب اردوا ن نے کہا ہے کہ”ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ایس۔400، تین پیٹریاٹ کے مترداف ہے۔ اس کے باوجود ہمیں پیش کردہ شرائط کا جائزہ لینا ہو گا، اگر شرائط ایس۔400 کے مساوی ہوئیں تو ہم پیڑیاٹ خرید لیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور تم محض اپنے فائدے کا سوچو گے تو پھر ہم بھی منافع میں ہونے والے معاملے کو ترجیح دیں گے۔ ہم اس چیز کا واضح طور پر اظہار کر چکے ہیں۔”

    مذاکرات میں ایف۔35 کی ترکی کو حوالگی کا معاملہ ایجنڈے میں آنے کا ذکر کرنے والے صدرِ ترکی نے بتایا کہ اس سلسلے کا تعاقب وزارت دفاع و خارجہ کریں گی۔ ترک ہوائی فرم امریکہ سے ایک سو بوئنگ طیارے خریدے گی اور ٹرمپ کے دورہ ترکی سے ان تعلقات کو مزید آگے لیجایا جائیگا۔

  • امریکہ کی پابندیوں کی پرواہ نہیں روس سے ایس 400 میزائل سسٹم ضرور لیں گے ترکی امریکہ کے سامنے اکڑ گیا

    امریکہ کی پابندیوں کی پرواہ نہیں روس سے ایس 400 میزائل سسٹم ضرور لیں گے ترکی امریکہ کے سامنے اکڑ گیا

    انقرہ:امریکہ کی پابندیوں کی پرواہ نہیں روس سے ایس 400 میزائل سسٹم ضرور لیں گے ترکی امریکہ کے سانے اکڑ گیا وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ ترکی نے روس سے ایس۔400 ہوائی دفاعی نظام خرید لیا ہے اب اس کی ترکی کو حوالگی کے شیڈول پر بات ہو رہی ہے۔چاوش اولو نے دارالحکومت انقرہ میں رواندا کے وزیرِخارجہ و بین الاقوامی تعاون ڈاکٹر رچرڈ سیزی بیرا کے ساتھ مشترکہ پیرس کانفرس کا اہتمام کیا۔

    امریکہ کے ساتھ بحث کا موضوع بننے والے ایس۔400 کا ذکر چھیڑتے ہوئے ترک وزیر نے کہا کہ "امریکہ کےاس حوالے سے اقدامات قوانین کے منافی ہیں، ہم اس ملک کے مؤقف کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔”امریکی دھمکیوں پر بھی اپنے جائزے پیش کرتے ہوئے جناب چاوش اولو نے بتایا کہ "چاہے یہ جس قسم کی بھی پابندیوں کا فیصلہ کیوں نہ کریں ہم ایس۔400 خرید چکے ہیں، اس معاملے میں قدم پیچھے ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ "

  • روس سے ایس 400 میزائل سسٹم نہ خریدیں ،بھارت کو امریکہ کا سخت پیغام

    روس سے ایس 400 میزائل سسٹم نہ خریدیں ،بھارت کو امریکہ کا سخت پیغام

    واشنگٹن:امریکہ کو بھارت کو سخت پیغام ،روس سے میزائل شیلڈ ایس 400 سسٹم نہ خریدیں ،بھارت نے امریکہ کا مشورہ نہ مانا تو اس کے خطر ناک نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں.روسی دفاعی حکام نے ایس 400 میزائل کے حوالے سے بھارت پر امریکہ کے دباو کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو روس سے ایس 400 میزائل سے خریدنے سے باز رہنے کا پیغام بھیجا ہے.

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس وقت روس سے دفاعی معاہدے کررہا ہے جب سیکرٹری آف اسٹیٹ مائک پومپیو اگلے ہفتے بھارت کا دورہ کرنے جا رہے ہیں.جمعہ کے روز یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سینیئر اہلکار نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بھارت روسی ایس 400 میزائل سسٹم میں دلچسپی لینے کی بجائے متبادل ذرائع تلاش کرنا چاہیں.امریکی اہکار کا اشارہ امریکہ کی طرف تھا جس کا مقصد یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ بھارت امریکہ سے ایس 400 میزائل سسٹم کے متبادل سسٹم خریدے.

    امریکی حکام نے بھارت کو یہ مشورہ دیا کہ وہ خطے میں بھارت کا اتحادی ہے اور علاقے میں دو اتحادیوں کا ایک دوسرے پر اعتماد بہتر کرنے کے لیے بھارت امریکی احساسات کی قدر کرے.امریکہ کی طرف سے بھارت کو یہ سخت پیغام اس وقت بھیجا گیا جب نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بھارت امریکہ دھمکیوں کی پروا کیے بغیر روس سے ایس 400 میزائل سسٹم خریدے گا.