Baaghi TV

Tag: ایفل ٹاور

  • بم کی اطلاع موصول  ہونےپر ایفل ٹاور کو خالی کرالیا گیا

    بم کی اطلاع موصول ہونےپر ایفل ٹاور کو خالی کرالیا گیا

    فرانس کےدارالحکومت پیرس میں ایفل ٹاور میں بم کی اطلاع موصول ہونے کے بعد ایفل ٹاور کو خالی کرالیا گیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق ایفل ٹاور میں بم کی اطلاع کے بعد وہاں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا بم کی اطلاع کے بعد پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ایفل ٹاور میں سرچ آپریشن شروع کیا پولیس نے ایفل ٹاور کے تینوں فلور اور اطراف کا علاقہ خالی کرایا جبکہ احاطے میں قائم ریسٹورانٹ کو بھی گھیرے میں لے لیا۔

    پولیس حکام نے کہا کہ اس قسم کی صورتحال میں یہ ایک معمول کا طریقہ کار ہے جو کہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے سیاحوں کو دوپہر 1:30 بجے کے فوراً بعد ایفل ٹاور کے نیچے تین منزلوں اور اطراف سے نکال لیا گیا ٹاور فی الحال بند ہے۔

    جوبائیڈن نے چین کو کمزور اقتصادی ترقی کے سبب ٹکنگ ٹائم بم کہہ دیا

    پیرس کے سیاحتی مقام پر سالانہ تقریباً 70 لاکھ لوگ آتے ہیں یادگار کے جنوبی ستون کے دامن میں ایک پولیس اسٹیشن ہے، اس کے احاطے کی ویڈیو نگرانی کی جاتی ہے، اورسیاحوں کو داخلے سے پہلے حفاظتی چیکنگ سے گزرنا پڑتا ہے اس سے قبل 2019 میں یادگار کو خالی کر دیا گیا تھا اور اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب ایک مشکوک شخص کو اوپر چڑھتے ہوئے دیکھا گیا تھا-

    واضح رہے کہ ایفل ٹاور فرانس کی سب سے علامتی علامت ہے جس نے گزشتہ سال 6.2 ملین سیاحون کو اپنی طرف متوجہ کیا ٹاور پر تعمیراتی کام جنوری 1887 میں شروع ہوا اور 31 مارچ 1889 کو مکمل ہوا۔ 1889 کے عالمی میلے کے دوران 20 لاکھ سیاحوں نے ٹاور کا رخ کیا-

    2045 تک طبعی موت ختم، بوڑھے جوان ہو سکیں گے،جینیاتی انجینئرز کا دعویٰ

  • پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایفل ٹاور کا نام لیں تو ذہن میں پیرس آتا ہے۔ جسکے ویسے تو کئی ریپلیکا دنیا بھر میں موجود ہیں مگر مجھے اصلی ٹاور کے علاوہ بحریہ ٹاؤن لاہور کا "ایفل ٹاور” دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

    اصلی ایفل ٹاور جو پیرس میں واقع ہے، انسانی آرٹ سے زیادہ انجنئیرنگ کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اتنا کہ لوگ اسے دیکھنے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ سے زائد افراد اس ٹاور کی "زیارت” کو آتے ہیں۔

    ایفل ٹاور کی تاریخ دلچسپ ہے۔ خوبصورت انجنیرنگ کے اس شاہکار کی اونچائی تقریبا 330 میٹر ہے۔ تقابل میں لاہور کا مینارِ پاکستان تقریباً 70 میٹر ہے۔ مگر ایفل ٹاور کو بنایا کیوں گیا؟

    دراصل اسے 1889 میں پیرس میں ہونے والے ورلڈ فیئر کے لیے تعمیر کیا گیا۔ یہ ورلڈ فئیر 1789 میں آیے انقلاب ِفرانس کےصد سالہ جشن کی خوشی میں تھا۔ ایفل ٹاور جو پیرس کے دل میں دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے، اسے 2 سال کی قلیل مدت میں 1887 سے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ اسکا نام ایفل ٹاور اس لیے ہے کہ اسے فرانس کے ایک سویل انجنئیر الیکسینڈر گستاو ایفل کی کمپنی کے انجینئرز اور آرکیٹکٹس نے بنایا۔ شروع شروع میں جب یہ بنایا گیا تو اسکی فرانس کے کئی مشہور آرٹس اور دانشوروں نے مخالفت کی مگر آج یہ فرانس کی پہچان ہے۔

    اس ٹاور کے تین فلورز ہیں جو سیاحوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان پر سیاحوں کے لیے ریستوران بھی موجود ہیں جہاں وہ لذیذ کھانے کھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پیرس کا نظارہ بھی۔ان فلورز پر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک لفٹ بھی، جنکا ٹکٹ ہوتا ہے۔ 600 قدم کی سیڑھیاں دوسرے فلور تک جاتی ہیں جبکہ لفٹ تیسرے فلور پر۔ سب سے اوپر کی فلور پر آپکو ٹاور سے مختلف ملکوں کے دارلحکومت کی سمت اور فاصلہ تحریر کی صورت لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاور کی تیسرے فلور تک جانے کا لفٹ کا ٹکٹ تقریباً 25 یورو یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ سیڑھیوں کے ذریعے دوسرے فلور تک جانے کا ٹکٹ تقریباً سوا چار ہزار روپے ہے۔

    ٹاور سے متصل ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح اکثر شام کو وقت بتانے آتے ہیں۔ ٹاور پر باقاعدہ لائیٹنگ کا انتظام ہے جس میں کل ملا کر 20 ہزار کے قریب برقی قمقمے اور بلب نصب ہیں۔ جو شام ہوتے ہی اس ٹاور کو روشنی سے سجا دیتا ہے اور دیکھنے والے اسکے حسن سے کھو سے جاتے ہیں۔

    اس ٹاور کو بنانے میں اُس دور میں تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ اسے زنگ سے بچانے کے لیے اس پر تقریباً ہر سات سال بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسکا رنگ تبدیل کیا گیا۔ شروع شروع میں جب یہ بنا تو اسکا رنگ سرخی مائل بادامی تھا جبکہ آج اسکا رنگ بادامی سا ہے۔ اسے رنگنے کے لئے 3 ٹن پینٹ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹاور کا کل وزن کل وزن 10 ہزار ٹن سے بھی زائد ہے۔

    بحریہ ٹاؤن لاہور کا ایفل ٹاور 80 میٹر اونچا پے۔اسے 2013 میں بنایا گیا۔ اسکا ٹکٹ شاید ہزار روپے سے کم ہے۔ پاکستان میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سٹارز کے لیے سٹوریز بنانے کے لیے اچھی جگہ ہے۔

  • ایفل ٹاور کی اونچائی میں مزید اضافہ کیوں کیا گیا؟

    ایفل ٹاور کی اونچائی میں مزید اضافہ کیوں کیا گیا؟

    فرانس: پیرس کی یادگار کے اوپر ایک نیا ڈیجیٹل ریڈیو اینٹینا لگانے کے بعد ایفل ٹاور کی اونچائی میں 6 میٹر مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ریڈیو اینٹینا ہیلی کاپٹر کی مدد سے لگایا گیا جس کے بعد ایفل ٹاورکی لمبائی میں چھ میٹر اضافہ ہوا اس سے قبل ایفل ٹاور کی 324 میٹر تھی جو اب بڑھ کر 330 تک جاپہنچی۔

    ایفل ٹاور کو سال 1899 میں فرانسیسی انقلاب کے ایک سو سال مکمل ہونے کی خوشی میں گستاف ایفل نے تعمیر کیا گیا تھا ایفل ٹاور انقلاب فرانس کی 100 سالہ تقریب کے موقع پر ہونے والی نمائش کے دروازے کے طور پر بنایا گیا تھا۔

    امریکی افواج کو کئی جنگوں میں فتح دلوانے والا بحری بیڑہ ایک ڈالر میں فروخت

    اس تعمیر کے بعد ایفل ٹاور واشنگٹن مونومنٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے اونچا انسان ساختہ ڈھانچہ بن گیا ہے ایفل ٹاور دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

    گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق ایفل ٹاور لوہے سے بنے ایک مینار کا نام ہے، جو فرانس کے شہر پیرس میں دریائے سین کے کنارے واقع ہے،اس کی تعمیر میں لوہے اور اسٹیل کے 18,000ٹکڑوں کا استعمال کیا گیا ہے، جو مجموعی طور پر 25لاکھ کیلوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔بنیادوں میں 40 فٹ تک پتھر اور لوہا بھرا گیا اور 12ہزار لوہے کے شہتیر کام میں لائے گئے۔

    سعودی عرب کا مبینہ طور پر تیل کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور

    یہ مینار چار شہتیروں پر کھڑا ہے، جن میں سے ہر ایک 279مربع فٹ رقبہ گھیرے ہوئے ہے اس میں استعمال ہونے والے لوہے اور اسٹیل کا مجموعی وزن 7,300ٹن ہے۔

    اس کے چاروں طرف ستونوں کے درمیان ایک محراب بنی ہوئی ہے، جس کے تین پلیٹ فارم یا منزلیں ہیں۔ پہلا پلیٹ فارم 189فٹ، دوسرا 380 اور تیسرا سطح زمین سے 906فٹ بلند ہے اس کی چوٹی پر موسمیاتی رسدگاہ اور ریڈیو ٹیلی ویژن کے انٹینے نصب ہیں۔

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

  • ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیق ادارے ناسا نے بتایا کہ ایفل ٹاور سے بھی بہت بڑی ایک خلائی چٹان اگلے ہفتے زمین کے مدار میں داخل ہوگی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق انڈے کی شکل کا سیارچہ جس کا نام 4660 Nereus ہے، 1,082 فٹ لمبا ہے اور 11 دسمبر بروز ہفتہ 14,700 میل فی گھنٹے کی رفتار سے زمین کے مدار میں داخل ہوگا۔

    ناسا نے بتایا کہ توقع یہی ہے کہ چٹان زمینی سطح سے کچھ فاصلے پر بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزرے گیلیکن اس بار یہ 20 سال پہلے کی نسبت زیادہ قریب سے گزرے گا خلائی چٹان کو نیریس کا نام دیا گیا ہے جو کہ یونانی سمندری دیوتا کے نام سے منسوب ہے۔

    رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا

    نیریس اندازاً 24 میل دوری کے فاصلے پر ہوگا سننے میں یہ فصلہ بڑا لگتا ہے لیکن خلائی معیار کے مطابق یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک پتھر قریب سے گزرا ہوا۔

    خلاء میں جب کوئی چیز زمین سے 12 کروڑ میل کے فاصلے پر آتی ہے ناسا اُسے زمین کے قریب اور ساڑھے 46 لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی چیز کو ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیتا ہے قریب یا خطرہ قرار دیے جانے کے بعد ماہرینِ فلکیات اس کی حرکات کو قریب سے دیکھتے ہیں۔

    1982 میں دریافت ہونے والے نیریس کا سورج کے گرد مدار 1.82 برس کا ہے جس کی وجہ سے یہ ہر 10 سالوں میں دنیا کے قریب آتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    نیریس کے نظام شمسی کے ہمارے علاقے میں تواتر کے ساتھ آنے کی وجہ سے ناسا اور جاپانی خلائی ایجنسی JAXA نے ایک بار اس سیارچے کا نمونہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بجائے 25143 Itokawa نامی سارچے پر چلے گئے۔

    ناسا کے اندازے کے مطابق نیریس اب 2 مارچ 2031 اور نومبر 2050 میں زمین کے قریب سے گزرے گا اور اس کا اس سے بھی زیادہ قریبی گزر 14 فروری 2060 کو ہوگا جب یہ سیارچہ 7.4 لاکھ میل کی دوری سے گزرے گا۔

    چھ لاکھ سےزائد سیارچوں کی مانٹرنگ کرنے والے ڈیٹا بیس آسٹیرینگ نے اندازہ لگایا ہے کہ اس سیارچے میں نِکل، لوہا اور کوبالٹ جیسی دھاتوں کے ذخائر موجود ہیں جن کی کُل مالیت 4.71 ارب ڈالرز ہے۔

    580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین چاند گرہن آج ہوگا