Baaghi TV

Tag: ایف اے ٹی ایف

  • سعودی عرب سے کن شرائط پر قرض ملا اور کتنے عرصے کیلئے؟ سینیٹ میں تفصیلات پیش

    سعودی عرب سے کن شرائط پر قرض ملا اور کتنے عرصے کیلئے؟ سینیٹ میں تفصیلات پیش

    سعودی عرب سے کن شرائط پر قرض ملا اور کتنے عرصے کیلئے؟ سینیٹ میں تفصیلات پیش

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے اگلے سیشن میں گرے لسٹ سے نکل جائیں گے

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ فیٹف کے 28 میں سے 27 مطالبات پورے کر دیئے،ہمیں شکار بنایا جارہا ہے اور پریشر ڈالے جا رہے ہیں،ڈیڑھ دو سالہ کارکردگی پرگرے لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے،مخالف ممالک سیاسی ایجنڈے کے تحت مخالفت کر رہے ہیں،نگران حکومت میں ہم فیٹف گرے لسٹ میں گئے،سابق حکومت میں ہم وائٹ لسٹ میں تھے فیٹف میں صرف ہمیں ایک ٹرانزیکشن کرنی ہے سابق حکومتی اقدامات سے ہم گرے لسٹ میں گئے،قرض پر شرائط تو ہوتی ہیں، لازم نہیں ان کا نفاذ بھی ہو،سعودی عرب نے کہا کہیں دیوالیہ کیا تو رقم واپس لے سکتے ہیں،سعودی عرب سے قرض مانگا ہی ایک سال کیلئے تھا ضرورت پڑی تو قرض واپسی میں توسیع کرلیں گے، سعودی قرض کی شرح سود 4 فیصد ہونا کوئی بڑی بات نہیں، دنیا میں انٹرسٹ ریٹ بڑھ رہے ہیں،

    سعودی عرب سے بطور قرض لیے گئے 3 بلین ڈالرز کی تفصیلات سینٹ میں پیش کر دی گئی ہیں۔ پاکستان اس قرض کو استعمال نہیں کرسکتا بلکہ اسٹیٹ بینک میں پڑے رہنے کے باوجود 4 فیصد سود کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔

    دوسری جانب مشیر تجارت رزاق داؤد کا کہنا ہے کہ پرویزمشرف دور میں اسٹیٹ لائف کا برا حال تھا اب اسٹیٹ لائف کے اعداد و شمار کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں نئے چیئرمین کے ساتھ اسٹیٹ لائف ٹیم نے بھر پور کام کیا ہم نے ماضی میں کبھی اپنی ایکسپورٹ پر توجہ نہیں دی تھی پچھلے سال آئی ٹی ایکسپورٹ میں 47 فیصد اضافہ ہوا رواں سال ہم نے 7.5 ارب ڈالر کی سروس ایکسپورٹ کا ہدف رکھا ہے ہمیں آئی ٹی کے علاوہ بھی دیگر سروس ایکسپورٹ بڑھانا ہونگی

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

    وزیر خارجہ کا سعودی عرب بارے بیان،شہباز شریف نے بڑا مطالبہ کر دیا

    برف پگھلنے لگی، سعودی سفیر کی وزیر خارجہ سے ملاقات، سعودی اہم شخصیت کا دورہ پاکستان متوقع

    سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سعودی عرب کا بین الاقوامی مسافر پروازوں کا آپریشن معطل،پی آئی اے نے بھی اعلان کر دیا

    سعودی عرب کا بڑا وفد کب آ رہا ہے پاکستان؟ وزیر خارجہ کا بڑا اعلان

    وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے سعودی سفیر کی ملاقات،کیا ہوئی بات؟

    سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اگلے 2 ماہ میں محمد بن سلمان تخت یا تختہ، اقتدار کا کھیل آخری مراحل میں،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب سے پہلے سعودی سفیر متحرک، اہم شخصیات سے ملاقاتیں

    سعودی عرب میں پاکستانی سفیرکو واپس بلائے جانے کا امکان

    بلال اکبرکی واپسی، سعودی عرب میں کون ہو گا نیا سفیر،طاہر اشرفی نے بتا دیا

  • FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    پاکستان کے الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ عرصہ سے FATF کی خبروں، تبصروں، تجزیوں اور پیشین گوئیوں سے بھرا پڑا ہے اس کی وجہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان جون 2018 سے FATF کی گرے لسٹ میں اور FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتا چلا آرہا ہے لیکن FATF کسی طور مطئمن ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہم اس پر بات کریں گے کہ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں کہ FATF آخر پاکستان سے خوش کیوں نہیں ہورہا حالانکہ 16 فروری سے اکیس فروری تک جاری رہنے والے اجلاس سے قبل ہمارے دوست ممالک نے بھی بڑی یقین دہانیاں کروائی تھیں اور عزت مآب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بڑے دعوے کیے تھے کہ فلاں بھی ہمارے ساتھ ہے اور فلاں بھی ہمارے ساتھ لیکن اجلاس کے بعد وہی FATF کے محبوبہ کی خواہشات کی طرح بڑھتے ہوئے "ڈو مور” کے مطالبات ہیں.
    ہمارے بہت سارے احباب تو FATF کو ہی نہیں جانتے کہ یہ کیا بلا ہے اور کیونکر ہمارے سروں پر مسلط ہوئی ہے.FATF کا قیام جولائی 1989 میں جی سیون (G-7) ممالک کے فرانس منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا. بعدازاں اس کی تعداد بڑھتی رہی اور ابھی دو علاقائی تنظیموں سمیت 39 ممالک اس FATF کا حصہ ہیں. بنیادی طور پر یہ بین الحکومتی ٹاسک فورس ہے جو منی لانڈرنگ جیسے جرائم کے خلاف ملکوں کے مشترکہ اقدامات کے لیے قائم کی گئی مگر نائن الیون کے بعد جب دنیا میں دہشت گردی اور War Against Terror کی صدائیں متواتر سنائی دی جانے لگیں تو FATF کے بنیادی مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیرر فنانسنگ کو مانیٹر کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کا اضافہ کیا گیا. FATF منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے ٹیکنیکل طریقہ کار کو اختیار کرتی ہے اور ممبر ممالک میں ایسے قوانین وضع کرواتی ہے جن کی زد میں آکر ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی روک تھام ہوسکے اور ان میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزائیں وغیرہ دی جاسکیں.
    اس FATF کے طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ سب ممالک کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں. جو ممالک ان اسٹینڈرڈز پر پورا نہ اتریں اور وہاں سے افراد یا تنظیمیں منی لانڈرنگ یا ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہوں تو ان پر نظر رکھنے اور وہاں سے ان جرائم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ان کو گرے لسٹ میں ڈالا جاتا ہے. جو ممالک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل کرکے ان جرائم پر قابو پالیں تو ان کو دوبارہ سے وائٹ کردیا جاتا ہے اس کے لیے سال میں تین دفعہ جائزہ سیشنز ہوتے ہیں جن میں ممبر مماک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں یہ جائزہ سیشنز فروری، جون اور اکتوبر میں ہوتے ہیں. لیکن اگر ان سبھی جائزہ سیشنز کے بعد بھی کوئی ملک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل نہ کرسکے تو اس کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس ملک کے ساتھ لین دین اور برآمدات و درآمدات متاثر ہوجاتی ہیں ، آئی ایم اور ورلڈ بینک جیسی تنظیمات بھی اس ملک سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں وغیرہ وغیرہ.
    یہ تو تھیں پڑھی لکھی باتیں جو قوائد و ضوابط کا حصہ ہوتی ہیں یا ہیں لیکن آپ کو یہ بات جان کر بڑا تعجب ہوگا کہ اس وقت FATF کی گرے لسٹ میں پاکستان کے علاوہ جو ممالک شامل ہیں 90 فیصد دنیا ان کے نام تک بھی نہیں جانتی ہے اور FATF کی حالیہ بلیک لسٹ میں صرف دو ملک شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں. یعنی بجز ان تین سرکردہ ممالک کے باقی ساری دنیا بہت شریف ہے. امریکہ جس نے وار آن ٹیرر کے نام پر ملکوں کے ملک اجاڑ دیئے، لاکھوں انسانوں کو قتل کیا، امریکن خفیہ ایجنسیاں جو دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑی بیٹھی ہیں وہ FATF کی نظر میں بالکل شریف ہیں. بھارت کہ جس کی مسلسل لابنگ اور کوششوں سے پاکستان FATF کا منظور نظر ٹھہرا ہے اس کی اپنی کیفیت دیکھیں تو ایک کلبوشن یادیو اور اس کی ٹیرر فنانسنگ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو اپنے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ پکڑا گیا تھا اس کے علاوہ بھارت کی اپنی سبھی ہمسائیہ ریاستوں میں ٹیرر پھیلانے کے لیے کی گئی فنانسنگ بڑی پاک صاف ہے جو FATF کی پکڑ میں نہیں آتی.کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کی نسل کشی FATF کے کسی قانون یا معیار کے نزدیک جرم نہیں ٹھہرتا جو اسے کلین چٹ دی ہوئی ہے.

    اور پاکستان جو امریکہ کی war on terror میں شامل ہونے کی غلطی کربیٹھا تھا اور تاحال اپنے ہی گلی محلوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ہزاروں جانیں اس دہشت گردی کی نظر ہوچکی ہیں، پاکستان کی اکانومی کا بھٹہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیٹھ چکا ہے اور دنیا بجائے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرکے پاکستان کو اس اکنامک کرائسز سے نکلنے میں مدد دینے کے پکڑ کر FATF کے کٹہرے میں بٹھا کر ڈو مور کی ایک لمبی فہرست تھما دی کہ جاؤ یہ یہ کام کرکے آؤ، فلاں فلاں بندے کو جکڑ کر سزاء دے کر آؤ کہ وہ اسلامی معاشی نظام کے تحت صدقے اور زکوٰة جیسی معمولی رقومات سے دنیا کا بہترین ریلیف کا نیٹورک چلا کر ہمارے سودی اور سامراجی نظاموں کے خلاف ایک صاف شفاف اسلامی نظام کیوں کھڑا کر رہے ہیں.
    پاکستان نے FATF کی ایما پر پاکستان میں جن افراد کو پکڑ کر سزاؤں سے نوازا ہے اور ان کے سبھی ادارے حتیٰ کے ایمبولینسز، ڈسپنسریز اور اسکولز تک اپنی تحویل میں لے لیے ہیں ان کو ماضی میں پاکستان کی عدالتیں بالکل کلیئر کرچکی ہیں اور دنیا بلکہ حتیٰ کہ اقوام متحدہ تک یہ مانتی اور جانتی ہے کہ ان افراد کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اب اس شخص کو جس کیس میں گیارہ سال قید بمع جرمانے کے سزاء سنائی گئی وہ کیس بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ان پر کوئی دہشت گردی اور ٹیرر فنانسنگ وغیرہ کا جرم تو ثابت نہیں ہوسکا البتہ انہوں مساجد اور مراکز بنائے ہیں جو شاید دہشت گردی کے لیے استعمال ہوسکیں.
    لیکن FATF ہے کہ وہ ماننے کو تیار نہیں ہے اور اس نے پاکستان میں ڈو مور کی مزید لسٹ تھما کر جون تک وقت دے دیا ہے. تو صاف سمجھ آرہی ہے کہ FATF اور اس کے اسٹینڈرڈ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے اسٹیک ہولڈرز اور ان کے مفادات اصل ایشو ہیں. کیونکہ پاکستان نے اپنے بے گناہ لوگوں کو فقط اس لیے جیلوں میں بھیجا ہے اور کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر بھی سزائیں سنائی ہیں لیکن دنیا اس کو ماننے کو تیار نہیں ہے. حالانکہ حافظ سعید وہ شخص ہیں جو کبھی امریکہ کے خلاف نہیں لڑے البتہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ناٹو سپلائی پر ملک گیر کمپین کی تھی اور دوسری طرف جو لوگ براہ راست امریکہ سے لڑتے رہے امریکہ ان کو پھولوں کے ہار پہنا رہا ہے، گلبدین حکمت یار کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوتا ہے، جس حقانی نیٹورک کے نام پر ساری دنیا پاکستان کو مطعون کرتی رہی اسی سراج الدین حقانی کا کالم نیویارک ٹائمز میں پبلش ہورہا ہے. افغانستان سے امریکہ کے نکلنے تک پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ سے نکلنا مشکل معلوم ہوتا ہے اسی طرح پاکستان CPEC ایک ایسا جرم ہے پاکستان کو جو سامراجی طاقتوں کو ہضم نہیں ہورہا کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کو CPEC کی سزا بھی FATF کے چنگل میں جکڑ کر دی جارہی ہے.یہ دو بڑی اہم وجوہات سمجھ آتی ہیں جن پر عالمی طاقتیں پاکستان پر FATF کی گرے لسٹ اور بلیک ہونے کے خوف کی صورت پریشر برقرار رکھ کر کچھ لو اور کچھ دو کی مزید پالیسی چاہتی ہیں.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • پہلے بتانا پڑے گا:چندہ، عطیات، خیرات لینے اور دینے والوں کیلئے بڑی خبر

    کراچی : گورنمنٹ آف سندھ نے صوبے میں چندہ، عطیات،خیرات لینے اور دینے والوں کیلئے نیا قانونی مسودہ تیار کرلیا گیا ، جس کے تحت خیراتی اداروں، پروموٹرز، اور فنڈ ریزنگ مہم کو رجسٹرڈ کرانا ہوگا۔مسودے کے مطابق 50ہزار روپے سے زائد ملنے والی عطیات بینک میں جمع کرانا ہوں گے اور خلاف ورزی پرخیراتی اداروں،ٹرسٹیز پر10لاکھ تک جرمانہ ہوسکے گا۔

    تفصیلات کے مطابق یہ اقدام ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان پر لگائی گئی پابندیوں کے پیش نظر کیا جارہاہے، ذرائع کے مطابق مسودے میں کہا گیا ہے کہ خیراتی اداروں،پروموٹرز،اور فنڈ ریزنگ مہم کورجسٹرڈکراناہوگا اور چندہ ،عطیات دینے والوں کوذرائع آمدن بتانا ہوں گے جبکہ خیراتی ادارے کو چندہ جمع کرنے کے مقاصد پیشگی واضح کرنا ہوں گے۔

    مسودے کے مطابق سندھ چیرٹی کمیشن اور چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی قائم کی جائے گی، خیراتی ادارہ تمام مالی حسابات کا مفصل ریکارڈ رکھنے کا پابند ہوگا۔قانونی مسودے میں کہا گیا خیرات، عطیات، چندہ کاروبار، سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوگا، خیراتی ادارے کی تمام مالی، سماجی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ ہوگی، سندھ چیریٹی کمیشن قانون کی خلاف ورزی پر رجسٹریشن منسوخی کا مجاز ہوگا۔

  • ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کا نام کیوں نہیں نکالا جارہا، وزیراعظم نے سب کو حاضر کرلیا

    ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کا نام کیوں نہیں نکالا جارہا، وزیراعظم نے سب کو حاضر کرلیا

    اسلام آباد :پاکستان نے تمام تر ممکنہ حد تک اقدامات بھی کیے پھر بھی پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ، وزیراعظم عمران خان نے ایف اےٹی ایف معاملے پراہم اجلاس طلب کرلیا ، جس میں ایف اے ٹی ایف اجلاس میں شریک ٹیم وزیراعظم کو بریفنگ دے گی، پاکستان کا نام فروری دو ہزاربیس تک گرے لسٹ میں ہی ر ہے گا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فناشنل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نہ نکلنے پر اجلاس اہم طلب کرلیا ہے، اجلاس میں ایف اے ٹی ایف اجلاس میں شریک ٹیم وزیراعظم کو بریفنگ دے گی۔حماد اظہروزیراعظم کو اس سارے معاملے سے آگاہ کریں گے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کوایف اےٹی ایف کےحالیہ اجلاس میں پیشرفت پرآگاہ کیا جائے گا، اب تک کن شرائط پر عمل ہوچکا ؟ کن پرمزید کام باقی ہے،بریفنگ دی جائے گی جبکہ ایف اے ٹی ایف شرائط پر عملدرآمد کیلئے حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوگا۔

  • ایف اے ٹی ایف کی کمزوریاں دور کرنے میں مزید کتنے سال لگیں گے ؟

    ایف اے ٹی ایف کی کمزوریاں دور کرنے میں مزید کتنے سال لگیں گے ؟

    اسلام آباد: سابق وزیر تجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف جن کمزوریوں کی نشاندہی کر رہی ہے اسے درست کرنے میں تو 2 سال لگ جائیں گے۔پاکستانی حکام کو ایف اے ٹی ایف کی باریکیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،

    اوکاڑہ میں بچوں پر ظلم ! ماوں کے نام پیغام

    ذرائع کےمطابق ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق بتاتے ہوئے سابق وزیر تجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تفصیلی رپورٹ 230 صفحات پر مشتمل ہے اور اراکین اسمبلی اسے غور سے پڑھیں۔ اس میں جو کمزوریاں سامنے لائی گئی ہیں جس میں ہمارے اداروں کی کمزوریاں اور وہاں کام کرنے والے افراد کی نالائقیوں کے بارے میں ذکر ہے۔

    اب استعفے دیے نہیں لیےجاتے ہیں ، نئ کہانی سامنے آگئی

    انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف 35 ممالک کی آرگنائزیشن ہے جو چاہتا ہے ان کی بینکاری میں بلیک منی آ کر چھپ نہ جائے اسے وہ بے نقاب کرتے ہیں اور ان ممالک نے فنانشل نظام کو صاف کرنے کے اس میں شامل ممالک کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب پوری دنیا کی بینکاری آپس میں جڑ چکی ہے۔

    MeToo# …کی تلوار پروفیسر افضل محمود پر چل گئی ، دردناک کہانی

    ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ اگر ایف اے ٹی ایف پابندی لگاتی ہے تو پھر پاکستان کی تجارت پر فرق پڑے گا اور نگرانی سخت ہو جائے گی، جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو دھچکا لگے گا۔

    سابق وزیرتجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ یہاں جن کمزوریوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اس کو تو بہتر کرنے میں ڈیڑھ سے 2 سال لگ جائیں گے۔ ہمارے اداروں کو تو ابھی تک منی لانڈرنگ کی سمجھ ہی نہیں ہے۔

  • ایف اے ٹی ایف کے نئے مطالبے !

    ایف اے ٹی ایف کے نئے مطالبے !

    پیرس :ایف اے ٹی ایف کے صدر شیالگمن لو نے میڈیا کو پاکستان کے بارے میں ٹاسک فورس کے فیصلوں پر مفصل بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ابھی کچھ کرنا ہوگا،پاکستان کے حوالے سے اپنے اعلامیے میں ایف اے ٹی ایف نے 10 ایسے نکات کی نشاندہی کی جس پر پاکستان کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق اپنے قوانین اور طریقہ کار عالمی معیار کے مطابق بناسکے۔

    10 نکات

    1-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے لاحق دہشت گردی کی فنانسنگ کے ممکنہ خطرات کا مناسب فہم رکھتا ہے اور پھر ان خطرات کے پیش نظر اس قسم کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
    2-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ/ ٹیرر فناسنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تدارکی اقدامات کیے جاتے ہیں اور ان پر پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں، اور یہ بھی کہ مالیاتی ادارے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق معاملات میں ان اقدامات کی تعمیل کرتے ہیں۔
    3-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے بااختیار ادارے پیسوں کی غیر قانونی منتقلی یا ویلیو ٹرانسفر سروسز کی نشاندہی کرنے میں تعاون کر رہے ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی میں مصروف ہیں۔
    4-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے ادارے کیش کوریئرز پر نگرانی رکھے ہوئےہیں اور نقد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام میں اپنا کردار اداکر رہے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمن اورخادم رضوی کے درمیان کیا تعلق ، اہم انکشاف

    5-ممکنہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی اداروں سمیت تمام اداروں کے باہمی تعاون کو بہتر بنایا جائے۔
    6-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمیوں پر تحقیقات کر رہے ہیں اور تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی نامزد لوگوں، اداروں یا پھر ان کے نمائندے کے طور پر کام کرنے والے لوگوں یا اداروں کے خلاف ہورہی ہے۔
    7-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمی کرنے والوں کےخلاف قانونی کارروائی کے نتیجے میں مؤثر، مناسب اور مزاحم پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور پاکستان وکیل استغاثہ اور عدلیہ کی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔

    لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے بھٹو؟ 4 نومولود بچے جاںبحق

    8-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد دہشگردوں اور ان کے سہولت کاروں پر (جامع قانونی اصولوں کے ذریعے) اہدافی مالی پابندیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ انہیں چندہ اکھٹا کرنے اور ان کی منتقلی کی روک تھام کی جا رہی ہے، ان کے اثاثوں کی نشاندہی اور انہیں منجمد کیا جا رہا ہے اور انہیں مالی امداد اور مالی سروسز تک رسائی سے باز رکھا جا رہا ہے۔
    9-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملات کو انتظامی اور ضابطہ فوجداری کے تحت قانون کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے اور قانون کے اس نفاذ میں صوبائی اور وفاقی ادارے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

    کراچی پولیس نے ایک انوکھا شخص گرفتار کرلیا

    10-پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد افراد اور ان کے سہولت کار جن سہولیات اور سروسز کے مالک ہیں یا پھر کنٹرول کرتے ہیں ان کے وسائل ضبط کرلیے گئے ہیں اور وسائل کا استعمال ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

  • ایف اے ٹی ایف کا جن ، حقیقت کیا ہے ؟

    ایف اے ٹی ایف کا جن ، حقیقت کیا ہے ؟

    لاہور: پاکستان کے لیے مصیبت کی گھڑی بننے والی معیشت کو جام کرنے والی ، سلامتی کو بدنام کرنے والی ایف اے ٹی ایف کی اپنی تاریخ بھی بڑی عجیب ہے، ویسے پاکستانیوں نے تو اس کےمتعلق تب سنا جب پاکستان کے خلاف اس تنظیم نے بہت سخت گیر فیصلے کیے ، پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو دہشت گردی سے جوڑکرپاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ، یہ بھی حقیقت ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کو روکنا تھا ، عمران خان سے پہلے تو پاکستانیوں کی اکثریت کو منی لانڈرنگ کا بھی بہت کم ہی علم تھا .

    آب آتے ہیں اس تنظیم کے قیام کی طرف کہ یہ کیسے عمل میں آئی ،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 30 سال قبل جی سیون (G-7) ملکوں نے 1989ء میں فرانس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا تھا۔ بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوگئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے اراکین کی تعداد 39 ہے جس میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف سے 8 علاقائی تنظیمیں بھی منسلک ہیں۔

    پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسفک گروپ کا حصہ ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ملکوں تک موجود ہے۔ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تھا۔.

    مولانا فضل الرحمن اورخادم رضوی کے درمیان کیا تعلق ، اہم انکشاف

    امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ دہشت گردی کے لیے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد اکتوبر 2001ء میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012ء میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔

    ٹاسک فورس اپنے کھلے ایجنڈے پر خالصتاً ٹیکنکل بنیادوں پر کام کرتی ہے، اسی لیے اس ٹاسک فورس میں مختلف ملکوں کے ماہرین برائے انسدادِ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ شریک ہوتے ہیں۔ٹاسک فورس کے موجودہ صدر شیالگمن لو کا تعلق چین سے ہے۔ وہ ایف اے ٹی ایف کے صدر بننے سے قبل چین کے مرکزی بینک میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق شعبے کے سربراہ تھے۔ شیالگمن چین میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت کے حوالے سے متعدد اقدامات کرچکے ہیں۔

    لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے بھٹو؟ 4 نومولود بچے جاںبحق

    ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پر عملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونے والی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کے لیے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔

    ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990ء تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996ء، 2001ء، 2003ء اور 2012ء میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔

    کراچی پولیس نے ایک انوکھا شخص گرفتار کرلیا

    ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر جو شرائط عائد کی ہیں اور جن شعبوں میں پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے اس پر عملدرآمد کرنا کسی ایک حکومتی ادارے کا کام نہیں ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ، حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر سطح پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کو جلد از جلد قانون سازی کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے عملدرآمد کے طریقہ کار کو بھی وضع کرنا ہوگا۔

  • ڈومور:فروری 2020 تک پھر تلوارلٹک گئی ایف اے ٹی ایف ناخوش

    ڈومور:فروری 2020 تک پھر تلوارلٹک گئی ایف اے ٹی ایف ناخوش

    پیرس : وہ کبھی بھی آپ سے خوش نہیں یہ فرمان اللہ کا ہے اور قرآن مجید نے موجودہ صورت حال کو آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے ہی بتا دیا تھا ، پھر وہی ہوا جو قران مجید میں اللہ نے بیان فرمایا ، اطلاعات کے مطابق پاکستان کی تمام تر مخلصانہ کوششوں کے باوجود ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے انکار کردیا ہے اور مزید اگلے سال فروری تک یہ تلوار پھر لٹکا دی ہے ،
    https://twitter.com/Wabbasi007/status/1185197778156347392?s=08

    ساتھ ہی ایف ایے ٹی ایف نے پاکستان کو دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔گزشتہ روز پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میںمنی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر قابو پانے سے متعلق پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    تاہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو آئندہ 4 ماہ میں دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانٖڈرنگ کے خاتمے سے متعلق مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔واضح رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے جسے گزشتہ برس انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے میں غیر مطمئن اقدامات کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا۔ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں حالیہ پیش رفت سے متعلق باضابطہ اعلان رواں برس 18 اکتوبر کو کیا جائےگا۔

  • ایف اے ٹی ایف اجلاس پاکستان کے لیے اچھی خبریں آنی شروع ہوگئں

    ایف اے ٹی ایف اجلاس پاکستان کے لیے اچھی خبریں آنی شروع ہوگئں

    پیرس:پیرس میں ہونےوالے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے آج کے اجلاس سے پاکستان کےلیے اچھی اچھی خبریں‌آنا شروع ہوگئں ،اطلاعات کےمطابق آج اجلاس کے دوسرے سیشن میں ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو ابتدائی طور پر تسلی بخش قرار دے دیا۔

    پیرس میں‌ہونے والے اجلاس کی اج کی کارروائی کے حوالے سے پاکستانی حکام نے تسلی بخش روپورٹ دی ہے ، ذرائع کا کہنا ہےکہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ کا جائزہ لیا، ابتدائی طور پر پاکستان کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے تاہم پاکستان کی طرف سے ایکشن پلان پرعملدرآمد کے نکات پر ابھی مزید 2 دن غور کیا جائے گا۔

    یاد رہےکہ اس اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے پاکستان نے نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ اسٹڈی مکمل کرکے 150 صفحات کی رپورٹ بھجوائی تھی، جس میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے 12 سے زائد صفحات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں اور استغاثہ سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

    پاکستانی حکام نے آج کی کارروائی سے مطمئن ہوتے ہوئے کہا ہےکہ اگر ایف اے ٹی ایف پاکستان کے حالیہ اقدامات سے مطمئن ہوئی تو اسے ’گرے ایریا‘ کی فہرست سے خارج کرنے کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔ ناکافی پیش رفت کی وجہ سے پاکستان کے بارے اگلی سطح کے اقدامات لینے پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کے ليے 12 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آج رات تک مزید صورت حال واضح ہوجائے گی

  • بنکاک : ایف اے ٹی ایف اجلاس کے لیے  پاکستان کی تیاریاں مکمل

    بنکاک : ایف اے ٹی ایف اجلاس کے لیے پاکستان کی تیاریاں مکمل

    اسلام آباد: بنکاک میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے جائزہ اجلاس میں پاکستان نے کس طرح ڈیل کرنا ہے اس کے حوالے سے تیاری مکمل کر لی ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا آج شروع ہونے والا اجلاس13 سمتبر تک تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں جاری رہے گا۔ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بحث کےحوالے سے پاکستان کی وزارت خارجہ، داخلہ اور چاروں صوبوں کے درمیان مشاورت ہوئی ہے۔

    ایف اے ٍٍٍٍٹی ایف اعلامیے کے مطابق اجلاس کی صدارت چین کے فنانشل انٹیلیجنس یونٹ کے سربراہ کریں گے جب کہ بھارت کے فنانشل انٹیلیجنس یونٹ کے سربراہ شریک چیئرمین ہوں گے۔پاکستان پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کی طرف سے عائد کی شرائط پر عمل کررہا ہے ، دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان پر اس اجلاس میں مزید بوجھ ڈال دیا جائے گا

    ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پیش کرنے کے لیے انشورنس سیکٹر میں غیر قانونی سرمایہ کی روک تھام پر اقدامات، قومی بچت، پاکستان پوسٹ کی بچت اسکیموں میں غیر قانونی سرمایہ کی روک تھام سے متعلق رپورٹس بھی تیار کر لی گئی ہیں۔بینکنگ سیکٹر، نان بینکنگ سیکٹر اور فنانشل سیکٹر کی سپروائزری صلاحیت میں اضافے کیلئے اسٹیٹ بینک کے نئے اقدامات پر مشتمل رپورٹ بھی مکمل کرلی گئی۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے مالیاتی اداروں میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے اقدامات کی رپورٹ بھی تیار کرلی ہے۔اسٹاک مارکیٹ اور انشورنس سیکٹر میں غیر قانونی سرمایہ کی روک تھام پر اقدامات، ریئل اسٹیٹ سیکٹر، جیولرز اور قیمتی پتھروں کے تاجروں، معدنیات کی کانوں کی سپروائزری مستحکم بنانے کی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے ۔