Baaghi TV

Tag: ایف بی آر

  • ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:شوکت ترین

    ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:شوکت ترین

    اسلام آباد:ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس تو سب کو دینا پڑے گا، نوٹسز نہیں، خود ٹیکس گزار تک پہنچیں گے، لوگ کاررو

     

    ائی سے پہلے محاصل ادا کرنا شروع کردیں، ٹیکس پیئرز کی تعداد دو کروڑ ہونی چاہیے، عمران خان مسٹر کلین ہیں، عوام کے پیسے میں کرپشن نہیں ہونے دے گا۔

    وزیرخزانہ نے قومی سیلزٹیکس ریٹرن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس توآپ کودینا پڑے گا، ٹیکسوں کا نظام خودکارہونے سے محصولات بڑھیں گے، ٹیکسوں کے نظام کوآسان بنایا جارہا ہے، جب لوگوں کوسہولت ہوگی تو زیادہ ٹیکس بھی دیں گے، جب ٹیکس اکٹھے نہیں ہوں گے تو ملک میں ترقی کیسے ہو گی؟ ٹیکسوں ادائیگیوں سے ہی ملک میں پائیدارترقی ہوسکتی ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ٹیکس ادا نہ کرنے والوں تک پہنچیں گے، جوٹیکس ادا نہیں کرتے ان کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے۔

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ سب لوگ اپنا ٹیکس دینا شروع کردیں، اب ہم نوٹس نہیں دیں گے، اب ہم ان لوگوں کوبتائیں گے کہ آپ کی اتنی آمدن ہے، ہم کسی کوہراساں نہیں کریں گے، اگرکوئی ٹیکس ادا نہیں کرے گا تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، جوٹیکس ادا نہیں کررہے ان کوچاہیے ہمارے پہنچنے سے پہلے وہ ٹیکس ادا کردیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گڈزپرسیلزٹیکس وفاق کا دائرہ کارہے، یہ مجھے نہیں معلوم آج ہوں یا کل نہیں، اگراس عہدے پر رہا توسب کو انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس بھی دینا پڑے گا، ملک کو اس وقت ٹیکس کی ضرورت ہے، ادھارلیکرملک چلایا جاتا ہے یہ نہیں چلے گا، بڑی بڑی گاڑیاں والے ٹیکس نہیں دیتے، دوملین لوگ ٹیکس دیتے ہیں، کم ازکم 20ملین لوگوں کوٹیکس دینا چاہیے، عمران خان مسٹرکلین، آپ کے دیئے گئے ٹیکسوں کی خردبرد نہیں ہوگی، میں توتنخواہ بھی نہیں لیتا ہم نے اس سسٹم کوٹھیک کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلزٹیکس گڈز پہ بھی ہے اور سروسز پر بھی، صوبوں کو سروسز پر ٹیکس تو ملنا شروع ہو گیا مگر لوگوں کو دِقت تھی، اب کمپنیوں کو ایک ہی سیلزٹیکس ریٹرن فائل کرنا ہوگی، یہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا اچھا طریقہ ہے، ایک جگہ ٹیکس اکٹھا کرنے سے معلوم ہوگا کمپنیاں کتنا پیسہ اکٹھا کررہیں، ریٹیل میں 18 ٹریلین کی سیل ہے، ہمارے پاس 3 ٹریلین آتا ہے، لوگ ایک وقت میں کھانے کا 30 سے 40 ہزار دیتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے، ہم وہ لوگ نہیں جو پیسے کا خرد برد کرتے ہیں۔

    دوسری طرف چیئرمین ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’تاریخ میں پہلی بارسیلز ٹیکس انتظامی اصلاحات کا پیکیج لارہے ہیں’

     

     

    چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا ہے قومی سیلز ٹیکس ریٹرن کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ نے سیلز ٹیکس اصلاحات کی پالیسی پارلیمان میں پیش کی۔انہوں نے کہا کہ آج ہم ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیلز ٹیکس کے انتظامی اصلاحات کا پیکیج لارہے ہیں، ملک میں 7 ٹیکس اتھارٹیز ایک طرح کا کام کررہی ہیں۔

    ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ ٹیکس دہندہ کو 7 ٹیکس ایجینسیوں کے پاس اپنے اعدادوشمار جمع کرانے پڑتے تھے، اس حوالے سے صوبوں سمیت ٹیکس بارز کے ساتھ گفت وشنید کی گئی،ان کا کہنا تھا کہ اب سنگل ماہانہ سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرانے جاسکتے ہیں۔اب ایک سیلز ٹیکس گوشوارہ جمع کرانا کافی ہوگا، دسمبر 2021 کے نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن جنوری 2022 میں جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

    چیئرمین ایف بی آرنے کہا کہ فلائنگ اور فیک سیلز ٹیکس انوائسنگ کا خاتمہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل انکم ٹیکس ریٹرن پر بھی مزید کام کیا جارہا ہے، نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن کو مزید آسان بنایا جائے گا۔

  • بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    بزدار نے دیا صرف دو ہزار ٹیکس، سب اراکین اسمبلی کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ائیر 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس جمع کرایا، وزیراعظم  نے ٹیکس ائیر 2019 میں 82 لاکھ 81 ہزار830 سو روپے کی پریزمٹو آمدنی اور 23 لاکھ 64 ہزار150 روپے کی زرعی آمدنی ظاہر کی ہے۔

    ایف بی آر نے پارلیمنٹرینز کی سال2019کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی ہے، جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 98لاکھ 54 ہزار959 روپے، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے 82 لاکھ 42 ہزار 662 روپے، آصف زرداری نے 22 لاکھ 18 ہزار 229 روپے، اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 5 لاکھ 35 ہزار243 روپے ٹیکس دیا۔

    دیگر سیاستدانوں میں  شاہدخاقان عباسی نے48لاکھ 71 ہزار277 روپے، وزیرخزانہ شوکت ترین نے  2 کروڑ 66 لاکھ 27 ہزار 737 روپے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 8 لاکھ 51 ہزار 955 روپے اور پی ٹی آئی کے نجیب ہارون نے 14 کروڑ 7 لاکھ 49 ہزار روپے ٹیکس دیا۔  وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 19 لاکھ 21 ہزار 914 روپے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 66 ہزار 258 روپے، سابق وزیراعلیٰ جام کمال نےایک کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار 799 روپے، موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے 10 لاکھ 61 ہزار 777 روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےصرف 2 ہزارروپےٹیکس دیا۔

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان کا کتنا ہوا مالی نقصان؟ رحمان ملک کا انکشاف،کیا بڑا اعلان

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    آئی ایم ایف کو بتادیا عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائیگا،شوکت ترین

    وزیر خارجہ بتائیں ہمارے جوان شہید ہیں یا اسامہ ؟ حنا ربانی کھر کا اسمبلی میں اظہار خیال

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 5 لاکھ 55 ہزار 794 روپے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایک کروڑ 39 لاکھ 9 ہزار327 روپے، وفاقی وزیر اسد عمر نے 42 لاکھ 72 ہزار 426 روپے، وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے ایک لاکھ 36 ہزار 808 روپے، وزیر مملکت فرخ حبیب نے 4 لاکھ 5 ہزار 477 روپے، وفاقی وزیر مراد سعید نے 86 ہزار 606 روپے، سینیٹر رضا ربانی نے ایک کروڑ 55 لاکھ 5 ہزار 493 روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 3 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار 549 روپے، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے 9 لاکھ 32 ہزار 835 روپے اور وفاقی وزیرعلی زیدی نے10 لاکھ 47 ہزار 808 روپے ٹیکس دیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرنے والے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمںٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 331 ارکان نے تاحال تفصیلات جمع نہیں کرائیں، 15 جنوری تک اثاثوں کی تفصیلات موصول نہ ہوئیں تو رکنیت معطل کر دی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے 17، قومی اسمبلی کے 102، پنجاب اسمبلی کے 127، سندھ اسمبلی کے 31 ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 40 اور بلوچستان اسمبلی کے 14 ارکان نے تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے ٹیکس ڈائریکٹری کے اجراء پر کہا کہ یہ شفافیت کی طرف ایک اہم قدم ہے، قوم کی نظریں ارکان پارلیمان پر ہوتی ہیں، جب قوم کو معلوم ہو گا کہ ارکان پارلیمان شفاف طریقہ سے ٹیکس ادا کرتے ہیں تو شہری بھی اسی جذبہ کے ساتھ ٹیکس ادا کریں گے، اس سے ٹیکس کے پورے نظام میں شفافیت آئے گی۔ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں ٹیکس کے فعال اور مؤثر نظام کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، ٹیکس ریونیو کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرتا، ماضی میں جس کو بھی موقع ملتا وہ ٹیکس کو چھپانے کی کوشش کرتا، اس سے ترقی کے سفر پر اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس جاری اخراجات کیلئے بھی پیسے نہیں ہوتے جبکہ ترقیاتی اخراجات کیلئے قرضے لینا پڑتے ہیں، اگر ٹیکس کا شفاف اور مؤثر نظام موجود ہو تو اس طرح کے مسائل سے چھٹکارا ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمان کی ٹیکس ڈائری کی اشاعت کا آغاز 2013ء میں ہوا تھا، یہ ایک اچھی روایت ہے، اس مرتبہ ٹیکس ڈائریکٹری میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں جو خوش آئند ہیں

    ارکان پارلیمنٹ کے ادا کردہ ٹیکس پر مشتمل ڈائریکٹری میں ان ارکان کے نام شامل ہیں جنہوں نے 3 جوری 2022 تک اپنی ریٹرن فائل کی تھی۔ یہ ریٹرن آن لائن جمع ہوئی یا ہاتھ سے جمع کرائی گئی ڈائریکٹری میں ایسے ممبران کے نام شامل ہیں ٹیکس نل ظاہر کیا گیا ہے ان میں فیصل سلیم رحمان شامل ہیں تاہم انہوں نے زرعی انکم ظاہر کی ہے سینیٹر پلوشہ خان کی طرف سے کوئی آمدن ظاہر نہیں کی گئی قومی اسمبلی کے ریٹرن جمع کرانے والے 312 ارکان میں سے صرف دس ایسے ہیں جن کا انکم ٹیکس نل ہے تاہم ان میں کچھ ارکان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زرعی آمدن کو ظاہر کیا ہے

    حکومت لنڈے کے کپڑوں پر بھی ٹیکس لگانا چاہتی تھی،وزیر کا انکشاف

  • ایف بی آر کا پی او ایس ریٹیلرز سے خریداری پر انعامی سکیم کا اعلان

    ایف بی آر کا پی او ایس ریٹیلرز سے خریداری پر انعامی سکیم کا اعلان

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے پوائنٹ آف سیل سسٹم(پی او ایس)سے منسلک ریٹیلرز سے خریداری پر انعامی سکیم کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی :پوائنٹ آف سیل سسٹم(پی او ایس)سے منسلک ریٹیلرز سے خریداری پر پہلا انعام 10 لاکھ روپے کا ہوگا، 5 لاکھ روپے کے 2 اور اڑھائی لاکھ روپے کے 4 انعامات ہوں گے جبکہ50 ہزار روپے کے ایک ہزار انعامات دیئے جائیں گے۔

    جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، پارلیمانی سیکرٹری کامرس

    اس حوالے سے ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پوائنٹ آف سیل کے 5 کروڑ 30 لاکھ روپے کے انعامات ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے دیئے جائیں گے پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری کو ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز اسلام آبادمیں ہو گی۔

    امریکی دواساز کمپنی نے کورونا کی چوتھی ڈوز کے استعمال کا اشارہ دیدیا

    ترجمان ایف بی آر کے مطابق دسمبر2021 میں پی او ایس سے منسلک ریٹیلرز سے خریداری کرنے والے قرعہ اندازی میں شامل ہوں گے۔

    ایف بی آر ترجمان کا کہنا ہےکہ ایف بی آر آج سے پوائنٹ آف سیل سسٹم پر ایک مضبوط میڈیا مہم شروع کرنے کے لیے تیارہےاس کا مقصد فروخت کی حقیقی وقت کی نگرانی کے ذریعے شفافیت کو زیادہ سے زیادہ اور آمدنی کی رسائی کو پلگ کرنا ہے یہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ فروخت کے مقام پر صارفین سے وصول کیا گیا ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے۔

    سپریم کورٹ نے ماتحت عدلیہ سندھ میں بھرتیوں کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی

  • قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، محصولات اور اقتصادی امور کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    اجلاس کے آغاز میں کمیٹی اراکین نے اتفاق رائے سے سیالکوٹ واقعہ کی مذمت کی اور اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کی۔ چیئرمین کمیٹی نے تبصرہ کیا کہ "شدت پسندی کی ان کارروائیوں کےلئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے اور حکومت پر زور دیا کہ وہ قومی اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے ایسی کسی بھی جارحیت اور پُر تشدد کارروائی میں شامل افراد کے خلاف سخت ترین سزا اور قانونی لائحہ عمل مرتب کرے ۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر ملک عدنان اور دیگر کی بہادرانہ کاوشوں کو سراہا جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر پاکستان کی حقیقی روح کا مظاہرہ کیا اور مشتعل ہجوم کو روکنے کی کوشش کی۔

    کمیٹی کو ایف بی آر حکام نے غیر منقولہ جائیدادوں کی نظرثانی شدہ ویلیوایشن پر بریفنگ دی۔ سینیٹر کامل علی آغا نے حال ہی میں ایف بی آر کی جانب سے جائیدادوں کی ویلوایشن کے طریقہ کار پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ’’ری ویلیوایشن کے لیے ایف بی آر نے ماضی کے طریقہ کار پر عمل کیا ہے اور ایف بی آر کے پاس ویلیوایشن کے لیے پراپرٹیز کی جامع آن گراؤنڈ اسیسمنٹ کے لیے خاطر خواہ وسائل نہیں ہیں۔‘‘ سینیٹر کامل علی آغا نے زور دے کر کہا کہ ایف بی آر نے بغیر کسی منطقی جواز اور دلیل کے جائیدادوں کی مالیت میں 100 سے 700 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سینئر عہدیداروں اور دیگر رئیل اسٹیٹ آرگنائزیشنز کے عہددران نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بغیر کسی مناسب غور و فکر اور مشاورت کے جائیدادوں کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔

    چیئرمین کمیٹی نے ایف بی آر حکام کو اس سلسلے میں جاری کردہ حالیہ ایس آر او کو منسوخ کرنے کی ہدایت کی اور ایف بی آر حکام پر زور دیا کہ وہ آئندہ پندرہ دنوں میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے غیر منقولہ جائیدادوں کی مالیت کا تعین کریں۔ نئے میکانزم کے لیے جاری مشاورتی عمل کے دوران، سابقہ ​​ضابطے بحال کیے جائیں تاکہ کاروبار معمول کے مطابق چل سکیں۔ مستقبل کے تمام قواعد و ضوابط کے لیے ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ صنعت کاروں کو اس کے مطابق اپنے کاروبار کو تعمیل کرنے اور ایڈجسٹ کرنے کے لیے کافی وقت فراہم کرے۔ چیئرمین کمیٹی نے عہدیداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لے کر مکمل غور و خوض کرنے کے بعد کوئی نیا قانون لاگو کریں۔

    اجلاس میں سینیٹرز سید شبلی فراز، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان، کامل علی آغا، سعدیہ عباسی، سید فیصل علی سبزواری، انوار الحق کاکڑ، قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم، ایف بی آر کے سینئر حکام اور ریل اسٹیٹ کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • شریف خاندان کو ملا سپریم کورٹ سے ریلیف

    شریف خاندان کو ملا سپریم کورٹ سے ریلیف

    سپریم کورٹ سے شریف خاندان کو بڑا ریلیف مل گیا

    کلثوم نواز اور شہباز شریف کے اضافی ویلتھ ٹیکس سے متعلق ایف بی آر کی اپیلیں خارج کر دی گئی،عدالت نے کہا کہ کلثوم نواز اور شہباز شریف نے 1994 سے 1998 تک ویلتھ ٹیکس جمع کرایا، ایف بی آر نے اضافی ویلتھ ٹیکس کیلئے نوٹس جاری کیے تھے، اضافی ویلتھ ٹیکس کیلئے ڈیمانڈ نوٹس کا دیا جانا ضروری ہے،ایف بی آر کلثوم نواز اور شہباز شریف کو ڈیمانڈ نوٹس بھجوانا ثابت نہ کر سکا، اضافی واجبات کے نوٹس بھی ویلتھ ٹیکس جمع کرانے کے بعد بھیجے گئے،

    شریف خاندان نے ایف بی آر نوٹس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیے تھے لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے اضافی ٹیکس نوٹس کالعدم قرار دیدیے تھے ایف بی آر نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا

    واضح رہے کہ شہباز شریف اور بیگم کلثوم نواز کی جانب سے طارق عزیز ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا تھا کہ شہباز شریف اور کلثوم نواز ویلتھ اور انکم ٹیکس بروقت ادا کرتے رہے ہیں۔1995سے 99ء تک بھجوائے گئے ٹیکس کیخلاف کمشنر کو اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ اپیل کے فیصلے تک جرمانہ عائد نہیں کیا جا سکتا۔ اپیلیں زیر سماعت ہونے کے باوجود ویلتھ ٹیکس کی مد میں 32 ،32 لاکھ جبکہ انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی پر 50،50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جو غیر قانونی ہے۔ محکمے کے لیگل ایڈوائزر نے موقف اپنایا کہ جرمانہ قانون کے مطابق عائد کیا گیا۔ جرمانے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست 2002ء میں دائر کی گئی تھی۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ایف بی آر نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

    نیب کی نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت،عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کیوں نہیں کی؟ راجہ بشارت نے کیا اہم انکشاف

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی، بہارہ کہو میں کارکنان نے کیا استقبال

    عدالت پہنچنے پر مریم نواز نے کارکنان کے لئے جاری کیا حکم،ن لیگی رہنماؤں کو روک دیا گیا

    میری ضد ہو گی کہ نواز شریف یہ کام کریں، مریم نواز کی غیر رسمی گفتگو

    نواز شریف ضمانت پر نہیں، وکیل کا عدالت میں اعتراف،ہمیں سزا معطلی سے متعلق بتائیں، عدالت

    نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    مریم نواز کی عدالت پیشی، عدالت نے دیا مریم نواز کو بڑا جھٹکا

    سی سی پی او لاہور عمر شیخ اور کیپٹن صفدر کے درمیان کال پر تلخ کلامی

    مریم نواز حضرت علی کے خاندان میں بیاہی ہوئی ہے،سنت زینب ادا کریگی،کیپٹن ر صفدر

  • ایف بی آر نے ریئل سٹیٹ ایجنٹس کی رجسٹریشن لازمی قراردیدی

    ایف بی آر نے ریئل سٹیٹ ایجنٹس کی رجسٹریشن لازمی قراردیدی

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر ) نے ریئل سٹیٹ ایجنٹس کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کے مطابق کوئی سرکاری یا نجی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی غیر رجسٹرڈ ریئل سٹیٹ ایجنٹ سے بزنس نہیں کرسکے گی۔ غیر رجسٹرڈ ریئل سٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے سے غیر منقولہ پراپرٹی ٹرانسفر یا اُس کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوسکے گی۔

    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 3ارب ڈالر ڈپازٹ کے معاہدے پر دستخط

    حکام کے مطابق تمام ہاؤسنگ اتھارٹیز، کارپوریٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز پر شرط لاگو ہوگی اور خلاف ورزی پر منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ کے قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔ان شرائط کا رہائشی اور کمرشل مقاصد کے لیے ڈیولپمنٹ سکیموں پر بھی اطلاق ہوگا، ساتھ ہی تعمیرات، پراپرٹی کی خرید و فروخت یا ملکیتی حقوق کی منتقلی بھی مشروط ہوگی۔

    جہاز سے ٹرک ٹکرانے کا واقعہ:سینٹ ایوی ایشن کمیٹی سے انکوائری کا مطالبہ

    ایف بی آر حکام کا مزید کہنا ہے کہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا جبکہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو نان فنانشل بزنس اینڈ پروفیشن کے طور پر رجسٹر کرانا ہوگا۔

    مستقبل ڈگریوں کا نہیں بلکہ ہنر کا ہے وزیر تعلیم شفقت محمود

    مریم نواز آڈیو لیک معاملہ: مسلم لیگ (ن) کے پانچ سال کے اشتہارات کا ڈیٹا جاری

  • سیاستدانوں کو منٹھلیاں بند ہو گئیں

    سیاستدانوں کو منٹھلیاں بند ہو گئیں

    قصور
    الہ آباد تحصیل چونیاں کے نان کمپیوٹرائز پٹوار سرکلوں سےسیاستدانوں کی منتھلیاں بند سیاستدان شدید پریشان ناجائز آمدنی رک گئی اعلیٰ ریونیو افسران نے حکم دیا ہے کہ زبانی بیعہ انتقالات درج کرنے کی بجائے صرف رجسٹری پاس کروائی جائے
    تفصیلات کے مطابق باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر نے حکم دیا ہے کہ زمیں کے زبانی بیعہ انتقالات درج کرنے کی بجائے رجسٹریاں پاس کروائی جائیں جس سے نان کمپیوٹرائز حلقوں کو جان بوجھ کر کرپشن کے لئے کمپیوٹرائز نہیں کیا گیا تھآ کیونکہ پٹوار سرکل کے وہ شہر ی اور کمرشل حلقے جن میں چونیاں سٹی، کنگن پور، تلونڈی، الہ آباد، گہلن ہٹھاڑ وغیرہ شامل تھے یہ پٹواری حلقے پٹواریوں اور سیاستدانوں کے لئے سونے کی چڑیا تھے ان حلقوں میں تعینات ہونے والے پٹواری بھاری رشوت اور سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے تعینات ہوتے تھے مذکورہ حلقوں کے پٹواری کروڑ پتی بن چکے ہیں ان حلقوں سے بعض سیاستدانوں کو باقاعدہ منتھلی ادا کی جاتی تھی زبانی بیعہ انتقالات درج نہ ہونے سے پٹواری شدید پریشان ہیں اور انہوں نے سیاستدانوں کی منتھلیاں بھی بند کر دی ہیں مذکورہ حلقوں کے پٹواری بعض کرپٹ افسران کی بھی ناجائز ضروریات پوری کرتے تھے اور بعض افسران کو منتھلی بھی دی جاتی تھی

  • اللہ کا شکر ہے ! چیئرمین ایف بی آر نے بہت بڑا دعویٰ کردیا ، ہر کوئی یہ دعویٰ‌جاننے کےلیے بے تاب

    اللہ کا شکر ہے ! چیئرمین ایف بی آر نے بہت بڑا دعویٰ کردیا ، ہر کوئی یہ دعویٰ‌جاننے کےلیے بے تاب

    اسلام آباد: پاکستان معاشی کامیابی کیطرف سفر تیزی سے طئے کرنے لگا ، اطلاعات کے مطابق پاکستان میں‌ ٹیکس کولیکشن کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ الحمد اللہ پہلی سہ ماہی کے بڑے ٹیکس ہدف کا 90 فیصد حاصل کرلیا ہے۔انہوں نے ٹیکس دینے والے پاکستانیوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    پیڈا ایکٹ کام نہ کرنے والے افسران اور نافرمان بیوروکریسی پرتلوار بن کر لٹک گیا

    چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ رواں مالی سال جولائی تا ستمبر 960 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی، کچھ مزید ایڈجسٹمنٹ کی توقع ہے۔شبر زیدی کہتے ہیں کہ 960 ارب روپے محصولات میں 15 ارب کے ٹیکس ری فنڈ شامل نہیں ہیں، مقامی ٹیکس محصولات میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    https://twitter.com/ShabarZaidi/status/1178733630400716804?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1178733630400716804&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Falhumdullilah-domestic-tax-collection-increased-by-25-percent-says-shabbar-zaidi%2F

    رات گئے اسلام آباد سے آنے والی خبروں‌میں‌بتایا گیا ہےکہ چیئرمین ایف بی آر نے لکھا کہ حوصلہ شکنی کے اقدامات سے درآمدات کی مالیت 3 ارب ڈالر کم رہی ہے، تین ارب ڈالر کم درآمدات سے 125 ارب روپے کا ٹیکس نہیں ملا ہے۔کم درآمدات کے سبب ٹیکس کا ہدف حاصل ہوگیا، اللہ کا شکر ہے،

    https://twitter.com/ShabarZaidi/status/1178731982668345344?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1178731982668345344&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Falhumdullilah-domestic-tax-collection-increased-by-25-percent-says-shabbar-zaidi%2F

    دوسری طرف اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ٹیکس اداکرنیوالافارن کرنسی اکاؤنٹ کھول سکتا ہے، 120ارب ڈالرکی خطیررقم بیرون ملک غیرقانونی رکھی گئی ہے، ٹیکس ادا کرنیوالوں کوپیسوں کی منتقلی میں سہولت ہونی چاہیے۔جو ٹیکس اداکرکے بیرون ملک جاتے ہیں ان کوآسانیاں دی جائیں گی، ماضی میں درست سمت میں کام نہیں ہورہا تھا ، اب منظم اوردرست سمت میں کام شروع ہوگیا ہے۔

    “سچ پوچھیں تو صباقمر بہت زیادہ صلاحیتوں کی مالک ہیں‌، کمال کی اداکارہ ہیں ، کبریٰ‌خان حمایت میں بول پڑیں” لاک ہے

    سچ پوچھیں تو صباقمر بہت زیادہ صلاحیتوں کی مالک ہیں‌، کمال کی اداکارہ ہیں ، کبریٰ‌خان حمایت میں بول پڑیں

  • جان کڑکی چے پھس گئی ، بے نامی مقدمات کی سماعت کیلئے ایف بی آر کے تین بینچ تشکیل

    جان کڑکی چے پھس گئی ، بے نامی مقدمات کی سماعت کیلئے ایف بی آر کے تین بینچ تشکیل

    اسلام آباد : کرپشن کیسز کو جلد از جلد نبٹانے کے لیے ایف بی آر کے نوٹی فکیشن کے مطابق بے نامی کیسوں کی سماعت کے لیے ‘ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی کے بینچ بے نامی ایکٹ 2017’ کے تحت تشکیل دیے گئے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بے نامی مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی حکومت کی باقاعدہ منظوری سے چاروں صوبوں کے لیے تین بینچ تشکیل دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

    ایف بی آر ذرائع کے مطابق بے نامی مقدمات کی سماعت کے لیے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بینچ تشکیل دیے گئے ہیں۔ایف بی آر کے نوٹی فکیشن کے مطابق ‘بینچ ون اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا (کے پی) کے مقدمات سنے گا’۔بے نامی مقدمات کی سماعت کے لیے تشکیل دیا گیا ‘دوسرا بینچ راولپنڈی کے علاوہ پنجاب بھر کے مقدمات کی کارروائی کرے گا، تیسرا بینچ سندھ اور بلوچستان بھر کے بے نامی مقدمات سنے گا’۔

  • پرتعیش لائف سٹائل رکھنے والے نان فائلرز کے گرد ایف بی آر کا گھیرا تنگ ہوگیا

    پرتعیش لائف سٹائل رکھنے والے نان فائلرز کے گرد ایف بی آر کا گھیرا تنگ ہوگیا

    لاہور : زندگی پرتعیش مگر ٹیکس دینے سے عاری اور انکاری ،پرتعیش لائف سٹائل رکھنے والے نان فائلرز کے گرد ایف بی آر کا گھیرا تنگ ، ایف بی آر نے شہر کے مختلف علاقوں میں ایک کنال یا اس سے زائد پراپرٹی کے مالک ساڑھے پانچ سو نان فائلرز کو نوٹسز جاری کردیئے۔

    ایف بی آر نے ایک کنال یا اس سے زائد پراپرٹی کے 550 نان فائلر مالکان کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔ ایف بی آر نے تمام نان فائلرز سے ذرائع آمدن کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے ایک کنال یا اس سے زائد پراپرٹی کے مالک نان فائلرز کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ کی فراہمی کیلئے 15 روز کی مہلت دی گئی ہے۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ تفصیلات فراہم نہ کرنیوالوں کے خلاف ٹیکس قوانین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔