Baaghi TV

Tag: ایلینز

  • پوپ خلائی مخلوق سے ممکنہ رابطے سے متعلق خطاب کی تیاری کر رہے ہیَں،  دلچسپ دعویٰ

    پوپ خلائی مخلوق سے ممکنہ رابطے سے متعلق خطاب کی تیاری کر رہے ہیَں، دلچسپ دعویٰ

    ایک برطانوی ڈاکیومنٹری ساز نے دعویٰ کیا ہے کہ پوپ لیو اس برس خلائی مخلوق کے ساتھ پہلے ممکنہ رابطے کی صورت میں ان سے متعلق خطاب کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یو ایف او محقق مارک کرسٹوفر لی کے دعوے کے مطابق انہوں نے ویٹیکن کے خفیہ آرکائیوز تک رسائی حاصل کر لی ہے اور وہ تاریخی پُراسرار وقوعات کی تحقیقات کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر انسانیت کے خلائی مخلوق کے ساتھ رابطے پر روشنی ڈال سکیں گے،کیتھولک چرچ پہلے ہی خلائی زندگی کے سامنے آنے پر مذہبی اور روحانی نتائج سے متعلق سوچ رہا ہے۔

    مارک کرسٹوفر لی نے بتایا کہ انہیں ویٹیکن کے خفیہ آرکائیوز تک رسائی دی گئی ہے اور وہ ایسے پُر اسرار مظہر، روحانی رابطے یا کوئی بھی ایسی چیز جو زمین سے باہر کسی زندگی سے انسان کے ممکنہ رابطے پر روشنی ڈال سکتی ہے، سے متعلق تاریخی حوالہ جات کو دیکھیں گے۔

    فرانسیسی خاتون اول کو ٹرانسجینڈر قرار دینے والے 2 خواتین سمیت 10 افراد مجرم قرار

    وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے،ترک صدر

    بھارتی وفد نے مجھےخالدہ ضیاء کا جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی،سردار ایاز صادق

  • 2014 میں موصول  ایلینز کے سگنل کی حقیقت سامنے آ گئی

    2014 میں موصول ایلینز کے سگنل کی حقیقت سامنے آ گئی

    امریکی یونیورسٹی کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ 2014 میں جو آواز خلائی مخلوق (Aliens) کی بتائی جا رہی تھی، وہ دراصل قریبی موجود ایک ٹرک کی آواز تھی۔

    باغی ٹی وی : محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ خفیہ طور پر عوام سے اجنبی ٹیکنالوجی یا ماورائے زمین مخلوق کو نہیں چھپا رہا ہےجمعہ کے روز، پینٹاگون نے آل ڈومین اینوملی ریزولوشن آفس (اے اے آر او) کیجانب سےکی گئی تحقیقات کے نتائج شائع کیے، جو کہ 2022 میں قائم کیا گیا ایک سرکاری دفتر ہےجس میں غیر متزلزل،نامعلوم جگہ، ہوائی جہاز، زیر آب اور” جیسے خطرات کا پتہ لگانے اور ضرورت کے مطابق خطرات کو کم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    سائنس کی دنیا میں 2014 میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی تھی، جب یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انٹرسٹیلر اسپیس سے ایک ساؤنڈ ویو ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ ممکنہ طور پر ایلیئنز کی جانب سے سگنلز تھے اور کیچ کر لیے گئے،اس تھیوری کو مزید تقویت اس طرح ملے کہ جب خلا سے گرنے والے منرلز کو سمندر سے گزشتہ سال نکالا گیا تو کہا گیا کہ شہاب ثاقب (Meteor) ہی ایلینز ہیں، یہ شہاب ثاقب شمال میں پاپوا نیو گنی میں کریش ہوا تھا۔

    تاہم ایلینز سے متعلق ایک نئی تحقیق میں سوال اٹھایا گیا اور سمندر سے برآمد ہونے والے مواد کے متنازع ہونے پر زور دیا گیا، ٹیم کا دعویٰ تھا کہ ایلینز سے متعلق تحقیقات کے نتائج غلط ڈیٹا کی بنیاد پر دئیے گئے تھے، اور شہاب ثاقب فضا میں کہیں اور سے داخل ہوا تھا۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سیسمالوجسٹ بینجامن فرنینڈو کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی مشکل ہے کہ سگنلز سے متعلق کہا جائے کہ کس کے سگنلز ہیں، مگر ہم ضرور بتا سکتے ہیں کہ اس قسم کے کئی سنگلز موجود ہیں، اس ساؤنڈ ویو سے جو علامات موصول رہی تھیں وہ ایک ٹرک کی آواز سے مشابہت رکھتی ہیں، جبکہ ایسی قسم کی ساؤنڈ ویوز کی علامات ہم ایک شہاب ثاقب کی آواز میں سننے کی امید نہیں رکھتے۔

    آسٹریلیا اور پالاؤ کے مانیٹرنگ اسٹیشنز کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے، جس کا مقصد جوہری آزمائشی آواز کی لہروں کا پتہ لگانا تھا، فرنینڈو کی تحقیقی ٹیم نے ابتدائی طور پر دریافت کیے گئے علاقے سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہاب ثاقب کے گرنے کے ایک ممکنہ مقام کی نشاندہی کی تحقیقات میں امید کے برخلاف ٹیم کو نتائج کچھ یوں ملے کہ سمندر سے برآمد مٹیریل دراصل زمین سے ٹکرانے والے دیگر آسمانی اجسام کے نتیجے میں ذرات تھے، جسے خلائی مخلوق سے منسلک کیا گیا۔

    جان ہاپکنز یونی ورسٹی کی ریسرچ ٹیم کے رکن فرنینڈو نے اس بات پر زور دیا کہ شہاب ثاقب اور سمندری سطح کے نتائج میں کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ انہوں نے اس تعلق کو مسترد کر دیا، اگرچہ شبہات ہیں، تاہم یہ ایک قدرتی خلائی پتھر یا پھر بیرونی کرافٹ کا ایک ٹکڑا ہو سکتا ہے۔

  • انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں،ناسا

    انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں،ناسا

    ہماری کائنات ایک وسیع و عریض معمہ ہے ایک ایسا معمہ جس نے بنی نوع انسان کی فطری کیفیت کو جگایا ہے انسان کائنات میں کسی خلائی زندگی کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں۔

    باغی ٹی وی : اجنبی زندگی (ایلینز) کی شکلوں پر سوال پوچھنا اب تک بے نتیجہ رہا ہے، یہاں تک کہ ہم نے حالیہ برسوں میں جن حد تک ترقی کی ہے مفروضے اور حسابات جیسے کہ ڈاکٹر فرینک ڈریک نے 1960 کی دہائی کے اوائل میں بنائے تھے،زندگی کے ثبوت صرف ہماری کہکشاں میں وافر مقدار میں موجود ہونے چاہئیں، اور پھر بھی عملی طور پر ہم نے پیدا کیا ہے ہمارے اپنے سیارے سے باہر کسی چیز کا کوئی واضح اثبات نہیں-

    ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق اس کی ایک وجہ موجود ہے جس کے باعث انسانوں اور ایلین تہذیب کےملنے کا امکان ختم ہوجاتا ہےناسا کے سائنسدانوں کی جانب سے ایک2210.10582.pdfمیں بتایا گیا کہ یہ وجہ کسی تہذیب کا بہت زیادہ ذہین ہوجانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی ایلین تہذیب کا خاتمہ ممکنہ طور پر خود اپنے ہاتھوں بہت زیادہ ذہانت کی وجہ سے ہوجاتا ہے اگر ہم نے اقدامات نہ کیے تو انسانوں کی قسمت بھی یہی ہوسکتی ہے۔

    اسے گریٹ فلٹر تھیوری کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق کائنات میں متعدد تہذیبیں موجود ہوسکتی ہیں مگر وہ زمین سے رابطے سے قبل ہی خود کو تباہ کرلیں گی سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ ذہانت رکھنے والے جاندار جیسے انسان اپنے خاتمے کا باعث خود بن سکتے ہیں۔

    تاریخ میں پہلی بار چاند پر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز

    مگر ان کا کہنا تھا کہ ہم اس سے بچ سکتے ہیں جس کے لیے تباہی کا باعث بننے والے عناصر کی شناخت کرنا ضروری ہے انسان یا کسی بھی ذہین ایلین تہذیب کا خاتمہ جوہری جنگ، وبا، موسمیاتی تبدیلیوں اور کنٹرول سے باہر مصنوعی ذہانت کے نتیجے میں ہوسکتا ہے۔

    محققین کے مطابق اس سے بچنے کا راستہ ایک ہی ہے اور وہ ہے اپنی بقا کے لیے متحد ہوکر کام کرنا۔