Baaghi TV

Tag: ایمان مزاری.

  • ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری

    ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر عدالت نے نوٹس جاری کر دیے۔

    جسٹس محمد آصف نے کیس کی سماعت کی، جبکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے فیصل صدیقی، زینب جنجوعہ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے جواب طلب کر لیا۔

    دورانِ سماعت فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرانسفر کی درخواست ابھی زیر التوا تھی مگر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا دیا 2 گواہوں کے بیانات ملزمان کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے،یہ بھی عجیب ہوا کہ فیصلہ آنے کے بعد ٹرائل جج نے اس میں سے ایک پیراگراف نکال دیا سزا دینی ہے تو 10 دفعہ دے دیں، لیکن ٹرائل تو مکمل اور شفاف ہونا چاہیے۔

    جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ نوٹس جاری کر رہے ہیں، پیپر بکس آجائیں فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ سزا معطلی کی درخواست پر قریب کی تاریخ مقرر کی جائے، وہ کراچی سے آتے ہیں، اس لیے جب وہ اسلام آباد آئیں اسی دن کی تاریخ دی جائے۔

    جسٹس محمد آصف نے استفسار کیا کہ آپ کب آئیں گے؟ اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ پیر یا منگل کی تاریخ رکھ لی جائے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو تاریخ مل جائے گی، بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

  • ایمان مزاری، ہادی علی کی گرفتاری میں تعاون کا الزام، صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا  ردعمل

    ایمان مزاری، ہادی علی کی گرفتاری میں تعاون کا الزام، صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا ردعمل

    اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری میں تعاون کے الزامات پر ردعمل سامنے آگیا۔

    صدر ہائیکورٹ بار واجد علی گیلانی نے کہاکہ میں درود شریف پڑھ کر قسم کھاتا ہوں ہم نے جان بوجھ کر پولیس کے حوالے نہیں کیا، مجھ پر یا ہائیکورٹ بار پر الزام لگانے والے اپنے جنازوں کو رو رہے ہیں،دونوں کے خلاف کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی، چیف جسٹس اور سیکرٹری جاچکے تھے،پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا گھیراؤ کیا تھا اور میں اُن کو لےکر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے دفتر لے آیا-

    ظلم کی انتہا،سسرالیوں نے 5 ماہ کی حاملہ بہو کو جلا کر قتل کر دیا

    جلد پاکستان سے پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں،وزیراعظم

    ایلون مسک نے واٹس ایپ کو صارفین کے لیے غیر محفوظ قرار

  • متنازع ٹویٹ کیس : ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا،تحریری حکمنامہ جاری

    متنازع ٹویٹ کیس : ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا،تحریری حکمنامہ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سزا کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا،عدالت نے مختلف دفعات میں مجموعی طور پر دونوں ملزمان کو 17، 17 برس قید کی سزا سنائی۔تحریری فیصلے کے مطابق 22 اگست 2025 کو NCCIA نے PECA Act کی دفعات 9، 10، 11 اور 26A کی متواتر خلاف ورزی پر ملزمان ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف FIR 234/25 درج کی۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ سنگین الزامات کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا اور محض شاملِ تفتیش کیا گیا، جو کہ آغازِ مقدمہ ہی پر غیر معمولی رعایت شمار ہوتی ہے۔بعد ازاں 29 اگست 2025 کو ایمان مزاری نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی، جسے فوری طور پر منظور کر لیا گیا۔ 5 ستمبر کو وکیل کی عدم موجودگی کے جواز پر ضمانت کی سماعت مؤخر کی گئی، اور 11 ستمبر کو درجن بھر وکلا کی موجودگی میں دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کر لی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ملزمان کی جانب سے کیس کو غیر سنجیدگی سے لینے کے بیانات اور میڈیا پر عدالتی کارروائی کی تضحیک کا سلسلہ جاری رہا۔

    13 ستمبر کو استغاثہ نے چالان جمع کرایا اور کیس 17 ستمبر کو دوبارہ جج افضل مجوکہ کو مارک ہوا۔ عدالت کے متعدد طلب ناموں کے باوجود ملزمان 20 اور22 ستمبر کو پیش نہ ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہوئے۔ 24 ستمبر کو ملزمان پیش ہوئے، اپنے وکلا تبدیل کیے، اور عدالت نے وارنٹ منسوخ کر دیے، حالانکہ اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ناقابلِ ضمانت وارنٹ کے اجراء کے بعد ضمانت خود بخود منسوخ تصور ہوتی ہے۔مورخہ 30 ستمبر کو فردِ جرم کے لیے کیس تین مرتبہ کال ہوا مگر ملزمان پیش نہ ہوئے۔ وکیل کے ذریعے فردِ جرم پڑھ کر سنائی گئی، لیکن ملزمان کی عدم پیشی برقرار رہی۔ بعد ازاں وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا اور عدالت نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے۔1 اکتوبر کو نئے وکیل قیصر امام پیش ہوئے، جن کی درخواست پر وارنٹ منسوخ کیے گئے اور ناقابلِ ضمانت ضمانت بھی بحال کر دی گئی۔ ملزمان نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جو انہیں فراہم کی گئی۔ 7 اکتوبر، 11 اکتوبر، 13 اکتوبر، 16 اکتوبر، 20 اکتوبر اور 24 اکتوبر کو بھی ملزمان نے مختلف بنیادوں پر التوا کی درخواستیں دیں، کبھی وکیل کی عدم دستیابی، کبھی میعاد درکار ہونے کے نام پر، اور کبھی عدالتی احکامات کو چیلنج کرنے کے جواز پر۔ عدالت نے ہر موقع پر رعایت اور مہلت فراہم کی۔مورخہ 29 اکتوبر کو عدالت نے دن میں متعدد مرتبہ کیس کال کیا، مگر ملزمان بارہا غیر حاضر رہے۔ نتیجتاً ہادی علی چٹھہ کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔مورخہ 30 اکتوبر کو ملزمان پر دوبارہ فردِ جرم عائد کی گئی۔ ایمان مزاری کے وکیل قیصر امام اور سٹیٹ کونسل نے ملزمان کے سامنے ہی فردِ جرم کا جواب دیا اور وارنٹ منسوخی کی درخواست پیش کی۔

    اس موقع پر ہادی علی چٹھہ نے عدالت میں غیر مہذب طرزِ عمل اختیار کیا، تاہم وکیل کی معذرت پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وارنٹ منسوخ کر دیے اور مچلکے بحال کر دیے۔ عدالت نے استغاثہ کو اگلی تاریخ پر گواہ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت دی۔مورخہ 5 نومبر 2025 کی سماعت کے دوران ملزمان نے عدالت کے خلاف غیر شائستہ رویہ اپنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ انہوں نے عدالت کے خلاف MIT کو درخواست دی ہے، اس لیے عدالت سماعت آگے نہ بڑھائے۔ بدتمیزی کے باعث سماعت ملتوی کرنا پڑی۔ بعد ازاں ملزمان نے شہادت ریکارڈ ہونے کے دوران دوبارہ ہنگامہ کھڑا کیا، حتیٰ کہ اپنے وکیلوں سے بھی بدسلوکی کی اور عدالت سے فرار ہو گئے، جس پر دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔ وکیل قیصر امام نے اس صورتحال کے باعث وکالت سے معذرت کر لی۔

    6 نومبر کو ملزمان دوبارہ پیش نہ ہوئے، مگر بعد ازاں 12 بجے کے بعد حاضر ہو کر وارنٹ منسوخی کی درخواست جمع کرائی اور نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے ایک بار پھر وارنٹ منسوخ کر دیے اور مہلت عطا کی۔مورخہ 8 نومبر، 14 نومبر اور 17 نومبر 2025 کی سماعتوں میں بھی ملزمان مسلسل غیر حاضر رہے، کبھی وکیل کی تبدیلی، کبھی ریاستی وکیل پر اعتراضات، اور کبھی “کچھ دیر میں پہنچنے” کے جواز پر سماعت ملتوی کرواتے رہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سٹیٹ ڈیفنس کونسل کی تبدیلی ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹی کے اختیار میں ہے اور اس فیصلے کو ہائی کورٹ ہی چیلنج کر سکتی ہے۔ ملزمان کو متعدد بار وکیل مقرر کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔اس تمام عرصے میں عدالت نے غیر معمولی تحمل اور نرمی کا مظاہرہ کیا، جو کسی عام شہری کو میسر نہیں ہوتی، مگر اس کے باوجود ملزمان نے التوا، غیر حاضری، وکیل بدلنے, ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مختلف ریلیف اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کو معمول بنا کر ٹرائل کے عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کیں۔ مورخہ 19 نومبر 2025 کو دونوں ملزمان نے ایک بار پھر عدالت میں ٹرائل کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ ملزمہ ایمان زینب مزاری کی جانب سے ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دوپہر کے بعد جمع کرائی گئی، جبکہ ملزم ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہو کر شفاف ٹرائل کے عمل میں مداخلت کرتا رہا۔عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ملزم کے نامناسب طرزِ عمل کے باوجود کسی قسم کی تعزیری کارروائی عمل میں نہیں لائی۔

    ایمان زینب مزاری کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی گئی اور استغاثہ کے گواہان کی شہادت ریاستی کونسل کی موجودگی میں ریکارڈ کی گئی۔ملزم ہادی علی چٹھہ نے نہ صرف کارروائی میں مداخلت کی بلکہ اپنی اہلیہ کی وکیل کو بھی عدالت کے احاطے سے نکل جانے پر مجبور کیا۔اس کے بعد ملزمان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پہنچ گئے جہاں دونوں عدالتوں نے غیر معمولی ریلیف دیتے ہوئے دوبارہ شہادتوں کو ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔اس مقدمہ میں دونوں ملزمان کے 8 وکلا کے وکالت نامے عدالت میں جمع ہیں لیکن ہادی علی چٹھہ نے کراس ایگزیمینیشن خود کی۔ جب آخری گواہ رہ گیا تو دوبارہ ملزمان اپنی پرانی حرکتوں پہ آ گئے اور عدالت کی کاروائی میں رخنے ڈالنے کا آغاز کیا۔ ایمان مزاری طبیعت خرابی کے باعث استثنیٰ مانگتی رہی جو عدالت نے بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے دو دن تو منظور کی تیسرے دن کاروائی کا حکم دیا تو دونوں ملزمان پھر مفرور ہو گئے جس پر عدالت نے وارنٹ جاری کئے اور ضمانت کینسل کر دی۔

    اس پر دوبارہ 20 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر معمولی ریلیف دیتے ہوۓ دونوں ملزمان کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا اور 3 دن میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ 22 اگست سے پانچ مہینے گزر چکے ہیں۔ عدالتی کاروائی 4 مہینے سے جاری ہے۔ اس میں اب تک 44 دن عدالتی سماعتیں اور پیشیاں ہوئی ہیں۔ ایک بیانیا بنایا گیا کہ ایمان کا کیس جج مجوکہ دن میں بار بار کال کرتے ہیں جو کہ نارمل نہیں۔ بلکل صحیح بات ہے, کیونکہ ملزمان عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے۔ عدالت صبح سے آوازیں لگانا شروع کرتی ہے اور کبھی دونوں غائب , کبھی ایک حاضر دوسرا غائب, لیکن عدالت صبر سے ان کی چالاکیاں دیکھنے کے باوجود انتظار کرتی ہے کہ دونوں ملزمان پورے ہوں تو کاروائی کا آغاز کیا جائے۔ یہ سہولت پاکستان میں اور ملزمان کو میسر نہیں۔ لیکن 5 گواہان پر جرح مختلف بہانوں کے زریعے التوا میں ڈالی جا رہی ہے۔ کس چیز کا ڈر ہے۔ جب ٹوئیٹس کی ہیں تو ان کا دفاع کریں۔ ایمان مزاری کی ٹوئیٹس دہشتگرد تنظیموںBLA وغیرہ اور proscribed persons جیسے کہ مہرنگ بلوچ کے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے علاوہ لسانی تفریق کو نمایاں کرتی ہیں ۔ ان کی ٹوئیٹس میں ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹ پہ مبنی بیانیہ ہوتا ہے جو کہ PECA کے تحت جرم ہے۔ دونوں ملزمان کا مجموعی رویہ واضح طور پر دانستہ، ارادی اور مسلسل کوششوں پر مبنی ہے، جن کا مقصد ٹرائل کے عمل کو متاثر کرنا، روکنا اور عدالت کی کارروائی میں خلل ڈالنا ہے۔ملزمان نے عدالت کے وقار کو مجروح کیا، قانونی عمل میں دانستہ طور پر رکاوٹ ڈالی اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مسلسل سبوتاژ کیا۔

  • متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا

    متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی۔

    یڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کمرہ عدالت میں مختصر فیصلہ سنایا، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی، سیکشن 10 میں دس سال قید کی سزا جبکہ سیکشن 9 میں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ سیکشن 26اے میں 2 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    فیصلہ سنانے کے وقت اسپیشل پراسیکیوٹرز بیرسٹر فہد، رانا عثمان عدالت میں موجود تھے، ایمان مزاری، ہادی علی کی جانب سے کوئی بھی وکیل فیصلے کے وقت کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔

    واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی، سماعت کے دوران عدالت نے ایس ایس پی آپریشن اور ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان کو صبح 10 بجے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    جج محمد افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ آج ہائیکورٹ کے آرڈر کی روشنی میں جرح کا آخری دن ہے، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    کیس کی مزید سماعت کے دوران پولیس حکام نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا، جس میں پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکیورٹی ایشوز اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر 5 سے 6 گھنٹے کا وقت درکار ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

    عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ساڑھے 10 بجے بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دے دیا، جب کہ کیس کی سماعت میں 10:30 بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔

    بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا جج افضل مجوکہ نے ملزمان سے استفسار کیا کہ کیا آپ جرح شروع کریں گے؟، جس پر ایمان مزاری نے پوچھا کہ کیا میڈیا عدالت میں ہے؟۔ ایمان مزاری نے بتایا کہ ہم پر تشدد کیاجارہاہے ہمیں پانی کھانا نہیں دیاجارہا انہوں نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تم اپنی نوکری کررہےہو۔ تمہاری وجہ سے سارا کچھ ہورہاہے۔ ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتےہیں۔

    جج افضل مجوکہ نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں اس موقع پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سماعت ختم ہونے سے قبل کرسی سے اٹھ کر چلے گئے جب کہ جج نے عدالتی عملے کو حکم دیا کہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں۔

    دوران سماعت وکیل اشرف گجر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کو عدالت میں طلب کریں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ وہ آن لائن پیش ہوئے ہیں آپ کی ریکویسٹ کو دیکھ لیتا ہوں ساری سماعت کا ریکارڈ موجود ہے، دیکھ لیتے ہیں۔ آپ کی درخواست پر تحریری آرڈر کرتا ہوں

  • پی ٹی آئی مزاحمت کیلئے تیار ہے تو ہم سب اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،  ایمان مزاری

    پی ٹی آئی مزاحمت کیلئے تیار ہے تو ہم سب اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ایمان مزاری

    اسلام آباد:معروف وکیل ایمان مزاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت پاکستان کی مقبو ل ترین جماعت ہے کیوں کہ عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا-

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے وکیل ایمان مزاری نے کہاکہ پی ٹی آئی اس وقت پاکستان کی مقبو ل ترین جماعت ہے کیوں کہ عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا، تحریک انصاف اپنی پالیسی واضح طور پر بیان کرے اور فیصلہ کرے کہ کیا آپ سہیل آفریدی والی مزاحمت چاہتے ہیں یا مفاہمت کا راستہ چاہیے؟ مگر یہ واضح رہے کہ ظالم، جابر اور قابض کے سامنے مفا ہمت نہیں مزاحمت ہی کی جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کی ووٹر یا سپورٹر نہیں ہوں مگر میری پی ٹی آئی سے درخواست ہے کہ اپنی پالیسی واضح کردے کہ وہ مزاحمت کے لیے تیار ہے تو ہم سب اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جب میری والدہ شیریں مزاری تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر تھیں تو میں خود پی ٹی آئی کی سخت مخالف تھی اور پی ٹی آئی پر شدید تنقید کرتی تھی مگر یہ بات ہے مگر آج یہ بات پی ٹی آئی یا عمران خان کی نہیں ہے پاکستان کے عوام کے اور اس کے مینڈیٹ کی ہے اور کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ عوام کے مینڈیٹ پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا جائے۔

    انہوں ںے کہا کہ کل جو عمران خان کے پر تنقید کرتے تھے آج وہ عمران خان کے حقوق کی بات کررہے ہیں کیوں کہ ہم اپنے عوام کے حقوق کی بات کررہے ہیں اور آج مجھ سمیت پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والے اڈیالہ کے باہر جاکر عمران خان کی بہنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں جن پر اڈیالہ کے باہر بہیمانہ سلوک کیا جاتا ہے، مل کر ایسے رویے کی مذمت کرنی چاہیے، چاہے وہ ماہ رنگ بلوچ ہو، عمران خان ہو یا علی وزیر ہو، ہم سب کو اس رویے کے خلاف ایک آواز ہوکر سڑکوں پر آنا چاہیے۔

  • متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے وارنٹ گرفتاری منسوخ

    متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے وارنٹ گرفتاری منسوخ

    اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے عدالت میں پیش ہونے پر وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد محمد افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے خلاف متنازعہ ٹوئٹ کیس کی سماعت کی،ملزمان کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے پر عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

    واضح،رہے کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کیخلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہےاین سی سی آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے صدرآئی ایم ایف سربراہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

    الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر ڈالی،یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا، بعد ازاں 22 ستمبر کو اسلام آباد کی عدالت نے دونوں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے، جو آج عدالت میں پیشی کے بعد منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    سیلاب متاثرہ شحض کی قیمتی بھینس چوری،برآمد کرنے کی استدعا

  • ایمان مزاری  اور ان کے شوہر  کو راہداری ضمانت مل گئی

    ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو راہداری ضمانت مل گئی

    پشاور ہائیکورٹ نے ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ ایڈووکیٹ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔

    ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چھٹہ ایڈووکیٹ کی راہداری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی،ایمان مزاری کے وکلا عطاء اللہ کنڈی، جہانزیب محسود، طارق افغان، اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔

    عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایات کی،وکیل درخواست گزار عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار اسلام آباد میں وکیل ہے، سماجی کارکن ہے، درخواست گزارہ کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری

    چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے استفسار کیا کہ یہ دونوں وکیل ہیں؟، وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ جی دونوں درخواست گزار وکیل ہیں اور عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں،چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ پہلی بار پشاور آئی ہیں؟ ایمان مزاری نے جواب دیا کہ جی میں پہلی بار پشاور ہائیکورٹ میں آئی ہوں۔

    بھارت کے ایک گاؤں میں 78 سال بعدپہلی بار بجلی کی فراہمی

    چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ چلو آپ ایف آئی آر کے بہانے پشاور تو آئیں، آپ لوگ تو ویسے بھی خیبرپختونخوا نہیں آتے،وکیل ایمان مزاری عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایمان مزاری خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مظلوم لوگوں کی آواز ہے۔

    عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔

  • ایمان مزاری کیس: وزارت داخلہ نے خصوصی پراسیکیوٹرز مقرر کر دیے

    ایمان مزاری کیس: وزارت داخلہ نے خصوصی پراسیکیوٹرز مقرر کر دیے

    اداروں کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم کے کیس میں پیش رفت ہوئی ہے۔ وزارت داخلہ اور نارکوٹکس کنٹرول نے خصوصی پراسیکیوٹرز کی تقرری کی منظوری دے دی۔

    جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر اسلام آباد میں زیر سماعت مقدمے کے لیے 3 وکلا کو پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان میں بیرسٹر فہد ارسلان چوہدری، بیرسٹر منصور اعظم اور محمد عثمان رانا شامل ہیں۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مقرر کیے گئے پراسیکیوٹرز کی فیس نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ادا کرے گی۔

    یہ مقدمہ معروف وکیل اور سماجی رہنما ایمان مزاری کے خلاف اداروں کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم چلانے کے الزام پر درج کیا گیا تھا۔

    لندن میں کل دائیں بازو اور اینٹی فاشزم ریلیاں، جھڑپوں کا خدشہ

    مشرقی تیمور: کال سینٹر اور کمپنیوں کے مشتبہ نیٹ ورک کا انکشاف

    نیپال: احتجاجی مظاہروں میں 51 افراد ہلاک، 1,300 سے زائد زخمی

  • ایمان مزاری اور شوہر کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار،نیا مقدمہ درج

    ایمان مزاری اور شوہر کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار،نیا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا

    ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کی جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کی،ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے وکیل قیصر امام اور زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے پراسیکیوٹر کو ریمانڈ کی درخواست اور اس پر دیے گئے عدالتی آرڈر کو پڑھنے کی ہدایت کی،پراسیکیوٹر نے عدالت کے سامنے ریمانڈ کی درخواست اور عدالتی حکمنامہ پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ آپ کے حساب سے آرڈر ٹھیک ہے؟ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ جی، آرڈر ٹھیک ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی گائیڈ لائن کے مطابق ریمانڈ آرڈر ایسے ہوتے ہیں، شارٹ آرڈر کر دیتے ہیں، جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا جائے،عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    دوسری جانب ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا، ایمان مزاری اور انکے شوہر کے خلاف مقدمہ سائبر کرائم یونٹ اسلام آباد پولیس انچارج کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمہ تفتیش کےدوران ہادی علی کے انکشافات اور آہنی مکوں کے استعمال پر درج کیا گیا،مقدمے کے متن میں کہا گیا دوران تفتیش ملزم ہادی علی نے اقرار کیا پولیس اہلکار پرآہنی مکوں سے حملہ کیا گیا، پولیس نے ہادی علی کی گاڑی سے مکا برآمد کیا اور بطور ثبوت پاس رکھا، ملزم نے آہنی مکا گاڑی کی سیٹ کے نیچے چھپا دیا تھا جسے برآمد کیا گیا ،بعد ازاں سیشن عدالت میں ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی کیخلاف آہنی مکا رکھنے کے کیس کی سماعت ہوئی،پولیس نے ہادی علی کو جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود کی عدالت پیش کیا، یاسر محمود نے پولیس کی استدعا پر ہادی علی کو جوڈیشل کردیا،پولیس نے اے ٹی سی سے ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی کا راہداری ریمانڈ لے لیا۔

    غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    فخر زمان کو بابر کے حق میں بولنا پڑا مہنگا،بابر اعظم فخر کونکالے جانے پر خاموش کیوں؟

    نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے سے نتیجہ جیت کی صورت میں آیا۔محسن نقوی

    جیت کا سارا کریڈٹ پاکستانی عوام کو ملنا چاہیے۔شان مسعود

  • ایمان مزاری اور ان کے شوہر  کا  3 روزہ جسمانی ریمانڈ  معطل،پولیس کو نوٹس جاری

    ایمان مزاری اور ان کے شوہر کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ معطل،پولیس کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ کا انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ معطل کردیا –

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل پر سماعت کی، وکیل قیصرامام پیش ہوئے۔

    وکیل قیصر امام نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزاروں کا 3 روزہ ریمانڈ دیا گیا ہے، عدالتی ہدایت پر وکیل قیصر امام نے ریمانڈ آرڈر پڑھا، ڈویژنل بینچ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے 3 روزہ ریمانڈ کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ریمانڈ آرڈر معطل کردیا،بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ روز سڑک کی رکاوٹیں ہٹا کر ’سیکیورٹی رسک پیدا کرنے‘ کے الزام میں معروف وکیل اور سماجی کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

    اس سے ایک روز قبل (28 اکتوبر) دارالحکومت اسلام آباد کی آبپارہ پولیس نے کار سرکار میں مداخلت کے الزام میں معروف وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری کو شوہر سمیت گرفتار کر لیا تھا۔