Baaghi TV

Tag: ایم ڈی کیٹ

  • بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے  ایم ڈی کیٹ لازمی قرار

    بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ لازمی قرار

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بیرون ممالک کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ کے خواہشمند پاکستانی طالبعلموں کیلئے ایم ڈی کیٹ امتحان میں شرکت اور کامیابی کو لازمی قرار دے دیا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں پی ایم ڈی سی کے ایگزیکٹوکمیٹی کے رکن جواد امین خان نے بتایا کہ انٹرسائنس پری میڈیکل کا امتحان پاس کرنیوالے پاکستانی طالب علم بیرون ملک کے میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلوں کیلئے پاکستانی ایجنٹوں کے ذریعے داخلے لیتے ہیں،ان کالجوں میں داخلے کی کیا پالیسی ہوتی ہے اس کے بارے میں پی ایم ڈی سی کو کوئی آگاہی نہیں ہوتی اور جو پاکستانی طالب علم وہاں داخلہ حاصل کرتے ہیں ان کے بارے میں بھی کوئی اعدادوشمار موجود نہیں ہوتے، ان کالجوں کے نصاب اور سہولیات کے بارے میں بھی پی ایم ڈی سی کو اگاہی نہیں ہوتی، اسی لیے پی ایم ڈی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک کے میڈیکل کالجوں میں جو طالب علم ایم بی بی ایس یا بی ڈی ایس میں داخلے کے لیے رجوع کرے گا پہلے وہ ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں رجسٹریشن کرائے گا اور لازمی کامیابی حاصل کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ان طالب علموں کے ایم ڈی کیٹ کے امتحان کے لیے پالیسی وضع کرلی گئی ہے، اس اقدام سے بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے لینے والے طالب علموں کا نہ صرف ڈیٹا مرتب ہوگا بلکہ ایم ڈی کیٹ میں کامیابی کے بعد وہ جس ملک کے میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کریں گے انہیں ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں کامیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان طالب علموں کی ایم ڈی کیٹ کے امتحان کے ساتھ ساتھ پی ایم ڈی سی میں رجسٹریشن بھی کی جائے گی، اس حوالے سے جلد ایک مفصل پالیسی کا اجرا پی ایم ڈی سی کرے گی، جو طالب علم اس وقت بیرون ممالک کے میڈیکل کالجوں میں بڑھ رہے ہیں ان کے حوالے سے بھی پی ایم ڈی سی اپنی پالیسی میں اصلاحات لارہی ہے۔

    ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر جواد امین خان نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال جوطالب علم ان چھوٹے ممالک کے کالجوں سے میڈیکل ایجوکیشن حاصل کرکے پاکستان آئے اور پی ایم ڈی کے ایکولینسی ٹیسٹ میں شرکت کی تھی ان میں سے دو فیصد سے بھی کم طالب علموں نے امتحان پاس کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اب بیرون ممالک سے جو طالب علم میڈیکل ایجوکیشن حاصل کرکے وطن واپس آئے گا اب ان کے ایکولینسی ٹیسٹ NUMS لے گی اور کامیاب ہونے والوں کی کونسل میں بحثیت ڈاکٹر رجسٹریشن کی جاسکے گی۔

    جواد امین نے بتایا کہ کونسل نے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں قائم میڈیکل کالجوں کی بھی انسپیکشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چھوٹے ملکوں میں قائم میڈیکل کالجوں کی انسپیکشن پی ایم ڈی سی انسپیکٹر کریں گے، اس وقت بیرون ممالک میں فی طالب علم سالانہ 10 ہزارڈالر فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ رہائش، کھانے پینے کے اخراجات فیس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح فی طالب علم کو میڈیکل ایجوکیشن کی مد میں سالانہ 50ہزار ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں جس سے ملک کا قیمتی زرمبادلہ ان ممالک منتقل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک کے میڈیکل نصاب پاکستان کے میڈیکل نصاب سے بالکل مختلف ہے۔

    ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران گولی چلنے سے نوجوان جاں بحق

    تنخواہ دار طبقہ ملک کا تیسرا بڑا ٹیکس دہندہ بن گیا

    وزیراعظم کا پی آئی اے کے ’احمقانہ اشتہار‘ کی تحقیقات کا حکم

    کراچی، پولیس کا ضلع شرقی میں کومبنگ اور سرچ آپریشن

  • ایم ڈی کیٹ پرچہ لیک کرنے کا مقدمہ درج، تین ملزمان گرفتار

    ایم ڈی کیٹ پرچہ لیک کرنے کا مقدمہ درج، تین ملزمان گرفتار

    کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی کے ناظم امتحان سمیت 15 ملزموں کے خلاف ایم ڈی کیٹ کا پرچہ لیک کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ نے سندھ کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے ہونے والے امتحانات ایم ڈی کیٹ2024 کا پیپر لیک ہونے کا مقدمہ ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے ناظم امتحان اور نائب ناظم سمیت 15 ملزموں کے خلاف درج کرکے 3 ملزموں کو گرفتار کرلیا۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی نے ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے ناظم امتحانات اور نائب ناظم سمیت 15ملزمان کے خلاف درج کرکے 3 ملزموں کو گرفتار کرلیا۔ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے افسران کے خلاف مقدمہ فارنزک رپورٹ کا انتظار کیے بغیر درج کیا گیا ہے جس میں پیکا ایکٹ 2016 کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق جناح میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف 2023 کی انکوائری ڈیڑھ برس سے فارنزک رپورٹ کی منتظر ہے۔

    عارف علوی کو سندھ ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا

    کراچی میں پانی بحران کا خدشہ، آٹھ روز کی مرمت کے بعد پائپ پھر لیک

  • ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چار ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم

    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چار ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز اور جامعات میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چار ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی: سندھ ہائیکورٹ ایم ڈی کیٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی،سماعت جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں جسٹس امجد علی سہیتو پر مشتمل بینچ کے روبرو ہوئی،دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پچھلی سما عت پر کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا تھا،کمیٹی نے کچھ کام کیا یا گھر پر سوتے رہے؟ کمیٹی کی چئرپرسن شیریں ناریجو نے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی ذمہ داری پی ایم ڈی سی اور ڈاؤ یونیورسٹی کی تھی ٹیسٹنگ ایجنسی کا مقصد الگ ہوتا ہے، آپ جامعات کو پھنسا دیتے ہیں کبھی جناح سندھ یونیورسٹی کو ذمہ داری دی کبھی ڈاؤ یونیورسٹی کو۔

    شیریں ناریجو نے بتایا کہ کمیٹی نے ڈاؤ یونیورسٹی کے امتحان کے نظام کو چیک کیا ہے درخواست گزاروں کے بیانات اور شواہد کا بھی جائزہ لیا گیا، کچھ طلبا نے رابطہ کیا کہ امتحان دوبارہ نہیں ہونا چاہیے ایسے طلبا کے بیانات بھی لئے ہیں کمیٹی کی تحقیقات میں امتحان کے نظام میں خامیاں پائی گئی ہیں مختلف پوائنٹ پر سسٹم کمپرومائز ہوا ہے امتحانی نظام کے ذمہ داران میں 40 سے 42 افراد شامل رہے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مکینزم کمپرومائز ہوا ہے، مطلب پرچہ لیک ہوا ہے؟ شیریں ناریجو نے کہا کہ واٹس ایپ پر جوابات اور مختلف سوالات موجود تھے،جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیئے کہ جو بچے امتحان میں بیٹھے ہیں ان کے ساتھ کوئی کھیل نا کھیلا جائے، ہم بچوں کے سر پر تلوار تو نہیں لٹکنے دے سکتے۔

    سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا ایف آئی اے کا کیا کردار ہے، انہوں نے کیا تحقیقات کی ہیں؟ ایف آئی اے نے کسی کو گرفتار کیا یا کسی کے نام کی نشاندہی کی ہے؟کمیٹی سربراہ نے بتایا کہ جو سوال ہمارے سامنے تھا وہ پیپر لیک ہونے کا ٹائم اہم تھا۔

    عدالت نے ایف آئی اے حکام سے پوچھا ایف آئی اے سسٹم کمپرومائزڈ تھا اس کی تحقیقات کی ہیں؟ جس پر ایف آئی اے حکام نے بتایا جو لوگ امتحان کے عمل میں شریک ہوئے ان کے موبائل فارنزک پر ہیں، ایک بندے نے میسج ڈیلیٹ کیے ہوئے تھے وہ ریکور ہوئے فزیکل ثبوت بھی ملا ہے۔

    عدالت نے پوچھا جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی والی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں؟ جس پر ایف آئی اے حکام نے بتایا جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی والی تحقیقات بھی کچھ دنوں میں مکمل ہو جائے گی۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کسی کا حق نہ مارا جائے، ایف آئی اے اور حکومت تحقیقات کرتی رہی ہے، کون مجرم ہے کس کو سزا دینی ہے وہ حکومت جانے اور ایف آئی اے۔

    ممبر کمیٹی نے کہا کہ جامعہ کی قابلیت اور نقائص کے باعث سسٹم کمپر ومائز ہونے کے امکانات بہت ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کیا ڈاؤ یونیورسٹی امتحان لینے کی قابلیت نہیں رکھتی تھی؟ ممبر کمیٹی نے بتایا سوالات کو اصل امتحان سے لے کر تھوڑی بہت تبدیلی کرکے آؤٹ کیا گیا۔

    عدالت نے پوچھا سوالنامہ کس نے بنایا تھا؟ جس پر کمیٹی چیئرپرسن شیریں ناریجو نے بتایا کہ کالج پروفیسرز سے سوالنامہ بنوایا گیا تھا، عدالت نے شیریں ناریجو کے جواب پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کالج کے پروفیسر سے سوالات بنوائے گئے؟ شیریں ناریجو نے بتایا کہ کالج پروفیسرز کا ایک گروپ ہے جو پہلے بھی سوالنامے تیار کرتارہا ہے۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے پی ایم ڈی سی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا آپ کا کردار کیا ہے جہاں طاقتور لوگ ہیں وہاں آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، حیدر آباد اور ایک اور بورڈ نے نتائج کا اعلان نہیں کیا،کیا وہاں پیسے چل رہے ہیں؟ آج ہی ایم ڈی کیٹ کے نتائج کا اعلان کریں۔

    عدالت نے کہا آغا خان بورڈ اور نمز کا بچہ ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ نہیں دیتا، پی ایم ڈی سی کو کتنے پیسے ملے ہیں؟ 8 ہزار روپے فی امیدوار لیے گئے ہیں؟ آپ کا ٹیسٹ ایلیٹ کلاس کیلئے نہیں غریب کیلئے، فیس بھی زیادہ لیں گے، بظاہر یہ امتحان کمپرومائزڈ ہوا ہے، اب پی ایم ڈی سی کیا کرے گا۔

    وکیل پی ایم ڈی سی نے کہا آپ کوئی فیصلہ کریں ہم اس پر عمل درآمد کریں گے، جس پر عدالت نے کہا 2100 بچے ہیں جنہوں نے 185 سے زائد نمبرز لیے ہیں۔

    پی ایم ڈی سی کے وکیل کا کہنا تھا امتحان کا انعقاد صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس پر عدالت نے پوچھا کہ آپ نے کانٹریکٹ کیوں دیا؟ بہتر راستہ کیوں نہیں اپنایا؟ اگر نیا ٹیسٹ کرواتے ہیں تو کسی بچے کے اتنے نمبر نہیں ہوں گے؟ پچھلے امتحانات کے نتائج قابل قبول ہوں گے تو ان بچوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ اس معاملے کو کیسے حل کریں گے؟

    پی ایم ڈی سی کے وکیل نے موقف دیا کہ ہم اس حوالے سے انکوائری کررہے ہیں جو اس تمام معاملے میں ذمہ دار ہیں پیپر کے آؤٹ ہونے کے حوالے سے بھی انکوائری کا عمل جاری ہے،جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیئے کہ جو طاقت ور لوگ ہیں ان کے ہاتھوں میں آپ لوگ کھیل رہے ہیں، دیگر یونیورسٹیوں پر آپ لوگوں کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

    وکیل نے موقف اپنایا کہ پی ایم ڈی سی کی ریگولیشن میں لمز و دیگر یونیورسٹی بھی آتی ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کتنے پیسے آپ لوگوں کو ملے ہیں ان امتحانات کے حوالے سے پی ایم ڈی سی کے وکیل نے موقف دیا کہ اس کا فی الحال میرے پاس کوئی حساب موجود نہیں ہے۔

    جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں کو ساڑھے 4 کروڑ سے زیادہ کی ہی رقم ملی ہوگی، جسٹس صلاح الدین پہبور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کا اختیار صرف غریب لوگوں پر چلتا ہے۔

    پی ایم ڈی سی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہمارا یونیورسٹی کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے، جس کے مطابق ہم لوگ کام کرتے ہیں، جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس میں کہا کہ اگر پی ایم ڈی سی استعفیٰ دے تو پھر بات الگ ہو جائے گی،بعد ازاں عدالت نے متعلقہ حکام کو 4 ہفتوں میں دوبارہ امتحان لینے کا حکم دے دیا-

  • سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی فہرست جاری کرنے سے روکتے ہوئے بنائی گئی کمیٹی کو تمام اداروں سے ریکارڈ اکھٹا کرکے رپورٹ تیار کرنے اور ایف آئی اے کو اس معاملے میں تحقیقات کے لیے ٹیم نامزد کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ایم ڈی کیٹ کے نتائج میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔چیف سیکریٹری سندھ، جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ کتنے بچے ایسے ہیں جن کے مارکس 195 سے زیادہ ہیں، یہاں ہم سندھ کے بچوں کے رزلٹ کو پنجاب اور کے پی کے بچوں سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس امجد سہتو نے ریمارکس دیے کہ پی ایم ڈی سی کا اس حوالے سے معاملہ ختم ہوگیا کہ پیپر لیک ہوا یا نہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر امتحان میں کوئی خامی ہے تو یہ بھی بتایا جائے، 187 مارکس حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد 1100 سے زیادہ تھی۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ کے پی اور پنجاب کے طلبہ کے نمبرز کی تفصیل آجائیں تو سندھ سے میچ کیا جائے گا۔جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیے کہ اگر پیپر کسی ایک سینٹر کا لیک ہوا تو اس ڈویڑن کا پیپرز روکا جائے، پورے سندھ کے نہیں۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے جو 190 پلس والے طلبہ کہاں جائیں گے۔ پنجاب میں 58 ہزار، کے پی میں 42 ہزار اور سندھ میں 38 ہزار طلبہ نے امتحان دیا ہے۔وائس چانسلر نے بتایا کہ محکمہ صحت نے ایک کمیٹی بنائی جس میں لگائے گئے الزامات کا ثبوت نہیں ملا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کہیں نہ کہیں پر یہ چیز ضرور ہوئی اس لیے الزامات لگتے ہیں۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا یہ چیزیں غلط چلا رہا ہے اور وہ بلیک میلنگ کر رہے ہیں، باقی انتظامیہ دودھ کی دھلی ہوئی ہے۔ پیپر لیک ہونے والی بات ٹھیک ہے یا نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ میرا گھر مجھے بنانے دیں میں اچھا بناؤں گا۔سیکریٹری صحت ریحان بلوچ نے کہا کہ محکمہ صحت کا رول یہ تھا کہ کریکیولم میں تبدیلی کریں، مجھے بھی 12 بجے میسیجز آئے۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ جب شکایتیں آئیں تو آپ پیپر منگواتے، کسی ادارے نے زحمت نہ کی پیپر لیک ہوا کہ کینسل کریں۔ اس معاملے پر جو کام کیا ہے وہ سیکریٹری صحت نے بھی نہیں کیا۔ محکمہ صحت اور پی ایم ڈی سی مکمل ملے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس کیس آیا ہے تو انصاف تو کرنا ہے۔سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی فہرست جاری کرنے سے روک دیا۔
    عدالت نے حکم دیا کہ جب تک اس پروسیس پر عمل نہیں ہو جاتا ایم ڈی کیٹ ایڈمیشن کے رزلٹ کو ہولڈ کریں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا ہے کہ 38 بچوں نے سندھ میں 190 سے زیادہ مارکس لیے ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام فریقین کو اس حوالے سے نوٹیفائی بھی کر دیا ہے۔ عدالت نے سیکریٹری اوقاف پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی کو اس حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔
    چیف سیکریٹری نے بتایا کہ سیکریٹری اوقاف اس سے قبل بورڈز کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی تمام اداروں سے ریکارڈ اکھٹا کرکے رپورٹ تیار کریں اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کو بھی حکم دیا جاتا ہے اس معاملے میں تحقیقات کے لیے اپنی ٹیم نامزد کرے۔ عدالت کی جانب سے درخواستوں کی سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
    سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کراچی میں سیکڑوں بچوں نے ہم سے رابطہ کیا، سیکڑوں بچوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے، 8 ہزار پر بچہ لے کر 10 کروڑ روپے ڈاؤ یونیورسٹی کو ملے ہیں اور 7 کروڑ روپے سے زیادہ میڈیکل ٹیسٹ کیلیے لیے گئے۔ بچوں کی جانب سے میں ایوان سے شدید مذمت کرتا ہوں، عدالت کے بڑے شکر گزار ہیں جنہوں نے بچوں کی فریاد پر دو کمیٹیاں بنا دی ہیں۔
    خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ عدالت نے تحقیقات کرکے 15 دن میں جواب طلب کیا ہے۔ کمیٹیوں میں ایف آئی اے اور ایم آئی ٹی پر مشتمل کمیٹی بنائی ہے۔ پورے سندھ میں 199 مارکس مختلف طلباء نے حاصل کیے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پیپر لیک ہوا تھا۔ آدھے سے زیادہ طلباء بیرون بورڈ سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آخر کار پیپر لیک کرنے والا مافیا ہے کون پچھلے 4 سے 5 سالوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پیپر لیک ہو رہے ہیں۔
    پیپر فوٹو اسٹیٹ دکانوں پر سو روپے میں بیچے جا رہے ہوتے ہیں۔ اب ظلم یہ ہے کہ میڈیکل بورڈز کے بھی پرچے لیک ہو رہے ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایک انسٹیٹیوٹ کے 132 بچوں نے 199 نمبرز حاصل کیے ہیں، ان بچوں کے مستقبل کے لیے ہم کوشش کریں گے۔ ہم ڈاؤ اور پی ایم ڈی سی کو ان کے اس جرم کی سزا دلوائیں گے۔ جب ٹیسٹ کے لیے آئی بی اے موجود ہے تو ڈاؤ کیوں لے رہا ہے۔ عدالت میں سارا معاملہ رکھا ہے بچوں کے مستقبل سے متعلق سے نہیں کھیلا جائے گا۔

    عوام پر بوجھ کم کرنے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،پاسبان

    جمعیت علماء اسلام کے وفد کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات اور تعزیت

    کراچی خودکش دھماکے کی تفتیش میں بڑی پیش رفت، سہولتکار گرفتار

  • ایم کیو ایم کا ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن کا حصہ بننے کا فیصلہ

    ایم کیو ایم کا ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن کا حصہ بننے کا فیصلہ

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

    باغٰ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میٹنگ میں ایم کیو ایم کی مرکزی کمیٹی کے سینئر رہنماء سید امین الحق، سینئر رہنماء فیصل سبزواری، ڈاکٹر عبدالقادر خانزادہ، متاثرہ طلبہ و طالبات کا وفد، اساتذہ کرام اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی کے نمائندگان موجود تھے جبکہ میٹنگ میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین عامر چشتی،رکن قومی اسمبلی فرحان چشتی، آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مرکزی کمیٹی کے اراکین بھی شامل تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستانترجمان نے کہا کہ میٹنگ میں متفقہ طور پر ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کی شفافیت مشکوک ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبہ سندھ خصوصا کراچی میں ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں بد انتظامی کے نئے ریکارڈ قائم ہوگئے ہیں،گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ایم ڈی کیٹ کے امتحانی پیپرز وقت سے پہلے لیک کئے گئے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ میٹنگ میں ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں دائر شدہ پٹیشن کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور متاثرہ طلبہ و طالبات ایم کیو ایم پاکستان کے علاقائی و مرکزی دفاتر میں شام 5 تا رات 8 بجے رابطہ کر سکتے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان متاثرہ طلبہ و طالبات کے ساتھ کھڑی ہے اور اس حوالے سے ہر فورم پر آواز بلند کریگی، ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کو منسوخ کرکے صاف و شفاف طریقے سے دوبارہ امتحان کا انعقاد کیا جائے۔

    تربت میں نامعلوم افراد نے ایف سی کیمپ آپسر پر راکٹ سے حملہ کردیا

  • قومی المیہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد نہیں،پشاور ہائیکورٹ

    قومی المیہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد نہیں،پشاور ہائیکورٹ

    پشاورہائیکورٹ میں ایم ڈی کیٹ کےد وبارہ انعقاد کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی،

    جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس شکیل احمد نے سماعت کی،درخواست گزار نے عدالت میں کہاکہ پہلے ٹیسٹ میں ہمارے نمبرزیادہ تھے، دوسرے میں کم نمبر حاصل کئے،دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے اس کو واپس کیا جائے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ میڈیکل کالجز میں داخلے ہو چکے ہیں، کلاسز جاری ہیں،بے قاعدگیوں پر ٹیسٹ دوبارہ کرایا گیا،ہم اس معاملے میں اب مداخلت نہیں کر سکتے،آپ سے ہمدردی ہے لیکن فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں، دوران سماعت طالب علم نے عدالت میں کہاکہ میرے ٹیسٹ میں کوئی غلطی ثابت ہوئی تو مجھے پھانسی دی جائے، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کو ڈاکٹر دیکھنا چاہتے ہیں پھانسی کیوں دیں گے،آپ وقت ضائع کرنے کی بجائے اگلے سال ٹیسٹ کیلئے تیاری کرلیں،

    جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ایٹا نے طلبا کو تکلیف دی ان کی ناہلی کی وجہ سے ٹیسٹ دوبارہ کرانا پڑا، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ کوئی ٹیسٹ نہیں کراسکتا تو ذمے داری نہ لے،قومی المیہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد نہیں، ایم ڈی کیٹ میں جو ہوا آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے،عدالت نے ایم ڈی کیٹ سے متعلق 35درخواستیں خارج کردیں،

    ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

    یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ،نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار دے دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ جاری کر دیا، درخواست گزار کی جانب سے خلیق الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی ،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ نومبر 2024ء تک قابل قبول ہے پٹیشنر لائبہ رؤف نے نومبر 2022ء میں ایم ڈی کیٹ پاس کیا جب ایم ڈی کیٹ پٹیشنر نے پاس کیا اس وقت قانون کے مطابق رزلٹ 2 سال کے لیے موزوں تھا، پٹیشنر نے پی ایم ڈی سی کے 14 جولائی 2023ء کا پبلک نوٹس چیلنج کیا پی ایم ڈی سی نے نوٹس میں کہا تھا 2022ء کے پاس کردہ ایم ڈی کیٹ پر 2023ء میں داخلہ نہیں ملے گا، 2021ء کی ریگولیشنز کے مطابق نومبر 2022ء کے ایم ڈی کیٹ نتائج 2 سال کے لیے موزوں ہیں، بعد میں کیے جانے والے ایڈمنسٹریٹو فیصلے سے پٹیشنر سے یہ حق واپس نہیں لیا جا سکتا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پٹیشنر کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ نومبر 2022ء سے نومبر 2024ء تک موزوں ہو گا، پٹیشنرکا کیس میں جو خرچ آیا وہ بھی پی ایم ڈی سی ادا کرے گی.

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ؛  134 مشکوک امیدواروں کو کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ

    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ؛ 134 مشکوک امیدواروں کو کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ

    پشاور میں ہونے والے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں خفیہ بلیو ٹوتھ ڈیوائس سے نقل کے معاملے پر ایٹا حکام نے مزید 134 مشکوک امیدواروں کی نشاندہی کر دی، خیبر پختو نخوا میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں بلیو ٹوتھ ڈیوائس سے نقل کے معاملے پر اہم فیصلہ کرلیا گیا جبکہ ٹیسٹ میں 170 نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    تاہم اس کے علاوہ 134 مشکوک امیدواروں کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں پاس 3200 امیدواروں کے پرچے دوبارہ چیک کیے گئے جبکہ گزشتہ دنوں ہونے والے ٹیسٹ کے دوران 219 امیدوار رنگے ہاتھوں خفیہ بلیوٹوتھ کے ذریعے نقل کرتے پکڑے گئے تھے۔

    تاہم واضح رہے کہ ایم ڈی کیٹ کے دوبارہ انعقاد کے فیصلے کیخلاف پشاور میں طلبہ اور والدین سراپا احتجاج ہیں اور پشاور پریس کلب کے باہر ایم ڈی کیٹ پاس کرنے والے طلبہ اور ان کے والدین کی جانب سے احتجاج کیا گیا خیال رہے کہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ میں فیل ہونے والے افراد کا مطالبہ مانا گیا ہے، ایم ڈی کیٹ کا دوبارہ انعقاد مافیا کی جیت ہے۔

    واضح رہے کہ طلبا نے مطالبہ کیا کہ دوبارہ ٹیسٹ لینا پاس کرنے والے طلبا کے ساتھ زیادتی ہے، لہٰذا اس کے بجائے گزشتہ ٹیسٹ سے متعلق تحقیقات ہونی چاہئے تاہم یاد رہے کہ گزشتہ دنوں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجر کے لیے اس داخلہ ٹیسٹ کو دوبارہ لیے جانے کا فیصلہ صوبائی کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ جبکہ ایڈووکیٹ جنرل نے ایم ڈی کیٹ سے متعلق دائر درخواستوں پرسماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ صوبائی کابینہ نے ٹیسٹ 6 ہفتوں میں دوبارہ لیے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ کراچی، لاہور اور پنجاب میں بھی ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پر جے آئی ٹی بنی ہے، حکومت کے پاس ٹیسٹ کینسل کرنے کا اختیار نہیں، اس کا اختیار پی ایم ڈی سی کے پاس ہے اور خیبر پختونخوا کے میڈیکل کالجز انٹری ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) میں نقل اور بلیوٹوتھ کے ذریعے پرچہ آؤٹ کرنے کے اسکینڈل سامنے کے بعد کئی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کا فیصلہ
    نواز شریف کا مقصد نظام کی اصلاح، عوام کی فلاح ہے. مریم نواز شریف
    کسان کی لگژی گاڑی اوڈی اے 4 میں سبزی بیچنے کی ویڈیو وائرل
    مریم نواز شریف لندن روانہ ہوگئیں
    امیروں سے مزید ٹیکس لیے جائیں اورغریبوں کو تحفظ دیا جائے،آئی ایم ایف سربراہ
    لیکن دوسری جانب میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ 2023 کے نتائج کا اعلان بھی کیا گیا تھا تاہم پشاور ہائی کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ تک نتائج کو روک دیا تھا اور ایم ڈی کیٹ میں بلوٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے نقل کرنے کے معاملے سے متعلق جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے رپورٹ چیف سیکرٹری کو ارسال کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ سرکاری ملازمین نقل کرنے والے نیٹ ورک میں شامل ہیں۔