Baaghi TV

Tag: ایم ڈی کیٹ کراچی

  • سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2024 کا امتحان 8 دسمبر کو دوبارہ ہوگا

    سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2024 کا امتحان 8 دسمبر کو دوبارہ ہوگا

    سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر ایم ڈی کیٹ 2024 کا پرچہ 8 دسمبر کو دوبارہ لیا جائے گا۔

    سکھر آئی بی ای(سیبا)ٹیسٹنگ سروس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 8 دسمبر کو سندھ بھر میں ایم ڈی کیٹ 2024 کے امتحان کا دوبارہ انعقاد کیا جائے گا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ میڈیکل اور ڈینٹل کالج و جامعات کے داخلہ ٹیسٹ آئی بی اے سکھر کے زیراہتمام ہوں گے۔سیپا ٹیسٹنگ کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، شہید بینظیرآباد، لاڑکانہ اور سکھر میں ہوںگے، جس میں شریک ہونے والے امیدواروں کو اصل ایڈمٹ کارڈ کی سلپ، شناختی یا اسمارٹ کارڈ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکٹ، پاسپورٹ،میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی مارک شیٹ لازمی لانا ہوگی۔ایس ٹی ایس کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ امیدوار کو ایڈمٹ سلپ یا اصل دستاویزات کے بغیر ٹیسٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔ طالب علموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سینٹر کے حوالے سے ایس ٹی ایس کی ویب سائٹ کو وقتا فوقتا چیک کرتے رہیں۔رش اور افراتفری سے بچنے کے لیے کراچی میں 3 امتحانی مراکز ہوں گے جبکہ حیدر آباد، میر پور خاص، نواب شاہ، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سندھ حکومت نے آئی بی اے سکھر کو 38ہزار 609 امیدواروں کے لیے 6 ہزار روپے فی کس کے حساب سے 232.140 ملین روپے فراہم کر دیے ہیں۔

    واہ انڈسٹریز کا ترک کمپنی سے اسلحے کی پیداواری صلاحیت کے لیے معاہدہ

    اٹک: بلال فارمیسی کی فوارہ چوک پر نئی برانچ کا افتتاح

  • ایم کیو ایم کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے دوبارہ انعقاد کے حکم کا خیرمقدم

    ایم کیو ایم کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے دوبارہ انعقاد کے حکم کا خیرمقدم

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے شفاف اور دوبارہ انعقاد کے حکم کا زبردست خیرمقدم کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے جاری کردہ بیان میں ترجمان ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے سے ایم ڈی کیٹ کے جعلی ٹیسٹ کے انعقاد اور انتظامیہ کی نااہلی پر مہر ثبت ہوگئی، سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ایم ڈی کیٹ 2024ء کے ٹیسٹ کو کالعدم قرار دینا حق پرستی کی جیت ہے، سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ ایم کیو ایم پاکستان کے حق پرست عوامی نمائندگان، لیگل ایڈ کمیٹی طلبہ اور ان کے والدین کی محنت کا نتیجہ ہے، ترجمان ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سندھ کے نوجوانوں کا حق کسی مافیا اور متعصب انتظامیہ کو چھیننے نہیں دے گی ایم کیو ایم نے ہر ممکن فورم پر ایم ڈی کیٹ کے متاثرہ طلبہ کی جنگ لڑی ہے، سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر تمام متاثرہ طلباء و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، ایم کیو ایم ترجمان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ عدالتی حکم کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے نئے ٹیسٹ کے شفاف انعقاد کو یقینی بنائے۔

    بجلی، گیس موبائل سمز کی بندش سے بچنے کیلئے فائلرز تیزی سے بڑھنے لگے

    ٴْداؤد یونیورسٹی میں غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف درخواست دائر

    جیل خانہ جات سندھ کے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ

  • ایم ڈی کیٹ  کا دوبارہ انعقاد ،بد انتظامی و نا اہلی کی انتہا ہے ، منعم ظفر خان

    ایم ڈی کیٹ کا دوبارہ انعقاد ،بد انتظامی و نا اہلی کی انتہا ہے ، منعم ظفر خان

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے MDCATکا ٹیسٹ دوبارہ لینے کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں بد انتظامی و نا اہلی کی انتہاہو گئی ہے ،پیپلز پارٹی کی حکومت کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اور بد انتظامی کی سزا طلبہ کو بھگتنا پڑ رہی ہے ، ہزاروں طلبہ و طالبات کو اب ایک بار پھر تھکا دینے والے عمل سے گزرنا ہوگا ۔

    ایم ڈی کیٹ کا پر چی لیک ہونے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں ، اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آئندہ یہ سارا عمل صاف اور شفاف ہوگا ،منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ 22ستمبر کو ہونے والے MDCATکے ٹیسٹ کے دوران شدید بد انتظامی اور نا اہلی کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات کو سخت گرمی میں شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور پورے کراچی میں صرف 2امتحانی مراکز قائم کیے گئے جو طلبہ و طالبات کی تعداد کے حساب سے کم تھے جبکہ دوسری طرف پرچہ لیک ہونے سے پورا امتحانی عمل اور اس کے نتائج متنازع بن گئے اور ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران ہزاروں طلبہ و طالبات بے یقینی کا شکار رہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیکل کالجوں کے داخلے کے پورے عمل اور طریقہ ٴ کار کو مستقل بنیادوں پر صاف اور شفاف بنایا جائے اور پرچہ لیک کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ، کراچی کے طلبہ و طالبات کے لیے امتحانی مراکز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔

    پشاور:ٹشو پیپرز اورڈائپرز کی فیکٹری میں لگی آگ پر تاحال قابو نا پایا جا سکا

    وزیراعلیٰ سندھ سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات

  • سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی فہرست جاری کرنے سے روکتے ہوئے بنائی گئی کمیٹی کو تمام اداروں سے ریکارڈ اکھٹا کرکے رپورٹ تیار کرنے اور ایف آئی اے کو اس معاملے میں تحقیقات کے لیے ٹیم نامزد کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ایم ڈی کیٹ کے نتائج میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔چیف سیکریٹری سندھ، جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ کتنے بچے ایسے ہیں جن کے مارکس 195 سے زیادہ ہیں، یہاں ہم سندھ کے بچوں کے رزلٹ کو پنجاب اور کے پی کے بچوں سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس امجد سہتو نے ریمارکس دیے کہ پی ایم ڈی سی کا اس حوالے سے معاملہ ختم ہوگیا کہ پیپر لیک ہوا یا نہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر امتحان میں کوئی خامی ہے تو یہ بھی بتایا جائے، 187 مارکس حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد 1100 سے زیادہ تھی۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ کے پی اور پنجاب کے طلبہ کے نمبرز کی تفصیل آجائیں تو سندھ سے میچ کیا جائے گا۔جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیے کہ اگر پیپر کسی ایک سینٹر کا لیک ہوا تو اس ڈویڑن کا پیپرز روکا جائے، پورے سندھ کے نہیں۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے جو 190 پلس والے طلبہ کہاں جائیں گے۔ پنجاب میں 58 ہزار، کے پی میں 42 ہزار اور سندھ میں 38 ہزار طلبہ نے امتحان دیا ہے۔وائس چانسلر نے بتایا کہ محکمہ صحت نے ایک کمیٹی بنائی جس میں لگائے گئے الزامات کا ثبوت نہیں ملا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کہیں نہ کہیں پر یہ چیز ضرور ہوئی اس لیے الزامات لگتے ہیں۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا یہ چیزیں غلط چلا رہا ہے اور وہ بلیک میلنگ کر رہے ہیں، باقی انتظامیہ دودھ کی دھلی ہوئی ہے۔ پیپر لیک ہونے والی بات ٹھیک ہے یا نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ میرا گھر مجھے بنانے دیں میں اچھا بناؤں گا۔سیکریٹری صحت ریحان بلوچ نے کہا کہ محکمہ صحت کا رول یہ تھا کہ کریکیولم میں تبدیلی کریں، مجھے بھی 12 بجے میسیجز آئے۔
    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ جب شکایتیں آئیں تو آپ پیپر منگواتے، کسی ادارے نے زحمت نہ کی پیپر لیک ہوا کہ کینسل کریں۔ اس معاملے پر جو کام کیا ہے وہ سیکریٹری صحت نے بھی نہیں کیا۔ محکمہ صحت اور پی ایم ڈی سی مکمل ملے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس کیس آیا ہے تو انصاف تو کرنا ہے۔سندھ ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کی فہرست جاری کرنے سے روک دیا۔
    عدالت نے حکم دیا کہ جب تک اس پروسیس پر عمل نہیں ہو جاتا ایم ڈی کیٹ ایڈمیشن کے رزلٹ کو ہولڈ کریں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا ہے کہ 38 بچوں نے سندھ میں 190 سے زیادہ مارکس لیے ہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام فریقین کو اس حوالے سے نوٹیفائی بھی کر دیا ہے۔ عدالت نے سیکریٹری اوقاف پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی کو اس حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔
    چیف سیکریٹری نے بتایا کہ سیکریٹری اوقاف اس سے قبل بورڈز کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی تمام اداروں سے ریکارڈ اکھٹا کرکے رپورٹ تیار کریں اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کو بھی حکم دیا جاتا ہے اس معاملے میں تحقیقات کے لیے اپنی ٹیم نامزد کرے۔ عدالت کی جانب سے درخواستوں کی سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
    سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کراچی میں سیکڑوں بچوں نے ہم سے رابطہ کیا، سیکڑوں بچوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے، 8 ہزار پر بچہ لے کر 10 کروڑ روپے ڈاؤ یونیورسٹی کو ملے ہیں اور 7 کروڑ روپے سے زیادہ میڈیکل ٹیسٹ کیلیے لیے گئے۔ بچوں کی جانب سے میں ایوان سے شدید مذمت کرتا ہوں، عدالت کے بڑے شکر گزار ہیں جنہوں نے بچوں کی فریاد پر دو کمیٹیاں بنا دی ہیں۔
    خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ عدالت نے تحقیقات کرکے 15 دن میں جواب طلب کیا ہے۔ کمیٹیوں میں ایف آئی اے اور ایم آئی ٹی پر مشتمل کمیٹی بنائی ہے۔ پورے سندھ میں 199 مارکس مختلف طلباء نے حاصل کیے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پیپر لیک ہوا تھا۔ آدھے سے زیادہ طلباء بیرون بورڈ سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آخر کار پیپر لیک کرنے والا مافیا ہے کون پچھلے 4 سے 5 سالوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پیپر لیک ہو رہے ہیں۔
    پیپر فوٹو اسٹیٹ دکانوں پر سو روپے میں بیچے جا رہے ہوتے ہیں۔ اب ظلم یہ ہے کہ میڈیکل بورڈز کے بھی پرچے لیک ہو رہے ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایک انسٹیٹیوٹ کے 132 بچوں نے 199 نمبرز حاصل کیے ہیں، ان بچوں کے مستقبل کے لیے ہم کوشش کریں گے۔ ہم ڈاؤ اور پی ایم ڈی سی کو ان کے اس جرم کی سزا دلوائیں گے۔ جب ٹیسٹ کے لیے آئی بی اے موجود ہے تو ڈاؤ کیوں لے رہا ہے۔ عدالت میں سارا معاملہ رکھا ہے بچوں کے مستقبل سے متعلق سے نہیں کھیلا جائے گا۔

    عوام پر بوجھ کم کرنے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،پاسبان

    جمعیت علماء اسلام کے وفد کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات اور تعزیت

    کراچی خودکش دھماکے کی تفتیش میں بڑی پیش رفت، سہولتکار گرفتار

  • ایم کیو ایم کا ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن کا حصہ بننے کا فیصلہ

    ایم کیو ایم کا ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن کا حصہ بننے کا فیصلہ

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

    باغٰ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میٹنگ میں ایم کیو ایم کی مرکزی کمیٹی کے سینئر رہنماء سید امین الحق، سینئر رہنماء فیصل سبزواری، ڈاکٹر عبدالقادر خانزادہ، متاثرہ طلبہ و طالبات کا وفد، اساتذہ کرام اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی کے نمائندگان موجود تھے جبکہ میٹنگ میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین عامر چشتی،رکن قومی اسمبلی فرحان چشتی، آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مرکزی کمیٹی کے اراکین بھی شامل تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستانترجمان نے کہا کہ میٹنگ میں متفقہ طور پر ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کی شفافیت مشکوک ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبہ سندھ خصوصا کراچی میں ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں بد انتظامی کے نئے ریکارڈ قائم ہوگئے ہیں،گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ایم ڈی کیٹ کے امتحانی پیپرز وقت سے پہلے لیک کئے گئے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ میٹنگ میں ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں دائر شدہ پٹیشن کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور متاثرہ طلبہ و طالبات ایم کیو ایم پاکستان کے علاقائی و مرکزی دفاتر میں شام 5 تا رات 8 بجے رابطہ کر سکتے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان متاثرہ طلبہ و طالبات کے ساتھ کھڑی ہے اور اس حوالے سے ہر فورم پر آواز بلند کریگی، ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کو منسوخ کرکے صاف و شفاف طریقے سے دوبارہ امتحان کا انعقاد کیا جائے۔

    تربت میں نامعلوم افراد نے ایف سی کیمپ آپسر پر راکٹ سے حملہ کردیا