Baaghi TV

Tag: ایم کیو ایم

  • کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    اسلام آباد:کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں، سابق گورنر سندھ عمرے کے بعد لندن میں قیام ا ور اہم ’’دوستوں‘‘ سے ملاقاتیں کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ کے سابق گورنر کامران ٹیسوری ان دنوں عمرے کی ادائیگی کے لئے حجازمقدس میں ہیں جہاں سے وہ عیدالفطر کے لگ بھگ برطانیہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ کئی دنوں تک لندن میں قیام کرینگے ا ور اہم ’’دوستوں‘‘ سے ملاقاتیں بھی کریں گے کامران کی گورنر کے منصب سے برطرفی پر ان کے قریبی رفقا جن میں سابق وفاقی وز یر اور میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار سرفہرست ہیں صدماتی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

    ان کے قریبی ذرائع نے ہفتے کی شام میڈیا سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ایسے ماحول میں جب وہ سندھ کے شہری علاقوں باالخصوص کراچی کے مسائل اور مطالبات کے لئے زوردار آواز بن چکے تھے صوبائی حکمران پیپلزپارٹی ان کے اس کردار سے نالاں تھی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے ایم کیو ایم پاکستان کے موقف کو ضعف پہنچا ہے اپنے گورنر کی برطرفی پر ایم کیوایم پاکستان کا دوسرا دھڑا بھی دم بخود ہے تاہم وہ اسے حکومت سے راہیں جدا کرنے کے لئے معقول وجہ قرا دینے سے اتفاق نہیں کرتا۔

    اسرائیلی فوجی ایرانی کلسٹر بموں سے خوف زدہ ہیں، بلوم برگ

    معلوم ہوا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اپنے سرکردہ ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ اسی ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے اور ان کی وزیراعظم شہباز شریف سمیت اہم وفاقی وزر اء اور وزیراعظم کے سیاسی مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ خان سے ملاقاتیں ہوں گی، جن میں وہ گورنر کی علیحدگی سے زیادہ کراچی کے مسائل کا مقدمہ پیش کریں گے۔

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

  • کامران ٹیسوری  تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    کامران ٹیسوری تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کو زیادتی قرار دے دیا کہا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا لیکن حق پرستی کی آواز اٹھانے کی اتنی سزا تو ہمیں ملنی ہی تھی-

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام خدمتِ خلق فاؤنڈیشن فیڈرل بی ایریا میں سالانہ امدادی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تقریب میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنما وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال اراکینِ مرکزی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، کیف الوریٰ، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران شریک تھے۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی بنیاد 1979ء میں رکھی گئی اسطرح خدمت کی تاریخ ہماری سیاسی تحریک سے بھی قدیم ہے جس شہر کے ٹیکس سے پورے پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھا خود اس شہر کے لیے کوئی موٹر وے نہیں ہے اور آج یہاں باہر سے آکر روزگار کمانے والے ہی ہمیں ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور بے لگام ہیوی ٹریفک ہمارے معصوم بچوں کو سڑکوں پر کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے۔

    آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پولیس اور چور دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت اس شہر کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں عدالتیں خود کو ایسے تعصب سے پاک رکھیں جس سے شہر میں آگ لگتی ہے کیونکہ اگر انصاف زبان دیکھ کر دیا گیا تو مظلوم کہاں جائیں گے۔

    گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا لیکن حق پرستی کی آواز اٹھانے کی اتنی سزا تو ہمیں ملنی ہی تھی، کامران ٹیسوری صاحب ایک تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں انہوں نے گورنر کی تبدیلی پر وفاق سے علیحدگی یا وزارتیں چھوڑنے سے متعلق کہا کہ ہماری روایت رہی ہے ہر بار استعفیٰ دیتے ہیں مگر اس بار اپنا ریکارڈ خراب نہیں کریں گے۔

    طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کا یہ پروگرام امداد بانٹنے کے لیے نہیں بلکہ ان سفید پوشوں کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے ہے جو اس شہر کا فخر ہیں اور لینے والے ہاتھ نہیں بلکہ دینے والے ہاتھ ہیں، ایم کیو ایم ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک ہم موجود ہیں اس شہر کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

  • سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس کر دی

    سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس کر دی

    کراچی:محکمہ داخلہ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس کر دی۔

    ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کی سیکیورٹی واپس کر دی گئی،وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، کسی بھی سیاسی شخصیت کی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔

  • سانحہ گل پلازہ  پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    سانحہ گل پلازہ پر تنقید کے باعث پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت متعدد سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

    ایم کیو ایم کی اعلی قیادت خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی سمیت اراکین سندھ اسمبلی کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہےسندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی کی بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد متعلقہ موبائلز اور اہلکار واپس بلا لیے گئے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہےڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلکار موجود تھے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے، جنہیں واپس لے لیا گیا۔

    سیکیورٹی واپس لینے کے اس اچانک اقدام پر ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا فیصلہ کرتے ہوئے کل شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے ایم کیو ایم رہنما رکن اور قومی اسمبلی حسان صابر نے تصدیق کی کہ ایم کیو ایم کے اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی سیکیوریٹی واپس لے لی گئی ہے،اس دوران کسی کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی،سندھ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ ان پر تنقید بھی نہ کی جائے،سیکیورٹی واپس بلانےکی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ’ممکن ہے سانحہ گل پلازہ پر تنقید ایک وجہ ہو، کچھ بھی ہو ہم سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے-

  • وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر اٹھنے والے اہم سوالات کے واضح جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر سنگین نوعیت کے سوالات موجود ہیں، لیکن پوچھا کچھ اور جا رہا ہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ہم نے کوئی قیاس آرائی نہیں کی بلکہ صرف سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہےحتمی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آگ کیسے لگی، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سانحے کے 20 سے 22 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر کیوں پہنچے اسی طرح میئر کراچی بھی 23 گھنٹے بعد وہاں پہنچے، اور تنقید کے بعد بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں تھے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب آپ تقریباً ایک دن بعد حادثے کے مقام پر پہنچے اور عوام کے ردعمل کو دیکھا تو تب جا کر واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوا اصل سوالات یہ ہیں کہ ان تاخیروں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کا جواب کون دے گا، اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمارت لیز پر تھی تو کیا اس لیز کو کبھی چیلنج کیا گیا؟ کیا لیز میں یہ لکھا تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں اسے بجھایا نہیں جائے گا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ شہر میں کتنے فائر ٹینڈرز درست حالت میں ہیں اور کتنے خراب ہیں، اور گزشتہ 18 برسوں میں کتنے نئے فائر اسٹیشنز قائم کیے گئے یہ سوالات ہیں اور ان کا جواب بھی انہی 18 سالوں کی حکمرانی میں دینا ہوگاجب حکومت سے سوال کیا جائے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ سانحے پر سیاست نہ کریں، مگر یہ بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے اور وزرا کی اتنی بڑی تعداد کہاں غائب تھی۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2008 سے سندھ کے وسائل پر قابض رہنے والوں سے سوال ہے کہ مزید کتنی عمارتوں کے جلنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور کب تک صرف متاثرہ عمارتوں اور پلاٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہے گا،وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا، کیونکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر مزید خاموشی ممکن نہیں۔

  • مصطفیٰ کمال نے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا

    مصطفیٰ کمال نے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں میری نسل کشی ہو رہی ہے، یہ جمہوری دہشت گردی ہے، کراچی کو پاکستان کا معاشی دارالخلافہ بنایا جائے، اس کو وفاق کا حصہ بنایا جائے 18 سال حکومت کرنے کے بعد جب پیپلز پارٹی سے آگ کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ ایم کیو ایم نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں، آج کی ایم کیو ایم یہ کام نہیں کر رہی، یہ وہ ہوا تو آپ کے صدر اس وقت ایم کیو ایم کے مرکز پر گھٹنے ٹیکتے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا ہے، ایک دن میں 100 سو لوگ مرتے تھے، یہ کھلی کھلی جمہوری دہشتگردی ہے، کتنے اور لوگ جل کر مریں، کتنے مزید بچےگٹر میں گرکرمریں، ہماری داد رسی کب ہوگی ؟ لوگوں کو کیا تسلی دیں، ریاست نے کراچی کو کس کے حوالے کر رکھا ہے، پورا شہر سوال کر رہا ہے کہ آخر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہاہ کراچی کے عوام ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان کی بات سنےکراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے باعث نظام درہم برہم ہو چکا ہے اگر نظام کو بچانے کے لیے کراچی کو قربانیاں دینی پڑیں گی تو ریاست واضح طور پر بتا دے کہ مزید کتنی جانیں درکار ہیں ہمیں مار دیں، سولی پر لٹکا دیں، مگر ہماری نسل کشی بند کی جائے۔

    ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی کو بھٹو کے دیے گئے آئین کے مطابق ملک کا فنانشل کیپیٹل بنایا جائے اور اسے وفاق کے تحت لیا جائے، کیونکہ موجودہ نظام میں یہ لوگ ٹھیک ہونے والے نہیں،انہوں نے الزام لگایا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کراچی کے عوام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کوئی مقدس شق نہیں، پاکستان کو بچانے کے لیے اسے واپس لینا ہوگا انہوں نے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایم کیو ایم صوبے میں اقلیت میں بھی رہے تو کیا شہریوں کو پانی، سڑکیں اور بنیادی سہولیات نہیں دی جائیں گی؟

    انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے وزیراعظم سے فنڈز حاصل کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ انہیں رکوا دیتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ جمہوری دہشت گردی ہے جسے سندھ میں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے امید ہے حکومتِ پاکستان اور ریاستِ پاکستان ان کی بات سنیں گے اور کرا چی کے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

  • سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

    سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

    کراچی:سانحہ گل پلازہ پر جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی۔

    سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لئے سندھ اسمبلی میں خصوصی دعا کی گئی دعا کے بعد ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایوان میں کھڑے ہوگئے۔ ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ وہ سانحہ گل پلازہ پر بات کرنا چاہتے ہیں اس پر سعید غنی نے کہا کہ آپ بات کرلینا ہم منع کب کررہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

    بعدازاں ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے سانحہ گل پلازہ پر احتجاج کیا، انصاف دو انصاف دو، ظالموں جواب دو خون کا حساب دو کے نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کردیاسعید غنی نے کہا کہ معاملے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، ہماری کوتاہیاں اجاگر کریں مگر شور نہ کریں، یہ طے ہوا تھا کہ گل پلازہ واقعہ پر سب بات کریں گے، کراچی کے لوگ اور سانحہ کے متاثرین دیکھ رہے ہیں، ایم کیو ایم والے تماشا لگانا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی ہے۔

    سعید غنی نے کہا کہ 17 جنوری کی رات تقریباً سوا دس بجے گل پلازہ کی ایک دکان میں آگ لگی جو پلازہ میں پھیل گئی، پلازہ میں ایک ہزار اکیس دکانیں ہیں اطلاع ملتے ہی گاڑیاں جائے حادثے پر پہنچیں، صورتحال کے مطابق مزید گاڑیاں طلب کی گئیں، آگ بجھانے کے عمل میں 26 فائر ٹینڈر، 6 اسنارکل نے حصہ لیا، 33 ایمبولینس وہاں موجود تھیں، آگ لگنے کے بعد کراچی کی انتظامیہ وہاں موجود تھی، گل پلازہ کا رقبہ آٹھ ہزار گز ہے، جانیں بچاتے ہوئے ایک فائر ٹینڈر فرقان شہید ہوا ابھی تک 70 افراد کے متعلق ہمیں معلومات ملی کہ وہ لاپتہ ہیں ان میں سے آٹھ کی لاشیں مل چکی ہیں اور اب 62 لاپتا ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے اس حوالے سے اجلاس طلب کیا تھا جہاں تاجروں کے نمائندے بھی موجود تھے، جاں بحق کے عوض فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا، ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں تاجر شامل ہیں جو نقصانات کا تخمینہ لگائیں گے،حکومت لوگوں کا کاروبار بحال کرنے میں بھی مدد کرے گی، کمشنر کراچی اور اے آئی جی کی کمیٹی اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں گے، اپوزیشن ممبران کا حق ہے کہ ہم پر تنقید کریں کیوں کہ ایک سانحہ ہوا ہے۔

    سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق تحریک التوا میں کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ نے کراچی کے کرپٹ اور بوسیدہ نظام کو بے نقاب کردیا، فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

    محمد فاروق نے کہا کہ 1200 دکانوں پر مشتمل گل پلازہ میں آتشزدگی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ میں مبتلا ہوں، کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن پر عملدرآمد نہیں ہورہا جس کے باعث شہر میں مزید مخدوش عمارتیں وجود میں آرہی ہیں۔

  • ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہم‘ کا اعلان کردیا

    ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہم‘ کا اعلان کردیا

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے بہادرآباد مرکز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

    اس موقع پر فاروق ستار، حیدر عباس رضوی، سید امین الحق اور دیگر رہنما شریک تھے پریس کانفرنس میں شہر کے بنیادی مسائل، معیشت میں کردار اور مستقبل کی حکمت عملی پر مؤقف پیش کیا گیا، فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کو ایک بار پھر وہ حیثیت دینا ہوگی جس کا یہ شہر حقدار ہے کراچی سے 65 فیصد قومی اور 95 فیصد صوبائی ریونیو جاتا ہے جب کہ ملک کی 50 فیصد سے زائد ایکسپورٹ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے، اس کے باوجود شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔

    امریکہ نے باضابطہ طور پر وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی تصویر جاری کر دی

    انہوں نے اعلان کیا کہ آج رسمی طور پر’کراچی بچاؤ مہم‘ کا آغاز کررہے ہیں کراچی کا انفرااسٹرکچر انتہائی بری صورتحال میں ہے جب کہ نکاسی آب، صاف پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی خستہ حالی شہر کے بنیادی مسائل بن چکے ہیں جن پر فوری توجہ ضروری ہے، سال 2025 میں ایک تاریخی معرکہ سر کیا گیا اور 6 مئی سے 10 مئی 2025 کا عرصہ ملکی تاریخ اور فتوحات کا ایک اہم سنگ میل ہےاس دوران ملک کے عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔

    16 سالہ طالبہ سے جنسی زیادتی،حنا پرویز بٹ کا متاثرہ طالبہ کے گھر کا دورہ

    انہوں نے کہا کہ نئے سال 2026 میں اگلا معرکہ’معرکہ معیشت‘ ہوگا جس کا ہدف پاکستان کو معاشی طور پر آزاد اور خودمختار بنانا ہے، پاکستان پوری دنیا کے ساتھ قدم بقدم ساتھ کھڑا ہے ملک کی بقا و سلامتی کراچی کی بقا و سلامتی سے وابستہ ہے اور کراچی کی تعمیر و ترقی سے ہی ملک کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: ابتدائی اسکواڈ فائنل، پاکستان نے نام آئی سی سی کو بھجوادئیے

  • پی ٹی آئی کے فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں، حکومت کو غور کرنا ہوگا،ایم کیو ایم

    پی ٹی آئی کے فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں، حکومت کو غور کرنا ہوگا،ایم کیو ایم

    ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ پاک فوج کے خلاف ہزرہ سرائی قابل مذمت ہے، پی ٹی آئی کے فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں، حکومت کو غور کرنا ہوگا۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک کسی سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا، ایک دہائی سے ملک میں سیاسی بحران ہے، ایم کیو ایم پاکستان کی توانا آواز ہے، 2018 میں ایم کیو ایم کی سیٹیں چھینی گئیں،ہم سب مل کر پاکستان کی حرمت، عزت اور اس کی بقا کے لیے ڈٹ کے کھڑے ہیں، ہم باقی سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ قوم کو خطرات سے نکالنے کے لیے مل کر بیٹھیں اور بات کریں اگر ثابت ہوجائے کہ کوئی پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازش میں ملوث ہے تو سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف اس کی نشاندہی کریں بلکہ اس کے خلاف نبردآزما ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہے، جمہوریت کی بھیس میں ایسے لوگ جو پاکستان کو کسی خاص وجوہات کی بنا پر، چاہے اپنی انا کی وجہ سے یا کسی کے اشارے پر نقصان پہنچا رہے ہیں، جمہوری لوگ مل کر کام کریں تاکہ اس کا مداوا کیا جاسکے، پاکستان کے خلاف کسی سازش کے خلاف ایک مشترکہ جہدوجہد کی ضرورت نظر آتی ہے،پی ٹی آئی کو جب ضرورت پڑی تھی تو ہم سمیت سب سیاسی جماعتیں قومی سانحوں میں ان کے ساتھ کھڑی تھی، کیا پہلے کبھی کسی نے کہا کہ وہ سیاسی قوت ہوتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے بات نہیں کرے گی،موجودہ حکومت کو چاہیے کہ بیرون ملک پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور دیکھے کہ کہیں یہ ملک کے خلاف کوئی نئی سازش تو نہیں۔

    پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی صورتحال اس کی اپنی طرزِ سیاست کا نتیجہ ہے،احسن اقبال

    ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فوج کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ پورے ملک کی فوج ہے، ہمارے ارد گرد کے جو حالات ہیں اور اسی سال جو حالات چند ماہ پہلے پیدا ہوئے، تو یہ فوج ہی تھی جو اپنے سے 10 گنا بڑے دشمن کے خلاف کھڑی ہوئی، پاک فوج نے بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا، اس کے خطے پر حکمرانی کرنے کے خواب کو بھی خاک میں ملایا، بھارت پاکستان پر اپنی پراکسیز کے ذریعے حملہ آور ہے، فوج اس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے، فوج نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اس فوج کے لیے، اس کے سربراہ کے لیے جس کو دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت کے حوالے سے جانا جارہا ہے، پاک فوج کی جنگ میں کامیابی سے گرین پاسپورٹ کی عزت بڑھی ہے، اس کو بھارت اپنے عزائم سے زیر نہیں کرسکتاتحریک انصاف کےسربراہ، اُس کی پارٹی فوج کے حوصلے کو پست کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم اِس بیانیہ کےخلاف ہیں کہ فوج اورعوام میں کوئی فاصلہ ہے، ایسا بالکل نہیں یہ ہماری فوج ہے اِس پر ہمیں فخر ہے۔

    بلوچوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

    مصطفی کمال نے کہا ہے کہ شکر کریں فوج صرف پریس کانفرنس کے ذریعے آپ کے الزامات کا جواب دے رہی ہے ورنہ اس سے کم اقدامات پر بھی ماؤں نے اپنے بچوں کو برسوں تک تلاش کیا انہوں نے یاد دلایا کہ ہم کراچی کے رہنے والے ہیں اور 40 سالوں میں بہت کچھ بھگتا ہے،اس فوج کی قربانیوں اور عزم نے ملک کی عزت اور وقار کو بلند کیا ہے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری میں فوج کا کردار کلیدی ہے۔

    مصطفی کمال نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ قومی فوج اور اس کی قیادت کو پوری دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ فوج کے حوصلے پست کرنے کی سازش کر رہے ہیں، اور ایم کیو ایم پاکستان اس بیانیے کے خلاف ہے، اتنے سنگین الزامات کے باوجود فوج صرف گفتگو کے ذریعے معاملات طے کر رہی ہے کراچی کے لوگ جانتے ہیں کہ لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کتنی جدوجہد کی گئی اسی پس منظر میں پی ٹی آئی کی کارروائیوں کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

    امیر جماعتِ اسلامی کا ملک بھر میں دھرنا دینے کا اعلان

    مصطفی کمال نے کہا کہ ہم بھی بند کمروں میں گلہ کرتے ہیں، لیکن ہم نے کبھی ملک کی سالمیت، قومی اداروں یا فوج کے سربراہ کے خلاف قدم نہیں اٹھایا، ایم کیو ایم ہر صحیح بات کی تائید اور ہر غلط بات کی تردید کرے گی پی ٹی آئی کے دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اگر فوجی جرنیل صرف ان کی مرضی کے مطابق کام کریں تو ٹھیک، ورنہ انہیں غلط کہنا افسوسناک ہےفوج پریس کانفرنس کے ذریعے آپ کے کرتوت بتا رہی ہے، اور پی ٹی آئی کو اس پر شکر گزار ہونا چاہیے انہوں نے واضح کیا کہ ملک تب ہی آگے بڑھ سکتا ہے جب قیادت آئینی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کرے۔

    ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست فوج دشمنی اور مخالفت کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ افواجِ پاکستان اور ان کے سربراہ کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف ملکی ادارے نشانہ بن رہے ہیں بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی بھی بڑھ رہی ہے،بانی پی ٹی آئی کے جیل میں ہونے کے باوجود ان کا بیانیہ سوشل میڈیا پر فعال ہے۔ انہیں جمہوری طریقے سے ہٹایا گیا تھا اور اقتدار کا واحد راستہ آئینی و جمہوری انتخابات ہی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو پاک فوج کیخلاف باتیں کرنے پر شرم آنی چاہیے۔عطا تارڑ

    فاروق ستار نے کہا کہ وزیراعظم صرف پارلیمانی ووٹ سے منتخب ہوتا ہے اور پاکستان کا آئین عوامی ووٹ سے حکومت کی تشکیل کی ضمانت دیتا ہے، اسی بنا پر ہر سیاسی جماعت کی حکومت عوامی مینڈیٹ اور پارلیمانی اکثریت سے ہی بنتی ہے،پی ٹی آئی کی ساڑھے 3 سالہ کارکردگی شدید تنقید کی زد میں رہی اور خیبر پختونخوا حکومت کے 2 سالہ دور پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں،پی ٹی آئی کے حالیہ سیاسی بیانات ملکی سلامتی کو خطرات میں ڈال رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ذمہ داری اور حدود کے ساتھ مشروط ہے، قومی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی قومی مفاد اور آئین سب سے اوپر ہیں، پارٹی بیانیے نہیں مقدمات، عدالتیں اور قانون موجود ہیں اور ریلیف صرف قانونی راستے سے ممکن ہے، جبکہ غیر قانونی مطالبات یا بے ضابطہ اقدامات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں،پی ٹی آئی قیادت نے خود پرستی اور ذاتی مفادات کو ترجیح دے کر قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    گووا نائٹ کلب میں ہولناک آتشزدگی،4 غیر ملکی سیاحوں سمیت 25 افراد کی موت

  • کراچی کو فیڈرل ٹیریٹری قرار دیں، ورنہ نئے صوبے،فاروق ستار

    کراچی کو فیڈرل ٹیریٹری قرار دیں، ورنہ نئے صوبے،فاروق ستار

    ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا ہے کہ اگر مسائل کا مستقل حل چاہیے تو کراچی کو فیڈرل ٹیریٹری ڈکلیئر کیا جائے، اور اگر یہ حل قبول نہیں تو پھر نئے صوبوں کی بات ہو گی۔

    ملیر میں ایم کیو ایم پاکستان کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم آج بھی وفاق میں بیٹھ کر شہرِ کراچی کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آج شہر میں دیگر جماعتوں کے جلسے بھی ہو رہے ہیں، مگر یہ اجتماع ملیر کا ہے اور اس کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس آپ وصول کرتے ہیں مگر خرچ کرنے کا اختیار بلدیاتی حکومتوں کو دیا جائے تاکہ شہری مسائل بہتر انداز میں حل ہو سکیں۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب کراچی کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے تو پھر سندھ بھی تقسیم ہو سکتا ہے۔ اگر ان کی تجاویز منظور نہیں ہوتیں تو سندھ کے 6 ڈویژنوں کو انتظامی یونٹ قرار دیا جائے۔

    انہوں نے بتایا کہ عارضی طور پر ایم کیو ایم نے ڈھائی ارب روپے شہر کے لیے مختص کرائے ہیں، جن سے سڑکوں کی تعمیر، سیوریج لائنوں کی تنصیب اور دیگر ترقیاتی کام ہوں گے۔فاروق ستار نے مزید کہا کہ کراچی وفاق کو 8 ہزار ارب روپے دیتا ہے جبکہ بدلے میں شہر کو صرف 50 ارب روپے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کے تھری‘‘ منصوبہ ہم نے کراچی کو دیا اور اب کے فور منصوبہ بھی تکمیل کے قریب ہے

    گوگل اپڈیٹ، اب بول کر راستے کی معلومات حاصل کریں

    کرم میں چیک پوسٹ پر حملہ، 2 اہلکار شہید، 4 دہشت گرد ہلاک

    سری لنکا سیلاب متاثرین کی مدد، پاک بحریہ کی امدادی سرگرمیاں جاری

    پیٹرولیم مصنوعات سستی، نوٹیفکیشن جاری ہو گیا