Baaghi TV

Tag: اینٹی ایجنگ منصوبہ

  • پیوٹن کا  26 ارب ڈالر  کا اینٹی ایجنگ منصوبہ

    پیوٹن کا 26 ارب ڈالر کا اینٹی ایجنگ منصوبہ

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن مبینہ طور پر ایک بڑے پیمانے پر 26 ارب ڈالر کے ایسے سائنسی منصوبے کی پشت پناہی کر رہے ہیں جس کا مقصد انسانی عمر بڑ ھانے اور اعضا کی تبدیلی کے ذریعے ’لمبی یا ممکنہ طور پر لافانی زندگی‘ کی طرف پیشرفت کرنا ہے،اس منصوبے میں مصنوعی اعضا، جینیاتی علاج اور حیاتیا تی انجینئرنگ جیسے جدید طریقے شامل کیے گئے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ روس میں ایک ریاستی ترجیح کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں انسانی اعضا کی 3D بائیو پرنٹنگ اور جانوروں کے اندر انسانی اعضا تیار کرنے جیسے تجربات شامل ہیں اس پروگرام کے تحت مستقبل میں انسانی اعضا کی مکمل تبدیلی کو اس دہائی کے آخر تک ممکن بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس منصوبے کے تحت انسانی کارٹلیج (غضروف) اور چوہے کے تھائرائیڈ گلینڈ جیسے حیاتیاتی نمونے تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ طویل المدتی مقصد انسانوں کے لیے مکمل اعضا کی تبدیلی کا نظام تیار کرنا ہے منصوبے کی قیادت مبینہ طور پر روسی قیادت سے قریبی تعلق ر کھنے والی شخصیات کر رہی ہیں، جن میں پیوٹن کی بیٹی اور اینڈوکرائنولوجسٹ ماہر ماریا وورونتسووا اور فزکس کے ماہر میخائل کووالچک شامل ہیں، کووالچک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی جسم کی مرمت اور اعضا کی تبدیلی کو مستقبل کی سائنس کا بنیادی ہدف سمجھتے ہیں۔

    تاہم بعض روسی سائنسدانوں نے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے بین الاقوامی سائنسی جرائد میں ہم مرتبہ جائزہ (peer-reviewed) تحقیق موجود نہیں، جس کی وجہ سے ان دعوؤں کو زیادہ تر ’توقعات‘ یا ’مستقبل کے تصورات‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ پیوٹن کی ذاتی دلچسپی طویل عمر اور جسمانی فٹنس کے حوالے سے طویل عرصے سے زیر بحث رہی ہے وہ اسپورٹس اور سخت جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ کریوتھراپی جیسے جدید طریقوں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں، جس میں جسم کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے حالیہ برسوں میں ایک موقع پر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو کے دوران انسانی اعضا کی تبدیلی کے ذریعے لافانی زندگی کے امکانا ت کا ذکر بھی کیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کے پیچھے ایک طرف سائنسی ترقی کا دعویٰ ہے تو دوسری جانب اسے روسی قیادت کی عمر اور اقتدار سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر سائنسی دوڑ کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے تاہم فی الحال اس منصوبے کے نتائج اور اس کی سائنسی بنیادوں پر عالمی سطح پر مزید تحقیق اور تصدیق کی ضرورت برقرار ہے۔