Baaghi TV

Tag: اینکر مبشر لقمان

  • انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل ، اصل حقیقت اور سچائی، آپکے سوال اور  مبشر لقمان کے جوابات

    انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل ، اصل حقیقت اور سچائی، آپکے سوال اور مبشر لقمان کے جوابات

    وی لاگ کے آغاز میں مبشر لقمان نے ناظرین کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے آنے والے سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، اور آڈیو سوالات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پیغام گویا اور واضح رہے۔

    ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ بعض نقطۂ نظر کے مطابق حماس کے بعض اقدامات اسرائیل کو مطلوبہ سیاسی اور عسکری نتیجے دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقی تباہی اور جانی نقصان اصل میں اسرائیلی حملوں سے سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دونوں جانب انسانی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور صورتحال کی پیچیدگی پر زور دیا۔

    پاک-ہند تعلقات اور ممکنہ جنگی منظرنامے
    مبشر لقمان نے کہا کہ اگرچہ نظریاتی طور پر دونوں ملک نیوکلیئر صلاحیت رکھتے ہیں، مگر عالمی سطح پر کوئی بھی طاقت اس حد تک کشیدگی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا تب ابتدائی موبلائزیشن میں 12 تا 15 دن درکار ہوں گے اور اندرونی سیاسی معاملات (مثلاً انتخابی کیلنڈر) اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی طور پر خود کفیل ہے اور ضروری جنگی ضروریات کی بڑی مقدار مقامی صنعتیں فراہم کر رہی ہیں، نیز سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھی ایک اہم عنصر ہے۔

    وی لاگ میں مبشر لقمان نے JF-35 طیاروں کے بارے میں کہا کہ وہ رواں سال نومبر–دسمبر میں پاکستان کو موصول ہونے کی اطلاعات ہیں (بیان صرف وی لاگ میں موجود کلیم تک محدود ہے) اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ موجودہ فضائی اور بحری صلاحیتیں مطلوبہ ردعمل دینے کے قابل ہیں۔

    سی پیک، چین اور علاقائی حکمتِ عملی
    انہوں نے ذکر کیا کہ سی پیک (CPEC) پاکستان کی مفاد میں ہے اور اس کے سبب علاقائی متنازعہ فریقین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصر نے یہ بھی کہا کہ چین نے پہلے ہندوستان کو بھی اسی منصوبے میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، جسے ہندوستان نے قبول نہیں کیا۔

    عوامی ذمہ داریاں: ماحولیات اور پانی کی حفاظت
    مبشر لقمان نے عوامی شراکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دو عملی مشورے دئیے: (1) درخت لگائیں — آکسیجن اور صحت کے لیے مفید، (2) پانی کی بچت کریں — روزمرہ کے غیر ضروری پانی کے استعمال پر قابو پائیں۔ انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ خود ان کے گھر میں بعض چیزیں ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئیں لیکن وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    تحفّے اور رشوت میں فرق
    ناظرین کے سوال پر مبشر لقمان نے واضح کیا کہ تحفہ اور رشوت میں فرق سمجھنا ضروری ہے — سادہ تحفے باہمی تبادلے ہوتے ہیں، جب کہ ایسی چیزیں جو وصول کنندہ واپس نہیں کر سکتا یا جن کا تعلق اختیارات/فوائد کے بدلے میں ہو وہ رشوت کہلائیں گی۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے کہا کہ اگر پاکستان واقعی اسلامی قوانین کے مطابق چلنا چاہتا ہے تو سود (ربا) کا خاتمہ اہم شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سود کا نظام برقرار رہے گا، وہ ملک کو اسلامی ریاست نہیں کہلائے گا — یہ ان کا ذاتی موقف تھا جو انہوں نے ناظرین کے سوال کے جواب میں واضح کیا۔

    غیرقانونی مقیم افغانوں اور شناختی کارڈز
    ایک اور سوال پر انہوں نے غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی بڑھتی ہوئی شکایات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ایسے معاملات پر کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ بعض غیر قانونی حرکات پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ حقیقی پالیسی سازی اور عوامی مسائل کا حل عموماً مقامی حکومتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ انتخابی اصلاحات پر ان کا خیال تھا کہ سیاسی جماعتیں مکمل اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں چونکہ شفاف نظام میں موجود بعض قوتیں متاثر ہوں گی۔

    طالبان کا بگرام ایئربیس امریکا کے حوالے کرنے سے انکار

    کراچی میں ستمبر کے دوران جرائم کی صورتحال، سی پی ایل سی رپورٹ جاری

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

  • پاکستان کرکٹ تباہ،چن چن کر نکمے بھرتی،پی سی بی سرکس، سر شرم سے جھک گئے

    پاکستان کرکٹ تباہ،چن چن کر نکمے بھرتی،پی سی بی سرکس، سر شرم سے جھک گئے

    سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی انتظامیہ پر شدید تنقید کی ہے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جیسی ناتجربہ کار ٹیم کے خلاف بھی غیر تسلی بخش کھیل پیش کیا۔ ان کے مطابق یو اے ای کے کئی کھلاڑی جز وقتی ہیں، کوئی کاریگر ہے، کوئی مزدور ہے، اس کے باوجود انہوں نے قومی ٹیم کو مشکلات میں ڈال دیا، جو شرمندگی کا باعث ہے۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے خاص طور پر پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ انہیں کھیل کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔مبشر لقمان نے کہا کہ انہیں صرف ٹھیکوں اور ترقیاتی منصوبوں کا تجربہ ہے، کرکٹ اور کھلاڑیوں کی مینجمنٹ ان کے بس کی بات نہیں.

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ کو دوبارہ بہتر سطح پر لانے کے لیے کم از کم پانچ سال درکار ہوں گے اور اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو پاکستان کرکٹ پر بین الاقوامی سطح پر مستقل پابندی لگوانے کی نوبت آ سکتی ہے۔سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ نے بھی وی لاگ کے بعد اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن قومی ٹیم کے کھیلنے کا انداز اور انتظامیہ کا رویہ مایوس کن اور تشویشناک ہے۔

    ٹی20 ایشیاء کپ: سری لنکا سے شکست کے بعد افغانستان ٹورنامنٹ سے باہر

    جماعت اسلامی کا غزہ چلڈرن مارچ، حافظ نعیم کو 30 لاکھ کا چیک پیش

    غزہ میں اسرائیلی حملے، مزید 48 فلسطینی شہید

    برطانوی سیکرٹری داخلہ کی غیر قانونی مہاجرین پر کڑی تنقید

    جلال پور پیروالا: سیلابی پانی نکالنے کے لیے ایم فائیو موٹروے پر شگاف ڈالنے کی تجویز

  • چھ مسلم ممالک پر اسرائیلی حملے، قطرڈپلومیسی تو وڑ گئی، اربوں  ڈالر تحائف کام نہ آئے

    چھ مسلم ممالک پر اسرائیلی حملے، قطرڈپلومیسی تو وڑ گئی، اربوں ڈالر تحائف کام نہ آئے

    سنئیر صحافی اور اینکر مبشر لقمان کا اپنے وی لاگ میں کہنا ہے کہ ایک ماہ کے اندر چھ مسلم ممالک پر حملے کے تناظر میں خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق اسرائیل کے تازہ فضائی حملے نے قطر کے سفارتی علاقے کو نشانہ بنایا جس میں حماس کے بعض رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ قطر نے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے جواب کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔فلسطین کے غزہ میں بمباری، لبنان اور شام پر حملے، یمن پر چڑھائی، ایران کو دھمکیاں اور اب قطر میں امریکی اتحادی کارروائی کے الزامات نے مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    مبشر لقمان کے تجزیے کے مطابق یہ حملہ امریکہ کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں تھا، کیونکہ قطر میں امریکی فوج کا سب سے بڑا بیس اور جدید دفاعی نظام موجود ہے لیکن پھر بھی نہ کوئی فضائی دفاعی نظام حرکت میں آیا، نہ ہی کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے میں 15 اسرائیلی جہاز شامل تھے جنہوں نے مختلف عرب ریاستوں کی فضائی حدود استعمال کیں لیکن کہیں سے بھی ان کو روکا نہیں گیا اور نہ ہی کسی نے خبردار کیا۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں اسرائیل نے اردن پر حملہ کرکے گولان ہائٹس پر قبضہ کیا اور اب اردن اپنا پانی اسرائیل سے پیسے دے کر خرید رہا ہے۔ ان کے مطابق قطر کے دفاعی معاہدوں اور جدید ہتھیاروں کے باوجود کوئی مؤثر مزاحمت نظر نہیں آئی۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ عرب ممالک کی فوجی حالت اور سیاسی بے عملی مسلم دنیا کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ان کے مطابق ترکی پر بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن وہ اس سے متفق نہیں کیونکہ ترکی نیٹو رکن ہے اور خود اسلحہ تیار کرتا ہے۔ تاہم اسرائیلی اور امریکی تھنک ٹینک یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ترکی کو دہشت گردوں کی حمایت کا الزام دے کر اس کے خلاف بھی کارروائی کو جواز دیا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا ماضی میں بھی حماس یا فلسطینی قیادت کی شہادتوں پر صرف مذمتی بیانات دیتی رہی ہے لیکن عملی اقدام نہیں کیا۔ ان کے مطابق جب تک اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو اقتدار سے نہیں ہٹتے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا کیونکہ خود اسرائیل کے اندر ان کے خلاف بڑی تحریکیں موجود ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران وہ دو ممالک ہیں جن سے اسرائیل کو خوف ہے کیونکہ یہ دونوں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مبشر لقمان کے بقول اگر قطر پاکستان کی فوجی صلاحیت کا عشرِ عشیر بھی اپنے دفاع پر خرچ کرتا تو اسرائیلی طیارے قطر پہنچنے سے پہلے ہی مار گرائے جاتے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اسرائیل کا قریبی دوست ہے اور نریندر مودی اسی طرح کا کردار جنوبی ایشیا میں ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پاکستان نے اس کا توڑ کیا۔ مبشر لقمان نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عوامی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستانی قوم اکٹھی ہو جاتی ہے۔

    ان کے مطابق قطر پر حملے کے بعد مسلم دنیا میں احتجاجی تحریک ہونی چاہیے تھی لیکن کوئی قابل ذکر ردعمل نظر نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ 1967 کی چھ روزہ جنگ سے جاری عمل کی ایک نئی کڑی ہے اور اگر مسلم ممالک نے اپنا دفاع اور اتحاد مضبوط نہ کیا تو سب کی باری آئے گی۔

    آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ وقت مسلم دنیا کے لیے ایک امتحان ہے اور اب صرف مذمتی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔

  • ہندوستانی اکانومی دھوکہ، ایک ارب لوگ غریب، اڈانی اور امبانی کی موج

    ہندوستانی اکانومی دھوکہ، ایک ارب لوگ غریب، اڈانی اور امبانی کی موج

    معروف صحافی مبشر لقمان نے اپنے حالیہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی معیشت دراصل ایک "معاشی بلبلہ” ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کے حکمران دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور جاپان کو پیچھے چھوڑ چکا ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی ترقی کے دعوے صرف چند امیر کاروباری خاندانوں، خصوصاً امبانی اور اڈانی گروپ، کی دولت کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ عام آدمی کی زندگی میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی 4 ٹریلین ڈالر معیشت صرف کاغذی ترقی ہے جس کا عام عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ احمد آباد کے دوران بھارتی حکومت نے جھگی بستیوں کو چھپانے کے لیے ایک دیوار تعمیر کر دی تاکہ دنیا بھارت کی غربت نہ دیکھ سکے۔ ان کے مطابق یہی وہ منافقت ہے جو بھارتی پالیسیوں کی بنیاد ہے: غربت ختم کرنے کے بجائے غربت کو چھپانے کی کوشش۔

    مبشر لقمان نے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ بھارت میں ایک فیصد امیر طبقہ یورپی معیار کی زندگی گزار رہا ہے، تقریباً 30 کروڑ افراد بمشکل خطِ غربت سے اوپر ہیں، جبکہ ایک ارب سے زائد لوگ افریقی ممالک کی طرح انتہائی غربت اور پسماندگی میں زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے ریسرچ، جدت اور سائنسی تعلیم پر توجہ نہ دی تو جلد ہی یہ معیشت بھی ماضی میں ملائیشیا جیسے ممالک کی طرح "درمیانی آمدنی کے جال” میں پھنس جائے گی۔ لقمان نے کہا کہ جنوبی کوریا نے محنت، تعلیم اور جدت کے اصولوں پر حقیقی ترقی کی، جس کے نتیجے میں آج وہاں فی کس آمدنی 33 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں لاکھوں گریجویٹ پیدا ہوتے ہیں مگر ان میں سے تقریباً نصف روزگار کے قابل نہیں ہوتے۔

    وی لاگ کے اختتام پر مبشر لقمان نے کہا کہ بھارت کا دعویٰ کہ وہ ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے، محض ایک فلمی ڈرامہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں 80 کروڑ افراد آج بھی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ایک وقت کے کھانے پر انحصار کرتے ہیں۔

    بلوچستان کے 5 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ

    شہباز شریف چین کا سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن روانہ

    حیدر علی کی معطلی،پی سی بی کا لائحہ عمل قانونی کارروائی کے بعد طے ہوگا

    میڈرڈ میں تکنیکی خرابی سے ہائی اسپیڈ ٹرین سروس شدید متاثر

    بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح میں اضافہ، مزید پانی آنے کا خدشہ

  • مودی کی تیاریاں تیز، ائیرفورس کے بعد نیوی تیار،سچ بولنے والے گرفتار

    مودی کی تیاریاں تیز، ائیرفورس کے بعد نیوی تیار،سچ بولنے والے گرفتار

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے ولاگ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی بحریہ کراچی سے صرف 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہائی الرٹ پر موجود ہے جبکہ بھارتی فضائیہ بھی ریڈ الرٹ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں دراصل پاکستان کے خلاف ممکنہ جارحیت کی تیاری کا اشارہ ہیں۔

    مبشر لقمان نے دعویٰ کیا کہ افغان سرحد سے تعلق رکھنے والا گروہ، جسے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی پشت پناہی حاصل ہے، نے حالیہ دنوں بنوں میں ایف سی لائنز پر حملے کی کوشش کی۔ پاک فوج اور پولیس کے جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ان کے مطابق یہ گروہ ہافِز گل بہادر سے تعلق رکھتا ہے جو پہلے بھی پاکستان میں حملے کر چکا ہے اور اس وقت افغانستان میں مقیم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور باجوڑ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور سیکڑوں شدت پسند گھیرے میں آ چکے ہیں۔ مبشر لقمان کے مطابق پاک فوج کسی دباؤ میں نہیں آئے گی اور نہ ہی آپریشن روکنے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔

    ولاگ میں مبشر لقمان نے سب سے اہم انکشاف یہ کیا کہ حالیہ سیلاب کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ’’مین میڈ فلڈ‘‘ یعنی انسانی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے جان بوجھ کر ڈیموں میں پانی روکے رکھا اور آخری لمحات میں اسے چھوڑ کر پاکستان اور بھارتی پنجاب دونوں کو تباہی سے دوچار کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی پنجاب کے رکن اسمبلی ہرجیت سنگھ نے اس سازش کو بے نقاب کیا تھا، جس کے بعد مودی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ لیکن گرفتاری کے باوجود اب بھارتی میڈیا اور عوام کھل کر سوال اٹھا رہے ہیں۔ نہ صرف سکھ برادری بلکہ ہندو برادری بھی حکومت کے رویے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق بھارتی حکومت سیلاب اور قدرتی آفات کو پردہ بنا کر دراصل پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کے بقول بھارتی بحریہ کے 13 جنگی بیڑے بحیرہ عرب میں پہنچ چکے ہیں جہاں مگ 29 اسکائی فائٹر طیاروں کی مشقیں کی جا رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ بھی ان مشقوں میں شامل ہے اور یہ سب کچھ کراچی کے قریب ہو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب مکمل طور پر سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے لیکن دہلی حکومت کی طرف سے کوئی مرکزی وزیر متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچا۔ صرف وزیر داخلہ امیت شاہ جموں میں فوجی تنصیبات کا معائنہ کرنے گئے جبکہ عوامی ریلیف کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس رویے نے بھارتی عوام میں مزید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ بھارت کی یہ پالیسیاں خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ان کے مطابق آر ایس ایس اور بی جے پی کی سیاست پاکستان دشمنی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، اسی لیے بھارت ہر حال میں کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    ،ودی

    گنڈا پور کی جرمن سفیر کی ملاقات کے شیڈول پر پی اے کو جھاڑ،آڈیو وائرل

    خیبر پختونخوا سے افغان زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ

    وزیراعلی پنجاب کا مسجد پر اپنی تصویر لگانے کا سخت نوٹس، وضاحت طلب

  • کشتی کی سواری اور فضائی سفر، سب ڈرامے،سیاسی پارٹیوں کو مبشر لقمان کا چیلنج

    کشتی کی سواری اور فضائی سفر، سب ڈرامے،سیاسی پارٹیوں کو مبشر لقمان کا چیلنج

    مبشر لقمان نے اپنے حالیہ وی لاگ میں حکومتی اشرافیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خاندان ملک کو لوٹ کر بیرونِ ملک سیر و تفریح میں مصروف ہیں۔

    انہوں نے خصوصی طور پر مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاپان اور تھائی لینڈ کے دوروں کے بعد سیلاب زدہ علاقوں کا ’’پکنک‘‘ کے انداز میں معائنہ کرنے پہنچیں۔ مبشر لقمان کے مطابق یہ دورے صرف فوٹو سیشن تک محدود ہیں اور ان کی وجہ سے ریسکیو کارروائیاں بھی متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ادارے پروٹوکول میں الجھ جاتے ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ حکومت کو چھ ماہ قبل ہی موسمیاتی وارننگز مل گئی تھیں کہ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں اور سیلاب کا خطرہ ہے، مگر اس کے باوجود غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو روکا نہیں گیا۔ ان کے مطابق چھ ہزار سے زائد غیر قانونی سوسائٹیز زیر تعمیر ہیں جو گرین ایریاز کو تباہ کر رہی ہیں۔

    وی لاگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ اور بل گیٹس فاؤنڈیشن کی امداد پاکستان کے لیے جاری کی گئی، لیکن وفاقی حکومت نے ایم ڈی ایم اے کے ذریعے تقسیم کا اعلان کیا جس کا ڈھانچہ ہی موجود نہیں۔ اس وجہ سے متاثرین تک امداد نہیں پہنچ رہی۔مبشر لقمان نے کہا کہ اس وقت حقیقی اور مخلصانہ امدادی کام صرف پاک فوج، دعوتِ اسلامی اور جماعت الدعوہ جیسے ادارے کر رہے ہیں۔ فوج کے جوان پہلے دن سے ہر صوبے میں سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں جبکہ مذہبی تنظیموں کے رضاکار جان ہتھیلی پر رکھ کر متاثرین تک سامان پہنچا رہے ہیں۔

    وی لاگ کے اختتام پر مبشر لقمان نے مریم نواز سے براہِ راست سوال کیا کہ کیا ’’اتحاد ٹاؤن‘‘ میں ان کے بیٹے اور قریبی خاندان کی بڑی سرمایہ کاری موجود ہے؟ اور کیا حکومت کی جانب سے وہاں اربوں روپے کی اسکیم صرف اس ٹاؤن کی قیمت بڑھانے کے لیے لائی گئی؟ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں‘‘، لہٰذا لوٹ مار بند کر کے عوام کی خدمت کی جائے۔مبشر لقمان نے چیلنج دیا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت آل پارٹیز کانفرنس بلا کر سیلاب متاثرین کے لیے عملی لائحہ عمل دے، تب ہی عوام ان کی سنجیدگی پر یقین کریں گے۔

    80 ارب واجبات،پی ٹی اےکمپنیوں کے لائسنس معطل کردیئے

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نشانے پر ہے، بلاول بھٹو

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نشانے پر ہے، بلاول بھٹو

  • پاک بھارت میچ میں بابر اعظم کی ممکنہ عدم شرکت، اینکر مبشر لقمان نے بڑی خبر سنا دی

    پاک بھارت میچ میں بابر اعظم کی ممکنہ عدم شرکت، اینکر مبشر لقمان نے بڑی خبر سنا دی

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کی آج کے اہم میچ میں شرکت مشکوک ہو گئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور کرکٹ ماہرین میں چہ مگوئیاں جاری ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کی میزبانی میں چمپئینز ٹرافی کھیلی جا رہی ہے جبکہ بھارت کے میچ دبئی منتقل کیے گئے اسی حوالے سے ممتاز صحافی اور اینکر مبشر لقمان نے اپنی ٹویٹس میں اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بابر اعظم چمپئینز ٹرافی کے اہم میچ میں نہیں کھیلتے تو پاکستان یقینی طور پر بھارت کو حیران کر دے گا۔ میرا خیال ہے کہ ان کی موجودگی خود ہی سب کے لیے حوصلہ شکن ہے، بشمول تماشائیوں کے۔”انکا کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ بابر اعظم سر درد اور زکام کی شکایت کر رہے ہیں اور ایک رپورٹر کے مطابق وہ گزشتہ روز ٹیم کے ساتھ پریکٹس کے لیے بھی نہیں آئے۔ اگر یہ سچ ہے تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں کھیل رہے، میں کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا۔”انکا مزید کہنا تھا کہ بابر اعظم آج کے میچ میں شرکت نہ بھی کر سکتے ہیں۔ پاکستانی کیمپ سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے اب تک کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مداحوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر بابر اعظم میچ سے باہر ہو گئے تو ٹیم کی بیٹنگ لائن پر بڑا دباؤ آ سکتا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کا میچ ہمیشہ سے ہی انتہائی اہم اور سنسنی خیز ہوتا ہے۔ شائقین اور ماہرین کو اب پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کے باضابطہ اعلان کا انتظار ہے کہ آیا بابر اعظم میدان میں اتریں گے یا نہیں۔