Baaghi TV

Tag: اینکر پرسن

  • بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر 23 جولائی 1966 کو لاہور میں پیدا ہوئے حامد میر، بین الاقوانی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی اور مدیر ہیں روزنامہ جنگ میں اپنے اردو مضامین اور جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ٹاک (Capital Talk) کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں آزادیِ صحافت کے لیے ان کی بڑی جدوجہد اور کاوشیں ہیں۔ ان کے والد پروفیسر وارث میر بھی بہت بڑے اور بااصول صحافی اور دانشور تھے۔

    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے 1989ء میں ابلاغ عامہ (Mass Communication) میں جامعہ پنجاب لاہور سے ماسٹرز کی سند حاصل کی۔

    صحافتی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حامد میر 1987ء میں مدیر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ لاہور سے منسلک ہوئے اور نامہ نگاری اور اشاعت کے شعبوں سے منسلک رہے۔ 1994ء میں آبدوز کیس مر روزنامہ جنگ میں ایک مکالمہ لکھا۔ اس مکالمہ کے چھپتے ہی انھیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔
    1996ء میں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر اعلیٰ بنے اور پاکستانی صحافت کے سب سے کم عمر مدیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1997ء میں ایک بار پھر انہیں پاکستانی وزیر اعظم پر بد عنوانی پر روزنامہ پاکستان پر مکالمہ لکھنے پر اپنے منصب سے سبکدوش ہونا پڑا۔ 1997ء میں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے بانی مدیر بنے۔

    حامد میر نے دس دن مشرقی افغانستان میں گزارے اور دسمبر 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں سے اسامہ بن لادن کے فرار کی تحقیق کی اور 2002ء میں جیو ٹیلی ویژن میں شمالی علاقہ کے مدیر کی نوکری اختیار کی۔ نومبر 2002ء سے سیاسی گفتگو کے بر نامہ کیپیٹل ٹالک کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آج کل وہ اسامہ بن لادن کی سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں اور روزنامہ جنگ اور دی نیوز(انگریزی: The News) میں ہفت روزہ کالم لکھتے ہیں۔

    قاتلانہ حملہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    19 اپریل 2014ء کو حامد میر نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی کا دورہ کیا۔ کراچی ہوائی اڈے سے جیو کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں ناتھا پل کے قریب ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں حامد میر کو چھ گولیاں لگیں۔ ہسپتال سے خبر کے مطابق اب ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ (اور اب ایک بار پھر عیدالفطر کے بعد حامد میر نے جیو۔ ٹی۔ وی اپنا۔ پروگرام (کیپٹیل ٹاک دوبارہ شروع کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں صحافت اگر کرنی ہو تو اس کے لیے بہت بڑا دل اور ہمت چاہیے۔

    قابل قدر مکالمے
    ۔۔۔۔۔۔
    اور انعامات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 2000ء سے 2002ء تک فرائڈے ٹائمز (Friday Times) اور 2002ء سے 2003ء تک دی انڈیپنڈنٹ (The independent) میں ہفت روزہ کالم لکھتے رہے-

    ۔ بھارتی اخبارات ٹائمز آف انڈیا (Times of India)، آؤٹ لک (Outlook)، دہلی، دی ویک (The Week)، انڈیا، دینک بھاسکر اور Rediff.com میں بھی کالم لکھے-

    ۔ 1996،1997،1998ء میں کل جماعتی اخباراتِ پاکستان (All Pakistan Newspaper Society) کی طرف سے بہترین کالم نویس کا اعزاز حاصل کیا-

    ۔ مارچ 2005ء جودھپور میں صحافت میں امتیازی کارکردگی پر ”ٹرسٹ برائے تعلیماتِ وسیط“ کی جانب سے مہاشری سمان اعزاز
    ۔ وزارت ترقی نسواں، حکومتِ پاکستان کی جانب سے عورتوں کے حقوق کے لیے لکھنے اور بولنے پر اگست 2005ء میں فاطمہ جناح طلائی تمغا حاصل کیا-

    ۔ 1994ء میں روزنامہ جنگ کے لیے اسرائیلی وزیر خارجہ شیمون پیریس سے سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کی-

    ۔ 1997 میں روزنامہ پاکستان کے لیے اور 1998ء میں روزنامہ اوصاف کے لیے اسامہ بن لادن سے مکالمےاور 2001ء میں روزنامہ ڈان کےلیےگفتگو کی۔ آخری ملاقات 9/11 کے بعد کسی بھی صحافی کی ان سےپہلی ملاقات تھی بی بی سی اور سی این این نےاسے بین الاقوامی دھماکا قرار دیا۔ ماہنامہ ہیرالڈ نے اس ملاقات کو اپنے دسمبر 2001 کے شمارے میں سال کا سب سے بڑا دھماکا قرار دیا-

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے ذو الفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفہ پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو 1990ء میں طبع ہوئی بھٹو کی سیاسی پیش گوئیاں اور چوتھا مارشل لا جمہوری پبلیکیشنز لاہور

    کارہائے نمایاں:30 برس کی عمر میں ایڈیٹر مقرر ہوئے اسامہ بن لادن سے تین مرتبہ مکالمہ کیا،فلسطین، عراق، افغانستان، لبنان، چیچنیا، بوسنیا اورسری لنکا کی جنگوں کا احاطہ کیا-

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ہلال امتیاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان کو سالگرہ مبارک

    پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان کو سالگرہ مبارک

    پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے زندگی کی 58 بہاریں دیکھ لیں-

    باغی ٹی وی : سینئر صحافی واینکر پرسن 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں 50 اور 60 کی دہائی کے فلم ڈائریکٹر پروڈیوسر ، لقمان کے ہاں پیدا ہوئے- مبشر لقمان نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔

    سینئر صحافی واینکر پرسن نے بطور میزبان چینل بزنس پلس سے صحافت میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ٹیلی وژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران ، سینئیر اینکر پرسن نے پاکستان کے بہت سے معاشی و معاشی اور سیاسی مسائل کا احاطہ کیا تھا۔ ملک کے متعدد اہم امور کے بارے میں اپنے شاندار موقف کی وجہ سے صحافت کے میدان میں اپنی الگ شناخت بنائی-

    اس کے بعد وہ ایکسپریس نیوز کے پروگرام اور پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ، ایکسپریس نیوز میں بطور میزبان پروگرام پوائنٹ بلینک میں شامل ہوئے ، اور پھر بعد میں دنیا نیوز میں منتقل ہوگئے اور پروگرام کھری بات ود لقمان کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے-

    اس کے بعد انہوں نے کھرا سچ کی میزبانی میں اے آر وائی نیوز میں شمولیت اختیار کی ، جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کے کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔

    مبشر لقمان نہ صرف ایک مایہ ناز اور پاکستان کے صف اول کے صحافی بلکہ انہوں نے شوبز میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں اور انہوں نے کئی سال تک پاکستان کی اشتہاری صنعت میں کام کیا اور کوکا کولا ، نیسلے اور بہت سے دوسرے ممالک سمیت پاکستان کے اعلی مقامی اور ملٹی نیشنل برانڈز کے اشتہار کے لئے اپنی اسکرپٹ کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ اس کے بعد ، مبشر لقمان نے اپنی ایک پروڈکشن کمپنی قائم کی جس نے پاکستان کے ٹیلی وژن چینلز کے لئے سافٹ ویئر اور مواد تیار کیا تھا۔

    بعد ازاں انہوں نے ریشم اور علی تابش کی اداکاری میں 2006 میں فلم پہلا پہلا پیار کی ہدایتکاری بھی کی صرف یہی نہیں مبشر لقمان 2007 اور 2008 میں انفارمیشن ٹکنالوجی ، مواصلات پنجاب کےنگران وزیربھی رہے اور اب فی الحال وہ پی این این میں ایک ٹاک شو کھرا سچ کی میزبانی کررہے ہیں جو رواں برس کے آغاز پرٕ دوبار ہ شروع کیا گیا ان کا پروگرام کھرا سچ عوام میں مقبول ترین پروگراموں میں سے ہے ۔

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر HBD_Mubasherlucman ٹرینڈ میں مداحوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے-

     

    https://twitter.com/umesalma_/status/1480589562468610058?s=20

    https://twitter.com/CCtheLegendd/status/1480589893256585220?s=20

    https://twitter.com/jnab__/status/1480593580309708801?s=20