Baaghi TV

Tag: این او اے اے

  • گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن(این او اے اے ) نے کہا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے بعد سب سے طاقتور شمسی طوفان جمعہ کے روز زمین سے ٹکرایا جس کے بعد تسمانیہ سے برطانیہ تک آسمان پر روشنیوں کو دیکھا گیا ، برطانیہ کے مختلف علاقوں میں آسمان پر سبز اور جامنی رنگ نمایاں دیکھا گیا۔

    این او اے اے سورج سے تیز نکلنے والے مادے زمین کی فضا ٹکرائے ہیں جس کے اثرات رواں ہفتے کے اختتام تک جاری رہیں گے،جس کے باعث بجلی کے گرڈز اور سیٹلائٹ مواصلات میں خلل پیدا ہوا، دنیا کے کچھ حصوں میں ٹکراؤ کے سبب نکلنے والی روشنی کے مناظر بھی دیکھے گئے۔

    ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کا ضلع لسبیلہ میں ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

    رپوٹ کے مطابق شمسی طوفان سے اخراج کرنے والے ارضیاتی مقناطیسی طوفان جی فائیو لیول تک بڑھ چکا ہے، جس کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے جی پی ایس، اسپیس کرافٹ، سیٹیلائٹ و دیگر ٹیکنالوجیز متاثر ہو سکتیں ہیں، آنے والے دنوں میں اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے میں مزید شمسی اخراج متوقع ہیں،امریکی ادارے نے مدار میں موجود پاور پلانٹس اور خلائی جہازوں کے آپریٹرز کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل2003 میں شمسی طوفان کے باعث سویڈن میں بلیک آؤٹ ہوا تھا جبکہ جنوبی افریقہ میں بجلی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے شدید متاثر ہوئے تھے۔

    عمران خان بھی کہتے ہیں بات چیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،عارف علوی

  • زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ جاری

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ جاری

    سمندری درجہ حرارت میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: سائنسدانوں نےخبردار کیا ہے کہ زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق سمندری درجہ حرارت میں حالیہ ہفتوں کے دوران بجلی کی سی تیز رفتاری سے ہونے والا اضافہ غیر معمولی ہے جس کی وضاحت ابھی کرنا ممکن نہیں –

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

    یہ ڈیٹا سیٹلائیٹس اور دیگر ذرائع سے حاصل کیا گیا اور دریافت ہوا کہ سمندری درجہ حرارت میں گزشتہ 42 دن کے دوران مسلسل اضافہ ریکارڈ ہوا ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ رواں سال دنیا کو ایل نینو کی موسمیاتی لہر کا سامنا ہوگا ۔

    ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہےاس کے برعکس لانینا کے دوران وسطی اورمشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہےمارچ اور اپریل کے دوران سمندری درجہ حرارت میں عموماً کمی دیکھنے میں آتی ہے مگر اس سال کچھ غیر معمولی ہوا ہے۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    برٹش انٹارٹک سروے کے پروفیسر مائیک میریڈیتھ نے بتایا کہ اس دریافت نے سائنسدانوں کو سر کھجانے پر مجبور کر دیا ہے، درحقیقت سمندروں کا گرم ہونا ایک حقیقی سرپرائز اور تشویشناک امر ہے، ابھی یہ معلوم نہیں کہ ایسا مختصر المدت کے لیے ہوا ہے یا کسی سنگین بحران کا آغاز ہوا ہے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، مگر سمندری درجہ حرارت میں اضافہ موسمیاتی پیشگوئیوں سے کہیں زیادہ ہے، تاہم ابھی ہم نہیں جانتے کہ اصل واقعہ کیا ہے-

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے

    سمندری درجہ حرارت میں اضافہ متعدد وجوہات کے باعث تشویشناک ہے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ زیادہ درجہ حرارت پر سمندری پانی اوپر کی جانب جاتا ہے جس سے سمندری سطح میں اضافہ ہوتا ہےاسی طرح قطبین کا گرم پانی برفانی میدانوں کے پگھلنے کا عمل تیز کر دیتا ہے اور زیادہ درجہ حرارت سے سمندری ماحول بھی متاثر ہوتا ہے کچھ سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ یہ ایک علامت ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں توقع سے زیادہ تیز رفتاری سے ہو رہی ہیں۔

  • دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی جانب سے ابتدائی ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث بحری ہیٹ ویوز عام ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: این او اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ اپریل 2023 کے آغاز میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.1 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جس نے 2016 میں قائم ہونے والے 21 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا، یہ نیا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    سائنسدانوں نے بتایا کہ 3 سال تک لانینا نے بحر الکاہل کے درجہ حرارت کو دبانے میں مدد فراہم کی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے اثرات سے بچایا، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس سال ممکنہ ایل نینو لہر کی جانب اشارہ ہے۔

    این او اے اے کے محقق ڈاکٹر مائیک میکفیڈن نے بتایا کہ لانینا لہر اختتام کے قریب ہے جس نے دنیا بھر میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیا تھا،لانینا کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے،اس کے برعکس ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    این او اے اے کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سمندری سطح میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2014 سے 2016 کی ایل نینو لہر میں دیکھنے میں آیا تھا۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    قبل ازیں مارچ 2023 میں سائنسدانوں نے پہلی بار سمندر کی گہرائی میں بھی ہیٹ ویوز کو دریافت کیا تھا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثرقرار دیا تھا اس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

    این او اے اے کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویوز سے دنیا بھر کے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے سمندروں کی گہرائی میں پانی کے درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    واضح رہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔

    گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہونے والا ہے،یہ انتباہ برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ درحقیقت 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے 2023 درجہ حرارت کے حوالے سے ریکارڈ توڑنے والا سال ثابت نہ ہو مگر عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں وہ بہت گرم ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر Nick Dunstone نے کہا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران لانینا کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوئے تھے لانینا نے عارضی طور پر اوسط عالمی درجہ حرارت کو کم کیا، مگر 2023 کے لیے ہمارے موسمیاتی ماڈل سے لانینا کے اثر کے خاتمے کا عندیہ ملتا ہے، جس کے باعث اگلا سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.08 سے 1.32 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    اگر رواں سال 2023 کے بارے میں برطانوی سائنسدانوں کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مسلسل 10 واں سال ہوگا جب درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں کم از کم ایک سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار