Baaghi TV

Tag: این اے 240

  • کراچی:این اے 240 کے ضمنی الیکشن کے بعد سندھ میں  بڑی سیاسی تبدیلی کی تیاری

    کراچی:این اے 240 کے ضمنی الیکشن کے بعد سندھ میں بڑی سیاسی تبدیلی کی تیاری

    غیر مقامی سیاسی جماعتوں کو کراچی کے الیکشن میں شکست کیسے دی جائے کراچی کی مقامی جماعتوں نے حکمتیں عملی پر کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : کراچی کے حلقے این اے 240 کے ضمنی الیکشن کے بعد سندھ میں بڑی سیاسی تبدیلی کی تیاری ہو رہی ہے، پی ایس پی قیادت اور کراچی کی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنمائوں کے درمیان رابطے تیز ہو گئے-

    دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اور احتجاج پر غور کیا جا رہا ہے پی ایس پی قیادت نے اتوار کو ہنگامی جنرل ورکز اجلاس طلب کرلیا-

    زرائع کے مطابق کارکنان اجلاس میں پی ایس پی قیادت اہم اعلانات کرے گی کراچی کی اہم سیاسی جماعتوں نے غور کرنا شروع کر دیا کہ آئندہ الیکشن میں اتحاد کیسے ممکن ہوگا –

    رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

  • ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما

    ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما

    کراچی: ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما نے نتائج ماننے سے انکار کردیا ،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے مرکزی رہنما اور ممبر سندھ اسمبلی مفتی قاسم فخری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پھرسسٹم بٹھا دیا گیا اور45 مںٹ تک نتائج کو روکا گیا ،

    مفتی قاسم فخری کا کہنا تھا کہ 302 پولنگ سٹیشن تک ہم جیت رہے تھے پھر اچانک سسٹم رک گیا 45 منٹ بعد جب دوبارہ چلا تو تحریک لبیک کو دوسرے نمبر پر کر دیا گیا ،

    ادھر غیرسرکاری اورغیرحتمی نتائج کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کےمحمدابوبکر10683 ووٹ لےکرجیت گئے ہیں جبکہ تحریک لبیک کےشہزادہ شہباز 10618 ووٹ لےکردوسرے نمبرپر ہیں ، ادھرکراچی سے اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیوایم اپنی فتح کا جشن منارہی ہے،جبکہ ٹی ایل پی نے نتائج ماننے سے انکارکردیا ہے

    299 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے بعد سسٹم کا رک جانا تشویش کا باعث ہے ۔ہم جیت چکےتھے لیکن اب ہماری جیت چھیننے کی کوشش ہورہی ہے جسے ہرصورت ناکام بنائیں گے،ان خدشات کااظہارتحریک لبیک پاکستان کے مرکزی رہنما مفتی قاسم فخری نے ایک ٹویٹ کے ذریعے عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی ہے

    مفتی قاسم فخری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے اندهیرے میں نتائج کی تبدیلی کسی صورت برداشت نہیں کی جاۓ گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا تو لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔

    ادھر کراچی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ 309 میں سے 299پولنگ اسٹیشنزکاغیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ اس وقت سامنے آیا ہےجس کے مطابق تحریک لبیک کےشہزادہ شہباز 10272 ووٹ لےکرپہلے نمبرپر ،ایم کیوایم پاکستان کےمحمدابوبکر10261 ووٹ لےکردوسر ے نمبرپر، مہاجرقومی موومنٹ کےرفیع الدین فیصل8233 ووٹ لےکرتیسرےنمبرپر موجود ہیں‌

    این اے 240 کی نشست پر ضمنی الیکشن میں ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے، اس دوران ایم کیو ایم پر تحریک لبیک پاکستان کو برتری حاصل ہے جبکہ دن بھر کشیدگی دیکھی گئی اور فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق این اے 240 کے ضمنی الیکشن میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلا کسی تعطل کے جاری رہی، پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری سکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دو سیاسی جماعتوں میں تصادم ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑے کے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پر قابوپالیا۔

    کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے جبکہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے

    کراچی ضمنی انتخابات، حافظ سعد رضوی کی گاڑی پر فائرنگ

     

    پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    یاد رہے کہ یہ نشست ایم کیوایم پاکستان کےاقبال محمدعلی خان کےانتقال پرخالی ہوئی تھی۔

    این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

  • این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    کراچی:کراچی کے حلقے این اے 240 ضمنی انتخاب کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی، لانڈھی میں فائرنگ کے بعد پولنگ اسٹیشن نمبر 53 سے پولنگ کا عملہ بھاگ گیا، عملہ غائب ہونے پر نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سے تین زخمیوں کو نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، پانچ زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیاگیا ہے جن میں سے ایک کا انتقال ہوا۔

    خیال رہے کہ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔ ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم پاکستان ، پاک سرزمین پارٹی و دیگر جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔
    کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری اسکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دوسیاسی جماعتوں میں تصادم ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنےکے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑےکے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پر قابوپالیا۔

    ادھر لانڈھی نمبر 5 زمان آباد میں پریزائیڈنگ آفیسر اور سیاسی جماعت کے کارکن کو پولیس نے گرفتارکرلیا، دونوں افراد کےخلاف جعلی ووٹ کاسٹ کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔

    ریجنل الیکشن افسرکے مطابق پولنگ اسٹیشن نمبر 87 پر پولنگ بک کی مبینہ ہیر پھیر کا واقعہ سامنے آیا، واقعہ پریزائیڈنگ افسرکےدفتر میں پیش آیا، جہاں پولنگ بک رکھی تھی وہاں نامعلوم شخص آیا اور پولنگ بک کھڑکی سےکسی کو دینےکی کوشش کی، پولیس اہلکار نے اس شخص کو پکڑ لیا اورپولنگ بک لے لی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 کی خالی نشست پر پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی جس میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    متحدہ قومی موومنٹ کے ابوبکر، مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل، پاک سرزمین پارٹی کے شبیر قائم خانی، پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری سمیت 25 امیدوار میدان میں ہیں جب کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔

    اس سے پہلے ٹی ایل پی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیاتھا کہ لانڈھی گوشت مارکیٹ پولنگ اسٹیشن نمبر1 ایم کیو ایم کی جانب سے جعلی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جس میں پریزائیڈنگ افسر بھی ملوث، ایک سیاسی جماعت کے کارکنان نے بیلٹ باکس پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    اس حوالے سے ٹی ایل پی کے ذرائع کا کہنا ہےکہ کراچی ضمنی الیکشن این اے 240 میں ٹی ایل پی ضلع جنوبی کے امیر علامہ سلطان مدنی نے ایم کیو ایم کے کارکن کو بیلٹ پیپرز چوری کرنے پر پولیس کے حوالے کیا ہے ، ٹی ایل پی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پریذائیڈنگ افسر کو بھی پولیس کے حوالے کیا گیا.

    ادھر اطلاعات کے مطابق کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    اس حلقے میں پولنگ اسٹیشن نمبر 66 اور 67 پر ووٹنگ سست روی کا شکار ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی تھی،حماد اظہر

    پریذائیڈنگ آفیسر کے مطابق پولنگ اسٹیشن 66 اور 67 پر ووٹرز کی آمد کا سلسلہ سست ہے، امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی آمد میں تیزی آئے گی۔این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ڈی آر او ندیم حیدر نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    اس موقع پر ڈی آر او ندیم حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حلقے میں 203 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں، جہاں پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام پولنگ اسٹیشنز میں تیاریاں مکمل ہیں، جبکہ حکومت نے اس حلقے میں آج چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق حلقے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
    قومی اسمبلی کے مذکورہ حلقے میں لانڈھی اور کورنگی کے علاقے شامل ہیں، تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر و باہر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے۔ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں گزشتہ روز ہی پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا تھا۔

    حلقہ این اے 240 میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد ووٹرز ہیں، 309 پولنگ اسٹیشنز اور 1236 پولنگ بوتھس قائم کیے گئے ہیں۔

    اس حلقے میں 106 پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دیئے گئے ہیں۔انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز اور 812 پولنگ بوتھس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی نشست ایم کیو ایم کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 25 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

    https://twitter.com/WaqasJuttReal/status/1537335249264328706

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے امیدوار محمد ابوبکر اپنی جماعت کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل اور پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے شبیر قائم خانی ان کے مقابلے میں موجود ہیں۔

    قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریکِ لبیک پاکستان کے کاشف قادری بھی ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی مقابلے میں شامل نہیں۔

  • کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 میں پولنگ کا عمل جاری ہے پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

    باغی ٹی وی : حلقےمیں کل 309 پولنگ اسٹیشن قائم کیےگئےہیں 5 لاکھ 29 ہزار 855 افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے حلقہ این اے 240 پرضمنی انتخاب کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس کے ساتھ سندھ رینجرز بھی سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    مریم نواز اورعمران خان کا آج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونے کا امکان

    ضمنی انتخاب کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس کے خصوصی دستے بنائے گئے ہیں۔ کراچی پولیس کے 1500 سے زائد اہلکار الیکشن کے دوران سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) کے امیدوار محمد ابوبکر اپنی جماعت کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل اور پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے شبیر قائم خانی کے درمیان مقابلہ ہے قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتنے کے لئے پیپلزپارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری بھی میدان میں اترے ہیں جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

    وفاقی وزیر سالک حسین کا پاک ترک بزنس کونسل کا دورہ

    ضمنی انتخاب کے لئے حلقے میں گزشتہ روز ہی پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا تھا۔ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

    6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے :نصراللہ ملک

  • کراچی ضمنی الیکشن،جوڑتوڑجاری،پی پی اورایم کیوایم کےدرمیان سخت مقابلہ

    کراچی ضمنی الیکشن،جوڑتوڑجاری،پی پی اورایم کیوایم کےدرمیان سخت مقابلہ

    کراچی :کراچی ضمنی الیکشن،جوڑ توڑ جاری،پی پی اورایم کیوایم کے درمیان سخت مقابلہ ،اطلاعات کے مطابق سیاسی ماحول ایک بارپھر گرم ہے اورسیاست کے ایوانوں میں جہاں ایک طرف دوستیاں ہیں تو وہاں دوسری طرف حلقے کی سیاست میں انتہائی مخالفت بھی جاری ہے، کچھ ایسا ہی کراچی میں ہورہا ہے جہاں ایک مرنے والے قومی اسمبلی کے رکن کے حلقے میں ضمنی الیکشن ہونے جارہا ہے ،کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے240 پر کل ضمنی الیکشن ہوگا تاہم پولنگ سے چند گھنٹے قبل متعدد امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    ذرائع کے مطابق کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 240 سے ایم کیو ایم پاکستان کے رُکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی نشست پر پر کل ضمنی الیکشن ہوگا تاہم پولنگ سے ایک روز قبل بھی جوڑ توڑ جاری ہے اور متعدد آزاد امیدواروں نے دستبرداری اور کئی سیاسی جماعتوں اور برادریوں نے انتخابی میدان میں موجود امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق عجیب صورتحال ہے، وہ پارٹیاں‌ اس وقت پارلیمنیٹ میں موجود ہیں وہ وہاں توایک دوسرے کا دم بھررہی ہیں لیکن حلقے میں ایک دوسرے کی مخالفت کررہے ہیں

    الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندی: قومی اسمبلی میں نشستیں کم ہوگئیں

    کراچی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آزاد امیدوار عمیر علی انجم ایم کیو ایم امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار نعیم حشمت نے بھی دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف)، مئیو برادری اور قریشی برادری نے اس حلقے سے ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ایک اورآزاد امیدوار شاہین خان نے مہاجر قومی موومنٹ کے امیدوار کے حق میں دستبرداری کا اعلان کردیا ہے، دوسری جانب مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے امیدوار ناصر لودھی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

    دستبرداری اور حمایت کے اعلان کے بعد اب حلقے میں 6 سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سمیت 15 آزاد امیدوار میدان میں باقی رہ گئے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق مذکورہ حلقے میں حلقےمیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، مہاجر قومی موومنٹ اور ٹی ایل پی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    بلاول کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 30روز میں فیصلے کا حکم

    واضح رہے کہ کل این اے 240 پر ہونے والے ضمنی الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتظامات مکمل کرنے کے بلند وبانگ دعوے کئے گئے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔پولنگ سامان کی ترسیل کے لئےحاصل ٹرانسپورٹ ناکافی ہونے کے باعث عملہ انتخابی مواد اپنی مدد آپ کے تحت متعلقہ پولنگ اسٹیشن لے جارہاہے،کل ہونے والے ضمنی الیکشن میں امن وامان کی صورت حال کوبہترکرنےکے لیے متعلقہ سیکورٹی حکام کوشاں ہیں