Baaghi TV

Tag: این اے 245

  • عامر لیاقت کی نشست این اے 245  قومی اسمبلی کی مدت کے اختتام تک خالی رہے گی

    عامر لیاقت کی نشست این اے 245 قومی اسمبلی کی مدت کے اختتام تک خالی رہے گی

    عامر لیاقت حسین کی موت سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست این اے 245 کراچی موجودہ قومی اسمبلی کی مدت کے اختتام تک خالی رہے گی-

    باغی ٹی وی : دی نیوزکے مطابق قومی اسمبلی کی نشست این اے 245 کراچی موجودہ قومی اسمبلی کی مدت کے اختتام تک خالی رہے گی-
    جہاں پی ٹی آئی کے محمود مولوی گزشتہ ہفتے انتخابی معرکے میں منتخب ہوئے تھے۔

    عمران خان کے حق میں ٹوئیٹ کرنے والی ‘انسانی حقوق’ کی تنظیم بھارتی پراپیگنڈا نکلا

    رپورٹ کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی کے تین ارکان قومی اسمبلی نے رکنیت کا حلف اٹھانا تھا لیکن انہوں نے اس کا انتخاب نہیں کیا اگر منتخب اراکین رکنیت کا حلف اٹھاتے ہیں اور پارٹی کی پالیسی کے مطابق انہیں استعفیٰ دینا پڑے تو ان کی متعلقہ نشستیں دوبارہ خالی ہو جائیں گی اور پارٹی کو الیکشن لڑنا پڑے گا۔

    رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگرعمران خان اپنے اعلان کے مطابق 9 نشستوں سے الیکشن لڑیں اور اگر وہ واپس آجائیں تو یہ نشستیں قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک خالی رہیں گی۔

    پی ٹی آئی نےرواں سال اپریل میں این اے 33 ہنگو (کے پی کے) کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی جہاں ندیم خان خیال کامیاب امیدوار کے طور پر واپس آئے جنہوں نے رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا جب کہ اس دوران قومی اسمبلی کے تین اجلاس ہو چکے ہیں، وہ پی ٹی آئی کے مرحوم رکن خیال الزمان کے بیٹے ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے واپس آنے والے امیدوار کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا تھا۔

    اقوام متحدہ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟،فضل الرحمان

    ذرائع کے مطابق کراچی سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے انتخاب کا نوٹیفکیشن آئندہ ہفتے جاری ہونے کا امکان ہےمحمود مولوی بھی ندیم خیال کی طرح رکنیت کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی ایک اور رکن قومی اسمبلی آسیہ عظیم چوہدری پارٹی کی پالیسی کے مطابق حلف نہیں اٹھائیں گی۔

    وہ پنجاب سے خواتین کی نشستوں پر منتخب ہونے والی ڈاکٹر شیریں مزاری کی خالی کردہ نشست پر ایم این اے بنیں۔ انہوں نے 9 اپریل کو اپنا استعفیٰ پیش کیا اور بعد میں اسے قومی اسمبلی کے اسپیکر نے قبول کرلیا۔ خالی ہونے والی نشستوں کے حلقے این اے کے آخری دن تک NA میں نمائندگی نہیں کریں گے، اس حقیقت کے باوجود کہ انہوں نے 2018 سے اپنی نمائندگی کے لیے اپنے اراکین کو دو مرتبہ منتخب کیا تھا۔

    پی ٹی آئی کے فیک اور خفیہ اکاؤنٹس میں کاروباری گروپس نے کروڑوں روپے چندہ دیا ،ایف آئی اے

  • این اے 245 :پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کومنہ کی کھانی پڑی

    این اے 245 :پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کومنہ کی کھانی پڑی

    کراچی:این اے 245 :پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کومنہ کی کھانی پڑی ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پراس وقت ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں کراچی کے حلقہ این اے 245 میں ہونے والی ضمنی انتخاب میں‌ پولنگ کے دوران پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی پولنگ اسٹیشن کے اندرموجودگی پرسخت احتجاج کیا جارہا ہے

    اس حوالےسے منظرعام پرآنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی رکن اسمبلی فردوس شمیم نقوی ایک پولنگ اسٹیشن کے اندرآتے ہیں دھر لیے جاتے ہیں اوراس دوران دوسری پارٹی کے ورکرز فردوش شمیم نقوی کو پولنگ اسٹیشن کے اندرآنے پرآڑے ہاتھوں لیتے ہیں ،

    سولجر بازار کے پولنگ اسٹیشن پر پی۔ٹی- آئی کے فردوس شمیم نقوی بلا جواز پولنگ اسٹیشن میں جاکر عملے کو ہراساں کر رہیں تھے جس پہ عوام نے فردوس شمیم کی درگت بنادی

    یہ سیاسی ورکرز فردوس شمیم نقوی کے سامنے کھڑے ہوکربار بار یہ کہتے ہیں کہ یہ پی ٹی آئی کے ممبرصوبائی اسمبلی فردوس شمیم نقوی ہیں جن کوپولنگ اسٹیشن کے اندرجانے کا کوئی حق نہیں مگرپھر بھی وہ پولنگ اسٹیشن میں جاکراثرانداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں اس دوران فردوس شمیم نقوی بھی بحث کرتےہیں اوریوں یہ بحث شدت اختیار کرجاتی ہے ،

     

     

    اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فردوس شمیم نقوی اس کشمکش کے دوران اپنی گاڑی میں بیٹھ کروہاں سے چلے جاتے ہیں

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دوسری سیاسی جماعت کے ورکروں کا کہنا تھا کہ فردوس شمیم نقوی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ پولنگ اسٹیشن کے اندر جائیں ،ویسے بھی وہ اس علاقے سے تعلق نہیں رکھتے ، اس لیے ان کی اس طرز عمل کی مخالفت کی گئی

     

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقے اين اے دو سو پينتاليس ( NA 245 ) ميں ضمنی اليکشن آج بروز اتوار 21 اگست کو ہو رہا ہے، جس کیلئے پولنگ کے وقت کا آغاز ہوگيا، جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

    ايم کيوايم، پی ٹی آئی، پی ایس پی، ٹی ایل پی اور فاروق ستار سميت پندرہ اميدواروں ميں سخت مقابلہ متوقع ہے۔ ضمنی انتخاب میں 8 آزاد امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں، جس میں فاروق ستار بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ نشست پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر عامر لياقت کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی

  • این اے 245 ضمنی انتخاب؛ کس کا پلڑا کتنا بھاری؟عوام کس کو پسند کرتے ہیں:کل پتے لگ جان گے

    این اے 245 ضمنی انتخاب؛ کس کا پلڑا کتنا بھاری؟عوام کس کو پسند کرتے ہیں:کل پتے لگ جان گے

    کراچی :کل اتوارکو کراچی کے حلقے NA245 میں ضمنی الیکشن کا معرکہ سجنا ہے۔ پہلے سے ہرکوئی اپنی مرضی کی پیشن گوئی کررہا ہے ، مگرجیتے گا کون اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ، اس حلقے کے نتائج کئی حوالوں سے ملک کی 2 سیاسی جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔

     

     

    کراچی کے یہ  حلقہ این اے 245 ضمنی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے، قومی اسمبلی کے حلقے میں سخت مقابلے کی توقع ہے کراچی میں موسلا دھار بارش،سیلابی صورتحال اوراس سے پہلے عیدالاضحیٰ اور دیگر عام تعطیلات کے باعث انتخابی مہم شدید متاثرہوئی ہے، بارش آج بھی ہورہی ہے مگرکل اگرموسم خراب رہا تو جواپنے ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن پر لانے میں کامیاب رہا وہ الگے مرحلے میں بھی کامیاب ہوسکتا ہے

     

     

    ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کو مرکز میں مخلوط حکومت میں اپنے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ نشست ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار کو 56 ہزار 673 ووٹ لے کر شکست دی تھی جبکہ ستار کے 35 ہزار 429 ووٹ تھے۔

    ان انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے محمد احمد رضا نے 20 ہزار 737 ووٹ، ایم ایم اے کے سیف الدین نے 20 ہزار 143 ووٹ، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ طارق نذیر نے 9 ہزار 682 ووٹ، پی ایس پی کے ڈاکٹر صغیر احمد نے 6 ہزار 222 ووٹ حاصل کیے۔ احمد نے 890 ووٹ، اے این پی کی ثمینہ ہما میر نے 606 ووٹ، آزاد امیدوار سلیم سچوانی نے 996 ووٹ، ارشد علی نے 569 ووٹ، محمد جمیل نے 524 ووٹ، عبدالخورشید خان نے 183 ووٹ اور عبدالانیس خان نے 80 ووٹ حاصل کیے۔

    اس حلقے میں 166,869 ووٹ ڈالے گئے۔ جن میں سے 2,866 کو باطل اور 164,003 کو درست قرار دیا گیا۔ انفرادی اعداد و شمار کے مطابق مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت نے ایم کیو ایم کے امیدوار کو 21 ہزار 244 ووٹوں سے، ٹی ایل پی کے امیدوار کو 35 ہزار 936 اور ایم ایم اے کے امیدوار کو 36 ہزار 530 ووٹوں سے شکست دی تھی۔

    21 اگست کو ہونے والے اس ضمنی انتخاب میں این اے 245 کی نشست کے لیے سترہ امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں پی ٹی آئی کے محمود باقی مولوی، ایم کیو ایم کے معید انور، ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا اور پی ایس پی کے سید حفیظ الدین نمایاں ہیں۔

    پی پی پی کے محمد دانش خان اور جے یو آئی کے امین اللہ نے اپنے امیدواروں کو واپس لے لیا اور پی ڈی ایم اتحاد کے فیصلے کے مطابق ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں‌

    اس سے پہلے ایم کیوایم یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ اس سے یہ حلقہ چھینا گیا ، 2018 کے انتخابات میں کراچی میں اس کا مینڈیٹ چرایا گیا تھا، لیکن اب ایم کیو ایم کو اپنے دعوے کی حقیقت کا علم ہوجائے گا کہ کیا واقعی یہ حلقہ چھینا گیا تھا یا لوگوں نے پی ٹی آئی کو وو ٹ دیا جس طرح اس الیکشن میں بھی یہی خیال کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی یہ سیٹ جیت سکتی ہے

    ایم کیوایم اب مکمل طور پر تقسیم ہوچکی ہے اور اس حلقے میں ایم کیو ایم کے چار دھڑوں کے اپنے اپنے امیدوار ہیں‌،لائنز ایریا جہاں اردو بولنے والوں کی اکثریت رہتی ہے وہاں اس بار آفاق احمد نے اپنا مضبوط امیدوار کھڑا کیا ہے جبکہ مصطفی کمال بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

    محمود مولوی علی زیدی کے قریبی دوست ہیں ۔ پیسہ اچھا خاصا خرچ کیا جارہا ہے ۔امید کی جارہی ہے کہ محمود مولوی اس وقت ایم کیوایم کی تقسیم کی وجہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اورپی ڈی ایم کی حمایت بھی شاید ایم کیوایم پاکستان کو یہ سیٹ نہ جتوا سکے

     

    جہاں تک تعلق ہے ٹی ایل پی کا تو 2018 میں تحریک لبیک 22 ہزار ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی۔مگراس وقت یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اصل مقابلہ ٹی ایل پی اور پی ٹی آئی میں ہو ،مقامی حالات کا جائزہ لینے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حلقے میں تین جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ ہو

     

     

    این اے 245 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار ہے ، جن کے لئے 263 پولنگ اسٹیشن اور 1052 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔

    263 میں 203 پولنگ اسٹیشز کو انتہائی حساس اور باقی کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

    ضمنی انتخاب کو ہر صورت غیر جانبدار، شفاف اور پُر امن بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ فوج اور رینجرز کو انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات کیا جائے گا۔

  • ضمنی انتخاب؛ این اے 245 کے تمام پولنگ اسٹیشنز حساس قرار

    ضمنی انتخاب؛ این اے 245 کے تمام پولنگ اسٹیشنز حساس قرار

    کراچی :قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245 کے 203 پولنگ اسٹيشن انتہائی حساس اور 60 حساس قرار ديے گئے ہيں۔یاد رہے کہ معروف اینکر اور سیاستدان عامر لیاقت حسین کے انتقال کے بعد کراچی کے حلقہ این اے 245 کی سیٹ خالی ہوئی تھی، جس پر 21 اگست کو ضمنی انتخاب شیڈول ہے۔

    قومی اسمبلی کے حلقہ حلقے ميں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار ہ، جن کے حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے 263 پولنگ اسٹيشن قائم کيے گئے ہيں۔

    حلقہ 245 کے 203 پولنگ اسٹيشن انتہائی حساس اور 60 حساس قرار ديے گئے ہيں، اور ایک بھی پولنگ اسٹیشن نارمل قرار نہیں دیا گیا۔

    انتخابی مہم ، پاک سر زمین پارٹی کے قائدین کی این اے 249 کی خاص برادریوں سے

    حلقے میں نشتر بستی، پی آئی بی کالونی، جمشید روڈ، جہانگیر روڈ، مارٹن کوارٹرز، کلیٹن کوارٹرز، پی سی سی ایچ ایس، طارق روڈ، خدا داد کالونی، لائنز ایریا، جٹ لائن، بزرٹا لائن، اے بی سینیالائن،سولجر بازار، پٹیل پاڑہ، گارڈن ایسٹ، نیو ٹاؤن، لسبیلہ چوک، پاکستان کوارٹرز جیسے گنجان آباد علاقے شامل ہیں۔

    این اے 245 کا ضمنی الیکشن،فاروق ستار بھی میدان میں آگئے

    ادھر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245 میں پیپلز پارٹی کے بعد جمعیت علمائے اسلام (جےیوآئی) کے امیدوار بھی ایم کیو ایم کے حق میں دستبردار ہوگئے۔آج ایم کیوایم کا وفد جے یو آئی کے امیدوار امین اللہ کی رہائش گاہ پہنچا تھا جس میں خواجہ اظہار الحسن اور این اے 245 سے ایم کیوایم کے امیدوار معید انور شامل تھے۔

    این اے 245 کا ضمنی انتخاب،جی ڈی اے نے فاروق ستار کی حمایت کا اعلان کر دیا

    ملاقات کے بعد جے یو آئی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ رہنما جے یو آئی امین اللہ نے کہا کہ حکومتی اتحاد میں ایک فارمولا طے ہوا ہے، تمام پارٹیاں ہر حلقے میں جیتنے والی یا دوسرے نمبر پر آنےوالی جماعت کوسپورٹ کریں گی، باقائدہ طور پر ایم کیو ایم کے حق میں دستبردار ہورہا ہوں۔