Baaghi TV

Tag: ایوارڈز

  • آج لاہور میں لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب منعقد کی جائیگی

    آج لاہور میں لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب منعقد کی جائیگی

    22 ویں لکس سٹائل ایوارڈز کی شاندار تقریب آج لاہور میں منعقد ہونے جا رہی ہے . تقریب میں جہاں‌مختلف نامزدگیاں رکھی گئیں ہیں وہیں پر آج سینئر اداکارہ انجمن کو بھی ایوارڈ دیا جا رہا ہے. لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب کے انتظامات بڑے پیمانے پر کئے جاتے ہیں.انٹرٹینمنٹ ،میڈیا انڈسٹری ، فیشن، میوزک ، ٹی وی کے شعبہ جات میں موجود بہترین ٹیلنٹ کے حامل آرٹسٹوں کو یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے. ایوارڈ دینے کے عمل میں عوامی ووٹوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے. لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب کو بڑے پیمانے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ٹی وی پر دیکھتی اور سراہتی ہے. یہ اپنی نوعیت کے منفرد ایوارڈ ہوتے ہیں جو خالصتا ٹیلنٹ کو پرموٹ کرنے کےلئے دئیے جاتے ہیں‌.

    یاد رہے کہ دوسری طرف ان ایوارڈز کے فئیر ہونے پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں، بہت سارے فنکاروں کو شکایت ہے کہ یہ ایوارڈز فئیر نہیں‌ہوتے دوستی یاریوں کی بنا پر ایوارڈز دئیے جاتے ہیں. وسیم عباس کے بیٹے علی عباس گزشتہ برس ایک انٹرویو میں لکس سٹائل ایوارڈز پر کھل کر برسے اور کہا کہ میں ان کو ایوارڈ ہی نہیں مانتا میں ان کو سفارشی ایوارڈ کہوں گا. اسی طرح سے عفت رحیم نے بھی ایک بار لکس سٹائل ایوارڈ کے فئیر ہونے پر انگلیاں اٹھائیں تھیں.

  • اٹھارویںP@SHA ICTایوارڈزانفارمیشن ٹیکنالوجی کے       میدان میں تمام بڑے شعبوں میں دیےجائیں گے:وفاقی وزیر

    اٹھارویںP@SHA ICTایوارڈزانفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں تمام بڑے شعبوں میں دیےجائیں گے:وفاقی وزیر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ سالانہ آئی سی ٹی ایوارڈز گزشتہ 17 سالوں سے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈسٹری میں قائدانہ صلاحیتوں کو پروموٹ کرتے ہوئے جدید اور بین الاقوامی سطح کی منافع بخش کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ آئی ٹی انڈسٹری پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کی سربراہی میں ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایک نہایت منفرد اور گیم چینجر پوزیشن میں ہے۔

    اس سال اکتوبر کے آخر میں 18ویں سالانہ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز ایوارڈز کا انعقاد کر رہا ہے اور ان ایوارڈز کی جیوری میں عالمی سطح کے ایکسپرٹس شامل ہیں جو کہ ایک شفاف اور تفصیلی عمل کے ذریعے 10 کیٹگریز اور42 ذیلی کیٹیگریز کے لیے ایوارڈز کا فیصلہ کریں گی، جن میں اسٹارٹ اپس ،فن ٹیک کمپنیوں، ایجوکیشن ٹیک کمپنیوں، ای کامرس کمپنیوں اور آئی ٹی انڈسٹری کے بڑے ایکسپوٹرز کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی انڈسٹری میں کئی قسم کے کاروباری ماڈلز، جدیداختراعات اور ان کی کارکردگی کو بھی تسلیم کیا جائے گا۔ساتھ ہی ساتھ، طلباء و طالبات اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں سے اپنے پروجیکٹس کے ساتھ خاص کیٹگریز میں اپلائی کر سکتے ہیں اور خواتین انٹرپرینیورز کی بھی خصوصی طور پر پذیرائی کی جائے گی۔

    وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق کا این سی او سی کا دورہ

    P@SHA کے چیئرمین بدر خوشنود نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان ایوارڈز میں اپلائ کرنے کے لئے کسی بھی قسم کی کوئی بھی فیس نہی ہے اور کسی بھی قسم کی اسپانسر شپ بھی ان پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئ اور معاوضہ لیاجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں چھوٹی ہوں یا بڑی، ایکسپوٹرز، سرمایہ کار اور جوائنٹ وینچرز، آئی ٹی انڈسٹری کے نئے اور پرانے پلیرز، طلباء، فری لانسرز اور خواتین انٹرپرینیورز سمیت سب کا اپنی متعلقہ کیٹگریز میں درخواست دینے کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔

    اسی مناسبت سے سیکٹری جنرل P@SHA حرا زینب نے ایوارڈز جیتنے والوں اور رنراپس کو ایشیاء پیسیفک انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز الائینس ایوارڈز یعنی APICTA AWARDS 2022میں شرکت کرنے اور اپنے آپ کو بین الاقوامی سطح پر منوانے کے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان پچھلے دس سالوں سے ان ایوارڈز میں شرکت کر رہا ہے اور 2021میں دو گولڈ اور چار میرٹ ایوارڈز جیت کر آئ ٹی ٹیلنٹ کے اعتبار سے ٹاپ فائیو ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

    کابینہ نے سائبرسیکیورٹی کی پالیسی منظورکرلی، امین الحق

    انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈسٹری اس وقت پاکستان کی وہ واحد انڈسٹری ہے جو نہایت تیز رفتاری سے ترقی کر سکتی ہے اور اسی انداز سے ایکسپورٹس میں سب سے زیادہ تیزرفتاری سےاضافے کا موجب بن سکتی ہے۔ مزید برآں ،انٹرنیشنل مارکیٹ میں سب سے زیادہ ریوینیو کمانے اور ترقی کرنے کے پوٹینشل کی وجہ یہ ہے کہ یہ انڈسٹری صرف اور صرف ٹیلنٹ کی دستیابی اور سازگار حکومتی پالیسیوں پر انحصار کرتی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 2 سالوں کے دوران آئی ٹی انڈسٹری کی برآمدات برق رفتاری سے بڑھی ہیں، جو کہ 2020 میں تقریباً 1.4 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2021 میں 2.1 بلین ڈالر اور 2022 میں 2.62 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو صرف 2 سالوں میں 87 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔

  • پاکستان میں پابندی کا شکار فلم "جاوید اقبال” نے برطانیہ میں دو ایوارڈز اپنے نام کر لئے

    پاکستان میں پابندی کا شکار فلم "جاوید اقبال” نے برطانیہ میں دو ایوارڈز اپنے نام کر لئے

    پاکستان: پاکستانی فلم ’جاوید اقبال: دا ان ٹولڈ سٹوری آف آ سیریل کلر‘ نے برطانوی ایشین فیسٹیول میں دو ایوارڈز جیت لئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 90 کی دہائی کے لاہور کے سب سے بدنام زمانہ سیریل کلر کی حقیقی زندگی کی کہانی پر بنائی گئی فلم جاوید اقبال کو پاکستان میں پابندی کے باوجود برطانیہ میں فلم فیسٹیول میں بہترین ہدایتکاری کا ایوارڈ مل گیا۔

    اقراعزیز سیریل کلرکی زندگی پر مبنی فلم”جاوید اقبال” پر پابندی لگنے پر برہم

    رپورٹس کے مطابق یاسر حسین نے فلم میں مرکزی کردار ادا کرکے یوکے فلم فیسٹیول میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ حاصل کیا جبکہ کرائم تھرلر کے مصنف اور ہدایت کار ابو علیحہ کو بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ ملا انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس پر فلم جاوید اقبال کی ریٹنگ 10 میں سے 8.4 ہے۔
    https://twitter.com/abualeeha/status/1525842929306181632?s=20&t=noOhyxBoe0vUx2GEgo5vSQ
    فلم کےڈائریکٹر اور پروڈیوسر نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرمیں اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پھر ایشین یوکے فلم فیسٹول میں یاسر حسین کو جاوید اقبال پر بہترین اداکار کا ایوارڈ مل گیا اور ابوعلیحہ کو بہترین ہدایت کار کا یہ اس فلم کو ملنے والے پہلے ایوارڈز ہیں اور اسے دنیا کے ہر معتبر فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

    فیسٹول میں فلم میں جاوید اقبال کا کردار ادا کرنے والے اداکار یاسر حسین کا کہنا تھا کہ آٹھ سال قبل ایک شخص میرے پاس آیا، میں ان کا نام بھول گیا ہوں۔ وہ میرے پاس ایک سکرپٹ لے کر آئےجس کا نام جاوید اقبال تھا اوروہ ایک ڈاکیومنٹری ڈرامہ بنانا چاہتے تھےاور میں نے اس کے لیے ہامی بھر لی اداکار کا کہنا تھا کہ پھر وہ غائب ہوگئے۔

    یاسر حسین نے کہا کہ پھر دو، تین سال بعد ایک اورپروڈیوسر جاوید اقبال کےسکرپٹ کےساتھ آئے اور وہ اس پرایک ویب سیریز بنانا چاہتے تھےمیں نےپھرہامی بھرلی اور پھر وہ بھی غائب ہو گئےپھرتیسری مرتبہ ابوعلیحہ میرے پاس ایک بہترین سکرپٹ کےساتھ آئےمیں نے ہامی بھری اور ہم نے یہ فلم کرلی۔

    سال 2022 میں آنیوالی:”سوبچوں کےقاتل جاویداقبال”سمیت بڑی بڑی پاکستانی فلموں کی تفصیل آگئی

    پاکستانی سیریل کلر پر بننے والی فلم میں اداکارہ عائشہ عمر نے ایک پولیس افسر کا کردار ادا کیا ہے انہوں نے انسٹاگرام پر ’انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس‘ کا سکرین شاٹ شیئر کیا جہاں اس فلم کی ریٹنگ 10 میں سے 8.4 ہے۔

    اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اب تک صرف چند ہزار لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے کیونکہ اس فلم کی ریلیز کے لیے پاکستانی حکومت کی اجازت کا انتظار ہے اور اسے بس یوکے ایشین فلم فیسٹول میں افتتاحی تقریب کی فلم کے طور پر چلایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس فلم کو رواں سال جنوری میں ریلیز کیا جانا تھا لیکن اس کی ریلیز سے صرف دو دن پہلے ہی پنجاب کی حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد فلم کی نمائش کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔

    پنجاب حکومت نے 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم کی ریلیز روک دی

    رواں سال ہ 27 جنوری کو سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز (سی بی ایف سی) نے فلم کو ریلیز نہ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ سنسر بورڈ کے ایک حکام کا کہنا تھا کہ پنجاب انفارمیشن اور کلچر ڈیپارٹمنٹ نے فلم کی ریلیز روکی، فلم پر کچھ اعتراضات سامنے آئے ہیں، بورڈ فلم کا دوبارہ سے جائزہ لے گا جس کے بعد اس کی ریلیز سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ فلم کی کہانی پاکستان کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کے گرد گھومتی ہے۔ جس نے 1998 سے 1999 کے دوران لاہور میں 100 سے زائد بچوں کو نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا تھا بلکہ انہیں قتل کرکے بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو تیزاب میں گلا کر دریا برد کردیا تھا قاتل جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 کو عدالت نے اسے 100 بار سزائے موت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرم اور اس کے ساتھی کو بچوں کے ورثا کے سامنے اسی زنجیر سے پھانسی دی جائے جس سے وہ بچوں کا گلا گھونٹتا تھا اس کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اسی طرح تیزار کے ڈرم میں ڈالے جائیں جیسے وہ بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ڈالتا تھا۔

    لیکن اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کا ساتھی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے تھے-

    عائشہ عمر اور یاسر حسین 100 بچوں کے قاتل کی زندگی پربننے والی فلم میں نظر آئیں گے

  • سونی ورلڈ فوٹوگرافی ایوارڈز 2022 کا اعلان کر دیا گیا

    سونی ورلڈ فوٹوگرافی ایوارڈز 2022 کا اعلان کر دیا گیا

    سونی ورلڈ فوٹوگرافی ایوارڈز کا اعلان کر دیا گیا، اکسٹھ ممالک سے تین لاکھ چالیس ہزار تصاویر جمع کروائی گئیں.

    باغی ٹی وی : ورلڈ فوٹوگرافی آرگنائزیشن کی قیادت میں، اس سال کے نیشنل ایوارڈز پروگرام کے چیمپیئن فوٹوگرافرز جنہوں نے دنیا بھرمیں مختلف مقامات کی زبردست تصویریں کھینچی ہیں، ایک بدھ خانقاہ میں جڑواں بہنوں سے لے کر فن لینڈ کے جنوبی ساحل پر چٹانوں کے اوپر ایک الگ تھلگ برف کے مجسمے تک۔

    اس سال پروگرام کے لیے 59 جیتنے والی تصاویر منتخب کی گئی تھیں جیتنے والوں کا انتخاب اوپن مقابلے سے کیا گیا تھا، جس کے لیے تقریباً 170,000 افراد شامل تھے منگل کو جیتنے والوں کا اعلان کرنے والی پریس ریلیز کے مطابق، 211 خطوں سے 340,000 سے زیادہ تصاویر مجموعی طور پر سونی ورلڈ فوٹوگرافی ایوارڈز کے 2022 ایڈیشن میں جمع ہوئیں۔

    اس سال نیشنل ایوارڈ پروگرام میں 61 ممالک نے حصہ لیا جیتنے والوں کے پاس سونی ورلڈ فوٹوگرافی ایوارڈز کی کتاب میں ان کی تصاویر شامل ہوں گی، اور لندن کے سمرسیٹ ہاؤس میں نمائش، جو 13 اپریل سے 2 مئی تک ہونے والی ہے اوپن، پروفیشنل، اسٹوڈنٹ اور یوتھ مقابلوں میں مجموعی طور پر جیتنے والوں کا اعلان 12 اپریل کو کیا جائے گا۔

    قدرت کے حسین مناظر کی چند تصاویر:

    ہاتھی کی تصویر متحدہ عرب امارات کے ایک فوٹوگرافر نے تنزانیہ میں لی، فوٹو گرافر نے نیشنل ایوارڈ فار کویت کا اعزاز اپنے نام کر لیا.

    ننھی بچیوں کی موجودگی میں محوِ رقص رقاصہ کی اس تصویر کو روس کی بہترین تصویر قرار دیا گیا.

    جگمگاتے آسمان کی یہ خوبصورت تصویر آئس لینڈ میں لی گئی.

    پاکستان کےفوٹوگرافر یاور عباس نے یہ منظر اسکردو میں اپنے کیمرے میں محفوظ کرکے فوٹوگرافی نیشنل ایوارڈ فار پاکستان کا اعزاز اپنے نام کر لیا.

    بینکاک میں لی گئی اس تصویر کو تھائی لینڈ کی بہترین تصویر قرار دیا گیا.

    تائیوان میں لی گئی اس خوبصورت تصویر کو ملک کی بہترین تصویر قرار دیا گیا.

    کینیڈا میں پولربیئر کی لی گئی اس تصویر کو امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی بہترین تصویر قرار دیا گیا.

    لاوا اگلتےآتش فشاں کی یہ تصویر آئس لینڈ میں لی گئی.

    آسٹریا میں لی گئی اس خوبصورت تصویر کواس ملک کی بہترین قرار دیا گیا.

    فرانسیسی جزیرے کی تصویر، جسے ترک فوٹو گرافر نے کیمرے میں محفوظ کیا، فوٹوگرافر کو نیشنل ایوارڈ فار ترکی سے نوازا گیا.

    قدرت کے اس مسحور کن منظر کو ناروے کی بہترین تصویر قرار دیا گیا.