Baaghi TV

Tag: ایوان بالاء

  • ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،امیر طبقے کے لیے جنت، عام عوام  تباہ ، عثمان خان کاکڑ

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،امیر طبقے کے لیے جنت، عام عوام تباہ ، عثمان خان کاکڑ

    ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات، چمن کسٹم گیٹ وے پر بے شمار کاروباری حضرات کو ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینا، صوبہ بلوچستان سے خشک میوہ جات اور تربوز کی دیگر صوبوں میں ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات، بزنس کمیونٹی کی ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اشیاء اور خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں کسٹم اتھارٹی کے سرپرائز وزٹ کے علاوہ یکم نومبر 202کو کراچی کی ٹائر شاپ مارکیٹ کے واقعہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ صوبہ بلوچستان ملک کا آدھا حصہ ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے 80فیصد زراعت ختم ہو چکی ہے۔ صوبے میں کان کنی کی بہتری کیلئے 63سال سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔بد قسمتی کی بات ہے کہ ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہونے کے باوجود بھی اس صوبے کی اجناس خاص طور پر خشک میوجات،تربو ز، سبزیاں، فروٹ و دیگر فصلوں کو ملک کے باقی صوبے میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے جگہ جگہ تنگ کیا جاتا ہے اور ٹرکوں سے سامان تک نکال لیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے سے چلغوزے کا پیکٹ 1800روپے میں خرید کر 8سے 10ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں، زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا و پاٹا کی عوام کے ساتھ بھی ہے لوگوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر مسائل حل کریں۔ جے ایس وزارت کامرس نے کہا کہ کسی بھی قانون کے تحت تاجروں کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

    کمیٹی اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے بعد سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سمیت ژوب ڈویژن میں جون 2023تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے اور سیل ٹیکس کے حوالے سے ان علاقوں کو جون 2023تک استثنیٰ حاصل ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان علاقوں کو 2023کے بعد بھی مزید پانچ سال کے لئے استثنیٰ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان سے کرومائٹ را کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اگر اُس کی فینشنگ کی جائے تو ملک و قوم کو اربوں کا فائدہ ہو گا۔ پروسیسنگ پلانٹ کیلئے صوبائی حکومت سے بات کی ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 5.5ملین ڈالر کی ویلو ایڈیشن ہو سکتی ہے صرف ایک پلانٹ لگانے سے۔

    کمیٹی اجلاس میں چمن کسٹم گیٹ وے کو 24گھنٹے کھولنے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹاف کی کمی ہے 750آسامیوں کی سمری ایف پی ایس سی کے پاس پڑی ہے جبکہ تک بھرتی مکمل نہیں ہوتی بہتری ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے ایف پی ایس سی کو کسٹم کی 750آسامیوں کی جلد سے جلد بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی تھی مگر مالاکنڈ ڈویژن سے ایف ای ڈی وصول کی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے فاٹا و پاٹا اور بلوچستان میں تمام ٹیکسز سے استثنیٰ کی سفارش کر دی۔

    چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ چمن گیٹ وے اور طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت بہت بڑھ چکی ہے۔ گیٹ وے رات کو بند ہونے کے باوجود مخصوص لوگوں کی گاڑیاں آئس کا نشہ، منشیات، اسلحہ و دیگر چیز یں لے کر گزاری جاتی ہیں اور لاکھوں کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ وہ تاجر جو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں انہیں بارڈر سے کراچی اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے مگر جو من پسند لوگ ہیں جو ملک کو اربوں کا نقصان دے رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پرچی سسٹم فروغ پا چکا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صادق اچکزئی اور بنی بخش نامی افراد آئس، سیگریٹ، چھالیا اور دیگر منشیات پورے ملک میں سپلائی کر رہے ہیں اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ  تمام ایکسپورٹرایمپورٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن کو تنگ نہ کیا جائے اور سمگلرز کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ طور خم بارڈر پر سیکنرز لگائے گئے ہیں جس سے پھل اور سبزیاں نقصان دے ہو جاتی ہیں اس کو چیک کرنا چاہئے۔ ایکسپورٹ کی بجائے ٹراذٹ کو ترجیح دیجاتی ہے اور سیکنر والے 8گھنٹے کام کرتے ہیں پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طور خم سے پشاور آتے ہوئے مختلف اداروں کی جانب سے چیک پوسٹیں قائم کر کے بھی لوگوں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی جگہ تمام ادروں کے نمائندے چیکنگ کر سکتے ہیں۔ جے ایس وزارت مواصلات نے کہا کہ بار بار چیکنگ کا کام سے وزارت کا تعلق نہیں ہے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ایک کنٹینر کا 60ڈالر کرایہ لیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر چار سو سے زائد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور خاص طور پر کرومائٹ کا بزنس تباہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کریں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ سخت محنت کر کے اپنی حالت بہتر کرتے ہیں کراچی میں کپڑا ٹائر و دیگر کاروبار کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں بھی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمارے لوگ اسلحہ منشیات وغیرہ کے کام نہیں کرتے بلکہ محنت سے روزگار کماتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسٹم حکام کے اہلکار افتخار حسن عرف بِلاملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات کو تنگ کرنا اس کا وطیرا ہے۔ افتحار حسن نے منظور جو عرصہ سے کراچی میں ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے اس پر فائرنگ کی اوراس کا سامان بھی غیرقانونی طور پر قبضے میں کر لیا۔ منظور تاجر کو افتخار حسن نے دفتر بولا کر کسی اور کا سامان منظور پر ڈال کر پرچہ درج کرا دیا۔ انھوں نے کہا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی اشرافیہ،سول بیروکریسی،چوہدریوں،نوابوں اور بڑے سرمایہ کاروں  کے لئے یہ ملک جنت بن چکا ہے مگر عام عوام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افتحار حسن جیسے لوگوں کے سامنے ہمارے ادارے تک بے بس ہو چکے ہیں۔ افتخار حسن کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے انٹرنل کمیٹی قائم کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ فنکشنل کمیٹی کو منظور کے بھائی نے کراچی کے واقعہ پر تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے کسٹم حکام کو ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کر دی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ پچھلے دنوں ایئرپورٹ پر 53 کلو سونا پکڑا گیادوسرے دن خبر موصول ہوئی کے تمام سونا جہاں حکام نے رکھوایا تھا چوری ہو گیا ہے اس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس میں با اثر لوگ ملوث ہیں جنہوں نے سونا چوری کیا ہے۔کراچی اور بلوچستان کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں کسٹم کے گوداموں میں اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو مختصر وقت میں خراب ہو جاتا ہے کسٹم حکام نے کہا کہ تمام مسائل کو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں جلد مسائل حل کر لیئے جائیں گے۔

    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سردار محمد شفیق ترین، محمد خالد بزنجواور نصرت شاہین کے علاوہ  جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس، چیف کسٹم ایف بی آر، ممبر کسٹم ایف بی آر، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، صوبہ بلوچستان اور کراچی کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت میں اضافہ، ایماندار تاجر پریشان، مسئلہ کمیٹی میں پیش

    طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت میں اضافہ، ایماندار تاجر پریشان، مسئلہ کمیٹی میں پیش

    ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات، چمن کسٹم گیٹ وے پر بے شمار کاروباری حضرات کو ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینا، صوبہ بلوچستان سے خشک میوہ جات اور تربوز کی دیگر صوبوں میں ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات، بزنس کمیونٹی کی ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اشیاء اور خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں کسٹم اتھارٹی کے سرپرائز وزٹ کے علاوہ یکم نومبر 202کو کراچی کی ٹائر شاپ مارکیٹ کے واقعہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ صوبہ بلوچستان ملک کا آدھا حصہ ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے 80فیصد زراعت ختم ہو چکی ہے۔ صوبے میں کان کنی کی بہتری کیلئے 63سال سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔بد قسمتی کی بات ہے کہ ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہونے کے باوجود بھی اس صوبے کی اجناس خاص طور پر خشک میوجات،تربو ز، سبزیاں، فروٹ و دیگر فصلوں کو ملک کے باقی صوبے میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے جگہ جگہ تنگ کیا جاتا ہے اور ٹرکوں سے سامان تک نکال لیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے سے چلغوزے کا پیکٹ 1800روپے میں خرید کر 8سے 10ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں، زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا و پاٹا کی عوام کے ساتھ بھی ہے لوگوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر مسائل حل کریں۔ جے ایس وزارت کامرس نے کہا کہ کسی بھی قانون کے تحت تاجروں کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

    کمیٹی اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے بعد سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سمیت ژوب ڈویژن میں جون 2023تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے اور سیل ٹیکس کے حوالے سے ان علاقوں کو جون 2023تک استثنیٰ حاصل ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان علاقوں کو 2023کے بعد بھی مزید پانچ سال کے لئے استثنیٰ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان سے کرومائٹ را کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اگر اُس کی فینشنگ کی جائے تو ملک و قوم کو اربوں کا فائدہ ہو گا۔ پروسیسنگ پلانٹ کیلئے صوبائی حکومت سے بات کی ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 5.5ملین ڈالر کی ویلو ایڈیشن ہو سکتی ہے صرف ایک پلانٹ لگانے سے۔

    کمیٹی اجلاس میں چمن کسٹم گیٹ وے کو 24گھنٹے کھولنے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹاف کی کمی ہے 750آسامیوں کی سمری ایف پی ایس سی کے پاس پڑی ہے جبکہ تک بھرتی مکمل نہیں ہوتی بہتری ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے ایف پی ایس سی کو کسٹم کی 750آسامیوں کی جلد سے جلد بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی تھی مگر مالاکنڈ ڈویژن سے ایف ای ڈی وصول کی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے فاٹا و پاٹا اور بلوچستان میں تمام ٹیکسز سے استثنیٰ کی سفارش کر دی۔

    چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ چمن گیٹ وے اور طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت بہت بڑھ چکی ہے۔ گیٹ وے رات کو بند ہونے کے باوجود مخصوص لوگوں کی گاڑیاں آئس کا نشہ، منشیات، اسلحہ و دیگر چیز یں لے کر گزاری جاتی ہیں اور لاکھوں کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تاجر جو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں انہیں بارڈر سے کراچی اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے مگر جو من پسند لوگ ہیں جو ملک کو اربوں کا نقصان دے رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پرچی سسٹم فروغ پا چکا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صادق اچکزئی اور بنی بخش نامی افراد آئس، سیگریٹ، چھالیا اور دیگر منشیات پورے ملک میں سپلائی کر رہے ہیں اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ تمام ایکسپورٹرایمپورٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن کو تنگ نہ کیا جائے اور سمگلرز کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ طور خم بارڈر پر سیکنرز لگائے گئے ہیں جس سے پھل اور سبزیاں نقصان دے ہو جاتی ہیں اس کو چیک کرنا چاہئے۔ ایکسپورٹ کی بجائے ٹراذٹ کو ترجیح دیجاتی ہے اور سیکنر والے 8گھنٹے کام کرتے ہیں پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طور خم سے پشاور آتے ہوئے مختلف اداروں کی جانب سے چیک پوسٹیں قائم کر کے بھی لوگوں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی جگہ تمام ادروں کے نمائندے چیکنگ کر سکتے ہیں۔ جے ایس وزارت مواصلات نے کہا کہ بار بار چیکنگ کا کام سے وزارت کا تعلق نہیں ہے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ایک کنٹینر کا 60ڈالر کرایہ لیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر چار سو سے زائد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور خاص طور پر کرومائٹ کا بزنس تباہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کریں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ سخت محنت کر کے اپنی حالت بہتر کرتے ہیں کراچی میں کپڑا ٹائر و دیگر کاروبار کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں بھی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمارے لوگ اسلحہ منشیات وغیرہ کے کام نہیں کرتے بلکہ محنت سے روزگار کماتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسٹم حکام کے اہلکار افتخار حسن عرف بِلاملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات کو تنگ کرنا اس کا وطیرا ہے۔ افتحار حسن نے منظور جو عرصہ سے کراچی میں ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے اس پر فائرنگ کی اوراس کا سامان بھی غیرقانونی طور پر قبضے میں کر لیا۔ منظور تاجر کو افتخار حسن نے دفتر بولا کر کسی اور کا سامان منظور پر ڈال کر پرچہ درج کرا دیا۔ انھوں نے کہا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی اشرافیہ،سول بیروکریسی،چوہدریوں،نوابوں اور بڑے سرمایہ کاروں کے لئے یہ ملک جنت بن چکا ہے مگر عام عوام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افتحار حسن جیسے لوگوں کے سامنے ہمارے ادارے تک بے بس ہو چکے ہیں۔

    افتخار حسن کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے انٹرنل کمیٹی قائم کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ فنکشنل کمیٹی کو منظور کے بھائی نے کراچی کے واقعہ پر تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے کسٹم حکام کو ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کر دی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ پچھلے دنوں ایئرپورٹ پر 53 کلو سونا پکڑا گیادوسرے دن خبر موصول ہوئی کے تمام سونا جہاں حکام نے رکھوایا تھا چوری ہو گیا ہے اس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس میں با اثر لوگ ملوث ہیں جنہوں نے سونا چوری کیا ہے۔کراچی اور بلوچستان کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں کسٹم کے گوداموں میں اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو مختصر وقت میں خراب ہو جاتا ہے کسٹم حکام نے کہا کہ تمام مسائل کو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں جلد مسائل حل کر لیئے جائیں گے۔

    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سردار محمد شفیق ترین، محمد خالد بزنجواور نصرت شاہین کے علاوہ جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس، چیف کسٹم ایف بی آر، ممبر کسٹم ایف بی آر، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، صوبہ بلوچستان اور کراچی کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے

    کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کی سربراہی میں پاکستان بیت المال ہیڈ کواٹر کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان بیت المال کے عوامی ریلیف، غربت میں کمی، شرح خواندگی میں اضافہ، علاج معالجہ، بچوں سے مزدوری کے خاتمے کے حوالے سے قائم ہونے والے اسکولوں کی تعداد اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان بیت المال کے مستقبل کے منصوبہ جات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر بیت المال عون عباس بپی نے ویڈیو لنک جبکہ ڈی ایم ڈی مبشر حسن اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان بیت المال کے کام کے طریقہ کار، بجٹ، عوام کو فراہم کی جانے والی صحت، تعلیم، پناہ گاہ، ویمن ایمپاورمنٹ سینٹرز، ایس آر سی ایل، دارلااحسا س و دیگر سہولیات و ریلیف کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بیت المال 1991ایکٹ کے تحت 1992میں قائم ہوا۔ اسکا ہیڈ آفس اسلام آباد اور سات صوبائی،ریجنل دفاتر ہیں۔ اس ادارے کے 154 ڈسٹرکٹ آفس پورے ملک بشمول سابق فاٹا، گلگت بلتستان اور اے جے کے میں قائم کئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2018سے اب تک 54ہزار مریضو ں کی ادار ے نے زندگیاں بچائی ہیں جس پر 6.4ارب روپے خرچ کئے گئے۔ ملک کے مختلف حصوں میں تھیلیسیماں کے 4191مریضوں کے لئے 321ملین روپے خرچ کئے گئے – ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچے جو سماعت سے محروم تھے اُن پر 128ملین روپے خرچ کئے گئے سماعت کے ایک مریض بچے پر 14سے 15لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ ایک سرکاری کے ساتھ چار پرائیویٹ ہسپتالوں کو علاج کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ صوبہ کے پی کے اور بلوچستان میں اس مرض کے ای این ٹی اسپیشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے ہسپتال شامل نہیں کئے گئے۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ گھروں میں چھوٹے بچوں کو گھر کے کاموں کیلئے رکھا جاتا ہے اور بچوں سے زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کے تحفظ کی خاطر ادارہ اقدامات اٹھائے جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ متعلقہ اداروں کا کام ہے بیت المال کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ملک بھرمیں بھکاری بچوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی بنا کر متعلقہ محکموں کے ساتھ اقدامات اٹھائیں جائیں۔ سینیٹر لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)نے کہا کہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن کی رپورٹ کے مطابق 2.5کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں سکول جانے والے بچوں میں سے 32فیصد بھاگ جاتے ہیں دیہی علاقوں کے 40فیصد سکولوں میں بجلی اور پانی نہیں جبکہ 49فیصد میں لیٹرین نہیں۔ ایم ڈی پاکستان بیت المال عون عباس بپی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا فوکس احساس اور سوشل ویلفیئر کے کاموں پر زیادہ ہے وزیراعظم نے ریاست مدینہ کے وژن کے مطابق ملک میں کوئی بھوکہ نہ رہے کیلئے پناہ گاہوں کے منصوبے کا آغا ز کیا۔ علاج معالجے اور دیگر ویلفیئر کاموں کیلئے موجودہ حکومت بجٹ پانچ ارب سے بڑھا کر 6.1ارب کیا جس کو 8ارب تک لے جانے کا پروگرام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بو ن میرو، کڈنی ٹرانسپلانٹ اور کینسر کے مریضوں کے علاج پر بھاری خرچہ آتا ہے اس کے لئے خصوصی بجٹ مختص ہونا چاہئے جس پر قائمہ کمیٹی نے بھاری اخراجات والی سرجری کے مریضوں کی کے علاج کیلئے اضافی بجٹ مختص کرنے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک پنا ہ گاہ کا سالانہ خرچ پانچ کروڑ ہے۔ پناہ گاہوں کو ڈونیشن بھی آ رہی ہے جس میں سے آئی سی ٹی کی پانچ میں سے چار پناہ گاہیں ڈونیشن پر چل رہی ہیں۔ کراچی میں بھی پانچ پناہ گاہیں ہیں ادارے کو پناہ گاہ کیلئے موثر ڈونیشن مل رہی ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر رخسانہ زیبری نے کہا کہ آئے دن خبریں سامنے آتی ہیں کہ ایک گم شدہ بچہ ملا ہے۔ ایک ایسا سسٹم ہونا چاہئے جس کے تحت گم شدہ بچوں کا ڈیٹا ایک جگہ اکھٹا ہو سکے۔ جس پر ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک لاسٹ چلڈرن اپلیکیشن بنائی جائے گی جس میں گم شدہ بچوں کا ڈیٹا موجود ہوگا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یتیم خانوں کو بڑھانے کی بجائے بیواؤں کو زیادہ سپورٹ کیا جا رہا ہے تا کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکیں۔ قائمہ کمیٹی نے جلد سے جلد میکنزم بنانے کی ہدایت کر دی۔
    سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ معاشرے میں آئس کا نشہ تیز ی سے پھیل رہا ہے اور خاص طور پر حیات آباد اور کراچی بری طرح لپیٹ میں آ چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر جمالدینی نے کہا کہ ملک میں کرونا وباء کی طرح ہپیٹا ئٹس بی اینڈ سی تیزی سے پھیل چکا ہے اسکو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں۔ قائمہ کمیٹی سفارش کرتی ہے بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ملک میں اس پھیلتی ہوئی بیماری کو جلد سے جلد کنٹرول کیا جا سکے۔

    سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد مریض ہوں تو بیت المال اپنی پالیسی میں ترمیم لا کر گھر کے تمام مریضوں کے علاج کیلئے اقدام لے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ملک میں غربت میں کمی شرح خواندگی میں اضافہ اور لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جلد ایک بیواؤں اور یتیموں کی ویلفیئر کاایک پروگرام 7 اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے جس میں ہر ضلع سے احساس پروگرام کے تحت 100بیواؤں کو منتخب کیا جائے گا ایک بچے کی تعلیم کیلئے آٹھ ہزار اور ایک سے زائد کیلئے 12ہزار فراہم کئے جائیں گے۔

    ایک پائلٹ پروگرام ہے جس کو بعد میں پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ ڈیجیٹل پیمنٹ کی فائل ابھی وزارت خزانہ نے فائنل نہیں کی کہ کس طرح پیمنٹ کرنی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایس آر سی ایل کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ علاقے جہاں ایک سے پانچ سال کے 120بچے موجود ہوں اور کام کرنے والے اگلے پانچ سال تک ایسے بچے دستیاب ہو سکیں۔ لیبر ادارے کی جانب سے ریکمنڈیشن اور وزارت غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کی گائڈ لائن کے مطابق سکول قائم کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالا کنڈ ڈویژن کے حوالے سے لیبر کے ادارے کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں آئی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالا کنڈ ڈونژن میں سینکڑوں مائنز، صنعتیں قائم ہو چکی ہیں 80ہزار کے قریب لیبر موجود ہے مگر مالا کنڈ ضلع میں کوئی سکول قائم نہیں کیا گیا۔

    ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ قائم کمیٹی سفارش کرے۔ فزبیلٹی کرا کے ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی و سماجی تحفظ نے ایم ڈی پاکستان بیت المال اور اس کی ٹیم کی غریب عوام کو ریلیف کے حوالے سے فراہم کردہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ادارے نے غریب عوام کیلئے جو خدمات سرانجام دیں ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ادارے کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور کمیٹی ہر وقت معاونت کیلئے تیار ہے۔ قائم کمیٹی نے غریب عوام کو مزید ریلیف کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)، انجینئر رخسانہ زیبری،ثمینہ سعید، فدا محمد کے علاوہ ویڈیو لنک کے ذریعے ایم ڈی پاکستان بیت المال، ڈی ایم ڈی بیت المال، سنیئر جوائنٹ سیکرٹری وزارت غربت میں کمی و سماجی تحفظ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • ایوان بالاء میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، مختلف ترمیمی بل اورعوامی عرضداشت کا جائزہ

    ایوان بالاء میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، مختلف ترمیمی بل اورعوامی عرضداشت کا جائزہ

    ایوان بالاء میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان کے آئینی ترمیمی ایکٹ2019، سینیٹر محمد جاوید عباسی کے کمپنی ترمیمی بل 2020، سینیٹر مشتاق احمد کے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020، سینیٹر طلحہ محمود کے 4 فروری2020 کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال، سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی کے 30 اپریل 2019 کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال، سینیٹر مشاہد اللہ خان کی جانب سے 16 ستمبر2020 کو اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ، 12 جنوری2021 کو چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ریفر کی گئی عوامی عرضداشت 3423، ساؤتھ ایشن ریجن میں نیشنل بینک آف پاکستان کی 5 برانچوں کو بند کرنے کے معاملے،سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے 13 جولائی2020 کو سینیٹ اجلاس میں پیش کیئے گئے موشن کے علاوہ حکومت کی جانب سے پاکستان سنگل ونڈو بل 2021 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے پاکستان سنگل ونڈو بل 2021 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر محمد جاوید عباسی کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر ان کے ایجنڈوں کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد کے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون کو جلدی میں پاس کیا گیا ہے۔ جلد بازی کی وجہ سے قوانین میں سقم ہیں اس لئے ترمیم لایا ہوں اور ادارے کی طرف سے جو جواب فراہم کیا گیا ہے اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جو بات آپ کر رہے ہیں وہ آپ کے مجوزہ بل میں نہیں۔اس بل کو واپس لے کر نیا ڈارفٹ بنا کر کمیٹی اجلاس میں پیش کریں۔ قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے سے بل کو معزز سینیٹر مشتاق احمد نے واپس لے لیا تاکہ ڈرافٹ میں ترمیم لا کر کمیٹی میں پیش کیا جاسکے۔ سینیٹر طلحہ محمود کے سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال کے حوالے سے چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس بل پر کافی بحث ہو چکی ہے اور معلومات فراہم کر دی گئی ہیں جن کو رپورٹ میں شامل کر کے ہاؤس میں پیش کر دیا جائے۔ کمیٹی نے معاملہ ختم کر دیا۔

    سینیٹر میر کبیر احمد محمدشاہی کے معاملے کے حوالے سے بھی چیئرمین وارا کین کمیٹی نے کہا کہ معلومات فراہم کر دی گئی ہیں ان کو رپورٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ کمیٹی نے معاملہ ختم کر دیا۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان کے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے مسٹر جاوید آفریدی پشاور زلمی کے مالک کی طرف سے مجموعی طور پر ادا کیے گئے ٹیکس کی تفصیلات کے حوالے سے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ صرف ایک شخص کے ہی خلاف معاملہ کیوں اٹھایا گیا ہے دیگر لوگوں، کمپنیوں او ر تنظیموں کے ٹیکس کی تفصیلات کیوں طلب نہیں کی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ایسی معلومات کا تحفظ ہوتا ہے۔آرٹیکل 216 کے تحت پروٹیکشن حاصل ہے۔قانون کے تحت ٹیکس کے تحت جمع کرائی جانے والی تمام دستاویزات کی حفاطت ٹیکس حکام کی ذمہ داری ہے۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے معاملہ ختم کر دیا۔

    چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ریفر کی گئی عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ایڈوائز ایس ای سی پی نے کمیٹی کو تفصیلا ت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پٹیشنر کے دو اکاؤنٹ 2017 اور2019 میں بنائے گئے تھے۔ جون2019 میں پٹیشنر نے اماؤنٹ لاسٹ کی شکایت کی۔معاملہ اسٹاک ایکسچینج کو بھیجا گیا جہاں ثالثی پینل نے تفصیل سے جائزہ لیا اور پینل کے سامنے پٹیشنر اپنا موقف ثابت نہ کر سکا۔ پھر ایپلٹ فورم پر گیا وہاں بھی یہ اپنا موقف ثابت نہ کر سکا۔اس کے پاس اپیل کا حق ہے۔ ایس ای سی پی نے دوبارہ درخواست پر بھی انسپیکشن ٹیم بھی قائم کی تاہم انسپیکشن ٹیم نے بھی بروکریج کمپنی کو قصوروار نہیں پایا۔ کمیٹی نے معاملہ ختم کر دیا۔ سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ ایسا میکنزم ضرور اختیا رکرنا چاہیے جس کے تحت عام لوگوں کو اس طرح کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نیشنل بینک کی ساؤتھ ایشن ریجن میں 5 برانچوں کو بند کرنے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    نیشنل بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نیشنل بینک کی مختلف ممالک میں 23 برانچیں قائم کی گئی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں 6برانچیں ہیں، صرف دو برانچیں ایک افغانستان اور ایک بنگلہ دیش میں بند کر نے کی منظوری حاصل کی گئی ہے۔ منظوری وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک پاکستان اور متعلقہ ملک کے ریگولیٹر سے حاصل کی جاتی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغانستان کے علاقہ جلال آباد اور بنگلہ دیش کے علاقہ سلٹ میں دونوں برانچیں مسلسل خسار ے میں جا رہی تھیں جس کی وجہ سے انہیں بند کیا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش میں مزید برانچوں چٹاگانگ اور ڈھاکہ کی برانچوں کو بھی منظوری کے بعد بند کر دیا جائے گا۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ذمہ دار افسران اور بینکوں کی جانب سے دیے گئے قرض کی تفصیلات اور خسارے کی وجوہات کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن کو مزید جائزہ لیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کے معالے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخواہ کی عوام کو مجموعی قرض کا صرف ایک فیصد اور صوبہ بلوچستان کی عوام کو 0.4 فیصد قرض دیا گیا ہے جو سراسر ذیادتی ہے اس مسئلے کا پہلے بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اتنا فرق کیوں آیا ہے۔اسٹیٹ بنک پاکستان ان صوبوں کیلئے رعائتی سکیمیں متعارف کرائے تاکہ یہاں کی صنعتوں کو فروغ مل سکے۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ ان صوبوں میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ بینکوں نے کم شرح سے قرض دینے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ ملک کے چھوٹے صوبوں میں کاروبار کیلئے قرض فراہمی میں تفریق کو ختم کیا جائے۔

    سینیٹرمیاں عتیق شیخ نے کہا کہ ملک میں 28 پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنیاں لوگوں سے سرمایہ کاری حاصل کر رہی ہیں۔ اس سلسلے کو روکنے کیلئے اسٹیٹ بینک فوری اقدامات کرے۔جس پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معزز سینیٹر صاحب کمپنیوں کی تفصیلات فراہم کر دیں اس پر کاروائی کریں گے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز محسن عزیز، میاں محمد عتیق شیخ، عائشہ رضا فاروق، ذیشان خانزادہ کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خزانہ، سپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک پاکستان، چیئرمین ایف بی آر،چیف کسٹم ایف بی آر، ایم ڈی این ایس پی سی، این بی پی و دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی

  • ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف-پی-ایس-سی ترمیمی بل کے سمیت مختلف امور کا جائزہ

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف-پی-ایس-سی ترمیمی بل کے سمیت مختلف امور کا جائزہ

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے 26اکتوبر 2020کوسینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2020، سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے 26اگست 2020کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے وفاقی اداروں میں گزشتہ ایک سال سے خالی رہ جانے والی اسامیوں کو ختم کرنے، سینیٹر مشتاق احمد کے 26جنوری 2021کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سدرن اضلاع کے ہائی ویز پر اپریشنل موبائل فون ٹاورز کی تعداد، اسلام آباد کلب کے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار مختلف مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور ممبر شپ حاصل کرنے کے طریقہ کار کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے یکم ستمبر 2020کو ریفر کی گئی عوامی عرضداشت نمبر 3260 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے 26اکتوبر 2020کوسینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2020کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس بل کی بدولت مقابلے کے امتحان کے معاملات میں مزید شفافیت آئے گی آئی ٹی کے بہتر استعمال سے معاملات مزید بہتر ہونگے۔ سفارش اور رشوت کا کلچر ختم ہو گا لوگ ڈیجیٹل پر بہت ایکٹو ہیں نتائج چیک کرنے کا موقع ملے گا ایف پی ایس سی کے قانون کے سیکشن 7میں ترمیم تجویز کی ہے۔ ڈیجیٹل ایؤلویشن (ارتقا) سے لوگوں کو فائدہ ہو گا جس پر سیکرٹری ایف پی ایس سی نے کمیٹی کو بتایا کہ مقابلے کے امتحان کے پرچے سب جیکٹیو اور اوبجیکٹیو ہوتے ۔ ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے اوبجیکٹیو چیک ہو سکتا ہے سب جیکٹیو نہیں۔ سب جیکٹیو میں بہت سی چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یہ بل صرف مقابلے کے امتحانات کے لئے نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ایف پی ایس سی اس بل کا تفصیل سے جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کریں۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سینیٹ اجلاس میں سوال اٹھایا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق سرکاری اداروں میں تقریبا 70ہزار کے قریب خالی آسامیوں کو ختم کیا جا رہا ہے کیا ان آسامیوں کی ضرورت نہیں تھی اور وہ ایک سال سے خالی کیوں تھیں یہ بھی بتایا جائے کہ اُن میں سے کتنی ٹیکنیکل آسامیاں ہیں۔ اسپیشل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ کیبنٹ کی عملدرآمد کمیٹی میں اس حوالے سے ایک تجویز آئی تھی اُس تجویز کی بنیاد پر مشاورت کی جا رہی ہے اور وزارت قانون سے بھی رائے حاصل کی جا رہی ہے ابھی کچھ فائنل نہیں ہو ا اور نہ ہی ایک دم ختم کرنے کا ارادہ ہے۔ وزارت خزانہ کو بھی لکھا ہے کہ ایس او پیز بنا کر محکموں سے تفصیلات حاصل کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مکمل تیاری سے کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں آگاہ کریں۔

    سینیٹر مشتاق احمد کے 26جنوری 2021کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سدرن اضلاع کے ہائی ویز پر اپریشنل موبائل فون ٹاورز کی تعدادکے معاملے کا کمیٹی اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں موبائل سگنل کا بہت بڑا ایشو ہے۔ سدرن بیلٹ میں گیارہ اضلاع ہیں جہاں کی آبادی 84لاکھ کے قریب ہے اور کمیٹی کو فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق ہر ضلع میں 48ٹاور لگائے گئے جبکہ جیز اور یو فون کمپنی کے فی ضلع پانچ ٹاور بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں بے شمار تعلیمی ادارے ہیں اور کسطرح لوگ آن لائن تعلیم حاصل کرتے ہونگے۔ ممبر پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ این 55پر ٹاورز کی تعداد 530ہے البتہ ٹاور لگانے کی ذمہ داری یو ایس ایف کی بنتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ موبائل سگنل کا مسئلہ بہت زیادہ ہے یہاں پہاڑوں پر بھی سگنل نہیں ہوتے اور خیبر پختونخواہ کے بے شمار علاقوں میں سگنل کے مسائل ہیں۔ ڈی جی لائسنسنگ پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پورے ملک میں 46555موبائل فون ٹاورز لگائے گئے ہیں جن میں سے خیبر پختونخواہ میں 6444ٹاورز ہیں یہاں ٹیلی نار نے زیادہ کام کیا ہے اور پہاڑ ہونے کی وجہ سے مسلسل کوریج میں مسئلہ ہوتا ہے اگلے چار سے چھ سال میں ملک کی 90فیصد آباد ی کو کور کر لیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے آئندہ اجلاس میں یو ایس ایف کے حکام سے بریفنگ حاصل کی جائے۔

    اسلام آباد کلب کے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار مختلف مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور ممبر شپ حاصل کرنے کے طریقہ کارکے معاملات کا تفصیل سے قائمہ کمیٹی نے جائزہ لیا۔ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن و ایڈمنسٹریٹر اسلام آباد کلب سردار احمد نواز سکھیرا اور اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کلب کے کل ممبران کی تعداد 9554ہے جن میں سے 52فیصدسروس، 44فیصد نان سروس اور دیگر 4فیصد شامل ہیں۔ کلب کے اخراجات ممبران سے لئے جاتے ہیں، اخراجات کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں کل ملازمین کی تعداد 912ہے جن میں سے 492کنٹریکٹ اور 420مستقل ہیں۔ کمیٹی کو ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار بارے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کلب کی ایک مینجمنٹ کمیٹی ہے جس کے نو ممبران ہوتے ہیں پانچ ممبران حکومت نامزد کرتی ہے تین ممبر، ممبران میں سے لئے جاتے ہیں اور ایک ممبر ڈیپلومیٹک کمیونٹی سے ہو تا ہے۔ کلب کے امور کے حوالے سے دیگر چھ کمیٹیاں بھی بنائی گئی ہیں اور رولز اور آڈٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے تاکہ کمرشل آڈٹ کے ساتھ فیڈرل آڈٹ بھی ہو سکے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملات کی بہتری کیلئے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں قابل تعریف ہے کمیٹی ان کو مکمل سپورٹ کرتی ہے غیر قانونی چیزوں کو روکنے کیلئے کمیٹی بھر پور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کلب کی حیثیت سیکنڈ ہوم کی ہوتی ہے کلب کے معیار اور سروس کو مزید بہترین ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایف نائن پارک میں بھی ایک کلب بنایا گیا تھا کروڑوں روپے لگنے کے باوجود ویران پڑا ہے اسکا جائزہ لیا جائے۔ وزیر انچارج کیبنٹ ڈویژن علی محمد نے کہاکہ ہمیں مڈل کلاس طبقے کیلئے بھی کلب قائم کرنے چاہئے جہاں لوگوں کو معیاری سہولت میسر ہو سکے۔

    کمیٹی اجلاس میں عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اسپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت سے کوٹہ طے کیا گیا تھا معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں ہے۔ پٹشنر کے وکیل نے بتایا کہ آئین کے کسی ایکٹ میں اجازت نہیں دی گئی کہ وفاقی ادارے صوبوں کی آسامیوں پر وفاق کے بندے بھرتی کرے۔ انہوں نے کہا کہ 1954کے رولز کے بعد 2014میں ایک ایس آر او آیا جس میں 1954کے رولز کو تبدیل کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ پہلے یہ تعین کیا جائے یہ معاملہ عدالت میں ہونے پر کمیٹی جائزہ لے سکتی ہے یا نہیں وزارت قانون و انصاف، سینیٹ کی قانون سازی کے حکام اور معزز پٹشنر کا وکیل مل کر تعین کریں اور کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری قانون و انصاف تفصیلات سے آگاہ کریں۔

    کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرزسیمی ایذدی، روبینہ خالد، مشتاق احمد، فیصل جاویداور انور لال دین کے علاوہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، ا سپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن،ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی